🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. فَضْلُ الصِّيَامِ وَعِدَّتُهُ وَالنِّيَّةُ فِيهِ
روزوں کی فضیلت، تعداد اور نیت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3639
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (كُلُّ عَمَلِ ابْنِ آدَمَ لَهُ إِلَّا الصِّيَامَ فَإِنَّهُ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ، وَالصِّيَامُ جُنَّةٌ وَإِذَا كَانَ يَوْمُ صَوْمِ أَحَدِكُمْ فَلَا يَرْفُثْ يَوْمَئِذٍ وَلَا يَصْخَبْ (وَفِي رِوَايَةٍ وَلَا يَجْهَلْ بَدَلَ وَلَا يَصْخَبْ) فَإِنْ شَاتَمَهُ أَحَدٌ، أَوْ قَاتَلَهُ فَلْيَقُلْ إِنِّي امْرُؤٌ صَائِمٌ مَرَّتَيْنِ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، لَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ، وَلِلصَّائِمِ فَرْحَتَانِ يَفْرَحُهُمَا، إِذَا أَفْطَرَ فَرِحَ بِفِطْرِهِ وَإِذَا لَقِيَ رَبَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فَرِحَ بِصِيَامِهِ) )
۔ سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: (اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:) انسان کا ہر عمل اس کے لئے ہے، ما سوائے روزہ کے، وہ تو میرے لئے ہے اور میں ہی اس کی جزا دوں گا، روزہ (جہنم سے بچانیوالی) ڈھال ہے، جب تم میں سے کوئی روزے سے ہو تو وہ نہ فحش کلامی کرے،نہ شور مچائے اور نہ جاہلانہ کلام کرے، اگر کوئی اسے گالی دے یا اس سے لڑے تو وہ کہے: میں روزہ دار ہوں، میں روزہ دار ہوں۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! روزے دار کے منہ کی بو قیامت کے دن اللہ کے ہاں کستوری سے بھی زیادہ محبوب اور پاکیزہ ہو گی، روزہ دار کے لئے دو خوشیاں ہیں، وہ ان کی وجہ سے خوش ہوتا ہے، جب وہ روزہ افطار کرتا ہے تو افطاری کی وجہ سے خوش ہوتا ہے اور جب وہ اللہ تعالیٰ سے ملاقات کرے گا تو روزہ کی وجہ سے خوش ہو گا۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3639]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري: 1904، ومسلم: 1151، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7693 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7679»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث ِ مبارکہ کے شروع کے حصے پر غور کریں، صرف روزے کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کیا گیا، حالانکہ ساری عبادات ہی اللہ تعالیٰ کے لیے ہوتی ہیں، اس نسبت کی وجوہات درج ذیل ہیں:
(۱) کسی دور میں کسی باطل معبود کی تعظیم روزے کی صورت میں نہیں کی گئی، جبکہ مختلف مشرکوں کو نماز، سجدہ، صدقہ اور ذکر وغیرہ کے ذریعے معبودانِ باطلہ کا قرب حاصل کرتے ہوئے پایا گیا۔
(۲) روزہ، ریاکاری جیسی خرابی سے دور ہوتا ہے، جبکہ نماز، حج، صدقہ اور جہاد وغیرہ میں اس عنصر کے پائے جانے کا شبہ رہتا ہے، اس سے ملتی جلتی ایک اور بات بھی ہے کہ ممکن ہے کہ روزہ کے علاوہ دیگر عبادات میں کسی اور کا ڈر اور خوف بھی کارفرما ہو، مثلا بعض لڑکوں کو دیکھا گیا کہ وہ والدین اور اساتذہ کے ڈر اور پوچھ گچھ کی وجہ سے نماز پڑھتے ہیں، وگرنہ وہ نماز کو ترک کر لینے میں کوئی عار نہیں سمجھتے، لیکن روزے کا اس قسم کے ڈر سے بھی کوئی تعلق نہیں ہے، کیونکہ اس چیز کا قطعی طور پر امکان ہے کہ ایسے لوگ بظاہر اپنے آپ کو روزے دار ثابت کرتے رہیں، جبکہ خلوت میں کھانے پینے کی چیزیں استعمال کر لیتے ہوں، اس لیے جو آدمی روزہ پورا کرے گا، اس کا اصل مقصود اللہ تعالیٰ کو راضی کرنا ہو گا۔
(۳) اس کے ثواب کی مقدار اتنی زیادہ ہے کہ اس کا علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہے، باقی عبادات کے اجر و ثواب کا تعین کر دیا گیا ہے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2. بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلِ الصِّيَامِ مُطْلَقًا
روزوں کی فضیلت، تعداد اور نیت کا بیان مطلق طور پر روزوں کی فضیلت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3640
( (وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) بِنَحْوِهِ وَفِيهِ:) ( (يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: كُلُّ عَمَلِ ابْنِ آدَمَ لَهُ إِلَّا الصَّيَامَ فَهُوَ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ، إِنَّمَا يَتْرُكُ طَعَامَهُ وَشَرَابَهُ مِنْ أَجْلِي، فَصِيَامُهُ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ، كُلُّ حَسَنَةٍ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا إِلَى سَبْعِمِائَةِ ضِعْفٍ إِلَّا الصِّيَامَ فَهُوَ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ) )
۔ (دوسری سند) اللہ تعالیٰ نے فرمایا: انسان کا ہر عمل اس کے لئے ہے، سوائے روزہ کے، وہ تو میرے لئے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا، کیونکہ وہ میری وجہ سے کھانا پینا چھوڑتا ہے،اس لیے اس کا روزہ بھی میرے لئے ہوتا ہے اور میں ہی اس کی جزادوں گا، ہر نیکی کا ثواب دس گنا سے سات سو گنا تک ہوتا ہے، لیکن روزہ ایسی عبادت ہے، جو میرے لئے ہے اور میں ہی اس کی جزا دوں گا۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3640]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10547»
وضاحت: فوائد: … روزے دار لوگوں سے متعلقہ ایک اہم گزارش یہ ہے کہ روزے کا تعلق صرف کھانے پینے کو ترک کر دینے سے نہیں ہے، غور کریں کہ روزے دار نہ شور مچا سکتا ہے اور نہ جاہلانہ گفتگو کر سکتا ہے، اگر کوئی اسے گالی دیتا ہے یا اس سے لڑتا ہے تو وہ یوں جواب دیتا ہے: میں تو روزہ دار ہوں، میں تو روزہ دار ہوں، اس وجہ سے میں گالی کا گالی کی صورت میں اور لڑائی کا جواب لڑائی کی صورت میں نہیں دوں گا۔ بھلا کیا ایسے روزہ داروں کا وجود ملتا ہے؟ الا ماشاء اللہ

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3641
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ جَعَلَ حَسَنَةَ ابْنِ آدَمَ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا إِلَى سَبْعِمِائَةِ ضِعْفٍ إِلَّا الصَّوْمَ، وَالصَّوْمُ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ، وَلِلصَّائِمِ فَرْحَتَانِ، فَرْحَةٌ عِنْدَ إِفْطَارِهِ وَفَرْحَةٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَلَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ) )
۔ سیدناعبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے ابنِ آدم کی ہر نیکی کا اجر دس سے سات سو گنا تک مقرر کر رکھا ہے، ما سوائے روزے کے، کیونکہ روزہ صرف میرے لئے ہے اور میں ہی اس کی جزا دوں گا، روزہ دار کے لئے دو خوشیاں ہیں، ایک خوشی روزہ افطار کرنے کے وقت ہوتی ہے اور دوسری قیامت کے دن ہو گی، روزہ دار کے منہ کی بو اللہ تعالیٰ کے ہاں کستوری سے زیادہ پاکیزہ ہوتی ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3641]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ اخرجه من قوله ((الصوم لي) الطبراني في ’’الكبير‘‘: 10078، ومن قوله: ((لخلوف فم))البزار: 964، و من قوله ((للصائم فرحتان)) عبد الرزاق: 7898 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4256»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3642
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَأَبِي سَعِيدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِثْلُهُ، وَفِيهِ: ( (إِنَّ لِلصَّائِمِ فَرْحَتَيْنِ، إِذَا أَفْطَرَ فَرِحَ، وَإِذَا لَقِيَ اللَّهَ فَجَزَاهُ فَرِحَ) )
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اسی طرح کی حدیث بیان کی ہے، البتہ اس میں یہ الفاظ بھی ہیں: روزہ دار کے لئے دو خوشیاں ہیں، جب وہ روزہ افطار کرتا ہے تو خوش ہوتا ہے اور جب وہ اللہ تعالیٰ سے ملے گا اور وہ اِس کو بدلہ دے گا تو یہ خوش ہو گا۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3642]
تخریج الحدیث: «اخرجه مسلم: 1151، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7174 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7174»
وضاحت: فوائد: … افطاری کے وقت خوشی کا سبب عبادت کامکمل ہونا، مفسدات سے پاک ہونا اور اجر و ثواب کی امید ہونا اور مختلف ماکولات و مشروبات سے بھوک پیاس کو دور کرنا ہے اور اللہ تعالیٰ سے ملاقات کے وقت خوشی کا سبب اِس عمل کی جزا کو دیکھنا اور اللہ تعالیٰ کی اس نعمت کویاد کرنا ہے، جس کی وجہ سے اس عبادت کی توفیق ملی تھی۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3643
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ) )
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جان ہے! روزہ دار کے منہ کی بو اللہ تعالیٰ کے ہاں کستوری سے بھی زیادہ پاکیزہ اور عمدہ ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3643]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ اخرجه النسائي: 4/ 167، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26035 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26563»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3644
عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ أَنَّ مُطَرِّفًا رَجُلٌ مِنْ بَنِي عَامِرِ بْنِ صَعْصَعَةَ حَدَّثَهُ أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ أَبِي الْعَاصِ الثَّقَفِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ دَعَا لَهُ بِلَبَنٍ لِيَسْقِيَهُ، قَالَ مُطَرِّفٌ: إِنِّي صَائِمٌ، فَقَالَ عُثْمَانُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَصَحْبِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (الصِّيَامُ جُنَّةٌ مِنَ النَّارِ كَجُنَّةِ أَحَدِكُمْ مِنَ الْقِتَالِ) )
۔ سعید بن ابی ہند کہتے ہیں: بنو عامر کے ایک آدمی مطرف نے بیان کیا کہ سیدنا عثمان بن ابی العاص ثقفی نے اسے پلانے کے لیے دودھ منگوایا، لیکن مطرف نے کہا کہ وہ تو روزے دار ہے تو انھوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا کہ جہنم سے بچنے کے لیے روزہ ایسی ہی ڈھال ہے، جیسے لڑائی میں آدمی ڈھال استعمال کرتا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3644]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ اخرجه النسائي: 4/ 167 وابن ماجه: 1639، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16278 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16387»
وضاحت: فوائد: … روزہ ڈھال ہے، اس کے ذریعے بندہ دنیا میں بدگوئی، فحش کلامی، گناہوں اور جہنم کے دوسرے اسباب سے اور آخرت میں آگ کے عذاب سے بچتا ہے۔ روزہ جہنم سے بچنے کے لیے اس طرح سے ڈھال بھی ہے کہ جہنم کے ارد گرد شہوات کا گھیرا ہے اور روزہ سرے سے شہوات سے ہی روکتا ہے، اس طرح مسلمان روزے کے سبب سے جہنم سے دور رہ جاتا ہے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3645
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (قَالَ رَبُّنَا عَزَّ وَجَلَّ: الصِّيَامُ جُنَّةٌ يَسْتَجِنُّ بِهَا الْعَبْدُ مِنَ النَّارِ وَهُوَ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ) )
۔ سیدناجابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہمارے رب کا ارشاد ہے: روزہ ایک ڈھال ہے، جس کے ذریعہ بندہ جہنم سے بچتا ہے اور یہ صرف میرے لئے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3645]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح بطرقه و شواھده، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15264 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15337»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3646
وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (إِنَّ لِلْجَنَّةِ بَابًا يُقَالُ لَهُ الرَّيَّانُ، قَالَ: يُقَالُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ: أَيْنَ الصَّائِمُونَ، هَلُمُّوا إِلَى الرَّيَّانِ، فَإِذَا دَخَلَ آخِرُهُمْ، أُغْلِقَ ذَلِكَ الْبَابُ) )
۔ سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جنت کے ایک دروازے کا نام رَیَّان ہے، قیامت کے دن یہ اعلان کیا جائے گا کہ روزے دار کہاں ہیں؟ اِدھر بابِ ریان کی طرف آ جاؤ، جب ان کا آخری بندہ گزر جائے تو یہ دروازہ بند کر دیا جائے گا۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3646]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري: 1896، 3257، ومسلم: 1152، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22818 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23206»
وضاحت: فوائد: … رَیَّان کے معانی سیر و سیراب کے ہیں،یہ عَطْشَان (پیاسے) کی ضد ہے، اس اعتبار سے روزے داروں کے دروازے کا لفظاً اور معنًییہی نام مناسب تھا۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3647
( (وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) بِنَحْوِهِ وَفِيهِ:) فَإِذَا دَخَلُوهُ أُغْلِقَ فَلَمْ يَدْخُلْ مِنْهُ غَيْرُهُمْ
۔ (دوسری سند)اس میں ہے: جب روزے دار اس دروازے سے داخل ہو جائیں گے تو اسے بند کر دیا جائے گا اور ان کے علاوہ کوئی دوسرا آدمی اس سے اندر داخل نہیں ہو سکے گا۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3647]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23207»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3648
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (لِكُلِّ أَهْلِ عَمَلٍ بَابٌ مِنْ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ يُدْعَوْنَ بِذَلِكَ الْعَمَلِ، وَلِأَهْلِ الصِّيَامِ بَابٌ يُدْعَوْنَ مِنْهُ يُقَالُ لَهُ الرَّيَّانُ) ) ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! هَلْ أَحَدٌ يُدْعَى مِنْ تِلْكَ الْأَبْوَابِ كُلِّهَا؟ قَالَ: ( (نَعَمْ، وَأَنَا أَرْجُو أَنْ تَكُونَ مِنْهُمْ يَا أَبَا بَكْرٍ) )
۔ سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر عمل کرنے والوں کے لئے جنت میں داخل ہونے کے لئے ایک مخصوص دروازہ ہو گا، کہ ان کو جس سے داخل ہونے کی آواز دی جائے گا، روزے داروں کے لئے بھی ایک رَیَّان نامی مستقل دروازہ ہو گا، اس سے ان کو بلایا جائے گا۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا کوئی ایسا شخص بھی ہو گا،جسے جنت کے تمام دروازوں سے داخل ہونے کی دعوت دی جائے گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں اور اے ابوبکر! مجھے امید ہے کہ تم بھی انہی لوگوں میں سے ہو گے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3648]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ اخرجه ابن ابي شيبة: 3/ 7، 12/ 20، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9800 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9799»
وضاحت: فوائد: … چونکہ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ میں ہر قسم کی عبادت بدرجۂ اتم موجود تھی، اس لیے امید ہے کہ جنت کے ہر دروازے سے بلائے جانے والوں کی فہرست میں سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کا نام بھی ہوگا۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں