🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
16. بَابُ الْمُبَادَرَةِ إِلَى إِخْرَاجِهَا وَتَعْجِيلِهَا قَبْلَ حُلُولِهَا وَدُعَاءِ الْإِمَامِ لِمُعْطِيهَا
زکوۃ ادا کرنے میں جلدی کرنے، وقت سے پہلے ادا کردینے اور امام کا زکوۃ دینے والے کے حق میں دعا کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3434
عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ الشَّجَرَةِ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا أُتِيَ بِصَدَقَةٍ قَالَ: ( (اَللَّهُمَّ صَلِّ عَلَيْهِمْ) ) ، وَإِنَّ أَبِي أَتَاهُ بِصَدَقَةِ فَقَالَ: ( (اَللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى آلِ أَبِي أَوْفَى) )
۔ سیدنا عبد اللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ، جو درخت والے (یعنی بیعت ِ رضوان کرنے والے) صحابہ کرام میں سے تھے، سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: جب کوئی آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں صدقہ لے کر آتا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے حق میں یوں دعا فرماتے: اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلَیْہِمْ۔ (اے اللہ! تو ان پر رحم فرما۔) میرے والد بھی صدقہ لے کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں یوں دعا دی: اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی آل أَبِی أَوْفَی۔ (اے اللہ! تو ابو اوفی کی آل پر رحم فرما۔) [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3434]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1497، 4166، ومسلم: 1078، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19133 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19346»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 1497
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3435
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ أَوْفَى يَقُولُ: كَانَ الرَّجُلُ إِذَا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَصَحْبِهِ وَسَلَّمَ بِصَدَقَةِ مَالِهِ صَلَّى عَلَيْهِ فَأَتَيْتُهُ بِصَدَقَةِ مَالِ أَبِي فَقَالَ: ( (اَللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى آلِ أَبِي أَوْفَى) )
۔ (دوسری سند) وہ کہتے ہیں: میں نے سیدناعبد اللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا: جب کوئی آدمی اپنے مال کی زکوٰۃ لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آتا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے حق میں رحمت کی دعا کرتے، ایک دن میں بھی اپنے والد کے مال کی زکوٰۃ لے کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یوں دعا دی: اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی آلِ أَبِی أَوْفَی۔ (یا اللہ! تو ابو اوفی کی آل پر رحم فرما۔) [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3435]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19321»
وضاحت: فوائد: … معلوم ہوا کہ جب کوئی آدمی صدقہ اور زکوٰۃ وغیرہ ادا کرے تو وصول کرنے والے کو اس کے حق میں رحمت و برکت کی دعا کرنی چاہئے، اس سے اس کی حوصلہ افزائی ہو جاتی ہے۔

الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19321
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
17. بَابُ مَنْ دَفَعَ صَدَقَتَهُ إِلَى مَنْ ظَنَّهُ مِنْ أَهْلِهَا فَبَانَ غَيْرَ ذَلِكَ
اس امر کا بیان کہ انسان کسی کو مستحق سمجھ کرصدقہ ادا کر دے،¤لیکن بعد میں پتہ چلے کہ وہ صدقہ کا مستحق نہ تھا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3436
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (قَالَ رَجُلٌ لَأَتَصَدَّقَنَّ اللَّيْلَةَ صَدَقَةً فَأَخْرَجَ صَدَقَتَهُ فَوَضَعَهَا فِي يَدِ زَانِيَةٍ، فَأَصْبَحُوا يَتَحَدَّثُونَ: تُصُدِّقَ اللَّيْلَةَ عَلَى زَانِيَةٍ، وَقَالَ: لَأَتَصَدَّقَنَّ اللَّيْلَةَ بِصَدَقَةٍ فَأَخْرَجَ صَدَقَتَهُ فَوَضَعَهَا فِي يَدِ سَارِقٍ، فَأَصْبَحُوا يَحَدَّثُونَ: تُصُدِّقَ اللَّيْلَةَ عَلَى سَارِقٍ، ثُمَّ قَالَ: لَأَتَصَدَّقَنَّ اللَّيْلَةَ بِصَدَقَةٍ، فَأَخْرَجَ الصَّدَقَةَ فَوَضَعَهَا فِي يَدِ غَنِيٍّ فَأَصْبَحُوا يَتَحَدَّثُونَ تُصُدِّقَ اللَّيْلَةَ عَلَى غَنِيٍّ، فَقَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى سَارِقٍ وَعَلَى زَانِيَةٍ وَعَلَى غَنِيٍّ، قَالَ فَأُتِيَ، فَقِيلَ لَهُ: أَمَّا صَدَقَتُكَ فَقَدْ تُقُبِّلَتْ، أَمَّا الزَّانِيَةُ فَلَعَلَّهَا يَعْنِي أَنْ تَسْتَعِفَّ بِهِ، وَأَمَّا السَّارِقُ فَلَعَلَّهُ أَنْ يَسْتَغْنِيَ بِهِ، وَأَمَّا الْغَنِيُّ فَلَعَلَّهُ أَنْ يَعْتَبِرَ فَيُنْفِقَ مِمَّا آتَاهُ اللَّهُ) )
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک آدمی نے کہا:میں آج رات کو ضرور صدقہ کروں گا، پس وہ صدقہ لے کر نکلا اور (لاعلمی میں) ایک زانی عورت کو دے آیا، صبح کو لوگوں نے یہ بات کہنا شروع کر دی کہ آج رات ایک زانیہ کو صدقہ دیا گیا،اس نے دوبارہ فیصلہ کیا کہ وہ آج رات ضرور صدقہ کرے گا (تاکہ کسی حقدار تک پہنچ سکے۔) چنانچہ اس نے صدقہ تو نکالا، لیکن لاعلمی میں ایک چور کو دے آیا، جب صبح ہوئی تو لوگ یہ کہنے لگے کہ آج رات ایک چور کو صدقہ دے دیا گیا، اس نے پھر سوچا کہ وہ آج رات پھر صدقہ کرے گا۔ چنانچہ وہ صدقہ لے کر گیا اور لاعلمی میں ایک دولت مند کو دے آیا۔ جب صبح ہوئی تو لوگوں نے کہا: آج رات ایک دولت مند کو صدقہ دیا گیا۔ اس نے کہا: ہر حال میں اللہ کا شکر ہے، چور پر، زانی عورت پر اور غنی پر صدقہ کر دیا۔ پھر کسی نے آکر اسے بتایا (ممکن ہے اسے خواب میں یہ کہا گیا ہو) تیرا صدقہ قبول ہو گیا ہے، زانیہ کو صدقہ دینے سے ممکن ہے کہ وہ پاکدامن بن جائے، اسی طرح ممکن ہے کہ چور چوری سے رک جائے اور غنی سبق حاصل کرلے اور اللہ تعالیٰ کے دیئے میں سے خرچ کرے۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3436]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1421، ومسلم: 1022، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8282 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8265»
وضاحت: فوائد: … معلوم ہوا کہ جب صدقہ کرنے والے کی نیت خالص ہو تو اس کا صدقہ قبول ہو جائے گا، اگرچہ وہ اپنے محل تک نہ پہنچ پائے۔ حافظ ابن حجر نے کہا: (اس حدیث میں اِن امور کا بیان ہے:) مخفی صدقے کی فضیلت، اخلاص کی فضیلت، جہالت کی وجہ سے صدقے کا مصرف ٹھیک نہ ہو تو دوبارہ صدقہ کرنے کا استحباب، ظاہری حالات کو دیکھ کر حکم لگانا، الّا یہ کہ اس کے الٹ ثابت ہو جائے۔ (فتح الباری: ۳/۳۷۱)

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 1421
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
18. بَابُ بَرَاءَةِ الْمَالِ بِدَفْعِ الزَّكَاةِ إِلَى الْمُصَدِّقِ وَإِنْ أَسَاءَ التَّصَرُّفَ فِيهَا)
زکوۃ کے عامل کو زکوۃ دے دینے سے مالک بریٔ الذمہ ہو جاتا ہے،¤خواہ وہ نمائندہ اس میں ناجائز تصرف کرے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3437
عَنْ أَنَسَ بْنِ مَالِكَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ: أَتَى رَجُلٌ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: حَسْبِي يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِذَا أَدَّيْتُ الزَّكَاةَ إِلَى رَسُولِكَ فَقَدْ بَرِئْتُ مِنْهَا إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (نَعَمْ، إِذَا أَدَّيْتَهَا إِلَى رَسُولِي فَقَدْ بَرِئْتَ مِنْهَا، فَلَكَ أَجْرُهَا وَإِثْمُهَا عَلَى مَنْ بَدَّلَهَا) )
۔ سیدناانس بن مالک رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ بنو تمیم کا ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! جب میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مقرر کردہ نمائندے کو زکوٰۃ ادا کر دوں تو کیا میں اللہ اور اس کے رسول کے ہاں بری ہو جاؤں گا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں، جب تم میرے نمائندے کو زکوٰۃ ادا کر دو گے تو تمہاری ذمہ داری پوری ہو جائے گی اور تمہیں اس کا اجر ملے گا، البتہ اس میں جو آدمی تبدیلی (کرتے ہوئے ناجائز تصرف) کرے گا، وہ گنہگار ہو گا۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3437]
تخریج الحدیث: «رجاله ثقات رجال الشيخين، لكن قيل في رواية سعيد بن ابي ھلال عن انس: انھا مرسلة۔ أخرجه الحاكم: 2/ 360، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12394 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12421»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جب کوئی آدمی خلیفۂ وقت یا اس کے قاصد کو زکوۃ دے دے تو وہ اس فرض سے بریٔ الذمہ ہو جائے گا، اگر خلافِ توقع ایسا ذمہ دار خیانت کرتا ہے تو اس کا ذمہ دار وہ خود ہو گا، زکوۃ دینے والا اللہ تعالیٰ کے ہاں ماجور ہو گا۔ لیکنیہ اصول اس وقت ہے جب قاصد وغیرہ کی امانت کے بارے میں حسنِ ظن ہو، وگرنہ استطاعت کے مطابق مالدار کو چاہیے کہ وہ اپنی زکوۃ کی رقم خود مستحق لوگوں تک پہنچا دے، لیکن ایسا کرنے کی شرط یہ ہے کہ کوئی بڑا فساد لازم نہ آئے۔

الحكم على الحديث:
رجاله ثقات رجال الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3438
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ (بْنِ مَسْعُودٍ) رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (إِنَّهُ سَيَكُونُ عَلَيْكُمْ أُمَرَاءُ وَتَرَوْنَ أَثَرَةً) ) ، قَالَ: قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! فَمَا يَصْنَعُ مَنْ أَدْرَكَ ذَلِكَ مِنَّا؟ قَالَ: ( (أَدُّوا الْحَقَّ الَّذِي عَلَيْكُمْ وَسَلُوا اللَّهَ الَّذِي لَكُمْ) ) ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: سَمِعْتُ أَبِي قَالَ: سَمِعْتُ يَحْيَى قَالَ: سَمِعْتُ سُلَيْمَانَ قَالَ: سَمِعْتُ زَيْدَ بْنَ وَهْبٍ قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (إِنَّكُمْ سَتَرَوْنَ بَعْدِي أَثَرَةً وَأُمُورًا تُنْكِرُونَهَا) ) ، قَالَ: قُلْنَا: مَا تَأْمُرُنَا؟ قَالَ: ( (أَدُّوا إِلَيْهِمْ حَقَّهُمْ وَسَلُوا اللَّهَ حَقَّكُمْ) )
۔ سیدناعبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عنقریب تم پر ایسے حکمران مسلط ہوجائیں گے جو دوسروں کو تم پر ترجیح دیں گے۔ صحابہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ہم میں سے جو آدمی ایسی صورت حال کو پائے، وہ کیا کرے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم اس حق کو ادا کرنا جو تم پر ہے اور اپنے حق کا سوال اللہ تعالیٰ سے کرنا۔ … ایک روایت میں ہے: سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہم سے فرمایا: تم میرے بعد دیکھو گے کہ دوسروں کو تم پر ترجیح دی جائے گی اور برے امور بھی تمہیں نظر آئیں گے۔ ہم نے کہا: ایسے حالات میں آپ ہمیں کیا کرنے کا مشورہ دیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم ان (حکمرانوں) کا حق ادا کرنا اور اپنے حق کا سوال اللہ تعالیٰ سے کرنا [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3438]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 7052، ومسلم: 1843، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3641 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3641»
وضاحت: فوائد: … جمہور اہل علم کی رائے یہ ہے کہ جب زکوۃ ظالم حکمرانوں کے سپرد کر دی جائے گی تو ربّ المال بریء الذمہ ہو جائے گا اور اس کا فرض ساقط ہو جائے گا۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 7052
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
19. بَابُ الرِّفْقِ بِرَبِّ الْمَالِ وَأَمْرِ الْمُصَدِّقِ بِالذَّهَابِ إِلَيْهِ وَعَدَمِ التَّعَدِّي عَلَيْهِ
مالک کے ساتھ نرمی کرنے اور زکوۃ وصول کرنے والے نمائندے کا خود اس کی طرف چلے جانے اور اس پر زیادتی نہ کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3439
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو (بْنِ الْعَاصِ) رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (تُؤْخَذُ صَدَقَاتُ الْمُسْلِمِينَ عَلَى مِيَاهِهِمْ) )
۔ سیدناعبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کا بیان ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مسلمانوں سے زکوٰۃ ان کے اپنے ٹھکانوں پر ہی وصول کی جائے۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3439]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ أخرجه الطيالسي: 2264، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6730 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6730»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث ِ مبارکہ میں یہ مسئلہ بیان کیا گیا ہے کہ ساعی اور عامل کو زکوۃ لینے کے لیے مالک کے مقام پر جانے کا مکلف ٹھہرایا گیا ہے اور اسی میں مالکوں کے لیے آسانی اور سہولت ہے۔

الحكم على الحديث:
اسناده حسن۔ أخرجه الطيالسي: 2264
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3440
وَعَنْهُ أَيْضًا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (لَا جَلَبَ، وَلَا جَنَبَ، وَلَا تُؤْخَذُ صَدَقَاتُهُمْ إِلَّا فِي دِيَارِهِمْ) )
۔ سیدناعبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: (زکوۃ کے معاملے میں) جَلَب ہے نہ جَنَب، نیز مسلمانوں سے زکوۃ صرف ان کی رہائش گاہوں پر وصول کی جائے۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3440]
تخریج الحدیث: «صحيح، وھذا اسناد حسن۔ أخرجه البيھقي: 8/ 29، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6692 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6692»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث کا مقصود وہی مسئلہ بیان کرنا ہے، جو حدیث نمبر (۳۴۳۹)میں بیان ہو چکا ہے، مشکل الفاظ کی وضاحت اس طرح ہے: ”لَا جَلَب“:اس کا مفہوم یہ ہے کہ جانوروں کو صدقہ لینے والے کی طرف نہ لایا جائے، بلکہ عامل کو چاہیے کہ جانوروں کے محل کی طرف جائے۔
”لَا جَنَب“:اس کا مفہوم یہ ہے کہ ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ صدقہ لینے والے، مالکوں سے دور کسی مقام پر بیٹھ جائے اور جانوروں کو اس کے پاس لے جایا جائے تاکہ وہ حساب کر کے زکوۃ وصول کرے۔ ابواب و احادیث کی مناسبت سے اس مقام پر ان الفاظ کا یہی مفہوم بنتا ہے۔

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3441
عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِي فَجَاءَ رَجُلٌ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! مَا صَدَقَةُ كَذَا وَكَذَا؟ قَالَ: ( (كَذَا وَكَذَا) ) ، قَالَ: فَإِنَّ فُلَانًا تَعَدَّى عَلَيَّ، قَالَ: فَنَظَرُوا فَوَجَدُوا هُ قَدْ تَعَدَّى عَلَيْهِ بِصَاعٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَصَحْبِهِ وَسَلَّمَ: ( (فَكَيْفَ بِكُمْ إِذَا سَعَى مَنْ يَتَعَدَّى عَلَيْكُمْ أَشَدَّ مِنْ هَذَا التَّعَدِّي) )
۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے گھر تشریف فرما تھے کہ ایک آدمی نے آ کر دریافت کیا: اتنے مال کی زکوٰۃ کتنی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اتنی اتنی۔ اس نے کہا: تو پھر فلاں آدمی نے مجھ پر زیادتی کی اور مجھ سے زیادہ زکوۃ وصول کی۔ پھر جب انھوں نے پڑتال کی تو دیکھا کہ اس نے واقعی ایک صاع کی مقدار زیادتی کی تھی، پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس وقت تمہارا کیا حال ہو گا جب تمہارے حکمران تم پر اس سے بڑھ کر زیادتی کریں گے۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3441]
تخریج الحدیث: «القاسم بن عوف الشيباني ضعيفيعتبر به في المتابعات والشواھد فقط۔ أخرجه مطولا ابن خزيمة: 2336، وابن حبان: 3193، والحاكم: 1/ 404، والبيھقي: 4/ 137، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26574 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27109»
وضاحت: فوائد: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عاملین، عدل و انصاف اور حکم نبوی کے پابند تھے، ماپ تول کی وجہ سے ایک صاع کی کمی بیشی کا فرق آ سکتا ہے، یقینا اتنی مقدار کو زیادتی نہیں کہا جا سکتا ہے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آنے والے امراء کے بارے میں جو پیشین گوئی کی ہے، وہ تو اس طرح پوری ہوئی کہ حکمران طبقے نے واضح طور پر ناجائز صورتوں کے ذریعے عوام کا روپیہ پیسہ بٹورنا شروع کر دیا اور ٹیکسوں اور دوسرے مختلف ناموں کے ذریعے اپنے رعایا کے مال و دولت کے ساتھ برا سلوک کیا۔

الحكم على الحديث:
القاسم بن عوف الشيباني ضعيفيعتبر به في المتابعات والشواھد فقط۔ أخرجه مطولا ابن خزيمة: 2336
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
20. فَصْلٌ مِنْهُ فِي إِرْضَاءِ الْمُصَدِّقِ
زکوۃ وصول کنندہ کو راضی کرنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3442
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هِلَالٍ الْعَبْسِيِّ عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَاسٌ مِنَ الْأَعْرَابِ، فَقَالُوا: يَا نَبِيَّ اللَّهِ! يَأْتِينَا نَاسٌ مِنْ مُصَدِّقِيكَ يَظْلِمُونَنَا، قَالَ: ( (أَرْضُوا مُصَدِّقَكُمْ) ) ، قَالُوا: وَإِنْ ظَلَمَ؟ قَالَ: ( (أَرْضُوا مُصَدِّقَكُمْ) ) ، قَالَ جَرِيرٌ: فَمَا صَدَرَ عَنِّي مُصَدِّقٌ مُنْذُ سَمِعْتُهَا مِنْ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَّا وَهُوَ عَنِّي رَاضٍ
۔ سیدناجریر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:کچھ بدو لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آئے اور کہا:اے اللہ کے نبی! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زکوٰۃ کے نمائندے (زکوۃ کی وصولی کے سلسلے میں) ہم پر زیادتی کرتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم انہیں راضی کیا کرو۔ ان لوگوں نے کہا: خواہ وہ ظلم ہی کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بس تم انہیں راضی کیا کرو۔ سیدنا جریر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے جب سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ حدیث سنی ہے، زکوٰۃ کا نمائندہ مجھ سے راضی ہی گیاہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3442]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 989، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19207 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19420»
وضاحت: فوائد: … ابوداود کی روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں: ”((أَرْضُوْا مُصَدِّقَکُمْ وَاِنْ ظُلِمْتُمْ۔“ (تم صدقہ لینے والوں کو راضی کرو، اگرچہ تم پر ظلم کیا جا رہا ہو۔) اس حدیث کا کیا مفہوم ہوا کہ اگر زکوۃ کا عامل، ربّ المال پر ظلم بھی کر رہا ہو تو تب بھی وہ خاموش رہے اور زائد مقدار ادا کرے؟ جوابا! گزارش ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس ارشاد کی زیادہ سے زیادہ دو تاویلیں ممکن ہیں:
(۱) دراصل عہد ِ نبوی میں عاملینِ زکوۃ پوری مقدار کے ساتھ ہی زکوۃ وصول کرتے تھے، بعض لوگوں کو یہ مقدار زیادہ معلوم ہوتی تھی اور وہ اس کو ظلم سے تعبیر کرتے تھے، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اگر ظلم بھی ہو رہا ہو، تب بھی رعایا کو چاہیے کہ وہ عاملین کی خواہش کو پوراکریں۔
(۲) حقیقت میں ظلم سے مراد ظلم ہی ہے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ نصیحت فرمائی کہ ایسے معاملات میں رعایا کو چاہیے کہ زکوۃ وصول کرنے والے سرکاری عامل کے مقدار و معیار کا لحاظ رکھے، ان کے ساتھ مناقشہ نہ کیا جائے، بلکہ ان کے ساتھ نرمی کی جائے اور معاملے کو اللہ تعالیٰ کے سپرد کر دیا جائے۔ پچھلے باب میںمذکورہ احادیث سے دوسری تاویل کی تائید ہوتی ہے۔

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 989
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3442M
قَالَ: وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (مَنْ يُحْرَمِ الرِّفْقَ يُحْرَمِ الْخَيْرَ) )
۔ نیز نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو نرمی سے محروم ہے، وہ (ہر) خیر سے محروم ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3442M]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2592، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19208 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19421»
وضاحت: فوائد: … یہ حدیث بھی چونکہ اسی سند کے ساتھ مروی تھی، اس لیے اس کو یہاں ذکر کر دیا گیا ہے، نرمی کو مسلمان کے حق میں نفع بخش، دنیا و آخرت کی خیر و بھلائی کا ضامن، اعمالِ خیر کی زینت اور جنت میں داخل ہونے اور جہنم سے دور رہنے کا سبب قرار دیا گیا ہے۔ نرمی ایسا زیور ہے کہ اس سے متصف شخص لوگوں میں بھی ہر دلعزیز اور مقبول ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے ہاں بھی محبوب ہو جاتا ہے، نرمی جیسی صفت صبر وحلم، تحمل و برداشت اور عفوو درگزر کو جنم دیتی ہے کہ جن کی بنا پر دشمن بھی دوست بن جاتے ہیں، نرمی حکیم اور دانا لوگوں کی صفت ہے، وہ اس کی روشنی میں ہر انسان سے پیش آتے ہیں۔ جبکہ نرمی سے محروم آدمی لوگوں کی نگاہوں میں بھی معیوب چیز کی طرح حقیر ہو جاتا ہے اور عند اللہ بھی ناپسندیدہ ہوتا ہے۔

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 2592
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں