🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
30. بَابُ مَنْ أَكَلَ أَوْ شَرِبَ نَاسِيًا أَوْ مُتَأَوِّلًا
بھول کر یا تاویل کر کے کھا پی لینے والے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3788
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَعَنِ الْحَسَنِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (إِذَا صَامَ أَحَدُكُمْ يَوْمًا فَنَسِيَ فَأَكَلَ وَشَرِبَ فَلْيُتِمَّ صَوْمَهُ فَإِنَّمَا أَطْعَمَهُ اللَّهُ وَسَقَاهُ) )
۔ سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور سیدناحسن رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کسی آدمی نے روزہ رکھا ہوا ہو اور وہ بھول کر کھا پی لے تو وہ اپنا روزہ پورا کرے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اسے کھلایا اور پلایا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3788]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري: 6669، ومسلم: 1155، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9136 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9125»
وضاحت: فوائد: … اس حکم کا تعلق فرضی اور نفلی دونوں روزوں سے ہے۔

الحكم على الحديث:
اخرجه البخاري: 6669
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3789
عَنْ أُمِّ حَكِيمٍ بِنْتِ دِينَارٍ عَنْ مَوْلَاتِهَا أُمِّ إِسْحَاقَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا كَانَتْ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأُتِيَ بِقَصْعَةٍ مِنْ ثَرِيدٍ فَأَكَلَتْ مَعَهُ وَمَعَهُ ذُو الْيَدَيْنِ فَنَاوَلَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَرْقًا، فَقَالَ: ( (يَا أُمَّ إِسْحَاقَ! أَصِيبِي مِنْ هَذَا) ) ، فَذَكَرْتُ أَنِّي كُنْتُ صَائِمَةً فَبَرَدَتْ يَدِي لَا أُقَدِّمُهَا وَلَا أُؤَخِّرُهَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (مَا لَكِ؟) ) ، قَالَتْ: كُنْتُ صَائِمَةً فَنَسِيتُ فَقَالَ ذُو الْيَدَيْنِ: الْآنَ بَعْدَ مَا شَبِعْتِ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (أَتِمِّي صَوْمَكِ فَإِنَّمَا هُوَ رِزْقٌ سَاقَهُ اللَّهُ إِلَيْكِ) )
۔ ام حکیم بیان کرتی ہیں کہ سیدہ ام اسحاق رضی اللہ عنہا نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ثرید کا پیالہ لایا گیا، میں نے اور سیدنا ذوالیدین رضی اللہ عنہ نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ وہ کھانا کھایا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے گوشت والی ایک ہڈی دی اور فرمایا: ام اسحاق! یہ بھی کھا لو۔ اس وقت مجھے یاد آیا کہ میرا تو روزہ تھا۔ میرا ہاتھ تو وہیں رک گیا، میں اسے آگے کر سکتی تھی نہ پیچھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تجھے کیا ہو گیا ہے؟ میں نے کہا: میرا تو روزہ تھا اور میں بھول گئی تھی۔ سیدنا ذوالیدین رضی اللہ عنہ نے کہا: اب یاد آیا تجھے، سیر ہونے کے بعد۔ لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم اپنا روزہ پورا کرو، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے یہ رزق تم کو مہیا کیا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3789]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة ام حكيم بنت دينار و بشار بن عبد الملك ضعيف۔ اخرجه الطبراني في ’’الكبير‘‘: 25/ 411، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27069 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27609»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لجھالة ام حكيم بنت دينار و بشار بن عبد الملك ضعيف۔ اخرجه الطبراني في ’’الكبير‘‘: 25/ 411
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3790
عَنْ أَسْمَاءَ (بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ) رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: أَفْطَرْنَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي يَوْمِ غَيْمٍ فِي رَمَضَانَ ثُمَّ طَلَعَتِ الشَّمْسُ، قُلْتُ لِهِشَامٍ: أُمِرُوا بِالْقَضَاءِ؟ قَالَ: وَبُدٌّ مِنْ ذَاكَ
۔ سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں ماہِ رمضان میں ایک دن بادل چھاگئے، (ہم نے سمجھا کہ سورج غروب ہو گیا) اس لیے ہم نے روزہ افطار کر لیا، لیکن بعد میں سورج نظر آنے لگ گیا۔ میں (ابواسامہ) نے ہشام سے کہا: تو پھر لوگوں کو اس روزہ کی قضاء کا حکم دیا گیا تھا؟ انھوں نے کہا: کیااس کے بغیر بھی کوئی چارہ ہے؟ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3790]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري: 1959، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26927 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27466»
وضاحت: فوائد: … حدیث کا آخری جملہ ”کیا اس کے بغیر بھی کوئی چارہ ہے؟“ ہشام بن عروہ کا اپنا استدلال ہے، وگرنہ ایسی صورتحال میں ایسی خطا کرنے والوں کوچاہیے کہ وہ فوراً اپنی خطا سے باز آ کر روزہ مکمل کریں، کیونکہیہ بھی بھولنے کی ہی ایک قسم ہے، ہم نے حدیث نمبر (۳۷۰۵یا۳۷۰۸) میں جس مسئلے پر بحث کی ہے، اس میں ایک شق یہ بھی تھی کہ اگرکسی آدمی کو سحری کا وقت گزر جانے کے بعد دن میں کسی وقت رمضان کا چاند نظر آنے کی خبر ملتی ہے تو وہ اسی وقت سے روزہ کی نیت کر لے گا اور اس پر کوئی قضائی نہیں ہو گی، اس حدیث میں مذکورہ مسئلہ بھی اسی قسم کا ہے۔

الحكم على الحديث:
اخرجه البخاري: 1959
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
31. بَابُ حُكْمِ مَنْ أَصْبَحَ جُنُبًا وَهُوَ صَائِمٌ
جنابت کی حالت میں صبح کرنے والے، جبکہ وہ روزے دار بھی ہو، کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3791
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (إِذَا نُودِيَ لِصَلَاةِ الصُّبْحِ وَأَحَدُكُمْ جُنُبٌ فَلَا يَصُمْ يَوْمَئِذٍ) )
۔ سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب صبح کی اذان ہو جائے اور تم میں سے کوئی جنبی ہو تو وہ اس دن کا روزہ نہ رکھے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3791]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه ابن ماجه: 1702، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8145 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8130»
وضاحت: فوائد: … اس باب کی دیگر احادیث سے پتہ چلے گا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جنابت کی حالت میں روزہ رکھ کر بعد میں غسل کر لیا کرتے تھے، تو پھر اس حدیث کا کیا معنی ہوا؟ امام خطابی کہتے ہیں: سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی اس روایت کو منسوخ سمجھا جائے، دراصل یہ حکم ابتدائے اسلام میں اس وقت تھا، جب رات کو سونے کے بعد کھانے پینے کی طرح جماع حرام ہو جاتا تھا، پھر جب اللہ تعالیٰ نے طلوعِ فجر تک جماع کو جائز قرار دیا تو جنابت کی حالت میں روزہ رکھنا بھی جائز ہو گیا، اس لیے اس حدیث کے اس حصے کہ ”جو جنابت کی حالت میں صبح کرے، وہ روزہ نہ رکھے“ کییہ تاویل کی جائے گی کہ جو آدمی سونے کے بعد روزے کی حالت میں جماع کر لے، تو اس دن کا روزہ اسے کفایت نہیں کرے گا، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے شروع شروع میں سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہ سے سنی ہوئی روایت کے مطابق فتوی دیا تھا، دراصل اس وقت ان کو نسخ کا علم نہیں تھا، پھر جب ان کو سیدنا عائشہ رضی اللہ عنہا اور سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی روایات کا پتہ چلا تو انھوں نے پہلے قول سے رجوع کر لیا تھا، جیسا کہ صحیح مسلم (۱۱۰۹) سے معلوم ہوتا ہے، اسی طرح ابن ابی شیبہ (۳/ ۸۱) میں ہے کہ سعید بن مسیب نے کہا: سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اس فتوے سے رجوع کر لیا تھا کہ جو آدمی اس حال میں صبح کرے کہ وہ جنبی ہو تو وہ روزہ نہ رکھے۔

الحكم على الحديث:
صحيح۔ اخرجه ابن ماجه: 1702
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3792
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا إِسْمَاعِيلُ أَنْبَأَنَا ابْنُ عَوْنٍ عَنْ رَجَاءِ بْنِ حَيْوَةَ قَالَ: بَانَ يَعْلَى بْنُ مُنَبِّهٍ فِي رَمَضَانَ فَأَصْبَحَ هُوَ جُنُبٌ، فَلَقِيَ أَبَا هُرَيْرَةَ فَسَأَلَهُ فَقَالَ: أَفْطِرْ، قَالَ: أَفَلَا أَصُومُ هَذَا الْيَوْمَ وَأُجْزِئُهُ مِنْ يَوْمٍ آخَرَ، قَالَ: أَفْطِرْ، فَأَتَى مَرْوَانَ فَحَدَّثَهُ فَأَرْسَلَ أَبَا بَكْرِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ إِلَى أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَسَأَلَهَا فَقَالَتْ: قَدْ كَانَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُصْبِحُ فِينَا جُنُبًا مِنْ غَيْرِ احْتِلَامٍ، ثُمَّ يُصْبِحُ صَائِمًا فَرَجَعَ إِلَى مَرْوَانَ فَحَدَّثَهُ فَقَالَ: الْقِ بِهَا أَبَا هُرَيْرَةَ! فَقَالَ: جَارٌ جَارٌ، فَقَالَ: أَعْزِمُ عَلَيْكَ لِتَلْقِ بِهِ، فَلَقِيَهُ فَحَدَّثَهُ فَقَالَ: إِنِّي لَمْ أَسْمَعْهُ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا أَنْبَأَنِيهِ الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ، قَالَ: فَلَمَّا كَانَ بَعْدَ ذَلِكَ لَقِيتُ رَجَاءً فَقُلْتُ: حَدِيثِ يَعْلَى عَلَى مَنْ حَدَّثَكَهُ، فَقَالَ: إِيَّايَ حَدَّثَهُ
۔ رجاء بن حیوہ کہتے ہیں کہ یعلیٰ بن منبہ نے رمضان میں شادی کی، اس طرح اس کی جنابت والی حالت میں ہی صبح ہو گئی، پس وہ سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ملے اور ان سے یہ سوال کیا، انہوں نے جواباً کہا: روزہ افطار کردو۔ یعلیٰ نے کہا: کیا اس طرح نہ ہو جائے کہ میں آج کا روزہ بھی مکمل کر لوں اور اس کے عوض ایک اور روزہ بھی رکھ لوں۔ انہوں نے کہا: افطار کر دے۔ یعلی، مروان کے پاس پہنچ گیا اور یہ واقعہ ذکر کیا، مروان نے ابوبکر بن عبدالرحمن کو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا، پس انھوں نے سیدہ سے سوال کیا اور انہوں نے یہ جواب دیا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جنابت کی حالت میں صبح کرتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا روزہ بھی ہوتا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ جنابت احتلام کی وجہ سے نہیں ہوتی تھی، ابوبکر بن عبدالرحمن نے واپس جا کر مروان کو یہ حدیث بیان کی۔ اس نے کہا: جا کر یہ بات سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو بتاؤ۔ ابوبکر بن عبدالرحمن نے کہا: وہ تو میرے ہمسائے ہیں، میرے ہمسائے ہیں(اس لیے میں ان کو یہ بات نہیں بتلا سکوں گا)۔ لیکن مروان نے کہا: میں تمہیں حتمی حکم دیتا ہوں کہ جا کر ان کو ملو اور (انہیں یہ حدیث بیان کرو)، پس وہ گیا اور ان سے جا ملا اور ان کو یہ حدیث بیان کر دی، سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے خود تو یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نہیں سنی تھی، البتہ سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہ نے مجھے بتلائی تھی۔ابن عوف کہتے ہیں: اس کے بعد جب میری ملاقات رجاء سے ہوئی تو میں نے ان سے پوچھا کہ آپ سے یعلیٰ والی حدیث کس نے بیان کی تھی؟ انہوں نے کہا: خود یعلی نے مجھے بیان کی تھی۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3792]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري: 1930، ومسلم: 1109، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1826 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1826»

الحكم على الحديث:
اخرجه البخاري: 1930
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3793
عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَتَّابٍ قَالَ: كَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ يَقُولُ: مَنْ أَصْبَحَ جُنُبًا فَلَا صَوْمَ لَهُ، قَالَ: فَأَرْسَلَنِي مَرْوَانُ بْنُ الْحَكَمِ أَنَا وَرَجُلًا آخَرَ إِلَى عَائِشَةَ وَأُمِّ سَلْمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا نَسْأَلُهُمَا عَنِ الْجُنُبِ يُصْبِحُ فِي رَمَضَانَ قَبْلَ أَنْ يَغْتَسِلَ، قَالَ: فَقَالَتْ إِحْدَاهُمَا: قَدْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُصْبِحُ جُنُبًا ثُمَّ يَغْتَسِلُ وَيُتِمُّ صِيَامَ يَوْمِهِ، وَقَالَتِ الْأُخْرَى: كَانَ يُصْبِحُ جُنُبًا مِنْ غَيْرِ أَنْ يَحْتَلِمَ ثُمَّ يُتِمُّ صَوْمَهُ، قَالَ: فَرَجَعَا فَأَخْبَرَا مَرْوَانَ بِذَلِكَ، فَقَالَ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ: أَخْبِرْ أَبَا هُرَيْرَةَ بِمَا قَالَتَا، فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: كَذَا كُنْتُ أَحْسَبُ وَكَذَا كُنْتُ أَظُنُّ قَالَ: فَقَالَ لَهُ مَرْوَانُ: بِأَظُنُّ وَبِأَحْسَبُ تُفْتِي النَّاسَ
۔ عبد الرحمن بن عتاب کہتے ہیں: سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ یہ کہا کرتے تھے کہ جس نے جنابت کی حالت میں صبح کی، اس کا کوئی روزہ نہیں۔ مروان بن حکم نے مجھے اور ایک اورآدمی کو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی طرف بھیجا تاکہ ہم ان سے ماہِ رمضان میں غسلِ جنابت سے قبل جنابت کی حالت میں صبح کرنے والے کے بارے میں سوال کریں۔ان میں سے ایک نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جنابت کی حالت میں صبح کرتے تھے، لیکن بعد میں غسل کر کے اس دن کا روزہ پورا کرتے تھے۔ دوسری نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جنابت کی حالت میں صبح کرتے تھے، لیکن یہ جنابت احتلام کی وجہ سے نہیں ہوتی تھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنا روزہ پورا کرتے تھے۔ وہ دونوں لوٹے اور مروان کو یہ حدیث بیان کی۔ مروان نے عبد الرحمن سے کہا: سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کو ان دونوں (امہات المومنین) کی حدیث بتلاؤ، یہ سن کر سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میرا تو یہی گمان تھا، میرا تو یہی خیال تھا۔ مروان نے ان سے کہا: کیا آپ گمان اور ذاتی خیال کی روشنی میں لوگوں کو فتوے دیتے ہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3793]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح بغير ھذه السياقة، وھذا اسناد ضعيف لضعف علي بن عاصم الواسطي۔ اخرجه النسائي في ’’الكبري‘‘: 2943، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25509 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26024»

الحكم على الحديث:
حديث صحيح بغير ھذه السياقة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3794
عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَقَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُصْبِحُ جُنُبًا ثُمَّ يَغْتَسِلُ ثُمَّ يَغْدُو إِلَى الْمَسْجِدِ وَرَأْسُهُ يَقْطُرُ ثُمَّ يَصُومُ ذَلِكَ الْيَوْمَ، فَأَخْبَرْتُ مَرْوَانَ بْنَ الْحَكَمِ بِقَوْلِهَا فَقَالَ لِي: أَخْبِرْ أَبَا هُرَيْرَةَ بِقَوْلِ عَائِشَةَ، فَقُلْتُ: إِنَّهُ لِي صَدِيقٌ فَأُحِبُّ أَنْ تُعْفِيَنِي، فَقَالَ: عَزَمْتُ عَلَيْكَ لَمَّا انْطَلَقْتَ إِلَيْهِ، فَانْطَلَقْتُ أَنَا وَهُوَ إِلَى أَبِي هُرَيْرَةَ فَأَخْبَرْتُهُ بِقَوْلِهَا، فَقَالَ: عَائِشَةُ إِذَنْ أَعْلَمُ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
۔ عبد الرحمن بن حارث کہتے ہیں: میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ کے پاس گیا، انہوں نے یہ حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جنابت کی حالت میں صبح کرتے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غسل کر کے مسجد کی طرف تشریف لے جاتے، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سر سے پانی کے قطرے گر رہے ہوتے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس دن کا روزہ بھی رکھتے تھے۔ جب میں نے مروان بن حکم کو یہ حدیث بیان کی تو انھوں نے مجھ سے کہا: جاؤ اورسیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو بتلا کر آؤ۔ میں نے کہا: وہ تو میرے دوست ہیں اور میں چاہتا ہوں کہ آپ مجھے اس سلسلے میں معاف کر دیں۔ لیکن انھوں نے کہا: میں تمہیں تاکیداً کہتا ہوں کہ تم جاؤ۔ چنانچہ میں اور وہ دونوں سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ کی بات ان کو بتلائی، وہ کہنے لگے: (اس کا مطلب ہے کہ) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بارے میں زیادہ جانتی ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3794]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري: 1926، 1930، ومسلم: 1109، وھو حديث بعضھم رووه مطولا و بعضھم مختصرا، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24681 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25188»

الحكم على الحديث:
اخرجه البخاري: 1926
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3795
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) : قَالَ: دَخَلْتُ أَنَا وَأَبِي عَلَى عَائِشَةَ وَأُمِّ سَلْمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، فَقَالَتَا: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصْبِحُ جُنُبًا ثُمَّ يَصُومُ
۔ (دوسری سند) ابوبکر بن عبدالرحمن کہتے ہیں:میں اور میرے والد ہم دونوں سیدہ عائشہ اور سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہما کی خدمت میں گئے، ان دونوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جنابت کی حالت میں صبح کرتے تھے اور روزہ بھی رکھ لیتے تھے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3795]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24563»

الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24563
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3796
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَالِثٍ) قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ وَأُمُّ سَلْمَةَ زَوْجَا النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَدْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَصَحْبِهِ وَسَلَّمَ يُصْبِحُ مِنْ أَهْلِهِ جُنُبًا فَيَغْتَسِلُ قَبْلَ أَنْ يُصَلِّيَ الْفَجْرَ ثُمَّ يَصُومُ يَوْمَئِذٍ، قَالَ: فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِأَبِي هُرَيْرَةَ فَقَالَ: لَا أَدْرِي أَخْبَرَنِي ذَلِكَ الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
۔ (تیسری سند) وہ کہتے ہیں:نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیویوں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا دونوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی بیوی کے ساتھ مجامعت کی وجہ سے جنابت کی حالت میں صبح کرتے، پھر نماز فجر ادا کرنے سے پہلے غسل کرتے اور اس دن کا روزہ بھی رکھتے۔ وہ کہتے ہیں: جب میں نے یہ حدیث سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ذکر کی تو انہوں نے کہا: میرے علم میں تو یہ حدیث نہیں ہے، البتہ سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہ نے مجھے وہ حدیث بیان کی تھی۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3796]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1804»
وضاحت: فوائد: … صحیح بخاری کی روایت کے الفاظ یہ ہیں: کَذَالِکَ حَدَّثَنِیَ الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ وَھُوَ اَعْلَمُ، یعنی: سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہ نے مجھے اسی طرح بیان کیا تھا اور وہی اس بارے میں زیادہ جانتے ہیں۔
پیچھے حدیث گزر گئی ہے کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فتویٰ دیا تھا کہ جو آدمی جنبی حالت میں صبح کرے وہ روزہ نہ رکھے اور یہ بات ان کو فضل بن عباس نے بیان کی تھییہی بات ادھر مراد ہے۔ یہ بھی بیان ہو چکا ہے کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے حدیث
ملنے پر اپنے پہلے موقف سے رجوع کر لیا تھا۔ (عبداللہ رفیق)

الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1804
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3797
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ رَابِعٍ) بِنَحْوِهِ وَفِيهِ: كَانَ يُصْبِحُ جُنُبًا مِنْ جِمَاعٍ غَيْرِ الْإِحْتِلَامِ ثُمَّ يَصُومُ وَقَالَتْ فِي حَدِيثِ عَبْدِ رَبِّهِ: فِي رَمَضَانَ
۔ (چوتھی سند) گزشتہ حدیث کی مانند ہے، البتہ اس میں یہ الفاظ ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جماع کی وجہ سے جنابت کی حالت میں صبح کرتے، نہ کہ احتلام کی وجہ سے، پھر اس دن کا روزہ رکھتے تھے۔ عبد ربہ کی حدیث میں رمضان کا ذکر بھی ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3797]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24575»

الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24575
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں