الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
7. بَابُ ثُبُوتِ الشَّهْرِ بِرُؤْيَةِ الْهِلَالِ فِي الصَّوْمِ وَالْفِطْرِ أَوْ إِكْمَالِ الْعِدَّةِ ثَلَاثِينَ إِنْ كَانَ
ماہِ رمضان کا آغاز اور اختتام چاند کو دیکھ کر کرنے اور بادل وغیرہ کی وجہ سے چاند نظر نہ آنے کی صورت میں تیس دن پورے کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 3679
عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ قَالَ: أَهْلَلْنَا هِلَالَ رَمَضَانَ وَنَحْنُ بِذَاتِ عِرْقٍ، قَالَ: فَأَرْسَلْنَا رَجُلًا إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ يَسْأَلُهُ فَسَأَلَهُ قَالَ هَاشِمٌ: فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (إِنَّ اللَّهَ قَدْ مَدَّ رُؤْيَتَهُ، قَالَ: هَاشِمٌ لِرُؤْيَتِهِ، فَإِنْ أُغْمِيَ عَلَيْكُمْ فَأَكْمِلُوا الْعِدَّةَ) )
۔ ابو بختری کہتے ہیں: ہم نے ذات ِ عرق کے مقام پر رمضان کا چاند دیکھا، پھر ہم نے ایک آدمی کو سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی طرف اس کے بارے میں سوال کرنے کے لیے بھیجا، جب اس نے سوال کیا: ہاشم کہتے ہیں تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہاکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے اس کی رؤیت کو لمبا کر دیا ہے، اگر بادل ہوں تو (شعبان) کی گنتی پوری کر لو۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3679]
تخریج الحدیث: «اخرجه مسلم: 1088، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3021 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3021»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث کے پہلے جملے کے معنییہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے شعبان کی مدت کو رمضان کا چاند نظر آنے تک لمبا کر دیا ہے، یعنی اگر کسی وجہ سے شعبان کی۲۹ تاریخ کو چاند نظر نہ آئے تو اگلے دن کو اسی ماہ کی۳۰ تاریخ سمجھ لی جائے۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 3680
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: عَجِبْتُ مِمَّنْ يَتَقَدَّمُ الشَّهْرَ، وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (لَا تَصُومُوا حَتَّى تَرَوْهُ، أَوْ قَالَ: صُومُوا لِرُؤْيَتِهِ) )
۔ سیدناعبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: مجھے اس آدمی پر تعجب ہے جو مہینہ شروع ہونے سے پہلے ہی روزے رکھنا شروع کر دیتا ہے، جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ: اس وقت تک روزہ نہ رکھو، جب تک چاند نہ دیکھ لو۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3680]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ اخرجه النسائي: 4/ 135، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1931 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1931»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 3681
عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (لَا تَقَدَّمُوا الشَّهْرَ حَتَّى تُكْمِلُوا الْعِدَّةَ أَوْ تَرَوْا الْهِلَالَ وَصُومُوا وَلَا تُفْطِرُوا حَتَّى تُكْمِلُوا الْعِدَّةَ أَوْ تَرَوْا الْهِلَالَ) )
۔ ایک صحابی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم مہینہ شروع ہونے سے پہلے روزے رکھنا شروع نہ کرو، بلکہ اس وقت روزہ رکھو جب سابقہ مہینے کی گنتی پوری ہو جائے یا چاند نظر آ جائے، پھر روزے جاری رکھو، یہاں تک کہ رمضان کی گنتی پوری کر لو یا چاند دیکھ لو۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3681]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ اخرجه ابوداود: 2326، والنسائي: 4/ 135، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18825 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19031»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ اگر (۲۹) تاریخ کو چاند نظر آ جائے تو ٹھیک، وگرنہ (۳۰) دن مکمل ہو جانے کا انتظار کیا جائے۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 3682
عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (إِنَّمَا الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ، فَلَا تَصُومُوا حَتَّى تَرَوْهُ وَلَا تُفْطِرُوا حَتَّى تَرَوْهُ فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَاقْدُرُوا لَهُ) ) ، قَالَ نَافِعٌ: فَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ (يَعْنِي ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا) إِذَا مَضَى مِنْ شَعْبَانَ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ يَبْعَثُ مَنْ يَنْظُرُ، فَإِنْ رُئِي فَذَلِكَ، وَإِنْ لَمْ يُرَ وَلَمْ يَحُلْ دُونَ مَنْظَرِهِ سَحَابٌ أَوْ قَطَرٌ، أَصْبَحَ مُفْطِرًا وَإِنْ حَالَ دُونَ مَنْظَرِهِ سَحَابٌ أَوْ قَطَرٌ أَصْبَحَ صَائِمًا
۔ نافع بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مہینہ تو (۲۹) دنوں کا ہوتا ہے،لیکن تم اس وقت تک ماہِ رمضان کا روزہ نہ رکھو، جب تک چاند کو نہ دیکھ لو، پھر اس وقت تک روزہ ترک نہ کرو، جب تک (شوال کا) چاند نظر نہ آ جائے، اگر مطلع ابر آلود ہو تو گنتی پوری کرو۔ نافع کہتے ہیں کہ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کا معمول یہ تھا کہ جب شعبان کی (۲۹) تاریخ ہوتی تو وہ چاند دیکھنے کے لیے بعض افراد کو بھیجتے،اگر چاند نظر آ جاتا تو بہتر، اور اگر چاند نظر نہ آتا اور کوئی بادل اور غبار وغیرہ بھی نہ ہوتا تو وہ اگلے دن کا روزہ نہ رکھتے، لیکن اگر مطلع غبار آلود یا بادل والا ہوتا تو وہ روزہ رکھ لیتے تھے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3682]
تخریج الحدیث: «اخرجه مسلم: 1080، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4488 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4488»
وضاحت: فوائد: … آخر میں بیان شدہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہا کے فعل سے پتہ چلتا ہے کہ وہ شک والے دن روزہ رکھنے کے قائل تھے، آنے والے تیسرے باب میں اس مسئلہ کی وضاحت کی جائے گی۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 3683
عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَاطِبٍ قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ) ) وَصَفَّقَ بِيَدَيْهِ مَرَّتَيْنِ، ثُمَّ صَفَّقَ الثَّالِثَةَ وَقَبَضَ إِبْهَامَهُ، (وَفِي رِوَايَةٍ: فَذَكَرَ ذَلِكَ لِعَائِشَةَ) فَقَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: غَفَرَ اللَّهُ لِأَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، إِنَّهُ وَهِمَ، إِنَّمَا هَجَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نِسَاءَهُ شَهْرًا، فَنَزَلَ لِتِسْعٍ وَعِشْرِينَ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّكَ نَزَلْتَ لِتِسْعٍ وَعِشْرِينَ، فَقَالَ: ( (إِنَّ الشَّهْرَ يَكُونُ تِسْعًا وَعِشْرِينَ) )
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مہینہ (۲۹) دنوں کا ہوتا ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سمجھانے کے لئے دو دفعہ ایک ہاتھ کو دوسرے پر مارا اور تیسری دفعہ انگوٹھا بند کر لیا۔ایک روایت میں ہے: جب لوگوں نے یہ بات سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے بیان کی تو انہوں نے کہا: اللہ تعالیٰ ابو عبد الرحمن سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ کو معاف فرمائے، ان کو مغالطہ لگ گیا ہے۔ اصل بات یہ تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک ماہ کے لئے اپنی بیویوں سے علیحدگی اختیار کی تھی، آپ (۲۹)ویں دن (بالا خانے سے) نیچے تشریف لے، لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو انیتسیویں دن نیچے تشریف لے آئے ہیں، (حالانکہ آپ نے تو ایک ماہ کے لیے علیحدگی اختیار کی تھی)؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک یہ مہینہ (۲۹) دنوں کا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3683]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري: 1907، ومسلم: 1080، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4866 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4866»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث ِ مبارکہ میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ کے الفاظ سے محسوس ہو رہا ہے کہ مہینہ صرف (۲۹) دنوں کا ہوتا ہے، اسی چیز کی وجہ سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان پر انکار کیا، لیکن حقیقت ِ حال یہ ہے کہ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کییہ حدیث بھی بیان کی ہے کہ مہینہ کبھی (۲۹) دنوں کا ہوتا ہے اور کبھی (۳۰) دنوں کا، جیسے کہ اگلی حدیث سے واضح ہو رہا ہے اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا خیال بھییہی تھا۔ بیویوں سے علیحدگی کی وجہ یہ تھی کہ امہات المؤمنین نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی استطاعت سے بڑھ کر نان ونفقہ کا مطالبہ کیا تھا، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک ماہ علیحدہ رہنے کی قسم اٹھا لی تھی، اس کی تفسیر سورۂ احزاب میں آئے گی۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 3684
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: ( (إِنَّا أُمَّةٌ أُمِّيَّةٌ لَا نَكْتُبُ وَلَا نَحْسُبُ، الشَّهْرُ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا) ) ، وَعَقَدَ الْإِبْهَامَ فِي الثَّالِثَةِ، ( (وَالشَّهْرُ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا) ) ، يَعْنِي تَمَامَ ثَلَاثِينَ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہم ایک اُمِّیْ امت ہیں،ہم لکھنا جانتے ہیں نہ حساب کرنا جانتے ہیں، مہینہ اتنے دنوں کا ہوتا ہے اور اتنوں کا اور اتنوں کا۔ تیسری مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انگوٹھا بند کر لیا، (یعنی۲۹ دنوں کا)۔ پھر فرمایا: مہینہ اتنے دنوں کا ہوتا ہے اور اتنوں کا اور اتنوں کا۔ یعنی پورے (۳۰) دنوں کا۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3684]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري: 1913، ومسلم: 1080، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5017 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5017»
وضاحت: فوائد: … آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دونوں ہاتھوں کی انگلیاں کھول کر دس کا اشارہ دے رہے تھے۔
الحكم على الحديث: صحیح
8. فَصْلٌ مِنْهُ فِيمَا جَاءَ خَاصًّا بِإِكْمَالِ شَعْبَانَ ثَلَاثِينَ يَوْمًا إِذَا غُمَّ عَلَى هِلَالِ رَمَضَانَ
جب بادلوں کی وجہ سے رمضان کا چاندنظر نہ آئے تو شعبان کے تیس دن¤پورے کرنے کا خصوصی طور پر بیان
حدیث نمبر: 3685
عَنْ عِكْرِمَةَ قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (صُومُوا لِرُؤْيَتِهِ وَأَفْطِرُوا لِرُؤْيَتِهِ، فَإِنْ حَالَ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُ سَحَابٌ فَكَمِّلُوا الْعِدَّةَ ثَلَاثِينَ، وَلَا تَسْتَقْبِلُوا الشَّهْرَ اسْتِقْبَالًا) ) ، قَالَ حَاتِمٌ: يَعْنِي عِدَّةَ شَعْبَانَ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: چاند دیکھ کر ہی روزے رکھنا شروع کیا کرو اور چاند دیکھ کر ہی روزے چھوڑا کرو، اگر تمہارے اور چاند کے درمیان بادل حائل ہو جائیں تو سابقہ ماہ کی (تیس کی) گنتی پوری کر لیا کرو، اور (ماہِ رمضان کی آمد سے) بالکل پہلے روزے نہ رکھا کرو۔ حاتم راوی کہتے ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مراد یہ تھی کہ شعبان کی گنتی پوری کی جائے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3685]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه ابوداود: 2327، والترمذي: 688، والنسائي: 4/ 136، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1985»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 3686
( (وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) ، مِثْلُهُ وَفِيهِ:) فَإِنْ حَالَ دُونَهُ غَيَابَةٌ، فَأَكْمِلُوا الْعِدَّةَ، وَالشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ) ) ، يَعْنِي أَنَّهُ نَاقِصٌ
۔ (دوسری سند)اس میں ہے: اگر تمہارے اور چاند کے درمیان کوئی بدلی حائل ہو جائے تو گنتی پوری کر لیا کرو اور مہینہ (۲۹) دن کا بھی ہوتا ہے۔ یعنی تیس (۳۰) سے ایک دن کم کا بھی ہو جاتا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3686]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2335»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 3687
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَتَحَفَّظُ مِنْ هِلَالِ شَعْبَانَ مَا لَا يَتَحَفَّظُ مِنْ غَيْرِهِ، ثُمَّ يَصُومُ بِرُؤْيَةِ رَمَضَانَ، فَإِنَّ غُمَّ عَلَيْهِ عَدَّ ثَلَاثِينَ يَوْمًا ثُمَّ صَامَ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شعبان کے چاند کا جس قدر خیال رکھتے تھے، اتنا کسی دوسرے مہینہ کے چاند کا نہ رکھتے تھے، پھر جب رمضان کا چاند نظر آ جاتا تو روزہ رکھنا شروع کر دیتے اور اگر مطلع ابر آلود ہوتا تو (شعبان) کی تیس دنوں کی گنتی پوری کر لیتے، اور پھر روزہ شروع کرتے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3687]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم۔ اخرجه ابوداود: 2325، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25161 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25676»
الحكم على الحديث: صحیح
9. فَصْلٌ مِنْهُ فِيمَا جَاءَ خَاصًّا بِإِكْمَالِ رَمَضَانَ ثَلَاثِينَ يَوْمًا إِذَا غُمَّ عَلَى هِلَالِ شَوَّالٍ
جب بادلوں کی وجہ سے شوال کا چاندنظر نہ آئے تو رمضان کے تیس دن¤پورے کرنے کا خصوصی طور پر بیان
حدیث نمبر: 3688
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (إِذَا رَأَيْتُمُ الْهِلَالَ فَصُومُوا، وَإِذَا رَأَيْتُمُوهُ فَأَفْطِرُوا، فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَصُومُوا ثَلَاثِينَ يَوْمًا) )
۔ سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم چاند دیکھ کر روزے رکھنا شروع کیا کرو اور چاند دیکھ کر ہی روزے رکھنا چھوڑا کرو اور اگر چاند دکھائی نہ دے تو تیس روزے پورے کیا کرو۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3688]
تخریج الحدیث: «اخرجه مسلم: 1081، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7507»
الحكم على الحديث: صحیح