الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
31. بَابُ حُكْمِ مَنْ أَصْبَحَ جُنُبًا وَهُوَ صَائِمٌ
جنابت کی حالت میں صبح کرنے والے، جبکہ وہ روزے دار بھی ہو، کا بیان
حدیث نمبر: 3798
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: لَا وَرَبِّ هَذَا الْبَيْتِ! مَا أَنَا قُلْتُ: مَنْ أَصْبَحَ جُنُبًا فَلَا يَصُومُ، مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَرَبِّ الْبَيْتِ قَالَهُ، مَا أَنَا نَهَيْتُ عَنْ صِيَامِ يَوْمِ الْجُمُعَةِ، مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْهُ وَرَبِّ الْبَيْتِ!
۔ سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: اس گھر کے رب کی قسم! میں نے نہیں کہا کہ جو آدمی جنابت کی حالت میں صبح کرے وہ روزہ نہ رکھے۔ رب کعبہ کی قسم! یہ بات تو محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمائی ہے۔ربِّ کعبہ کی قسم! میں نے جمعہ کے دن روزہ رکھنے سے منع نہیں کیا، بلکہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے منع فرمایا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3798]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه ابن ماجه: 1702، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7388 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7382»
وضاحت: فوائد: … اس باب کی پہلی حدیث کے فوائد میں اس حدیث کا مفہوم بیان کیا جا چکا ہے۔
الحكم على الحديث:
صحيح۔ اخرجه ابن ماجه: 1702
حدیث نمبر: 3799
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! تُدْرِكُنِي الصَّلَاةُ وَأَنَا جُنُبٌ وَأَنَا أُرِيدُ الصِّيَامَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (وَأَنَا تُدْرِكُنِي الصَّلَاةُ وَأَنَا جُنْبٌ وَأَنَا أُرِيدُ الصِّيَامَ فَأَغْتَسِلُ ثُمَّ أَصُومُ) ) ، فَقَالَ الرَّجُلُ: إِنَّا لَسْنَا مِثْلَكَ، فَقَدْ غَفَرَ اللَّهُ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ، فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ: ( (وَاللَّهِ! إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ أَكُونَ أَخْشَاكُمْ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَأَعْلَمُكُمْ بِمَا أَتَّقِي) )
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا: اے اللہ کے رسول! میں جنابت کی حالت میں ہوتا ہوں اور مجھے نماز فجر پا لیتی ہے، جبکہ میرا روزہ رکھنے کا بھی ارادہ ہوتا ہے، ایسی صورت میں کیا کروں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: (میرے ساتھ بھی ایسے ہوتا ہے کہ) میں جنبی ہوتا ہوں اور مجھے نماز پا لیتی ہے، جبکہ روزہ رکھنے کا ارادہ بھی ہوتا ہے، تو میں غسل کرتا ہوں اور روزہ رکھتا ہوں۔ اس بندے نے کہا: ہم تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جیسے نہیں ہیں، اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے تو اگلے پچھلے تمام گناہ معاف کر دیئے ہیں،یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غصے میں آ گئے اور فرمایا: اللہ کی قسم! مجھے یقین ہے کہ میں تم میں سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والا ہوں اور میں تم سب سے زیادہ جانتا ہوں کہ مجھے کن باتوں سے بچنا چاہیے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3799]
تخریج الحدیث: «اخرجه مسلم: 1110، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24385 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24889»
وضاحت: فوائد: … ”مجھے نماز فجر پا لیتی ہے“ کا مفہوم یہ ہے کہ فجر طلوع ہو جاتی ہے۔ اس آدمی کے کہنے کا مطلب یہ تھا کہ چونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے تو اگلے پچھلے گناہ معاف ہو چکے ہیں، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ احکام میں نرمی کی جا سکتی ہے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وضاحت فرما دی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو اس فضیلت و منقبت کے باوجود تقوی کے تمام تقاضوں کو پورا کرتے ہیں۔ معلوم ہوا کہ مسلمان کو ہر کام میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے افعال کی اقتدا کرنی چاہیے، ما سوائے ان امور کے جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ خاص ہوں۔
الحكم على الحديث:
اخرجه مسلم: 1110
حدیث نمبر: 3800
وَعَنْهَا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُدْرِكُهُ الصُّبْحُ وَهُوَ جُنُبٌ فَيَغْتَسِلُ وَيَصُومُ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ جب صبح ہوتی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جنابت کی حالت میں ہوتے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غسل کرتے اور روزہ رکھتے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3800]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري: 1926، 1930، ومسلم: 1109، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24104 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24605»
الحكم على الحديث:
اخرجه البخاري: 1926
حدیث نمبر: 3801
(وَعَنْهَا مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ، بِنَحْوِهِ وَفِيهِ) كَانَ تَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُصْبِحُ جُنُبًا ثُمَّ يَغْتَسِلُ ثُمَّ يَغْدُو إِلَى الصَّلَاةِ فَأَسْمَعُ قِرَاءَتَهُ وَيَصُومُ
۔ (دوسری سند)اسی طرح حدیث مروی ہے، البتہ اس میں یہ الفاظ ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جنابت کی حالت میں صبح کرتے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غسل کر کے نماز کے لیے تشریف لے جاتے (اور لوگوں کو نماز پڑھاتے اور) میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قراء ت کی آواز سن رہی ہوتی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس دن روزہ بھی رکھ لیتے تھے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3801]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24933»
وضاحت: فوائد: … تمام احادیث کا مفہوم بالکل واضح ہے کہ آدمی جنابت کی حالت میں روزے کی نیت کر کے روزہ بند کر کے طلوع فجر کے بعد غسلِ جنابت کر سکتا ہے۔ روزے کے دوران جماع حرام ہے، لیکن جنابت والی حالت میں روزے کی ابتداء کی جا سکتی ہے، جیسا کہ ان احادیث سے ثابت ہوتا ہے۔
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24933
حدیث نمبر: 3802
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (إِذَا كَانَ يَوْمُ صَوْمِ أَحَدِكُمْ فَلَا يَرْفُثْ يَوْمَئِذٍ وَلَا يَصْخَبْ، فَإِنْ سَابَّهُ أَحَدٌ أَوْ قَاتَلَهُ أَحَدٌ فَلْيَقُلْ إِنِّي امْرُؤٌ صَائِمٌ) )
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی آدمی روزے سے ہو تو وہ اس دن نہ فحش گوئی کرے اور نہ شور مچائے، اگر کوئی آدمی اسے گالی دے یا اس سے لڑے تو وہ اسے جواباً اتنا کہے کہ میں روزے دار ہوں۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3802]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري: 1904، ومسلم: 1151، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26069 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26597»
الحكم على الحديث:
اخرجه البخاري: 1904
32. بَابُ تَحْذِيرِ الصَّائِمِ مِنَ اللُّغْوِ وَالرَّفَثِ وَالْغِيبَةِ وَأَنَّ ذَلِكَ مُبْطِلٌ لِثَوَابِ الصَّوْمِ
روزے دار کو لغو، فحش کلامی اور غیبت سے متنبّہ کرنے اور ان امور کا روزے کے ثواب کو ضائع کر دینے کا بیان
حدیث نمبر: 3803
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (رُبَّ صَائِمٍ حَظُّهُ مِنْ صِيَامِهِ الْجُوعُ وَالْعَطَشُ وَرُبَّ قَائِمٍ حَظُّهُ مِنْ قِيَامِهِ السَّهَرُ) )
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بہت سے روزے دار ایسے ہیں کہ جن کو روزے کے عوض صرف بھوک پیاس نصیب ہوتی ہے اور قیام کرنے والے بھی کئی لوگ ایسے ہیں، جن کو قیام کے عوض صرف بیداری ملتی ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3803]
تخریج الحدیث: «اسناده جيّد۔ اخرجه ابن ماجه: 1690، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8856 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8843»
وضاحت: فوائد: … یعنی وہ مشقت اٹھانے کے باوجود اجرو ثواب سے محروم رہتے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ جو کوئی مسلمان عبادت والے امور سر انجام دینا چاہے تو وہ اس کے تمام تقاضے پورا کرنے کی کوشش کرے، وگرنہ وہ ایسا بیچارہ بن جائے گا کہ جو بڑا صبر کر کے دن کو روزہ رکھتا ہے، رات کو قیام کرتا ہے، لیکن تقسیم اجر کے وقت اس کو خالی ہاتھ واپس لوٹا دیا جاتا ہے۔ العیاذ باللہ۔
الحكم على الحديث:
اسناده جيّد۔ اخرجه ابن ماجه: 1690
حدیث نمبر: 3804
وَعَنْهُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (مَنْ لَمْ يَدَعْ قَوْلَ الزُّورِ وَالْعَمَلَ بِهِ وَلَا الْجَهْلَ فَلَيْسَ لِلَّهِ حَاجَةٌ أَنْ يَدَعَ طَعَامَهُ وَشَرَابَهُ) )
۔ سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی جھوٹی بات، اس پر عمل اور جہالت کو نہیں چھوڑتا تو اللہ تعالیٰ کو کوئی ضرورت نہیں کہ وہ اپنا کھانا پینا چھوڑے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3804]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري: 1903، 6057، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9839 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9838»
الحكم على الحديث:
اخرجه البخاري: 1903
حدیث نمبر: 3805
عَنْ عُبَيْدٍ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّ امْرَأَتَيْنِ صَامَتَا وَأَنَّ رَجُلًا قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّ هَاتَيْنِ الْامْرَأَتَيْنِ قَدْ صَامَتَا وَأَنَّهُمَا قَدْ كَادَتَا أَنْ تَمُوتَا مِنَ الْعَطَشِ فَأَعْرَضَ عَنْهُ أَوْ سَكَتَ، ثُمَّ عَادَ، وَأُرَاهُ قَالَ: بِالْهَاجِرَةِ؟ قَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ! إِنَّهُمَا وَاللَّهِ! قَدْ مَاتَتَا أَوْ كَادَتَا أَنْ تَمُوتَا، قَالَ: ( (ادْعُهُمَا) ) ، قَالَ: فَجَاءَتَا، قَالَ: فَجِيءَ بِقَدَحٍ أَوْ عُسٍّ، فَقَالَ لِإِحْدَاهُمَا: ( (قِيئِي) ) ، فَقَاءَتْ قَيْحًا أَوْ دَمًا وَصَدِيدًا وَلَحْمًا، حَتَّى قَاءَتْ نِصْفَ الْقَدَحِ، ثُمَّ قَالَ لِلْأُخْرَى: ( (قِيئِي) ) ، فَقَاءَتْ مِنْ قَيْحٍ وَدَمٍ وَصَدِيدٍ وَلَحْمٍ عَبِيطٍ وَغَيْرِهِ حَتَّى مَلَأَتِ الْقَدَحَ، ثُمَّ قَالَ: ( (إِنَّ هَاتَيْنِ صَامَتَا عَمَّا أَحَلَّ اللَّهُ وَأَفْطَرَتَا عَلَى مَا حَرَّمَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْهِمَا، جَلَسَتْ إِحْدَاهُمَا إِلَى الْأُخْرَى فَجَعَلَتَا يَأْكُلَانِ لُحُومَ النَّاسِ) )
۔ مولائے رسول سیدنا عبید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ دو عورتوں نے روزہ رکھا اور ایک آدمی نے ان کے بارے میں یہ بتلایا: اے اللہ کے رسول! یہاں دو عورتیں ہیں، انہوں نے روزہ رکھا ہوا ہے لیکن وہ پیاس کی شدت کی وجہ سے مرنے کے قریب ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس آدمی سے منہ موڑ لیایا خاموش ہو رہے۔ اس نے اپنی بات دہرائی، اور میرا خیال ہے کہ وہ دوپہر کی شدت کی گرمی کا وقت تھا۔ اس نے کہا: اللہ کے نبی! اللہ کی قسم! وہ دونوں مر چکی ہیں یا مرنے کے قریب ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: انہیں بلاؤ۔ وہ دونوں آگئیں اور ایک پیالہ بھی لایا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک خاتون سے فرمایا: اس میں قے کرو۔ اس نے خون، پیپ اور گوشت ملی قے کی، آدھا پیالہ بھر گیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دوسری عورت سے فرمایا: تم بھی قے کرو۔ اس نے بھی پیپ، خون اور تازہ گوشت کے لوتھڑوں وغیرہ کی قے کی، اب کی بار پیالہ بھر گیا۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ نے جس چیز کو حلال کیا ہے، انہوں نے اسے تو چھوڑ کر روزہ رکھ لیا ہے اور اللہ تعالیٰ نے جس چیز کو ان پر حرام کیا ہے، اس کے ساتھ انہوں نے روزے کو ضائع کر دیا ہے اور وہ اس طرح کہ یہ دونوں بیٹھ کر لوگوں کا گوشت کھاتی رہیں یعنی غیبت کرتی رہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3805]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة الراوي عن عبيد۔ اخرجه البخاري في ’’تاريخه‘‘: 5/ 440، وابويعلي: 1576، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23653 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24053»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لجھالة الراوي عن عبيد۔ اخرجه البخاري في ’’تاريخه‘‘: 5/ 440
حدیث نمبر: 3806
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) : عَنْ عُثْمَانَ بْنِ غِيَاثٍ قَالَ: كُنْتُ مَعَ أَبِي عُثْمَانَ، قَالَ: فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ ثَنَا سَعْدٌ أَوْ عُبَيْدٌ، (عُثْمَانُ بْنُ غِيَاثَ الَّذِي يَشُكُّ) مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُمْ أُمِرُوا بِصِيَامٍ، قَالَ: فَجَاءَ رَجُلٌ بَعْضَ النَّهَارِ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّ فُلَانًا وَفُلَانَةَ قَدْ بَلَغَهُمَا الْجَهْدُ، فَذَكَرَ مَعْنَى حَدِيثِ يَزِيدَ وَابْنِ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ سُلَيْمَانَ
۔ مولائے رسول سیدنا سعد یا سیدنا عبید رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ لوگوں کو روزہ رکھنے کا حکم دیا گیا، ایک آدمی دن کے دوران آیا اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! فلاں مرد اور عورت روزہ کی وجہ سے بڑی مشقت میں ہیں۔ اس سے آگے سلیمان والی حدیث کا مفہوم بیان کیا۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3806]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24055»
وضاحت: فوائد: … پچھلی روایت میں شک کے بغیر عبید رضی اللہ عنہ سے روایت مروی ہے اور ظاہر ہے کہ شک کے بغیر والی روایت ہی زیادہ اہمیت والی ہوتی ہے۔
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24055
حدیث نمبر: 3807
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَالِثٍ) عَنْ أَبِي عُثْمَانَ قَالَ: حَدَّثَنِي سَعْدٌ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ أَنَّهُمْ أُمِرُوا بِصِيَامِ يَوْمٍ فَجَاءَ رَجُلٌ بَعْضَ النَّهَارِ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنْ فُلَانَةَ وَفُلَانَةَ بَلَغَهُمَا الْجَهْدُ فَأَعْرَضَ عَنْهُ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ
۔ مولائے رسول بیان کرتے ہیں کہ لوگوں کو ایک دن کا روزہ رکھنے کا حکم دیا گیا، دن کے کسی حصہ میں ایک آدمی نے آ کر کہا: اے اللہ کے رسول! فلاں فلاں عورتیں (روزے کی وجہ سے) بڑی مشقت سے دو چار ہیں، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے منہ موڑ لیا، …۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3807]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24056»
وضاحت: فوائد: … فحش گوئی، شور شرابا، گالی گلوچ، سب و شتم، لعن طعن، چغلی و غیبت، لڑائی جھگڑے، کذب بیانی، جہالت والے امور، بلاشبہ ان برے کاموں سے روزہ باطل تو نہیں ہوتا ہے، لیکن اس کا اجر ضائع ہو جاتا ہے اور ممکن ہے کہ سارا اجر ضائع ہوجائے، جیسا کہ حدیث نمبر (۳۸۰۳) سے معلوم ہوتا ہے۔
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24056