الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3. بَابُ فَضْلِ صِيَامِ رَمَضَانَ وَقِيَامِهِ
رمضان کے روزوں اور قیام کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 3659
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (مَنْ صَامَ رَمَضَانَ وَعَرَفَ حُدُودَهُ، وَتَحَفَّظَ مِمَّا كَانَ يَنْبَغِي بِهِ أَنْ يَتَحَفَّظَ فِيهِ، كَفَّرَ مَا كَانَ قَبْلَهُ) )
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جس آدمی نے ماہِ رمضان کے روزے رکھے، اس کی حدود کا خیال رکھا اورجن امور سے بچنا چاہئے، ان سے بچ کر رہا، تو اس کا یہ عمل اس کے سابقہ گناہوں کا کفارہ بن جائے گا۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3659]
تخریج الحدیث: «حديث حسن۔ اخرجه ابويعلي: 1058، وابن حبان: 3433، والبيھقي: 4/ 304، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11524 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11544»
وضاحت: فوائد: … ”اس کی حدود کا خیال رکھا“ اس کا مفہوم یہ ہے کہ اخلاص کے ساتھ حصولِ ثواب کی رغبت رکھتے ہوئے اور عذاب سے ڈرتے ہوئے روزے رکھے۔
الحكم على الحديث:
حديث حسن۔ اخرجه ابويعلي: 1058
حدیث نمبر: 3660
عَنْ ثَوْبَانَ (مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ) عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (مَنْ صَامَ رَمَضَانَ فَشَهْرٌ بِعَشَرَةِ أَشْهُرٍ، وَصِيَامُ سِتَّةِ أَيَّامٍ بَعْدَ الْفِطْرِ، فَذَلِكَ تَمَامُ صِيَامِ السَّنَةِ) )
۔ مولائے رسول سیدناثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی ماہِ رمضان کے روزے رکھے گا تو یہ ایک ماہ کے روزے (اجر میں) دس مہینوں کے روزوں کے برابر جائیں گے، پھر جس نے عید الفطر کے بعد (شوال کے) چھ روزے رکھے تو یہ سارا عمل سال بھر کے روزوں کے برابر ہو جائے گا۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3660]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ اخرجه ابن ماجه: 1715،، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22412 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22776»
وضاحت: فوائد: … یہ کل پینتیس چھتیس روزے بن جاتے ہیں اور ہر نیکی کا ثواب دس گنا تو ہوتا ہی ہے، اس اعتبار سے روزوں کی اس مقدار کا ثواب (۳۵۰) یا (۳۶۰) روزوں تک جا پہنچتا ہے، اس اعتبار سے اس حدیث میں سال بھر کے روزوں کے ثواب کی بات کی گئی ہے۔
الحكم على الحديث:
حديث صحيح۔ اخرجه ابن ماجه: 1715
حدیث نمبر: 3661
عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (مَنْ لَقِيَ اللَّهَ لَا يُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا، يُصَلِّي الْخَمْسَ وَيَصُومُ رَمَضَانَ غُفِرَ لَهُ) ) ، قُلْتُ: أَفَلَا أُبَشِّرُهُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ!? قَالَ: ( (دَعْهُمْ يَعْمَلُوا) )
۔ سیدنامعاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی اس حال میں اللہ تعالیٰ کو ملتا ہے کہ اس نے اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرایاہوتا اور پانچ نمازوں کا پابند ہوتا ہے اور اور ماہِ رمضان کے روزے بھی رکھتا ہے تواس کو بخش دیا جاتا ہے۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا میں لوگوں کو یہ بیان کر کے خوشخبری نہ دے دوں؟آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: چھوڑدو ان کو، تاکہ وہ عمل کرتے رہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3661]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22028 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22378»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث ِ مبارکہ کا مفہوم یہ ہوا کہ مسلمان کو یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ عبادات کی اپنی مخصوص عادت کو اپنے حق میں کافی سمجھنے لگے، دیکھیں اگر ایک آدمی اس حدیث کو سامنے رکھ کرمشرف باسلام ہوتا ہے، نماز ادا کرتا ہے اور رمضان کے روزے رکھتا ہے، اس کو بخش دیا جاتا ہے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ حدیث لوگوں کو بیان کرنے سے روک دیا، تاکہ ایسا نہ ہو کہ وہ ان تین اعمال کے ہی ہو کر رہ جائیں اورمزید کوئی عمل نہ کریں۔
الحكم على الحديث:
حديث صحيح
حدیث نمبر: 3662
عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ خَالِدٍ قَالَ: حَدَّثَنِي عَرِيفٌ مِنْ عُرَفَاءِ قُرَيْشٍ حَدَّثَنِي أَبِي أَنَّهُ سَمِعَ مِنْ فَلْقٍ فِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (مَنْ صَامَ رَمَضَانَ وَشَوَّالًا وَالْأَرْبَعَاءَ وَالْخَمِيسَ وَالْجُمُعَةَ دَخَلَ الْجَنَّةَ) )
۔ ایک قریشی سردار کے باپ سے روایت ہے کہ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے منہ مبارک سے یہ کلمات سنے تھے: جس نے رمضان اور شوال کے مہینوں اور پھر بدھ، جمعرات اور جمعہ کے ر وزے رکھے، وہ جنت میں داخل ہو جائے گا۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3662]
تخریج الحدیث: «سناده ضعيف، فيه راو لم يسم، وھو شيخ عكرمة بن خالد۔ اخرجه البھيقي في ’’الشعب‘‘: 3870، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15434 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15513»
وضاحت: فوائد: … ”فَلْقِ فِیْ“ میں ”فَلْق“ کے معانی پھٹن اور شگاف کے اور ”فِیْ“ کے معانی منہ کے ہیں، صحابی کا مقصود یہ ہے کہ اس نے یہ الفاظ براہِ راست رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنے ہیں۔
الحكم على الحديث:
سناده ضعيف
حدیث نمبر: 3663
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ عَنِ الْأَعْرَابِيِّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (صَوْمُ شَهْرِ الصَّبْرِ، وَثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ يُذْهِبْنَ وَحَرَ الصَّدْرِ) )
۔ ایک بدّو بیان کرتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: صبر والے مہینے کے روزے اور ہر ماہ کے تین روزے سینے کے کینے اور وسوسے کو ختم کر دیتے ہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3663]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ اخرجه النسائي: 7/ 134، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23070 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23458»
وضاحت: فوائد: … صبر والے مہینے سے مراد ماہِ رمضان ہے۔ ہر عبادت کی برکت ہوتی ہے، جب آدمی روزے کی وجہ سے جھوٹ اور غیبت اور دوسرے حرام امور سے اجتناب کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی جائز خواہشات تک کوکنٹرول کرتا ہے، تو اس سے مزید نیکی کی طرف رجحان پیدا ہوتا ہے اور اس سے بندہ کئی برائیوں کو ترک کرنے کا اور کئی نیکیوں کو سرانجام دینے کا عزم کر لیتا ہے۔
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح۔ اخرجه النسائي: 7/ 134
4. بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلِ شَهْرِ رَمَضَانَ وَالْعَمَلِ فِيهِ
ماہِ رمضان اور اس میں کیے گئے عمل کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 3664
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: لَمَّا حَضَرَ رَمَضَانَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (قَدْ جَاءَكُمْ رَمَضَانُ، شَهْرٌ مُبَارَكٌ، افْتَرَضَ اللَّهُ عَلَيْكُمْ صِيَامَهُ، تُفْتَحُ فِيهِ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ، وَتُغْلَقُ فِيهِ أَبْوَابُ الْجَحِيمِ، وَتُغَلَّقُ فِيهِ الشَّيَاطِينُ، فِيهِ لَيْلَةٌ خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ شَهْرٍ، مَنْ حُرِمَ خَيْرَهَا فَقَدْ حُرِمَ) )
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب ماہِ رمضان آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ماہِ رمضان شروع ہو چکا ہے، یہ ایک بابرکت مہینہ ہے، اللہ تعالیٰ نے تم پر اس ماہ کے روزے فرض کئے ہیں، اس مہینے میں جنت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور جہنم کے تمام دروازے بند کر دیئے جاتے ہیں اور شیطانوں کو بھی قید کر دیا جاتا ہے، اس مہینے میں ایک ایسی رات ہے کہ وہ ایک ہزارمہینوں سے بھی افضل ہے، جو اس رات کی برکت سے محروم رہا، وہ محروم قرار پائے گا۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3664]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وھذا اسناد منقطع۔ اخرجه النسائي: 4/ 129، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9497 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9493»
وضاحت: فوائد: … جنت کے دروازوں کا کھلنا، جہنم کے دروازوں کا بند ہونا اور شیطانوں کا قید ہو جانا۔ ان الفاظ کو حقیقی معنوں پر ہی محمول کرنا چاہیے۔ صرف مؤخر الذکر چیز سے یہ اشکال پیدا ہوتا ہے کہ اگر شیطانوں کو قید کرلیا جاتا ہے تو پھر ماہِ مقدس میں نافرمانیوں کا سلسلہ کیوں جاری رہتا ہے؟
اس کے مختلف جوابات دیئے ہیں: مثلا:
(۱) شیطانوں کے علاوہ بھی شرّ اور معصیت کے اسباب موجود ہیں، مثال کے طور پر نفوسِ خبیثہ، عاداتِ قبیحہ اور انسانی شیطان۔
(۲) بعض شیطانوں کو قید کرلیا جاتا ہے، سب کو نہیں، جیسا کہ ایک روایت میں ہے: ((صُفِّدَتْ مَرَدَۃُ الشَّیَاطِیْنِ)) … ”بڑے سرکش شیطانوں کو قید کر لیا جاتا ہے۔“
(۳) شیطانوں کو جکڑنا ان روزے داروں کے حق میں ہے، جو روزے کی شروط، قیود اور آداب کا پورا پورا خیال رکھتے ہیں۔
(۴) اس کا مطلب یہ ہے کہ شیطانوں کا شرّ کم ہو جاتا ہے، وہ اس طرح لوگوں کو گمراہ نہیں کر سکتے، جس طرح کہ دوسرے مہینوں میں کر لیتے ہیں،یا تو ان کے اختیار سلب کر لیے جاتے ہیںیا مومنوں کے ایمان میں قوت پیدا کر دی
جاتی ہے۔ عملی طور پر ہمارے معاشرے کے افراد تیسرے اور چوتھے معنوں کے مصداق نظر آتے ہیں، زیادہ مناسبت تیسرے معنی میں محسوس ہو رہی ہے۔ واللہ اعلم بالصواب۔ اس حدیث ِ مبارکہ کا آخری جملہ بھی قابل غور ہے کہ شب ِ قدر کا قیام نفلی عبادت ہے، لیکن اس کو ترک کرنے والے محروم اور بد نصیب ہے، مقصودِ کلام یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے احسان کرتے ہوئے ایک رات کی عبادت کو ہزار مہینوں کی عبادت سے افضل قرار دیا ہے، لیکن کیا مسلمان کے مزاج میں نیکی کی اتنی رغبت بھی نہیں رہی کہ اللہ تعالیٰ کے اس عظیم احسان کو وصول کر سکے، پس جس کے مزاج میں اتنی بہتری بھی نہیں ہو گی، وہ محروم اور بدبخت قرار پائے گا، سمجھ لینا چاہیے کہ ایسے افراد میں نیکی کے مزاج کا شدید فقدان ہے۔
اس کے مختلف جوابات دیئے ہیں: مثلا:
(۱) شیطانوں کے علاوہ بھی شرّ اور معصیت کے اسباب موجود ہیں، مثال کے طور پر نفوسِ خبیثہ، عاداتِ قبیحہ اور انسانی شیطان۔
(۲) بعض شیطانوں کو قید کرلیا جاتا ہے، سب کو نہیں، جیسا کہ ایک روایت میں ہے: ((صُفِّدَتْ مَرَدَۃُ الشَّیَاطِیْنِ)) … ”بڑے سرکش شیطانوں کو قید کر لیا جاتا ہے۔“
(۳) شیطانوں کو جکڑنا ان روزے داروں کے حق میں ہے، جو روزے کی شروط، قیود اور آداب کا پورا پورا خیال رکھتے ہیں۔
(۴) اس کا مطلب یہ ہے کہ شیطانوں کا شرّ کم ہو جاتا ہے، وہ اس طرح لوگوں کو گمراہ نہیں کر سکتے، جس طرح کہ دوسرے مہینوں میں کر لیتے ہیں،یا تو ان کے اختیار سلب کر لیے جاتے ہیںیا مومنوں کے ایمان میں قوت پیدا کر دی
جاتی ہے۔ عملی طور پر ہمارے معاشرے کے افراد تیسرے اور چوتھے معنوں کے مصداق نظر آتے ہیں، زیادہ مناسبت تیسرے معنی میں محسوس ہو رہی ہے۔ واللہ اعلم بالصواب۔ اس حدیث ِ مبارکہ کا آخری جملہ بھی قابل غور ہے کہ شب ِ قدر کا قیام نفلی عبادت ہے، لیکن اس کو ترک کرنے والے محروم اور بد نصیب ہے، مقصودِ کلام یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے احسان کرتے ہوئے ایک رات کی عبادت کو ہزار مہینوں کی عبادت سے افضل قرار دیا ہے، لیکن کیا مسلمان کے مزاج میں نیکی کی اتنی رغبت بھی نہیں رہی کہ اللہ تعالیٰ کے اس عظیم احسان کو وصول کر سکے، پس جس کے مزاج میں اتنی بہتری بھی نہیں ہو گی، وہ محروم اور بدبخت قرار پائے گا، سمجھ لینا چاہیے کہ ایسے افراد میں نیکی کے مزاج کا شدید فقدان ہے۔
الحكم على الحديث:
حديث صحيح
حدیث نمبر: 3665
عَنْ عَرْفَجَةَ قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ عُتْبَةَ بْنِ فَرْقَدٍ، وَهُوَ يُحَدِّثُ عَنْ رَمَضَانَ قَالَ: فَدَخَلَ عَلَيْنَا رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا رَآهُ عُتْبَةُ هَابَهُ فَسَكَتَ، قَالَ: فَحَدِّثْ عَنْ رَمَضَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (فِي رَمَضَانَ تُغْلَقُ أَبْوَابُ النَّارِ وَتُفْتَحُ فِيهِ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ، وَتُصَفَّدُ فِيهِ الشَّيَاطِينُ، قَالَ: وَيُنَادِي فِيهِ مَلَكٌ: يَا بَاغِي الْخَيْرِ! أَبْشِرْ، وَيَا بَاغِي الشَّرِّ! أَقْصِرْ، حَتَّى يَنْقَضِيَ رَمَضَانُ) )
۔ عرفجہ کہتے ہیں: میں عتبہ بن فرقد کی مجلس میں موجود تھا، وہ ماہِ رمضان کے حوالے سے بیان کر رہے تھے، اتنے میں ایک صحابی تشریف لے آئے، جب عتبہ نے انہیں دیکھا تو وہ مرعوب ہو کر خاموش ہو گئے اور کہا: آپ ماہِ رمضان کے بارے میں بیان کریں، اس صحابی نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا کہ ماہِ رمضان میں جہنم کے دروازے بند کر دیئے جاتے ہیں، جنت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور شیطانوں کو قید کر دیا جاتا ہے اور اس ماہ ایک فرشتہ یہ آواز دیتا رہتا ہے: اے نیکی کے متلاشی! خوش ہو جا اور اے برائی کو چاہنے والے! اب تو باز آ جا، یہاں تک کے رمضان گزر جاتا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3665]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ اخرجه النسائي: 4/ 130، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18795 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19002»
وضاحت: فوائد: … رمضان المبارک اس اعتبار سے منفرد مہینہ ہے کہ اس میں کئی لوگوں کو ان کے مزاج برائیوں سے دور کر کے نیکیوں کی طرف راغب کر دیتے ہیں۔ نیکی کے متلاشی کو خوشخبری دینے کی دو وجوہات ہیں، ایکیہ کہ آسانی کے ساتھ نیکیوں کی مقدار میں اضافہ ہو جائے گا، اور دوسرییہ کہ نیکی کا کئی گنا زیادہ ثواب ملے گا، اس پر مستزاد یہ کہ نیکیوں کا ماحول اور معاشرے سے طبعی شرم و حیا بھی راہِ راست پر چلنے میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔ برائی کو چاہنے والے کو آوازدینے کا مفہوم یہ ہوتا ہے کہ اب تو برائیوں سے رک جا اور اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کر، کیونکہیہ توبہ کی قبولیت کا زمانہ ہے اور مغفرت کے اسباب کے لیے مستعد ہو جانے کا وقت ہے، ایسے موسم میں تجھے زیب نہیں دیتا کہ تو اپنی برائیوں پر اڑا رہے۔
ملا علی قاری نے کہا: ممکن ہے کہ رمضان میں اطاعت کرنے والوں کی اطاعت، گنہگاروں کی توبہ اور نافرمانوں کے
رجوع الی اللہ کا سبب یہی دو ندائیں ہوں، آپ خود دیکھتے ہیں کہ بچوں اور بچیوں سمیت مسلمانوں کی اکثریت رمضان کے روزے رکھنا شروع کر دیتی ہے، حالانکہ ان میں کافی سارے لوگ بے نمازی ہوتے ہیں اور روزہ نماز سے کئی گناہ مشکل بھی ہے، اس سے جسم میں کمزوری پیدا ہو جاتی ہے، جو عام طور پر عبادت سے سستی اور نیند کی کثرت کا سبب بنتی ہے، لیکن اس کے باوجود قیام اللیل کے وقت مساجد بھری ہوئی نظر آتی ہیں، وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ۔ (مرقاۃ المفاتیح: ۶/۲۵۳)
ملا علی قاری نے کہا: ممکن ہے کہ رمضان میں اطاعت کرنے والوں کی اطاعت، گنہگاروں کی توبہ اور نافرمانوں کے
رجوع الی اللہ کا سبب یہی دو ندائیں ہوں، آپ خود دیکھتے ہیں کہ بچوں اور بچیوں سمیت مسلمانوں کی اکثریت رمضان کے روزے رکھنا شروع کر دیتی ہے، حالانکہ ان میں کافی سارے لوگ بے نمازی ہوتے ہیں اور روزہ نماز سے کئی گناہ مشکل بھی ہے، اس سے جسم میں کمزوری پیدا ہو جاتی ہے، جو عام طور پر عبادت سے سستی اور نیند کی کثرت کا سبب بنتی ہے، لیکن اس کے باوجود قیام اللیل کے وقت مساجد بھری ہوئی نظر آتی ہیں، وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ۔ (مرقاۃ المفاتیح: ۶/۲۵۳)
الحكم على الحديث:
حديث صحيح۔ اخرجه النسائي: 4/ 130
حدیث نمبر: 3666
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَجْوَدَ النَّاسِ، وَكَانَ أَجْوَدَ مَا يَكُونُ فِي رَمَضَانَ حِينَ يَلْقَى جِبْرِيلَ، وَكَانَ جِبْرِيلُ يَلْقَاهُ فِي كُلِّ لَيْلَةٍ مِنْ رَمَضَانَ فَيُدَارِسُهُ الْقُرْآنَ، قَالَ: فَلَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَصَحْبِهِ وَسَلَّمَ أَجْوَدُ بِالْخَيْرِ مِنَ الرِّيحِ الْمُرْسَلَةِ
۔ سیدناعبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ویسے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں میں سب سے زیادہ سخی تھے ہی سہی، لیکن جب ماہِ رمضان میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ملاقات جبریل علیہ السلام سے ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بہت زیادہ سخاوت کرتے تھے۔ ماہِ رمضان کی ہر رات کو جبریل علیہ السلام آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ملاقات کرتے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ قرآن مجید کا دور کرتے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھیجی ہوئی ہوا سے بھی بڑھ کر مال کی سخاوت کیا کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3666]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري: 6، 3220، 3554، ومسلم: 2308، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2616 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2616»
وضاحت: فوائد: … ویسے تو سخاوت، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مستقل وصف تھا، لیکن جب سید الملائکہ جبریل علیہ السلام سے ملاقات ہوتی، نئے علوم و تجلیات سے واسطہ پڑتا، مزاج میں مزید رفعت پیدا ہو جاتی، محسنِ حقیقی کے مخصوص احسانات وصول ہوتے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں موجود جودو سخا والے عنصر کو ترقی ملتی اور بندگانِ خدا کے ساتھ انعام و احسان کا سلسلہ پہلے سے بڑھ کر شروع ہو جاتا، اس وصف میں اضافے کا سبب خود ماہِ رمضان بھی ہے۔ حقیقتیہ ہے کہ جبرائیل رضی اللہ عنہ کی ملاقات سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے احساس اور مزاج میں کیا تبدیلی پیدا ہوتی تھی، اس چیز کو لفظوں میں بیان نہیں کیا جا سکتا ہے، کیونکہ جنسیں مختلف ہیں، ایک طرف سے سید البشر ہیں اور دوسری طرف سے سید الملائکہ ہیں، جب کہ ہم صرف اپنے ہم جنسوں سے مانوس ہونے کا تجربہ رکھتے ہیں۔
عام طور پر ہمارے ہاں لوگوں نے زکوۃ کے لیے ماہِ رمضان کا تعین کر رکھا ہے، اس لیے لوگوں کی اکثریت صرف زکوۃ کی ادائیگی کو ہی کافی سمجھتی ہے، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس وصف کا تعلق نفلی صدقہ و خیرات سے تھا، زکوۃ تو اللہ تعالیٰ کا قرض ہے، جو بہرصورت ادا کرنا ہے، سخاوت کا تعلق نفلی صدقہ و خیرات سے ہے۔ دورِ قرآن کا مقصد یہ تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حفظ و اتقان میں مزید پختگی پیدا ہو جائے۔
عام طور پر ہمارے ہاں لوگوں نے زکوۃ کے لیے ماہِ رمضان کا تعین کر رکھا ہے، اس لیے لوگوں کی اکثریت صرف زکوۃ کی ادائیگی کو ہی کافی سمجھتی ہے، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس وصف کا تعلق نفلی صدقہ و خیرات سے تھا، زکوۃ تو اللہ تعالیٰ کا قرض ہے، جو بہرصورت ادا کرنا ہے، سخاوت کا تعلق نفلی صدقہ و خیرات سے ہے۔ دورِ قرآن کا مقصد یہ تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حفظ و اتقان میں مزید پختگی پیدا ہو جائے۔
الحكم على الحديث:
اخرجه البخاري: 6
حدیث نمبر: 3667
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَصَحْبِهِ وَسَلَّمَ: ( (أُعْطِيَتْ أُمَّتِي خَمْسَ خِصَالٍ فِي رَمَضَانَ لَمْ تُعْطَهَا أُمَّةٌ قَبْلَهُمْ، خُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ، وَتَسْتَغْفِرُ لَهُمْ الْمَلَائِكَةُ حَتَّى يُفْطِرُوا، وَيُزَيِّنُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ كُلَّ يَوْمٍ جَنَّةً، ثُمَّ يَقُولُ: يَوشِكُ عِبَادِيَ الصَّالِحُونَ أَنْ يَلْقُوا عَنْهُمْ الْمَئُونَةَ وَالْأَذَى وَيَصِيرُوا إِلَيْكِ، وَيُصَفَّدُ فِيهِ مَرَدَةُ الشَّيَاطِينِ، فَلَا يَخْرُصُوا إِلَى مَا كَانُوا يَخْرُصُونَ فِي غَيْرِهِ، وَيَغْفِرُ لَهُمْ فِي آخِرِ لَيْلَةٍ) ) ، قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَهِيَ لَيْلَةُ الْقَدْرِ؟ قَالَ: ( (لَا وَلَكِنَّ الْعَامِلَ إِنَّمَا يُوَفَّى أَجْرُهُ إِذَا قَضَى عَمَلَهُ) )
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میری امت کو ماہِ رمضان میں پانچ ایسی خوبیاں دی گئی ہیں جو اس سے پہلے کسی امت کو نہیں دی گئیں تھیں، ان کی تفصیل یہ ہے: (۱)روزے دار کے منہ کی بو اللہ تعالیٰ کے ہاں کستوری سے بھی زیادہ پاکیزہ ہے، (۲)روزہ افطار کرنے تک فرشتے ان کے حق میں دعائے رحمت کرتے ہیں، (۳) اللہ تعالیٰ ہر روز اپنی جنت کو مزین کرتا ہے اور اس سے فرماتا ہے:قریب ہے کہ میرے نیک بندے اپنی مشقتوں اور تکلیفوں سے دست بردار ہو کر تیری طرف آ جائیں، (۴) اس مہینے میں سرکش شیطانوں کو قید کر دیا جاتا ہے اور جس طرح وہ عام دنوں میں کارروائیاں کرتے ہیں، اس مہینے میں نہیں کر سکتے، اور (۵) اللہ تعالیٰ اس مہینے کی آخری رات میں میری امت کو بخش دیتا ہے۔ کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیایہ شب ِ قدر ہے؟آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں، نہیں، بات یہ ہے کہ مزدور کو اس وقت مزدوری دی جاتی ہے، جب وہ اپنا کام پورا کر لیتا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3667]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف جدا، هشام بن ابي هشام متفق علي ضعفه، ومحمد بن محمد بن الاسود مجھول الحال۔ اخرجه البزار: 963، والبيھقي في ’’الشعب‘‘: 3602، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7904 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7904»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف جدا
حدیث نمبر: 3668
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (رَغِمَ أَنْفُ رَجُلٍ دَخَلَ عَلَيْهِ رَمَضَانُ فَانْسَلَخَ قَبْلَ أَنْ يُغْفَرَ لَهُ) )
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس آدمی کی ناک خاک آلود ہو جائے، جس نے ماہِ رمضان کو پایا، لیکن یہ مہینہ اس کی بخشش سے پہلے گزر گیا۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3668]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه الترمذي: 3545، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7451 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7444»
وضاحت: فوائد: … رمضان المبارک، اللہ تعالیٰ کی بخشش کے کئی اسباب سے متصف ہے، لیکن جو آدمی اس ماہِ مقدس میں بھییہ اسباب جمع نہ کر سکا، وہ اس اہل ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے لیے بد دعا کریں۔
الحكم على الحديث:
صحيح۔ اخرجه الترمذي: 3545