الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2. بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلِ الصِّيَامِ مُطْلَقًا
روزوں کی فضیلت، تعداد اور نیت کا بیان مطلق طور پر روزوں کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 3649
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (لَا يَصُومُ عَبْدٌ يَوْمًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ إِلَّا بَاعَدَ اللَّهُ بِذَلِكَ الْيَوْمِ النَّارَ عَنْ وَجْهِهِ سَبْعِينَ خَرِيفًا) )
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو بندہ اللہ کی راہ میں ایک روزہ رکھے گا تو اللہ تعالیٰ اس ایک دن کے روزے کے سبب سے اسے جہنم سے ستر برس کی مسافت جتنا دور کر دے گا۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3649]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري: 2840، ومسلم: 1153، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11210 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11228»
وضاحت: فوائد: … ”فِی سَبِیْلِ اللّٰہِ“ (اللہ تعالیٰ کی راہ) سے مراد جہاد ہے یا اللہ تعالیٰ کی اطاعت؟ حافظ ابن حجرنے کہا: اول الذکر معنی راجح ہے، کیونکہ میں نے ”فوائد ابی الطاھر الذھلی“ میں سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے ان الفاظ کے ساتھ مروی ایک حدیث دیکھی ہے: ((مَا مِنْ مُرَابِطٍ یُرَابِطُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ فَیَصُوْمُیَوْمًا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ …۔)) ”جو آدمی اللہ تعالیٰ کی راہ میں سرحدوں پر مقیم رہتا ہے اور ایک اللہ کی راہ میں ایک روزہ رکھتا ہے، …۔“ ابن دقیق العید نے کہا: عرفِ اکثر میں اس لفظ کا استعمال جہاد کے لیے ہی ہوتا ہے۔ (فتح الباری: ۶/ ۵۹) یہ بات علیحدہ ہے کہ ایسی حالت میں روزہ رکھنے والے کو یہ فکر کرنی چاہیے کہ اس میں ایسی کمزوری پیدا نہ ہو جائے جو لڑتے وقت نقصان کا سبب بن سکے، بہرحال جس کو اللہ تعالیٰ نے عزم اور قوت سے نواز رکھا ہو، وہ دونوں فضیلتوں کو جمع کر سکتا ہے کہ شب و روز راہِ جہاد میں گزر رہے ہوں اور اللہ تعالیٰ کے لیے جان بوجھ کر کھانا پینا بھی چھوڑ رکھا ہو۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 3650
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: مُرْنِي بِعَمَلٍ يُدْخِلُنِيَ الْجَنَّةَ، قَالَ: ( (عَلَيْكَ بِالصَّوْمِ فَإِنَّهُ لَا عِدْلَ لَهُ) ) ، ثُمَّ أَتَيْتُهُ الثَّانِيَةَ، فَقَالَ: ( (عَلَيْكَ بِالصِّيَامِ) )
۔ سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے کوئی ایسا عمل کرنے کا حکم دیں کہ جو مجھے جنت میں پہنچا دے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: روزے رکھا کرو، کیونکہ کوئی دوسرا عمل اس کے مثل نہیں ہے۔ جب میں دوبارہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور (یہی مطالبہ رکھا تو) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: روزے رکھا کرو۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3650]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم۔ اخرجه النسائي: 4/ 165، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22149 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22501»
وضاحت: فوائد: … آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس آدمی کے حق میں روزے کو ہی افضل سمجھا کہ دونوں دفعہ اسی کا حکم دیا، جبکہ اس قسم کے مواقع پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دوسرے سائلین کے لیے روزوںکے علاوہ دوسرے اعمال کی نشاندہی کی، دراصل آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حکیم تھے اور ایک طبیب کی طرح تھے، ہر انسان کی کیفیت کے مطابق دوا تجویز کرتے تھے۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 3651
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (الصِّيَامُ وَالْقُرْآنُ يَشْفَعَانِ لِلْعَبْدِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، يَقُولُ الصِّيَامُ: أَيْ رَبِّ مَنَعْتُهُ الطَّعَامَ وَالشَّهَوَاتِ بِالنَّهَارِ فَشَفِّعْنِي فِيهِ، وَيَقُولُ الْقُرْآنُ: مَنَعْتُهُ النَّوْمَ بِاللَّيْلِ فَشَفِّعْنِي فِيهِ، قَالَ: فَيُشَفَّعَانِ) )
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: روزہ اور قرآن قیامت کے دن بندے کے حق میں سفارش کریں گے، روزہ کہے گا: اے میرے رب! میں نے اس بندے کو دن کے اوقات میں کھانے پینے اور شہوات سے روکے رکھا تھا، لہٰذا تو اب اس کے حق میں میری سفارش قبول فرما، اور قرآن کہے گا: میں نے رات کے وقت اس کو سونے سے روکے رکھا تھا، لہٰذا اب تو اس کے حق میں میری سفارش قبول فرما، نتیجتاً دونوں کی سفارش قبول کی جائے گی۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3651]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، ابن لھيعة و حيي بن عبد الله كلاھما ضعيف۔ اخرجه الحاكم: 1/ 554، والبيھقي في ’’الشعب‘‘: 1994، والطبراني في ’’الكبير‘‘، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6626 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6626»
الحكم على الحديث: ضعیف
حدیث نمبر: 3652
عَنْ أُمِّ عُمَارَةَ بِنْتِ كَعْبٍ الْأَنْصَارِيَّةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهَا فَدَعَتْ لَهُ بِطَعَامٍ فَقَالَ لَهَا: ( (كُلِي) ) ، فَقَالَتْ: إِنِّي صَائِمَةٌ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (إِنَّ الصَّائِمَ إِذَا أُكِلَ عِنْدَهُ صَلَّتْ عَلَيْهِ الْمَلَائِكَةُ حَتَّى يَفْرَغُوا، رُبَّمَا قَالَ: حَتَّى يَقْضُوا أَكْلَهُمْ) )
۔ سیدہ ام عمارہ بنت کعب انصاریہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے ہاں تشریف لائے اورانہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے کھانا منگوا کر پیش کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: تم بھی کھاؤ۔ لیکن انھوں نے کہا: جی میں تو روزے سے ہوں۔ یہ سن کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب روزے دار کے پاس کھانا کھایا جاتا ہے تو جب تک کھانا کھانے والے فارغ نہ ہو جائیں، اس وقت تک فرشتے اس کے حق میں دعائے رحمت کرتے رہتے ہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3652]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة ليلي مولاة حبيب۔ اخرجه الترمذي: 785، وابن ماجه: 1748، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27061 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27601»
الحكم على الحديث: ضعیف
حدیث نمبر: 3653
عَنْ حَبِيبِ بْنِ زَيْدٍ عَنْ مَوْلَاتِهِ لَيْلَى عَنْ عَمَّتِهَا أُمِّ عُمَارَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهَا، قَالَ: وَثَابَ إِلَيْهَا رِجَالٌ مِنْ قَوْمِهَا، قَالَ: فَقَدَّمَتْ إِلَيْهِمْ تَمْرًا فَأَكَلُوا فَتَنَحَّى رَجُلٌ مِنْهُمْ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (مَا شَأْنُهُ؟) ) ، فَقَالَ: إِنِّي صَائِمٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَصَحْبِهِ وَسَلَّمَ: ( (أَمَا إِنَّهُ مَا مِنْ صَائِمٍ يُؤْكَلُ عِنْدَهُ فَوَاطِرُ إِلَّا صَلَّتْ عَلَيْهِ الْمَلَائِكَةُ حَتَّى يَقُومُوا) )
۔ سیدہ ام عمارہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے ہاں تشریف لائے اور ان کی قوم کے بہت سے لوگ ان کے ہاں جمع ہو گئے، انھوں نے ان کی خدمت میں کھجوریں پیش کیں، جب وہ کھانے لگے تو ایک آدمی ایک طرف کو ہو گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: اسے کیا ہوا ہے؟ اس نے کہا: جی میں روزے سے ہوں،یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب کسی روزہ دار کے پاس دوسرے لوگ کھانا کھاتے ہیں تو ان کے کھانے سے فارغ ہونے تک فرشتے اس کے حق میں رحمت کی دعائیں کرتے رہتے ہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3653]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27599»
الحكم على الحديث: ضعیف
حدیث نمبر: 3654
عَنْ عَامِرِ بْنِ مَسْعُودٍ الْجُمَحِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (الصَّوْمُ فِي الشِّتَاءِ الْغَنِيمَةُ الْبَارِدَةُ) )
۔ سیدناعامر بن مسعود جمحی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سردیوں کے روزے تو بلا مشقت حاصل ہونے والی غنیمت ہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3654]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، نمير بن عريب مجھول، وعامر بن مسعود الجمحي ليست له صحبة، فروايته عن النبيي صلي الله عليه وآله وسلم مرسلة، ثم انه مجھول الحال۔ اخرجه الترمذي: 797، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18959 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19167»
وضاحت: فوائد: … اس حقیقت کو ہر کوئی سمجھتا ہے کہ سردیوں کے دن بہت چھوٹے ہوتے ہیں، موسم کی وجہ سے آدمی پیاس سے بھی محفوظ رہتا ہے، لیکن اس غنیمت سے مستفید ہونے والے لوگ کم ہیں۔
الحكم على الحديث: ضعیف
3. بَابُ فَضْلِ صِيَامِ رَمَضَانَ وَقِيَامِهِ
رمضان کے روزوں اور قیام کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 3655
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (مَنْ صَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ (زَادَ فِي رِوَايَةٍ: وَمَا تَأَخَّرَ) ) )
۔ سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے ایمان کی حالت میں اجر و ثواب کے حصول کے لئے ماہِ رمضان کے روزے رکھے، اس کے اگلے پچھلے سارے گناہ معاف کر دیئے جائیں گے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3655]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري: 2014، ومسلم: 760، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10537 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10544»
وضاحت: فوائد: … کسی نیکی کی قبولیت کے لیے ایمان کا شرطِ اوّل ہونا تو واضح ہے، یہ بھی ضروری ہے کہ ہر نیکی کی بنیاد اجرو ثواب کا حصول ہو، اس سلسلے میں ریاکاری، مفاد پرستی، دنیا پرستی اور خوشامد جیسے امور سے محفوظ رہنا چاہیے
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 3656
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُرَغِّبُ فِي قِيَامِ رَمَضَانَ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَأْمُرَهُمْ بِعَزِيمَةٍ، فَيَقُولُ: ( (مَنْ قَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ) )
۔ سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں کو رمضان کے قیام کی رغبت ضرور دلاتے تھے، البتہ حتمی حکم نہیں دیتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے تھے: جو شخص ایمان کی حالت میں اجر و ثواب کی خاطر رمضان کا قیام کرے گا، اس کے سابقہ تمام گناہ بخش دیئے جائیں گے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3656]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري: 2008، ومسلم: 759، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7787 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7774»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 3657
( (وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) بِنَحْوِهِ وَفِيهِ:) وَلَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ جَمَعَ النَّاسَ عَلَى الْقِيَامِ
۔ (دوسری سند)اس میں ہے: جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود لوگوں کو قیام کے لیے جمع نہیں کیا تھا۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3657]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7868»
وضاحت: فوائد: … قیامِ رمضان کے لیے مستقل جماعت کا سلسلہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے شروع کیا تھا۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 3658
عَنْ أَبِي سَلَمَةَ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (مَنْ قَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ، وَمَنْ قَامَ لَيْلَةَ الْقَدْرِ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ) )
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے ایمان کی حالت میں اور اجرو ثواب کے حصول کی نیت سے رمضان کا قیام کیا، اس کے پچھلے تمام گناہ بخش دیئے جائیں گے، اسی طرح جس نے ایمان کے ساتھ اور اجر و ثواب کی خاطر شب ِ قدر کا قیام کیا تو اس کے بھی پچھلے تمام گناہ معاف کر دیئے جائیں گے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3658]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري: 1901، ومسلم: 760، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10117 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10121»
الحكم على الحديث: صحیح