🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
20. فَصْلٌ مِنْهُ فِي إِرْضَاءِ الْمُصَدِّقِ
زکوۃ وصول کنندہ کو راضی کرنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3443
عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (لِيَصْدُرِ الْمُصَدِّقُ وَهُوَ عَنْكُمْ رَاضٍ) ) (وَفِي لَفْظٍ: ( (لِيَصْدُرِ الْمُصَدِّقُ مِنْ عِنْدِكُمْ وَهُوَ رَاضٍ) ) )
۔ سیدنا جریر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: زکوۃ کا نمائندہ تم لوگوں سے راضی ہو کر واپس جانا چاہیے۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3443]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 989، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19187 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19401»

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 989
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
21. بَابُ كَرَاهَةِ تَيَمُّمِ الْخَبِيثِ وَدَفْعِهِ فِي الصَّدَقَةِ وَفَضْلِ الصَّدَقَةِ بِالطَّيِّبِ
حقیر قسم کی چیز کا قصد کرنے اور اس کا صدقہ کرنے کی کراہت اور عمدہ چیز کا صدقہ کرنے کی فضلیت کی بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3444
عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ الْحَضْرَمِيِّ عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ الْعَصَا وَفِي الْمَسْجِدِ أَقْنَاعٌ مُعَلَّقَةٌ فِيهَا قِنْوٌ فِيهِ حَشَفٌ، فَغَمَزَ الْقِنْوَ بِالْعَصَا الَّتِي فِي يَدِهِ، قَالَ: ( (لَوْ شَاءَ رَبُّ هَذِهِ الصَّدَقَةِ تَصَدَّقَ بِأَطْيَبَ مِنْهَا، إِنَّ رَبَّ هَذِهِ الصَّدَقَةِ لَيَأْكُلُ الْحَشَفَةَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ) ) ، قَالَ: ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا، فَقَالَ: ( (أَمَا وَاللَّهِ! يَا أَهْلَ الْمَدِينَةِ! لَتَدَعُنَّهَا أَرْبَعِينَ عَامًا لِلْعَوَافِي) ) ، قَالَ: فَقُلْتُ: اللَّهُ أَعْلَمُ قَالَ: يَعْنِي الطَّيْرَ وَالسِّبَاعَ، قَالَ: وَكُنَّا نَقُولُ: إِنَّ هَذَا الَّذِي تُسَمِّيهِ الْعَجَمُ هِيَ الْكَرَاكِيُّ
۔ سیدنا عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ایک روز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھ میں لاٹھی بھی تھی، اُدھر مسجد میں کھجوروں کے خوشے لٹکے ہوئے تھے، ان میں سے ایک خوشے میں خشک اور ردی قسم کی کھجوریں تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لاٹھی اس خوشے پر ماری اور فرمایا: اگریہ خوشہ صدقہ کرنے والا چاہتا تو اس سے عمدہ صدقہ کر سکتا تھا، یہ آدمی قیامت کے دن بھی ناکارہ کھجوریں ہی کھائے گا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: اے اہل مدینہ! ایک زمانہ آئے گا کہ تم اس شہر کو چالیس سال تک کے لئے پرندوں اور درندوں کے لئے چھوڑ جاؤ گے۔ راوی کہتا ہے: میں نے کہا کہ اللہ ہی بہتر جانتا ہے، لیکن اس نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی (عوافی سے مراد) پرندے اور درندے تھے۔ ہم کہتے تھے: بیشک یہ وہی چیز ہوتی ہے، جس کو عجمی لوگ کَرَاکِی کہتے ہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3444]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ أخرجه ابوداود: 1608، والنسائي: 5/ 43، ابن ماجه: 1821، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23976 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24476»
وضاحت: فوائد: … اس سے زیادہ واضح اور سبق آموز حدیث درج ذیل ہے: سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جب کھجوروں کی کٹائی کا موسم ہوتا تو انصاری لوگ کھجوروںکے گچھے لاتے اور مسجد نبوی میں دو ستونوں کے ساتھ بندھیہوئی رسی پر لٹکا دیتے، تاکہ فقیر مہاجرین کھا لیں، ایسے میں بعض انصاری اس طرح کرتے کہ خشک اور ردّی کھجوروں والے خوشے اس نیت سے لے آتے کہ بہت سارے دوسرے خوشوں میں اس طرح کے گچھے لٹکا دینا بھی جائز ہے، اس پر یہ آیت نازل ہوئی: {وَلَا تَیَمَّمُوْا الْخَبِیْثَ مِنْہُ تُنْفِقُوْنَ} ردّی کھجوروں کو خرچ کرنے کا قصد نہ کرو، {وَلَسْتُمْ بِآخِذِیْہِ اِلَّا اَنْ تُغْمِضُوْا فِیْہِ} اگر خود تم لوگوں کو ایسی چیزبطورِ تحفہ دی جاتی تو تم نے قبول نہیں کرنی تھی، البتہ اپنے ساتھی سے شرماتے ہوئے لے لینی تھی، لیکن اس کے ساتھ ساتھ تم کو اس بات پر غصہ بھی آنا تھا کہ اس نے ایسی چیز کیوں بھیجی ہے، جس کی تمہیں ضرورت ہی نہیں ہے، {وَاعْلَمُوْا اَنَّ اللّٰہَ غَنِیٌّ} اللہ تعالیٰ تمہارے صدقات سے بے پرواہ ہے۔ (ابن ماجہ: ۱۸۲۲)
پوری آیتیوں ہے: {یَااَیُّھَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا اَنْفِقُوْا مِنْ طَیِّبَاتِ مَا کَسَبْتُمْ وَمِمَّا اَخْرَجْنَا لَکُمْ مِّنَ الْاَرْضِ وَلَا تَیَمَّمُوْا الْخَبِیْثَ مِنْہُ تُنْفِقُوْنَ وَلَسْتُمْ بِآخِذِیْہِ اِلَّا اَنْ تُغْمِضُوْا فِیْہِ وَاعْلَمُوْا اَنَّ اللّٰہَ غَنِیٌّ حَمِیْدٌ۔} (سورۂ بقرہ: ۲۶۷) … ”اے ایمان والو! اپنی پاکیزہ کمائی میں سے اور زمین میں سے تمہارے لیے ہماری نکالی ہوئی چیزوں میں سے خرچ کرو اور ان میں سے ردّی چیزوں کے خرچ کرنے کا قصد نہ کرنا، جسے تم خود لینے والے نہیں ہو، ہاں اگر آنکھیں بند کر لوتو، اور جان لو کہ اللہ تعالیٰ بے پرواہ اور خوبیوں والا ہے۔“ قارئین کرام!اللہ تعالیٰ کے راستے میں اچھی اور قیمتی چیز خرچ کرنے کے لیے عجیب قسم کی اللہ تعالیٰ کے ساتھ دوستی اور رغبت چاہیے، شاید اس چیز کو لفظوں میں بیان نہ کیا جا سکتا ہے، آپ غور کریں کہ جب ہم اپنے کسی دوست یا معرفت والے آدمی کو کوئی تحفہ دینا چاہتے ہیں تو اس کے لیے کس قدر سوچتے ہیں، مختلف چیزوں میں سے کیسی کیسی چیزوں کا انتخاب کرتے ہیں، اس میں ہمارا مقصد یہ ہوتا ہے کہ متعلقہ آدمی راضی ہو جائے، درج ذیل مثال پر غور کریں۔
عَنْ سَعِیْدِ بْنِ یَزِیْدَ الأنْصَارِیِّ: أنَّ رَجُلاً قَالَ: یَارَسُوْلَ اللّٰہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم أَوْصِنِی قَالَ: ((اُوْصِیْکَ أنْ تَسْتَحْیِیَ مِنَ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ کَمَا تَسْتَحْیِ رَجُلاً مِنْ صَالِحِیْ قَوْمِکَ۔))
(أحمدفی”الزھد“: صـ ۴۶،البیھقی فی”الشعب“: ۲/۴۶۲/۲، صحیحۃ:۷۴۱)
سیدناسعید بن زید انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! مجھے نصیحت فرمائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”میں تجھے نصیحت کرتا ہوں کہ تو اللہ تعالیٰ سے اس طرح شرم و حیا کر جس طرح تو اپنی قوم کے نیکوکار شخص سے شرماتا ہے۔“ چونکہ انسان طبعی طور پر ظاہر پرست ہے اور غیبی اور معنوی امور پر ایمان لانے کی بہ نسبت موجودہ اور حسّی چیزوں کو جلدی تسلیم کرتا ہے۔ اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے امتیوں کو شرم و حیا کا پیکر بنانے کے لیے حسّی چیز کی مثال دی، جس کا ہر کوئی لحاظ کرتا ہے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مقصود اللہ تعالیٰ کا پاس و لحاظ کروانا ہے، جو انسان کے لیے معنوی چیز ہے۔ خلاصۂ کلام یہ ہے کہ جیسے ہم اپنے بزرگوں کے سامنے کوئی ناشائستہ اور نامناسب حرکت کرنے سے گریز کرتے ہیں، بشرطیکہ کہ ہم ان کو باوقار سمجھ کر ان کے ادب و احترام کے تقاضے پورے کرنے والے ہوں، یہی معاملہ اللہ تعالیٰ سے کرنا چاہئے، جو ہماری حرکات و سکنات سے بخوبی آگاہ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمانا کہ: ”اگر یہ خوشہ صدقہ کرنے والا چاہتا تو اس سے عمدہ صدقہ کر سکتا تھا، یہ آدمی قیامت کے دن بھی ناکارہ کھجوریں ہی کھائے گا۔“ اس میں دوسرے جملے کا مفہوم یہ ہے کہ ”جیسا کرو گے ویسا بھرو گے“، جو آدمی ناقص عمل کرے گا، اس کا بدلہ بھی ویسے ہی ہو گا۔ ”کُرْکِیّ“ کی جمع ”کَرَاکی“ ہے، یہ معروف آبی پرندے سارس کو کہتے ہیں۔ حدیث ِ مبارکہ کے آخری حصے کا تعلق آخری زمانہ سے ہے، جس وقت مدینہ منورہ غیر آباد ہو جائے گا، اس کی مزید وضاحت ”فَضَائِلُ الْمَدِیْنَۃ“ کے ابواب میں آئے گی۔

الحكم على الحديث:
اسناده حسن۔ أخرجه ابوداود: 1608
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3445
عَنْ قَتَادَةَ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْمَلِيحِ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتٍ يَقُولُ: ( (إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَا يَقْبَلُ صَلَاةً بِغَيْرِ طُهُورٍ وَلَا صَدَقَةً مِنْ غُلُولٍ) )
۔ ابوملیح، اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک گھر میں فرمایا تھا: بیشک اللہ تعالیٰ وضو کے بغیر نماز کو اور خیانت کے مال سے صدقہ کو قبول نہیں کرتا۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3445]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ أخرجه ابوداود: 59، وابن ماجه: 271، والنسائي: 5/56،، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20708 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20984»
وضاحت: فوائد: … صدقہ و خیرات کے لیے کمائی کا حلال ہونا انتہائی ضروری ہے۔

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح۔ أخرجه ابوداود: 59
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3446
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوُهُ
۔ سیدنا عبد اللہ ابن عمر رضی اللہ عنہ نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اسی طرح کی روایت بیان کی ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3446]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم 224، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5123 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5123»

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم 224
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3447
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا تَصَدَّقَ مِنْ طَيِّبٍ، تَقَبَّلَهَا اللَّهُ مِنْهُ وَأَخَذَهَا بِيَمِينِهِ وَرَبَّاهَا كَمَا يُرَبِّي أَحَدُكُمْ مُهْرَهُ أَوْ فَصِيلَهُ، وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَتَصَدَّقُ بِاللُّقْمَةِ فَتَرْبُو فِي يَدِ اللَّهِ أَوْ قَالَ: فِي كَفِّ اللَّهِ حَتَّى تَكُونَ مِثْلَ الْجَبَلِ فَتَصَدَّقُوا) )
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب بندہ حلال کمائی میں سے صدقہ کرے تو اللہ تعالیٰ اسے قبول کرتا ہے اور اس کو دائیں ہاتھ میں لے کر یوں بڑھاتا رہتا ہے، جیسے تم میں سے کوئی اپنی گھوڑی یا اونٹنی یا گائے کے بچے کو پالتا ہے، آدمی تو ایک لقمہ ہی صدقہ کرتا ہے، لیکن وہ اللہ کے ہاتھ (ایک راوی کے بیان کے مطابق اللہ کی تھیلی) میں بڑھتا بڑھتا پہاڑ کے برابر ہو جاتا ہے، پس تم صدقہ کیا کرو۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3447]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1321، و مسلم 1014، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7634 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7622»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 1321
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3448
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (مَا مِنْ عَبْدٍ مُؤْمِنٍ تَصَدَّقَ بِصَدَقَةٍ مِنْ طَيِّبٍ وَلَا يَقْبَلُ اللَّهُ إِلَّا طَيِّبًا وَلَا يَصْعَدُ السَّمَاءَ إِلَّا طَيِّبٌ إِلَّا وَهُوَ يَضَعُهَا فِي يَدِ الرَّحْمَنِ أَوْ فِي كَفِّ الرَّحْمَنِ فَيُرَبِّيهَا لَهُ كَمَا يُرَبِّي أَحَدُكُمْ مُهْرَهُ أَوْ فَلُوَّهُ حَتَّى إِنَّ التَّمْرَةَ لَتَكُونُ مِثْلَ الْجَبَلِ الْعَظِيمِ) )
۔ (دوسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بندۂ مومن حلال کمائی میں سے جو صدقہ کرتا ہے، اور اللہ تعالیٰ حلال چیز کو ہی قبول کرتا ہے اور حلال ہی آسمان کی طرف چڑھتا ہے، بہرحال اللہ تعالیٰ اسے اپنے ہاتھ میں لے کر یوں بڑھاتا ہے جیسے تم میں سے کوئی اپنے گھوڑی کے بچے کو پا لتا ہے، یہاں تک کہ ایک کھجور بڑے پہاڑ کے برابر ہو جاتی ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3448]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8363»

الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8363
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3449
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (مَنْ تَصَدَّقَ بِعِدْلِ تَمْرَةٍ مِنْ كَسْبٍ طَيِّبٍ وَلَا يَصْعَدُ إِلَى اللَّهِ إِلَّا الطَّيِّبُ فَإِنَّ اللَّهَ يَقْبَلُهَا بِيَمِينِهِ ثُمَّ يُرَبِّيهَا لِصَاحِبِهَا كَمَا يُرَبِّي أَحَدُكُمْ فَلُوَّهُ حَتَّى تَكُونَ مِثْلَ الْجَبَلِ) )
۔ سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی حلال کمائی میں سے ایک کھجور کے بقدر صدقہ کرتا ہے، اور حلال چیز ہی اللہ تعالیٰ کی طرف چڑھتی ہے، تو اللہ تعالیٰ اسے اپنے دائیں ہاتھ میں قبول کرتا ہے اور اسے مالک کے لئے یوں بڑھاتا رہتا ہے، جیسےتم میں سے کوئی اپنے گھوڑی کے بچے کی پرورش کرتا ہے، حتی کہ ایک کھجور ایک پہاڑ کے برابر ہو جاتی ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3449]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1321، و مسلم 1014، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7634 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8363»
وضاحت: فوائد: … ان نصوص میں پاکیزہ کمائی سے صدقہ کرنے کی اہمیت کا بیان ہے کہ کھجور کے ایک ایک دانے کا اجر پہاڑوں کی مانند ہو گا۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 1321
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
22. بَابُ جَوَازِ إِعْطَاءِ قَوْمٍ وَحِرْمَانِ آخَرِينَ لِمَصْلَحَةٍ يَرَاهَا الْإِمَامُ
حکمران کا کسی مصلحت کی بنا پر بعض لوگوں کو دینا اور بعض کو محروم کر دینا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3450
عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قِسْمَةً، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! لَغَيْرُ هَؤُلَاءِ أَحَقُّ مِنْهُمْ، قَالَ: فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (إِنَّهُمْ خَيَّرُونِي بَيْنَ أَنْ يَسْأَلُونِي بِالْفُحْشِ أَوْ يُبَخِّلُونِي، فَلَسْتُ بِبَاخِلٍ) )
۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کوئی چیز تقسیم کی، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جن لوگوں کو دیا ہے، ان کی بہ نسبت تو دوسرے لوگ زیادہ حق دار تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان لوگوں نے مجھے یوں اختیار دیا ہے کہ وہ یا تو مجھ سے ناروا انداز سے طلب کریں گے یا پھر مجھے بخیل کہیں گے، جبکہ میں بخیل نہیں ہوں۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3450]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1056، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 234 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 234»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث ِ مبارکہ کا مفہوم یہ ہے کہ یہ لوگ دوسروں کی بہ نسبت واقعی زیادہ مستحق تو نہیں تھے، لیکن اگر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کو نہ دیتے تو انھوں نے نازیبا انداز میں گفتگو کر کے اصرار کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مطالبہ کرنا تھا اور اگر پھر بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کو نہ دیتے تو انھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بخیل کہہ دینا تھا۔ معلوم ہوا کہ جاہل اور سخت طبیعت لوگوں سے نرمی اور دلجوئی کا معاملہ کرنا چاہیے اور ان کی تالیف ِ قلبی کرنی چاہیے، کیونکہ اس میں مصلحت زیادہ ہے، بہرحال اس معاملے میں حاکم وقت کو اختیار ہے کہ وہ اسلام کی بڑی منفعتوں کو سامنے رکھ کر تقسیم کار کا کوئی طریقہ بھی اختیار کر سکتا ہے، لیکن شرط یہ ہے کہ اس کا مقصد واضح اور اسلام کی نظر میں قابل تعریف ہو، عصرِ حاضر میں اس معاملے میں حکمران طبقہ راہِ عدل و انصاف سے بہت دور جا چکا ہے۔
مطلبیہ ہے کہ میں بخیل نہیں ہوں اور میں یہ بھی پسند نہیں کرتا کہ لوگ مجھ سے اصرار کے ساتھ سوال کریں اور نہ ملنے پر ترش کلامی اور فحش گوئی پر اتر آئیں۔ اس لیے بہت زیادہ حقدار نہ ہونے کے باوجود میں ان کو مال دے دیتا ہوں۔ (بلوغ المانی)۔ (عبداللہ رفیق)

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 1056
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3451
عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: أَتَيْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي أُنَاسٍ مِنْ قَوْمِي فَجَعَلَ يَفْرِضُ لِلرَّجُلِ مِنْ طَيِّئٍ فِي أَلْفَيْنِ وَيُعْرِضُ عَنِّي، قَالَ: فَاسْتَقْبَلْتُهُ فَأَعْرَضَ عَنِّي، ثُمَّ أَتَيْتُهُ مِنْ حِيَالِ وَجْهِهِ فَأَعْرَضَ عَنِّي، قَالَ: فَقُلْتُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ! أَتَعْرِفُنِي؟ قَالَ: فَضَحِكَ حَتَّى اسْتَلْقَى لِقَفَاهُ ثُمَّ قَالَ: نَعَمْ وَاللَّهِ! إِنِّي لَأَعْرِفُكَ، آمَنْتَ إِذْ كَفَرُوا، وَأَقْبَلْتَ إِذْ أَدْبَرُوا وَوَفَيْتَ إِذْ غَدَرُوا، وَإِنَّ أَوَّلَ صَدَقَةٍ بَيَّضَتْ وَجْهَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَوُجُوهَ أَصْحَابِهِ صَدَقَةُ عَدِيٍّ جِئْتَ بِهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ أَخَذَ يَعْتَذِرُ، ثُمَّ قَالَ: إِنَّمَا فَرَضْتُ لِقَوْمٍ أَجْحَفَتْ بِهِمُ الْفَاقَةُ وَهُمْ سَادَةُ عَشَائِرِهِمْ لِمَا يَنُوبُهُمْ مِنَ الْحُقُوقِ
۔ سیدناعدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں اپنی قوم کے کچھ افراد کے ہمراہ سیدناعمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا، انہوں نے بنو طیٔ کے ہر ہر فرد کو دو دو ہزار دیئے اورمجھ سے اعراض کیا، پھر میں ان کے سامنے آیا، لیکن انھوں نے بے رخی اختیار کی، پھر میں بالکل ان کے چہرہ کے سامنے آیا، تب بھی انہوں نے مجھ سے اعراض کیا، بالآخر میں نے کہا: اے امیر المومنین! کیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے پہچانتے ہیں؟یہ بات سن کر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اس قدر ہنسے کہ گدی کے بل لیٹ گئے اور پھر فرمایا: جی ہاں، اللہ کی قسم! میں تمہیں پہچانتا ہوں، تم اس وقت ایمان لائے تھے جب یہ لوگ کفر پر ڈٹے ہوئے تھے، تم اس وقت اسلام کی طرف متوجہ ہوئے تھے جب ان لوگوں نے پیٹھ کی ہوئی تھی اور تم نے اس وقت وفاداری دکھائی جب یہ لوگ غداری کر رہے تھے، اور میں جانتا ہوں کہ سب سے پہلا صدقہ، جس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور صحابہ کے چہرے روشن کر دیئے تھے، وہ تو عدی کا صدقہ تھا، جو تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لے کر آئے تھے، بعد ازاں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا عدی سے معذرت کی اور کہا: میں نے ان لوگوں کو اس لئے دیا ہے کہ یہ لوگ آج کل فاقوں سے دو چار ہیں، جبکہ یہ اپنے اپنے قبیلوں کے سردار بھی ہیں اور ان پر کافی ساری ذمہ داریاں ہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3451]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 4394، ومسلم: 2523، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 316 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 316»
وضاحت: فوائد: … کتنی قابل غور بات ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ، سیدنا عدی رضی اللہ عنہ کی خوبیوںکے معترف بھی ہیں اور وہ بار بار اِن کے سامنے اس مقصد سے آ رہے ہیں کہ ان کو بھی کچھ مال ودولت دے دیا جائے، لیکن ان دو چیزوں کے باوجود ان کو کچھ بھی نہیں دیا جا رہا، کیونکہ بڑی مصلحت اور منفعت اس میں تھی کہ دوسروں لوگوں میں مال تقسیم کر دیا جائے۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 4394
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3452
عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: أَعْطَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رِجَالًا وَلَمْ يُعْطِ رَجُلًا مِنْهُمْ شَيْئًا، فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ! أَعْطَيْتَ فُلَانًا وَلَمْ تُعْطِ فُلَانًا شَيْئًا وَهُوَ مُؤْمِنٌ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (أَوْ مُسْلِمٌ) ) ، حَتَّى أَعَادَهَا سَعْدٌ ثَلَاثًا وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (أَوْ مُسْلِمٌ) ) ، ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَصَحْبِهِ وَسَلَّمَ: ( (إِنِّي لَأُعْطِي رِجَالًا وَأَدَعُ مَنْ هُوَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْهُمْ فَلَا أُعْطِيهِ شَيْئًا مَخَافَةَ أَنْ يُكَبُّوا فِي النَّارِ عَلَى وُجُوهِهِمْ) )
۔ سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کئی لوگوں کو مال دیا اور ان میں سے ایک فرد کو کچھ نہیں دیا، سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے نبی! آپ نے فلاں فلاں کو تو مال دیا ہے، مگر فلاں کو کچھ بھی نہیں دیا، حالانکہ وہ بھی تو مومن ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: کیا وہ مسلمان نہیں ہے؟ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے یہ بات تین مرتبہ دہرائی، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہی فرماتے رہے کہ کیا وہ مسلمان نہیں ہے؟ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بسا اوقات یوں ہوتا ہے کہ میں بہت سے لوگوں کو عطیات دیتا ہوں اور ان میں سے جو مجھے زیادہ محبوب ہوتا ہے، اسے کچھ نہیں دیتا، مبادا کہ دوسرے لوگ (عطیہ نہ ملنے کی وجہ سے) چہروں کے بل جہنم میں جا پڑیں گے۔ [الفتح الربانی/كتاب الزكاة/حدیث: 3452]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري: 27، 1478، ومسلم: 150، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1522 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1522»
وضاحت: فوائد: … امام نووی نے کہا: جب سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم افضل و اعلی لوگوں کو چھوڑ کر دوسرے عام لوگوں میں اموال تقسیم کیے جا رہے ہیں، جبکہ ان کا خیالیہ تھا کہ کم یا زیادہ حصے کا دارومدار دین میں برتری پر ہے، نیز وہ یہ سمجھ رہے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جن لوگوں کو چھوڑ رہے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ان کی افضیلت کا علم نہیں ہے، اس لیے جب انھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے ایسے لوگوں کی نشاندہی کی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”یا وہ مسلمان ہے؟“ لیکن سیدنا سعد رضی اللہ عنہ یہ نہ سمجھ سکے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کو اس قسم کی سفارش سے منع کرنا چاہتے ہیں، اس لیے تین دفعہ تکرار ہو جانے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وضاحت کی کہ تقسیم کا انحصار دین میں برتری پر نہیں ہے۔ جب کسی مقام پر ایمان اور اسلام کو فرق کے ساتھ پیش کیا جائے تو اسلام کا تعلق ظاہری اطاعت سے ہوتا ہے اور ایمان کا باطنی اطاعت سے، اس مقام پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ کہہ کر کہ ”یا وہ مسلمان ہے؟“یہ سبق دینا چاہتے ہیں کہ کسی کے ایمان کا قطعی فیصلہ نہیں کر دینا چاہیے، کیونکہ اس کے باطن کا علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہے، ذہن نشین کر لیناچاہیے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایمان کی نفی نہیںکر رہے، بلکہ کسی کے ایمان کے بارے میں قطعی فیصلہ کر دینے سے منع کر رہے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیتقسیم کا دارومدار اس امر پر ہوتا تھا کہ اسلام کا زیادہ فائدہ کس میں ہے، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کافروں تک کو مال کی بڑی مقدار اس لیے عطا کر دیتے تھے کہ ممکن ہے کہ یہ لوگ اس احسان کی وجہ سے مسلمان ہو جائیں اور واقعۃً ایسے ہوا بھی، اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نو مسلموں اور ضعیف الاسلام لوگوں کو قدیم اور راسخ الایمان صحابہ پر ترجیح دیتے تھے۔ اس مقام پر ہم بڑے دکھ اور ارمان کے ساتھ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ اس وقت تقسیمِ مال کے اس سلسلے میں امت ِ مسلمہ کے مسئولین مکمل طور پر طرزِ نبوی سے منحرف ہو چکے ہیں، الا ما شاء اللہ۔اس وقت مساجد، مدارس، دفاتر، خیراتی اداروں کی عمارتوں، ان کے دفتروں کی تعمیر پر اور ان میں استعمال ہونے والے فرنیچر پراور ان کو خوبصورت سے خوبصورت تر بنانے پر بھاری سرمایہ خرچ کیا جا رہا ہے، جبکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سنہری دور میں مال کا مصرف صرف اور صرف شخصیت تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دور میں مدینہ منورہ میں سب سے اہم مقام مسجد ِ نبوی تھی، جو صرف جائے نماز نہیں تھی، بلکہ مسلمانوں کی ہدایت، سیاست اور قیادت کا مرکز تھی، لیکن جب اس کی تعمیر ہونے لگی تھی تو اعتدال کے علم بردار، حکمتوں سے معمور اور لوگوں کی امانتوں کے امین محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایاتھا: ((اِبْنُوْہُ عَرِیْشاً کَعَرِیْشِ مُوْسٰی۔)) ”موسیٰ علیہ السلام کے چھپر کی طرح اس کو تعمیر کر دو۔“ لیکن آج خدمت ِ اسلام کی بنیاد خوبصورت عمارت پر ہے، عصرِ حاضر میں غریبوں اور مسکینوں کا پرسانِ حال کوئی نہیں رہا، جس ادارے کا رقم کی صورت میں تعاون کیا جائے، وہ صرف اس سوچ کا پابند ہو کر رہ گیا ہے کہ اس مال کو دیواروں پر کیسے ”تھوپا“ جائے یا پھر ادارے کی توسیع اور خود کفالت کا مسئلہ کھڑا کیا ہے جائے گا، یہ اس دور والوں کا طرزِ نبوی سے انحراف اور بے اعتدالی کی بڑی قسم ہے۔

الحكم على الحديث:
اخرجه البخاري: 27
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں