🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
10. بَابُ زَكَاةِ الزَّرْعِ وَالثِّمَارِ
کھیتیوں اور پھلوں کی زکوۃ کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3415
عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ الْحَضْرَمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهَ وَعَلَى آلِهِ وَصَحْبِهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْبَحْرَيْنِ أَوْ أَهْلِ هَجَرَ شَكَّ أَبُو حَمْزَةَ قَالَ: كُنْتُ آتِي الْحَائِطَ، يَكُونُ بَيْنَ الْإِخْوَةِ فَيُسْلِمُ أَحَدُهُمْ فَآخُذُ مِنَ الْمُسْلِمِ الْعُشْرَ، وَمِنَ الْآخَرِ الْخَرَاجَ
۔ سیدنا علاء بن حضرمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے بحرین یا ہجر کی طرف بھیجا تھا، میں جب ایسے باغ میں جاتا، جو مختلف بھائیوں کا ہوتا اور ان میں سے ایک مسلمان ہو چکا ہوتا تو مسلمان سے دسواں حصہ زکوۃ لیتا اور دوسروں سے خراج وصول کرتا تھا۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3415]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، المغيرة الازدي مجھول أخرجه ابن ماجه: 1831، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20527 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20801»
وضاحت: فوائد: خراج: وہ جزیہ جو ذمیوں سے وصول کیا جاتا ہے۔ یہ حدیث تو ضعیف ہے، لیکن ذمی لوگوں سے جزیہ وصول کرنا ایک شرعی مسئلہ ہے، اس کی ماہانہ یا سالانہ مقدار کا فیصلہ حاکمِ وقت کرے گا، ویسے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: اَنَّ النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اَمَرَہٗاَنْیَّاْخُذَ مِنْ کُلِّ حَالِمٍ دِیْنَارًا۔ (نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو حکم دیا تھا کہ وہ ہر بالغ سے ایک دینار وصول کریں)۔ (ابوداود: ۳۰۳۸، ترمذی: ۶۲۳، نسائی: ۵/ ۲۶، ابن ماجہ: ۱۸۰۳)
ایک دینار ساڑھے چار (4) ماشے سونے کا ہوتا ہے۔ یہ خراج سالانہ فی کس کے لحاظ سے لیا جاتا تھا۔ (عبداللہ رفیق)

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3416
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ كُلِّ جَادٍّ عَشَرَةَ أَوْسُقٍ مِنْ تَمْرٍ بِقِنْوٍ، يُعَلَّقُ فِي الْمَسْجِدِ لِلْمَسَاكِينِ
۔ سیدناجابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم دیا کہ جو شخص دس وسق کھجور کاٹ لے، وہ مسجد میں مساکین کے لیے ایک خوشہ لٹکا دے۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3416]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن أخرجه ابوداود: 1662، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14867 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14928»
وضاحت: فوائد: امام ابوداود نے اس حدیث کو ”باب فی حقوق المال“ میں ذکر کیا ہے، ذہن نشین رہنا چاہیے کہ اس حدیث کا تعلق زکوۃ سے نہیں ہے، بلکہ نفلی صدقہ سے ہے، اس لیے اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ زکوۃ کے علاوہ بھی مال میں دوسروں لوگوں کے حقوق موجود ہیں۔

الحكم على الحديث:
اسناده حسن أخرجه ابوداود: 1662
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3417
عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ قَالَ: عِنْدَنَا كِتَابُ مُعَاذٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ إِنَّمَا أَخَذَ الصَّدَقَةَ مِنَ الْحِنْطَةِ وَالشَّعِيرِ وَالزَّبِيبِ وَالتَّمْرِ
۔ موسیٰ بن طلحہ کہتے ہیں: ہمارے پاس سیدنامعاذ رضی اللہ عنہ کی ایک تحریر ہے، اس میں یہ لکھا ہوا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صرف گندم، جو، منقیٰ اور کھجور سے زکوۃ وصول کی ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3417]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ أخرجه الدارقطني: 2/96، والحاكم: 1/401، والبيھقي: 4/128، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21989 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22338»
وضاحت: فوائد: … سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ نصابِ زکوۃ اور شرحِ زکوۃ کے تعین کے بعد وہ کون کون سی فصلیں ہیں، جن پر زکوۃ عائد ہوتی ہے یا جو زکوۃسے مستثنی ہیں، اس مسئلہ ہم درج ذیل بحث کرتے ہیں: عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رضی اللہ عنہ،قَالَ: إِنَّمَا سَنَّ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم الزَّکَاۃَ فِی ھٰذِہِ الْأَرْبَعَۃِ: الْحِنْطَۃِ، وَالشَّعِیْرِ، وَالزَّبِیْبِ وَالتَّمْرِ۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان چار اصناف میں زکوۃ نافذ کی: گندم، جو، منقی اور کھجور۔ (الدارقطني:۲۰۱، صحیحہ: ۸۷۹)
شیخ البانی رحمتہ اللہ علیہ نے اس حدیث کی سندی حیثیت پر درج ذیل بحث کی ہے: یہ حدیث سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، اس کی سند میں محمد بن عبید اللہ عزرمی ”متروک“ ہے، لیکن اس کی متابعت موجود ہے، جسے امام دار قطنیؒ اور امام حاکم نے روایت کیا کہ موسی بن طلحہ نے کہا: عِنْدَناَ کِتَابُ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ عَنِ النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اَنَّہٗاَنَّمَااَخَذَالصَّدَقَۃَ مِنَ الْحِنْطَۃِ … آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے گندم اور … سے زکوۃ وصول کی ہے۔ امام حاکم نے کہا: موسی بن طلحہ عظیم تابعی ہیں اور سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کے زمانے کو ان کے پانے کا انکار نہیں کیا گیا۔ لیکن ابن عبد البر نے کہا کہ موسی بن طلحہ، سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کو نہ ملے ہیں اور نہ ان کو پایا ہے۔
لیکن امام حاکم نے صحیح سند کے ساتھ اس کا یہ شاہد ذکر کیا ہے: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((لَاتَاْخُذُوا اِلاَّ مِنْ ھٰذِہِ الْاَرْبَعۃِ …)) صرف ان چار اصناف میں زکوۃ وصول کرو۔ ان احادیث کی روشنی میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ، امام عبد اللہ بن مبارک، امام حسن بصریاور امیر صنعانی وغیرہ کا یہ مسلک ہے کہ زرعی پیدوار کی تمام اقسام میں سے صرف گندم، جو، کھجور اور منقی پر زکوۃ فرض ہے۔ امام صنعانی نے کہا: قطعی اور حتمی بات تو یہ ہے کہ مسلمان کا مال حرمت والا ہے، کسی قطعی دلیل کی روشنی میں ہی اس حرمت کو ختم کیا جا سکتا ہے، احتیاط اور دوسرے عام دلائل ناکافی ہیں، دوسری بات یہ ہے کہ اصل قانون تو براء ت ِ ذمہ کا ہے، یہ دو بنیادی اصول ہیں، جن کا حکم ختم کرنے کے لیے اِن کے مقابلے کی قطعی دلیل درکار ہے۔ رہا مسئلہ احتیاط کا، تو اس کا تقاضا تو یہ ہے کہ مکئی وغیرہ پر بھی زکاۃ عائد نہ کی جائے، کیونکہ اس قسم کی فصلوں کے لیے جس عموم کا سہارا لیا گیا، ان کی تخصیص ثابت ہو چکی ہے۔ (سبل السلام: ۴/ ۳۶) جبکہ بعض علمائے کرام کا یہ مسلک ہے کہ زمین سے پیدا ہونے والی ہر قسم کی زرعی پیداوار پر عُشر یعنی زکوۃ فرض ہے، انھوں نے اپنے حق میں درج ذیل عام آیات پیش کی ہیں،ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {وَآتُوا حَقَّہٗیَوْمَ حَصَادِہٖ} (سورۂانعام: ۱۴۲) … ”کھیتی کٹنے کے دن اس کا حق ادا کر دو۔“ نیز فرمایا: {مِمَّا اَخْرَجْنَا لَکُمْ مِنَ الْاَرْضِ} (سورۂ بقرہ: ۲۶۷) … ” اس چیز میں سے خرچ کرو جو ہم نے تمہارے لیے زمین سے نکالی۔“ نیز بعض احادیث بھی اس عموم پر دلالت کرتی ہیں، جیسے ((فِیْمَا سَقَتِ السَّمَائُ وَالْعُیُونُ … عُشر … وَنِصْفُ الْعُشْرِ۔))

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح۔ أخرجه الدارقطني: 2/96
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
11. بَابُ مَا جَاءَ فِي خَرْصِ النَّخْلِ وَالْعِنَبِ
کھجور اور انگور کی فصل کا اندازہ لگانے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3418
عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا قَالَتْ: وَهِيَ تَذْكُرُ شَأْنَ خَيْبَرَ، كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَبْعَثُ ابْنَ رَوَاحَةَ إِلَى الْيَهُودِ فَيَخْرُصُ عَلَيْهِمُ النَّخْلَ، حِينَ يَطِيبُ (وَفِي رِوَايَةٍ: أَوَّلَ الثَّمَرِ) قَبْلَ أَنْ يُؤْكَلَ مِنْهُ، ثُمَّ يَخَيِّرُونَ الْيَهُودَ أَنْ يَأْخُذُوا أَوْ يَرُدُّوا إِلَيْهِمْ بِذَلِكَ، وَإِنَّمَا كَانَ أَمْرُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِكَيْ يُحْصِيَ الزَّكَاةَ قَبْلَ أَنْ تُؤْكَلَ الثَّمَرَةُ وَتُفَرَّقَ
۔ سید عائشہ رضی اللہ عنہا خیبر کی صورتحال کا تذکرہ کرتے ہوئے کہتی ہیں: جب وہاں کی کھجوریں تیار ہو جاتیں، لیکن ابھی تک کھانے کے قابل نہ ہوتیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدنا عبد اللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کو یہودیوں کی طرف بھیجتے تاکہ وہ وہاں جا کرکھجوروں کی فصل کا اندازہ لگائیں، وہ اندازہ لگا کر ان کو اختیار دے دیتے کہ وہ یا تو اس لگائے ہوئے اندا زے کے مطابق کھجوریں لے لیں اور فصل چھوڑ دیں یا اس اندازہ کے حساب سے حصہ ادا کریں،نبی کریم کا یہ حکم اس وجہ سے تھا کہ کھجوروں کو کھانے اور تقسیم کرنے سے پہلے پہلے ہی ان کی مقدار کا اندازہ ہو جائے۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3418]
تخریج الحدیث: «اسناده ضيعف لانقطاعه، ابن جريج لم يسمع ھذا الحديث من ابن شهاب۔ أخرجه ابوداود: 1606، 3413، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25305 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25819»

الحكم على الحديث:
اسناده ضيعف لانقطاعه
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3419
عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا خَرَصَهَا ابْنُ رَوَاحَةَ أَرْبَعِينَ أَلْفَ وَسْقٍ، وَزَعَمَ أَنَّ الْيَهُودَ لَمَّا خَيَّرَهُمْ ابْنُ رَوَاحَةَ أَخَذُوا الثَّمَرَ وَعَلَيْهِمْ عِشْرُونَ أَلْفَ وَسْقٍ
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ سیدنا ابن رواحہ رضی اللہ عنہ نے کھجوروں کا اندازہ چالیس ہزار وسق کی صورت میں لگایا، پھر جب انھوں نے یہودیوں کو اختیار دیا تو انہوں نے پھل کو اپنے حق میں ترجیح دی اور بیس ہزار وسق کھجور ادا کرنا ان کے ذمےّ ٹھہرا۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3419]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم۔ أخرجه ابوداود: 3415، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14161 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14208»

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط مسلم۔ أخرجه ابوداود: 3415
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3420
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ ابْنَ رَوَاحَةَ إِلَى خَيْبَرَ يَخْرُصُ عَلَيْهِمْ، ثُمَّ خَيَّرَهُمْ أَنْ يَأْخُذُوا أَوْ يَرُدُّوا، فَقَالُوا هَذَا الْحَقُّ، بِهَذَا قَامَتِ السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ
۔ سیدناعبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا ابن رواحہ رضی اللہ عنہ کو خیبر کی طرف روانہ کیا تاکہ وہ وہاں جا کر کھجور کی فصل کا اندازہ لگائیں، انہوں نے فصل کا اندازہ لگانے کے بعد انہیں اختیار دے دیا کہ وہ چاہیں تو اسے قبول کر لیں یا چاہیں توردّ کر دیں، لیکن انھوں نے (یہ فیصلہ سن کر)کہا: یہی فیصلہ حق ہے اور اسی کی بدولت آسمان و زمین قائم ہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3420]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف العمري وھو عبد الله بن عمر، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4768 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4768»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف العمري وھو عبد الله بن عمر
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3421
عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (إِذَا خَرَصْتُمْ فَجُذُّوا، وَدَعُوا الثُّلُثَ، فَإِنْ لَمْ تَجُذُّوا أَوْ تَدَعُوا فَدَعُوا الرُّبُعَ) )
۔ سیدناسہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم فصل کا اندازہ کر لو تو اس کے کٹنے کے بعد (زکوۃ کی یہ مقدار وصول کرو، لیکن) ایک تہائی چھوڑ دو، اگر تم اتنا نہ چھوڑو تو ایک چوتھائی چھوڑ دو۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3421]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وھذا اسناد ضعيف۔ أخرجه ابوداود: 1605، والترمذي: 643، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15713 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15804»
وضاحت: فوائد: … اس باب کی احادیث کھجور اور انگور وغیرہ کی فصل کا اندازہ لگانے کی مشروعیت پر دلالت کرتی ہیں شافعی اور احمد کے نزدیک ان فصلوں کا اندازہ لگانا مستحب ہے۔ مالک، شریح اور ابو جعفر اور بعض ظاہریہ کے نزدیکیہ واجب ہے۔ نودی نے کہا ہے کہ کھجور اور انگور وغیرہ کی فصل جن میں عشر و اجب ہوتا ہے۔ ان میں فصل کا اندازہ کر لینا مستحب ہے۔ اس باب میں زمیندار لوگوں کے لیے ایک بڑی سہولت آمیز رخصت کا بیان ہے اور وہ یہ کہ حکومت کے نمائندے فصل تیار ہو چکنے کے بعد فصل کا اندازہ لگائیں اور پھر دسویںیا بیسویں حصے کی روشنی میں زمیندار کے لیے زکوۃ کی کل مقدار کا تعین کر دیں، اس طرح سے زمیندار لوگ ساری فصل کے باریک اور مجموعی حساب سے محفوظ ہو جاتے ہیں، کیونکہ کئی فصلیں ایسی ہیں کہ ان کی کچھ مقدار جانوروں کو کھلا دی جاتی ہیں، کچھ مقدار مالک اپنے گھر میں رکھ لیتا ہے، کچھ مقدار موچی اور حجام لوگوں کو دے دی جاتی ہے اور کچھ مقدار تاجروں کو فروخت کر دی جاتی ہے۔

الحكم على الحديث:
حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
12. بَابُ مَا جَاءَ فِي زَكَاةِ الْعَسَلِ
شہد کی زکوٰۃ کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3422
عَنْ أَبِي سَيَّارَةَ الْمُتَعِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّ لِي نَخْلًا، قَالَ: ( (أَدِّ الْعُشُورَ) ) ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! احْمِهَا لِي، قَالَ: فَحَمَاهَا لِي، قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ: احْمِ لِي جَبَلَهَا، قَالَ: فَحَمَى لِي جَبَلَهَا
۔ سیدناابو سیارہ متعی رضی اللہ عنہ کا بیان ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے پاس شہد کی مکھیاں ہیں، (یعنی میرے پاس شہد ہوتاہے۔)آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کا دسواں حصہ (بطورِ زکوۃ) ادا کیا کر۔ اس نے کہا: تو پھر آپ وہ علاقہ تو میرے لیے مختص کر دیں۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ علاقہ اس کے لیے محفوظ کر دیا۔ عبد الرحمن راوی نے (حدیث کے الفاظ بیان کرتے ہوئے) کہا: آپ وہ پہاڑ میرے لیے خاص کر دیں، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ پہاڑ اس کے لیے مختص کر دیا۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3422]
تخریج الحدیث: «قال الالباني في ابن ماجه: حسن بما بعد۔ أخرجه ابن ماجه: 1823، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18069 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18237»
وضاحت: فوائد: … سب سے پہلے ہم شہد کی زکوۃ پر مشتمل دیگر احادیث نقل کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ سیدنا ہلال رضی اللہ عنہ نے شہد کا دسواں حصہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں (بطورِ زکوۃ) پیش کیا، دراصل انھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے درخواست کی تھی کہ ”سلبہ“ نامی وادی ان کے لیے محفوظ کر دی جائے، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس وادی کو ان کے لیے خاص قرار دیا تھا، جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا دورِ خلافت شروع ہوا تو سفیان بن وہب نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے یہ مسئلہ دریافت کرنے کے لیے ان کے نام ایک تحریر لکھی، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے جواباً لکھا: وہ شہد کا جو دسواں حصہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بطورِ زکوۃ دیا کرتے تھے، اگر وہ دیتے رہیں تو ان کے لیے اس وادی کو محفوظ کیے رکھو، وگرنہ یہ بارش کی وجہ سے پیدا ہونے والا شہد ہے، جو چاہتا ہے، اس کو کھا سکتا ہے۔ (ابوداود: ۱۶۰۰، نسائی: ۲۴۹۹، ابن ماجہ: ۱۸۲۴)
سنن ابوداود(۱۶۰۱) کی روایت کی میں ہے: (سیدناعمر رضی اللہ عنہ کے جواب کے بعد) وہ لوگ اسی حساب سے زکوۃ ادا کرتے رہے، جس حساب سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو زکوۃ دیا کرتے تھے، اس لیے سفیان بن وہب نے دو وادیوں کو ان کے لیے محفوظ کر دیا تھا۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شہد کے بارے میں فرمایا: ((فِیْ کُلِّ عَشْرَۃِ اَزْقَاقٍ زِقٌّ۔)) … ”ہر دس مشکوں میں ایک مشک (زکوۃ) ہے۔“ (ترمذی: ۶۶۹) ان روایات سے معلوم ہوا کہ شہد میں اس وقت زکوۃ ادا کی جائے گی، جب حاکم کی طرف سے شہد والا کوئی خاص علاقہ کسی ایک شخص کے نام محفوظ کر دیا جائے گا، بصورتِ دیگر شہد پر زکوۃ نہیں ہو گی، امام احمد شہد میں دسویں حصے زکوۃ کے قائل تھے۔

الحكم على الحديث:
قال الالباني في ابن ماجه: حسن بما بعد۔ أخرجه ابن ماجه: 1823
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
13. زَكُوةُ الْحُلِيِّ
زیورات کی زکوٰۃ کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3423
عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ: أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ امْرَأَتَانِ فِي أَيْدِيهِمَا أَسَاوِرُ مِنْ ذَهَبٍ، فَقَالَ لَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (أَتُحِبَّانِ أَنْ يُسَوِّرَكُمَا اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَسَاوِرَ مِنْ نَارٍ؟) ) ، قَالَتَا: لَا، قَالَ: ( (فَأَدِّيَا حَقَّ هَذَا الَّذِي فِي أَيْدِيْكُمَا) )
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ دو عورتیں نبی کریم کی خدمت حاضر ہوئیں، ان کے ہاتھوں میں سونے کے کنگن تھے، رسول اللہ نے ان سے پوچھا: کیا تم اس بات کو پسند کرتی ہو کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن تمہیں آگ کے کنگن پہنائے؟ انہوں نے کہا: نہیں۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر اس زیور کا حق (زکوۃ) ادا کیا کرو جو تمہارے ہاتھوں میں ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3423]
تخریج الحدیث: «حديث حسن۔ أخرجه ابوداود: 1563، والترمذي: 637، والنسائي: 5/ 38، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6667 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6667»

الحكم على الحديث:
حديث حسن۔ أخرجه ابوداود: 1563
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3424
عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ قَالَتْ: دَخَلْتُ أَنَا وَخَالَتِي عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْنَا أَسْوِرَةٌ مِنْ ذَهَبٍ، فَقَالَ لَنَا: ( (أَتُعْطِيَانِ زَكَاتَهُ؟) ) ، قَالَتْ: فَقُلْنَا: لَا، قَالَ: ( (أَمَا تَخَافَانِ أَنْ يُسَوِّرَ كُمَا اللَّهُ أَسْوِرَةً مِنْ نَارٍ، أَدِّيَا زَكَاةَهُ) )
۔ سیدہ اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا کہتی ہے: میں اور میری خالہ ہم دونوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں، جبکہ ہم نے سونے کے کنگن بھی پہنے ہوئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہم سے پوچھا: کیا تم اس زیور کی زکوٰۃ ادا کیا کرتی ہو؟ ہم نے کہا: جی نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم اس بات سے نہیں ڈرتیں کہ اللہ تعالیٰ تمہیں اس کے عوض آگ کے کنگن پہنائے، اس کی زکوٰۃ ادا کیا کرو۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3424]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف علي بن عاصم الواسطي وشھر بن حوشب۔ أخرجه الطبراني في ’’الكبير‘‘: 24 (431)، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27614 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 28166»
وضاحت: فوائد: … عبداللہ بن شداد بن ہاد کہتے ہیں: ہم سیدہ زوجۂ رسول عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے، انھوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس تشریف لائے اور میرے ہاتھ میں چاندی کی بڑی بڑی انگوٹھیاں دیکھ کر فرمایا: ”عائشہ! یہ کیا ہیں؟“ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے یہ تیار کیےہیں، تاکہ آپ کے لیے زینت اختیار کروں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم ان کی زکوۃ ادا کرتی ہو؟“ میں نے کہا: جی نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”تو پھر تجھے جہنم کے لیےیہی چیز کافی ہے۔“ (ابوداود: ۱۵۶۵) اس باب کی دوسری حدیث بھی اِن شواہد کی روشنی میں قابل حجت معلوم ہوتی ہے، سونے اور چاندی کی زکوۃ کے نصاب اور شرح پر پہلے بحث ہو چکی ہے، اصل معیار وہی نصاب اور شرح ہے، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ سونا اور چاندی ڈلی کی صورت میںپڑا ہو یا زیورات میں ڈھلا ہوا ہو، وہ استعمال کیا جا رہا ہو یا نہ کیا جا رہا ہو۔ واضح رہے کہ زکوٰۃ صرف سونے اور چاندی کے زیورات پر واجب ہے، ان کے علاوہ دیگر قیمتی دھاتوں اور پتھروں کے بنے ہوئے زیورات پر زکوۃ نہیں ہے، اگرچہ ان کی قیمت سونے سے بھی زیادہ ہو۔

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف علي بن عاصم الواسطي وشھر بن حوشب۔ أخرجه الطبراني في ’’الكبير‘‘: 24 (431)
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں