الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4. بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلِ شَهْرِ رَمَضَانَ وَالْعَمَلِ فِيهِ
ماہِ رمضان اور اس میں کیے گئے عمل کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 3669
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلَ رَجَبٌ قَالَ: ( (اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي رَجَبٍ وَشَعْبَانَ وَبَارِكْ لَنَا فِي رَمَضَانَ) ) ، وَكَانَ يَقُولُ: ( (لَيْلَةُ الْجُمُعَةِ غَرَّاءُ وَيَوْمُهَا أَزْهَرُ) )
۔ سیدناانس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ماہِ رجب شروع ہوتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ دعا کرتے تھے: اے اللہ! ہمارے لئے رجب اور شعبان میں برکت فرما اور ہمارے لیے رمضان کو مبارک بنا۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ بھی فرمایا کرتے تھے: جمعہ کی رات روشن اور اس کا دن چمک دار ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3669]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، زائدة بن ابي الرقاد، قال البخاري والنسائي: منكر الحديث۔ اخرجه البزار: 616، والبيھقي في ’’الشعب‘‘: 3815، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2346 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2346»
الحكم على الحديث: ضعیف
حدیث نمبر: 3670
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (بِمَحْلُوفِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا أَتَى عَلَى الْمُسْلِمِينَ شَهْرٌ خَيْرٌ لَهُمْ مِنْ رَمَضَانَ، وَلَا أَتَى عَلَى الْمُنَافِقِينَ شَهْرٌ شَرٌّ لَهُمْ مِنْ رَمَضَانَ، وَذَلِكَ لِمَا يُعِدُّ الْمُؤْمِنُونَ فِيهِ مِنَ الْقُوَّةِ لِلْعِبَادَةِ، وَمَا يُعِدُّ فِيهِ الْمُنَافِقُونَ مِنْ غَفَلَاتِ النَّاسِ وَعَوْرَاتِهِمْ، هُوَ غَنْمٌ لِلْمُؤْمِنِ يَغْتَنِمُهُ الْفَاجِرُ) )
۔ سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جس چیز کی قسم اٹھائی، اسی کی قسم! مسلمانوں کے لئے ماہِ رمضان سے بہتر کوئی مہینہ نہیں اور منافقین کے لئے اس سے زیادہ برا مہینہ کوئی نہیں، اس کی وجہ یہ ہے کہ اہل ایمان اس مہینے میں عبادت کے لئے قوت تیار کرتے ہیں، جبکہ منافق اس ماہ میں لوگوں کے عیوب اور کوتاہیاں ڈھونڈنے میں مگن ہو جاتے ہیں،یہ مہینہ مومن کے لئے بھی غنیمت ہے اور فاجر کے لئے بھی فرصت کا موقع ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3670]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، كثير بن زيد ليس بالقوي،يكتب حديثه للمتابعات، وعمرو بن تميم، قال البخاري عن حديثه ھذا: فيه نظر، وابوه تميم مجھول۔ اخرجه ابن خزيمة: 1884، وابن ابي شيبة: 3/ 2، والبيھقي: 4/ 304، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8368 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8350»
الحكم على الحديث: ضعیف
حدیث نمبر: 3671
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (أَظَلَّكُمْ شَهْرُكُمْ هَذَا بِمَحْلُوفِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا مَرَّ بِالْمُؤْمِنِينَ شَهْرٌ خَيْرٌ لَهُمْ مِنْهُ وَلَا بِالْمُنَافِقِينَ شَهْرٌ شَرٌّ لَهُمْ مِنْهُ، إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَيَكْتُبُ أَجْرَهُ وَنَوَافِلَهُ مِنْ قَبْلِ أَنْ يُدْخِلَهُ، وَيَكْتُبُ إِصْرَهُ وَشَقَاءَهُ مِنْ قَبْلِ أَنْ يُدْخِلَهُ وَذَكَ أَنَّ الْمُؤْمِنَ يُعِدُّ فِيهِ الْقُوَّةَ لِلْعِبَادَةِ مِنَ النَّفَقَةِ، وَيُعِدُّ الْمُنَافِقُ ابْتِغَاءَ غَفَلَاتِ الْمُؤْمِنِينَ وَعَوْرَاتِهِمْ، فَهُوَ غَنْمٌ لِلْمُؤْمِنِ، يَغْتَنِمُهُ الْفَاجِرُ) )
۔ (دوسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: رسول اللہ کی قسم اٹھائی ہوئی چیز کی قسم! تمہارے اوپر یہ مہینہ سایہ فگن ہو رہا ہے، اہل ایمان کے لئے اس سے بہتر کوئی مہینہ نہیں اور اہل نفاق کے لئے اس سے زیادہ برا کوئی مہینہ نہیں، اللہ تعالیٰ اس مہینہ کی آمد سے پہلے ہی اس کا اور اس کے نوافل کا ثواب بھی لکھ دیتا ہے اور اس کے گناہ، سزا اور بدبختی بھی، اس کی وجہ یہ ہے کہ مومن اس میں عبادت کرنے کے لیے نفقہ کی قوت تیار کرتا ہے اور منافق لوگوں کی غفلت اور عیوب تلاش کرتا رہتاہے، اس طرح یہ ماہ مومن کے لئے بھی غنیمت ہے اور فاجر کے لیے بھی غنیمت ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3671]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10793»
وضاحت: فوائد: … مؤمن کی روٹینیہ ہوتی ہے کہ وہ ماہِ رمضان میں ضرورت پڑنے والے اسبابِ معیشت کا پہلے سے ہی انتظام و انصرام کر لیتا ہے، تاکہ ماہِ مبارک کے حقوق کی ادائیگی میں کمی نہ ہو جائے۔مثلا: سحری و افطاری، صدقہ و خیرات، رات کا قیام، اعتکاف اور مزید فرائض و نوافل۔ لیکن مؤمن کی اس ظاہری غفلت سے فائدہ اٹھانے کے لیے منافق بیچارہ اپنے شرّ میں اضافے کے بارے میں سوچتا ہے کہ اہل ایمان کو کس کس انداز میں نقصان پہنچا سکتا ہے یا پریشان کر سکتا ہے۔
الحكم على الحديث: ضعیف
5. بَابُ وَعِيدِ مَنْ تَهَاوَنَ بِصِيَامِ رَمَضَانَ وَالْعَمَلِ فِيهِ
ماہِ رمضان کے روزوں اور اس میںکیے جانے والے دوسرے اعمال میں سستی کرنے والے کے لیے وعید کا بیان
حدیث نمبر: 3672
عَنْ زِيَادِ بْنِ نُعَيْمٍ الْخَضْرَمِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (أَرْبَعٌ فَرَضَهُنَّ اللَّهُ فِي الْإِسْلَامِ، فَمَنْ جَاءَ بِثَلَاثٍ لَمْ يُغْنِيْنَ عَنْهُ شَيْئًا، حَتَّى يَأْتِيَ بِهِنَّ جَمِيعًا، الصَّلَاةُ وَالزَّكَاةُ، وَصِيَامُ رَمَضَانَ، وَحَجُّ الْبَيْتِ) )
۔ سیدنا زیاد بن نعیم خضرمی سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے اسلام میں چار امور فرض کیے ہیں، جو آدمی ان میں سے تین پر عمل کرتا ہے، تووہ اسے اس وقت تک کفایت نہیں کریں گے، جب تک وہ ان سب پر عمل نہیں کرے گا، (وہ چار امور یہ ہیں:) نماز، زکوٰۃ، ماہِ رمضان کے روزے اور بیت اللہ کا حج۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3672]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، ابن لھيعة سييء الحفظ، ثم زياد بن نعيم الحضرمي تابعي، فالحديث مرسل ايضا، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17789 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17942»
وضاحت: فوائد: … مشرف باسلام ہونے کے بعد یہی چار فرائض ہیں، جن سے مسلمان کا سب سے پہلے واسطہ پڑتا ہے۔
الحكم على الحديث: ضعیف
6. بَابُ الْأَحْوَالِ الَّتِي عَرَضَتْ لِلصِّيَامِ وَوُجُوبِ صِيَامِ رَمَضَانَ وَمَبْدَأِ فَرْضِهِ
روزے کی فرضیت میں پیش آنے والے مختلف احوال، رمضان کے روزوں کے وجوب اور ان کی فرضیت کی ابتدا کا بیان
حدیث نمبر: 3673
عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: أُحِيلَتِ الصَّلَاةُ ثَلَاثَةَ أَحْوَالٍ وَأُحِيلَ الصِّيَامُ ثَلَاثَةَ أَحْوَالٍ، فَأَمَّا أَحْوَالُ الصَّلَاةِ فَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَدِمَ الْمَدِينَةَ وَهُوَ يُصَلِّي سَبْعَةَ عَشَرَ شَهْرًا إِلَى بَيْتِ الْمَقْدِسِ (الْحَدِيثَ) ، قَالَ: وَأَمَّا أَحْوَالُ الصِّيَامِ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَدِمَ الْمَدِينَةَ فَجَعَلَ يَصُومُ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، وَقَالَ يَزِيدُ: فَصَامَ سَبْعَةَ عَشَرَ شَهْرًا مِنْ رَبِيعِ الْأَوَّلِ إِلَى رَمَضَانَ، مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، وَصَامَ يَوْمَ عَاشُورَاءَ، ثُمَّ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ فَرَضَ عَلَيْهِ الصِّيَامَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ (إِلَى هَذِهِ الآيَةِ) وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِينٍ}، قَالَ: فَكَانَ مَنْ شَاءَ صَامَ وَمَنْ شَاءَ أَطْعَمَ مِسْكِينًا فَأَجْزَأَ ذَلِكَ عَنْهُ، قَالَ: ثُمَّ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَنْزَلَ الآيَةَ الْأُخْرَى: {شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِي أُنْزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ (إِلَى قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ) فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ}، فَأَثْبَتَ اللَّهُ صِيَامَهُ عَلَى الْمُقِيمِ الصَّحِيحِ، وَرَخَّصَ فِيهِ لِلْمَرِيضِ وَالْمُسَافِرِ وَثَبَّتَ الإِطْعَامَ لِلْكَبِيرِ الَّذِي لَا يَسْتَطِيعُ الصِّيَامَ فَهَذَانِ حَالَانِ، قَالَ: وَكَانُوا يَأْكُلُونَ وَيَشْرَبُونَ، وَيَأْتُونَ النِّسَاءَ مَالَمْ يَنَامُوا فَإِذَا نَامُوا امْتَنَعُوا، قَالَ: ثُمَّ إِنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ يُقَالُ لَهُ صِرْمَةُ، ظَلَّ يَعْمَلُ صَائِمًا حَتَّى أَمْسَى فَجَاءَ إِلَى أَهْلِهِ فَصَلَّى الْعِشَاءَ ثُمَّ نَامَ فَلَمْ يَأْكُلْ، وَلَمْ يَشْرَبْ حَتَّى أَصْبَحَ فَأَصْبَحَ صَائِمًا، قَالَ: فَرَآهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ جَهِدَ جَهْدًا شَدِيدًا، قَالَ: ( (مَا لِي أَرَاكَ قَدْ جَهِدْتَّ جَهْدًا شَدِيدًا؟) ) ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنِّي عَمِلْتُ أَمْسِ فَجِئْتُ حِينَ جِئْتُ فَأَلْقَيْتُ نَفْسِي فَنِمْتُ وَأَصْبَحْتُ حِينَ أَصْبَحْتُ صَائِمًا، قَالَ: وَكَانَ عُمَرُ قَدْ أَصَابَ مِنَ النِّسَاءِ مِنْ جَارِيَةٍ أَوْ مِنْ حُرَّةٍ بَعْدَ مَا نَامَ، وَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَصَحْبِهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: {أُحِلَّ لَكُمْ لَيْلَةَ الصِّيَامِ الرَّفَثُ إِلَى نِسَائِكُمْ (إِلَى قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ) ثُمَّ أَتِمُّوا الصِّيَامَ إِلَى اللَّيْلِ})
۔ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ تین مراحل میں نماز کی فرضیت اور تین مراحل میں ہی روزے کی فرضیت ہوئی، نماز کے مراحل یہ ہیں: جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہجرت کر کے مدینہ منورہ تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سترہ ماہ تک بیت اللہ کی طرف رخ کرکے نماز پڑھتے رہے، … … (کتاب الصلاۃ میں مکمل حدیث گزر چکی ہے) روزے کے مراحل یہ ہیں: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہجرت کر کے مدینہ منورہ تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہر ماہ میں تین روزے رکھا کرتے تھے، یزید راوی کہتا ہے: ربیع الاول سے لے کر ماہِ رمضان کے روزوں کی فرضیت تک کل سترہ ماہ کے دوران آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہر ماہ میں تین روزے رکھتے رہے، نیز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دس محرم کا روزہ بھی رکھا تھا، پھر اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ماہِ رمضان کے روزے فرض کر دیئے اور یہ آیات نازل فرمائیں: {یَا اَیُّہَا الَّذِیْنَآمَنُوا کُتِبَ عَلَیْکُمُ الصِّیَامُ کَمَا کُتِبَ عَلَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ۔} (اے ایمان والو! تم پر اسی طرح روزے فرض کئے گئے ہیں، جس طرح کہ تم سے پہلے والے لوگوں پر فرض کئے گئے تھے، تاکہ تم پرہیزگار بن جاؤ۔)نیز فرمایا: { وَعَلَی الَّذِیْنَیُطِیْقُوْنَہُ فِدْیَۃٌ طَعَامُ مِسْکِیْنٍ} (اور جو لوگ روزہ رکھنے کی طاقت رکھتے ہیں، وہ (روزہ کی بجائے) ایک مسکین کوبطور فدیہ کھانا کھلا دیا کریں۔) ان آیات پر عمل کرتے ہوئے جو آدمی چاہتا وہ روزہ رکھ لیتا اور جو کوئی روزہ نہ رکھنا چاہتا وہ بطورِ فدیہ ایک مسکین کو کھانا کھلا دیتا اور یہی چیز اس کی طرف سے کافی ہو جاتی، اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے یہ حکم نازل فرمایا: {شَہْرُ رَمَضَانَ الَّذِی اُنْزِلَ فیِہِ الْقُرْآنُ ھُدًی لِّلنَّاسِ وَبَیِّنَاتٍ مِّنَ الْھُدٰی وَالْفُرْقَانِ فَمَنْ شَہِدَ مِنْکُمُ الشَّہْرَ فَلْیَصُمْہُ} (ماہِ رمضان وہ مہینہ ہے، جس میں لوگوں کو ہدایت کے لئے اور ہدایت کے واضح دلائل بیان کرنے کے لئے قرآن مجید نازل کیا گیا ہے، جو حق و باطل میں امتیاز کرنے والا ہے، اب تم میں سے جو آدمی اس مہینہ کو پائے وہ روزے رکھے۔) اس طرح اللہ تعالیٰ نے مقیم اورتندرست آدمی پراس مہینے کے روزے فرض کر دیئے، البتہ مریض اور مسافر کو روزہ چھوڑنے کی رخصت دے دی اور روزہ کی طاقت نہ رکھنے والے عمر رسیدہ آدمی کے لیے روزہ کا یہ حکم برقرار رکھا کہ وہ بطورِ فدیہ مسکین کو کھانا کھلا دیا کرے، یہ دو حالتیں ہو گئیں، تیسری حالت یہ تھی کہ لوگ رات کو سونے سے پہلے تک کھا پی سکتے تھے اور بیویوں سے ہم بستری کر سکتے تھے، لیکن جب نیند آ جاتی تو اس کے بعد یہ سب کچھ ان کے لئے ممنوع قرار پاتا تھا، ایک دن یوں ہوا کہ ایک صرمہ نامی انصاری صحابی روزے کی حالت میں سارا دن کام کرتا رہا، جب شام ہوئی تو اپنے گھر پہنچا اور عشاء کی نماز پڑھ کر کچھ کھائے پئے بغیر سو گیا،یہاں تک کہ صبح ہو گئی اور اس طرح اس کا روزہ بھی شروع ہو چکا تھا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے دیکھا کہ وہ کافی نڈھال ہوچکا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے پوچھا کہ: بہت نڈھال دکھائی دے رہے ہو، کیا وجہ ہے؟ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! کل سارا دن کام کرتا رہا، جب گھر آیا تو ابھی لیٹا ہی تھا کہ سو گیا (اور اس طرح میرے حق میں کھانا پینا حرام ہو گیا اور) جب صبح ہوئی تو میں نے تو روزے کی حالت میں ہی ہونا تھا۔ اُدھر سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا بھی ایک معاملہ تھا کہ انھوں نے نیند سے بیدار ہونے کے بعد اپنی بیوی یا لونڈی سے ہم بستری کر لی تھی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آ کر ساری بات بتلا دی تھی، اس وقت اللہ تعالیٰ نے یہ حکم نازل فرمایا: {اُحِلَّ لَکُمْ لَیْلَۃَ الصِّیَامِ الرَّفَثُ … … ثُمَّ اَتِمُّوْا الصِّیامَ إِلَی الَّیْلِ۔} (روزے کی راتوں میں اپنی بیویوں سے ملنا تمہارے لیے حلال کیا گیا، وہ تمہارا لباس ہیں اور تم ان کے لباس ہو، تمہاری پوشیدہ خیانتوں کا اللہ تعالیٰ کو علم ہے، اس نے تمہاری توبہ قبول فرما کر تم سے درگزر فرما لیا، اب تمہیں ان سے مباشرت کی اور اللہ تعالیٰ کی لکھی ہوئی چیز کو تلاش کرنے کی اجازت ہے، تم کھاتے پیتے رہو یہاں تک کہ صبح کا سفید دھاگہ سیاہ دھاگے سے ظاہر ہو جائے، پھر رات تک روزے کو پورا کرو۔) [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3673]
تخریج الحدیث: «قال الالباني: صحيح۔ اخرجه ابوداود:507، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22124 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22475»
وضاحت: فوائد: … مسلمانوں پر جو روزے فرض ہیں، ان کی موجودہ صورتحال یہ ہے: سال کے بارہ مہینوں میں صرف رمضان کے روزے فرض ہے، روزے کا دورانیہ طلوع فجر سے غروبِ آفتاب تک ہے، روزہ نہ رکھ سکنے والا مستقل مریض اور کمزور بزرگ ایک روزہ ترک کرنے کے عوض ایک مسکین کو کھانا کھلا دیں، مسافر اور شفا کی امید رکھنے والے مریض کے لیےیہ حکم ہے کہ اگر وہ اس سفر اور بیماری کے دوران روزے نہ رکھ سکیں تو بعد میں قضائی دے دیں۔ لیکن روزوں کو درج بالا صورت دینے سے پہلے بالترتیب درج ذیل مراحل سے گزارا گیا:
(۱) ہر ماہ میں تین روزے رکھنا اور یوم عاشوراء (یعنی دس محرم) کا روزہ رکھنا، سترہ مہینوں تک یہ عمل جاری رہا۔
(۲) رمضان کے روزے فرض کر دیئے گئے، لیکنیہ اختیار دیا گیا کہ جو چاہتا ہے، روزے رکھ لے اور جو چاہتا ہے ہر روزے کے عوض ایک مسکین کو کھانا کھلا دے۔
(۳) مقیم اور صحت مند آدمی پر رمضان کے روزے فرض کر دیئے گئے، مریض اور مسافر کو مخصوص رخصت دی گئی، …۔ یعنی روزوں کی موجودہ صورت۔ بیچ میں ایک تبدیلییہ بھی ہوئی کہ شروع میں سحری کی رخصت نہیں تھی، بلکہ غروبِ آفتاب کے بعد افطاری سے لے کر رات کو سونے سے پہلے تک کھانے پینے اور مجامعت کی اجازت ہوتی تھی، جونہی کسی کی آنکھ لگ جاتی، اس کا روزہ شروع ہو جاتا تھا، پھر اللہ تعالیٰ نے غروب آفتاب سے طلوع فجر تک کھانے پینے اور مجامعت کی اجازت دے دی۔
(۱) ہر ماہ میں تین روزے رکھنا اور یوم عاشوراء (یعنی دس محرم) کا روزہ رکھنا، سترہ مہینوں تک یہ عمل جاری رہا۔
(۲) رمضان کے روزے فرض کر دیئے گئے، لیکنیہ اختیار دیا گیا کہ جو چاہتا ہے، روزے رکھ لے اور جو چاہتا ہے ہر روزے کے عوض ایک مسکین کو کھانا کھلا دے۔
(۳) مقیم اور صحت مند آدمی پر رمضان کے روزے فرض کر دیئے گئے، مریض اور مسافر کو مخصوص رخصت دی گئی، …۔ یعنی روزوں کی موجودہ صورت۔ بیچ میں ایک تبدیلییہ بھی ہوئی کہ شروع میں سحری کی رخصت نہیں تھی، بلکہ غروبِ آفتاب کے بعد افطاری سے لے کر رات کو سونے سے پہلے تک کھانے پینے اور مجامعت کی اجازت ہوتی تھی، جونہی کسی کی آنکھ لگ جاتی، اس کا روزہ شروع ہو جاتا تھا، پھر اللہ تعالیٰ نے غروب آفتاب سے طلوع فجر تک کھانے پینے اور مجامعت کی اجازت دے دی۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 3674
عَنِ النَّضْرِ بْنِ شَيْبَانَ قَالَ: لَقِيتُ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ (يَعْنِي ابْنَ عَوْفٍ) قُلْتُ: حَدِّثْنِي عَنْ شَيْءٍ سَمِعْتَهُ مِنْ أَبِيكَ سَمِعَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ، قَالَ: نَعَمْ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ فَرَضَ صِيَامَ رَمَضَانَ وَسَنَنْتُ قِيَامَهُ، فَمَنْ صَامَهُ وَقَامَهُ احْتِسَابًا خَرَجَ مِنَ الذُّنُوبِ كَيَوْمَ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ) )
۔ نضر بن شیبان کہتے ہیں:میں ابو سلمہ بن عبد الرحمن سے ملا اور ان سے کہا: مجھے ماہِ رمضان کے بارے کوئی ایسی حدیث بیان کرو جو تم نے اپنے والد سے سنی ہو اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی ہو، انھوں نے کہا: جی ہاں، میرے باپ سیدنا عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے مجھے بیان کیا کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: اللہ تعالیٰ نے ماہِ رمضان کے روزے فرض کئے ہیں اور میں رمضان کے قیام کو مسنون قرار دیتاہوں، جو کوئی اجر و ثواب کے حصول کی خاطر اس مہینے کے روزے رکھے گا اور اس کا قیام کرے گا تو وہ اپنے گناہوں سے یوں پاک ہو جائے گا، جیسے اس کی ماں نے اسے آج ہی جنم دیا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3674]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، النضر بن شيبان الحراني، قال ابن معين: ليس حديثه بشيئ، وقال البخاري في حديثه ھذا: لم يصح۔ اخرجه ابن ماجه: 1328، والنسائي: 4/ 158، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1660 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1660»
الحكم على الحديث: ضعیف
حدیث نمبر: 3675
عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! مَا الصَّوْمُ؟ قَالَ: ( (قَرْضٌ مَجْزِيٌّ) )
۔ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انھوں نے کہا:اے اللہ کے رسول! روزہ کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ قرض ہے، جس کا بدلہ دیا جائے گا۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3675]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21365 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21692»
وضاحت: فوائد: … یعنییہ نیک عمل ہے اور اللہ تعالیٰ اس کا بدلہ دے گا۔
الحكم على الحديث: صحیح
7. بَابُ ثُبُوتِ الشَّهْرِ بِرُؤْيَةِ الْهِلَالِ فِي الصَّوْمِ وَالْفِطْرِ أَوْ إِكْمَالِ الْعِدَّةِ ثَلَاثِينَ إِنْ كَانَ
ماہِ رمضان کا آغاز اور اختتام چاند کو دیکھ کر کرنے اور بادل وغیرہ کی وجہ سے چاند نظر نہ آنے کی صورت میں تیس دن پورے کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 3676
عَنْ قَيْسِ بْنِ طَلْقٍ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ جَعَلَ هَذِهِ الْأَهِلَّةَ مَوَاقِيتَ لِلنَّاسِ، صُومُوا لِرُؤْيَتِهِ وَأَفْطِرُوا لِرُؤْيَتِهِ، فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَأَتِمُّوا الْعِدَّةَ) )
۔ سیدناطلق بن علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ نے اس چاند کو لوگوں کے اوقات کی علامت بنایا ہے، لہٰذا چاند دیکھ کر روزے شروع کیا کرو اور اسے دیکھ کر ہی روزے چھوڑا کرو اور اگر مطلع ابر آلود ہو تو تیس کی گنتی پوری کرلو۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3676]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح لغيره۔ اخرجه الطبراني في ’’الكبير‘‘: 8237، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16296 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16403»
وضاحت: فوائد: … رمضان کے روزے، شعبان کے روزے، ذوالحجہ کے پہلے دس دن، یوم عاشورائ، حج، حج کے مہینوں، عید الفطر، عید الاضحی جیسی مہینوں سے متعلقہ اسلامی عبادات کے وقت کا تعین چاند کے ذریعے کیا جائے گا، جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {یَسْئَلُوْنَکَ عَنِ الْأَھِلَّۃِ قُلْ ھِیَ مَوَاقِیْتُ لِلنَّاسِ وَالْحَجِّ} … ”لوگ آپ سے چاند کے بارے میں سوال کرتے ہیں، آپ کہہ دیجئے کہ یہ لوگوں (کی عبادات) کے وقتوں اور حج کے موسم کے لیے ہے۔۔“ (سورۂ بقرہ: ۱۸۹) وقت سے پہلے اسلامی کیلنڈر کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے، تعین نہیں کیا جا سکتا ہے، اس لیے ہر مہینے سے متعلقہ عبادت کا یہ تقاضا ہے کہ از سرِ نو اس ماہ کا چاند دیکھ کر فیصلہ کیا جائے۔ چاند دیکھنے کا جو طریقہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دور میں رائج تھا اور جدید مشینوں کی ایجاد سے پہلے تک جاری رہا، آج بھی اسی کے مطابق فیصلہ ہو جانا چاہیے۔ افق کی فلمیں بنا کر ان میں چاند کو تلاش کرتے رہنا، سمندر کے پانی میں دیکھنے کا اہتمام کرنا، انتہائی حساس دور بینیں استعمال کرنا اور غروبِ آفتاب کے دو دو گھنٹے بعد چاند کے نظر آنے یا نہ آنے کی اطلاع دینا، افق پر بادلوں کے باوجود مختلف طریقوں سے کوشش کرنا، اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے، لیکن بظاہر ان سب طریقوں میں تکلف پایا جاتا ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 3677
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (صُومُوا لِرُؤْيَتِهِ وَأَفْطِرُوا لِرُؤْيَتِهِ، فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمُ الشَّهْرُ، فَأَكْمِلُوا الْعِدَّةَ ثَلَاثِينَ) )
۔ سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: چاند دیکھ کر روزے رکھنا شروع کیا کرو اور چاند دیکھ کر ہی روزے ترک کیا کرو، ہاں اگر بادل کی وجہ سے چاند دکھائی نہ دے تو تیس کی گنتی پوری کرو۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3677]
تخریج الحدیث: «اخرجه مسلم: 1081، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9472 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9453»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 3678
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ
۔ سیدناجابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اسی طرح کی ایک حدیث بیان کی ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3678]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم۔ اخرجه ابويعلي: 2248، والبيھقي: 4/ 206، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14526 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14580»
الحكم على الحديث: صحیح