الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
27. بَابُ جَوَازِ السِّوَاكِ وَالْمَضْمَضَةِ وَالِاسْتِنْشَاقِ وَالِاغْتِسَالِ مِنَ الْحَرِّ لِلصَّائِمِ
روزے دار کے لیے مسواک کرنے، کلی کرنے، ناک میںپانی چڑھانے اور گرمی کی وجہ سے غسل کرنے کے جواز کا بیان
حدیث نمبر: 3768
عَنْ (عَمْرِو) بْنِ عَبَسَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ فِي رَمَضَانَ
۔ سیدناعمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ماہِ رمضان میں کلی کرتے اور ناک میں پانی چڑھاتے ہوئے دیکھا تھا۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3768]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لانقطاعه، كثير بن زياد لم يدرك عمرو بن عبسة، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17017 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17142»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لانقطاعه
حدیث نمبر: 3769
عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامِ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَسْكُبُ عَلَى رَأْسِهِ الْمَاءَ بِالسُّقْيَا، إِمَّا مِنَ الْحَرِّ وَإِمَّا مِنَ الْعَطَشِ، وَهُوَ صَائِمٌ، ثُمَّ لَمْ يَزَلْ صَائِمًا حَتَّى أَتَى كَدِيدًا، ثُمَّ دَعَا بِمَاءٍ فَأَفْطَرَ وَأَفْطَرَ النَّاسُ وَهُوَ عَامُ الْفَتْحِ، زَادَ فِي رِوَايَةٍ: قَالَ الَّذِي حَدَّثَنِي فَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَصُبُّ الْمَاءَ عَلَى رَأْسِهِ مِنَ الْحَرِّ وَهُوَ صَائِمٌ
۔ ایک صحابی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کودیکھا کہ سقیا مقام پر آپ کے سر پر گرمی یا پیاس کی وجہ سے پانی ڈالا جا رہا تھا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم روزے دار تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے روزہ قائم رکھا، یہاں تک کہ کدید مقام تک پہنچ گئے، وہاں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پانی منگوایا اور روزہ افطار کر دیا اور لوگوں نے بھی روزہ توڑ دیا،یہ فتح مکہ (کے سفر کے دوران کا) واقعہ ہے۔ ایک روایت میں یہ الفاظ زائد ہیں:مجھے بیان کرنے والے نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گرمی کی شدت کی وجہ سے سر پر پانی ڈال رہے تھے، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم روزے کی حالت میں تھے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3769]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ اخرجه ابوداود: 2365، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23190 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23577»
وضاحت: فوائد: … نہانا، سرپر پانی ڈالنا، کلی کرنا، مسواک کرنا اور ناک میں پانی چڑھانا، اِن سب امور کا روزہ کے ٹوٹنے سے کوئی تعلق نہیں ہے، البتہ ناک میں پانی چڑھاتے وقت مبالغہ نہیں کرنا چاہیے، تاکہ ایسا نہ ہو کہ پانی حلق میں اتر جائے، جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((وَبَالِغْ فِیْ الْاِسْتِنْشَاقِ، اِلَّا اَنْ تَکُوْنَ صَائِمًا۔)) ”ناک میں پانی چڑھانے میں مبالغہ کر، الّا یہ کہ تو روزے دار ہو۔“ (سنن اربعہ) اس حدیث سے یہ استدلال کیا جا سکتا ہے کہ کلی اور مسواک کرتے وقت بداحتیاطی سے کام نہیں لینا چاہیے۔ اسی طرح آنکھوں میں سرمہ ڈالنے میں بھی کوئی حرج نہیں ہے، کیونکہ کسی شرعی دلیل کے ذریعے روزے دار پراس کی پابندی نہیں لگائی گئی اور جن احادیث میں سرمہ ڈالنے کی ترغیب دلائی گئی، ان کو کسی تخصیصیا قید کے ساتھ ذکر نہیں کیا گیا، البتہ ایسے قطروں کے ڈالنے سے بچنا جائے جن کے حلق پر اتر جانے کا خطرہ ہو۔ بعض حضرات کا خیال ہے کہ چونکہ روزے دار کے منہ کی بو اللہ تعالیٰ کے ہاں کستوری سے بھی زیادہ پاکیزہ اور محبوب ہوتی ہے، اس لیے روزہ کی حالت میں مسواک نہیں کرنا چاہیے، تاکہ وہ بو زائل نہ ہو جائے، تو گزارش ہے کہ اس بو کا تعلق معدے کے خالیہو جانے سے ہے، مسواک وغیرہ کے ذریعے منہ کی صفائی اور بات ہے اور معدہ کے خالی ہونے کی وجہ سے منہ کی بو کا متغیر ہو جانا اور بات ہے۔
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح۔ اخرجه ابوداود: 2365
28. بَابُ مَا جَاءَ فِي الْقُبْلَةِ لِلصَّائِمِ
روزے دار کا (اپنی بیوی کا) بوسہ لینا
حدیث نمبر: 3770
عَنْ مَيْمُونَةَ (بِنْتِ سَعْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا) مَوْلَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ رَجُلٍ قَبَّلَ امْرَأَتَهُ وَهُوَ صَائِمٌ قَالَ: ( (قَدْ أَفْطَرَ) )
۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خادمہ سیدہ میمونہ بنت سعد رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جب اس آدمی کے بارے میں سوال کیا گیا جو روزے کی حالت میں اپنی بیوی کا بوسہ لیتا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس نے تو روزہ افطار کر دیا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3770]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، ابويزيد الضبي مجھول۔ اخرجه ابن ماجه:1686، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27625 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 28177»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
حدیث نمبر: 3771
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَ شَابٌّ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أُقَبِّلُ وَأَنَا صَائِمٌ؟ قَالَ: ( (لَا) ) ، فَجَاءَ شَيْخٌ فَقَالَ: أُقَبِّلُ وَأَنَا صَائِمٌ؟ قَالَ: ( (نَعَمْ) ) ، فَنَظَرَ بَعْضُنَا إِلَى بَعْضٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (قَدْ عَلِمْتُ لِمَ نَظَرَ بَعْضُكُمْ إِلَى بَعْضٍ إِنَّ الشَّيْخَ يَمْلِكُ نَفْسَهُ) )
۔ سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے،ایک نوجوان نے آکر کہا: اے اللہ کے رسول! کیا میں روزہ کی حالت میں اپنی بیوی کا بوسہ لے سکتا ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں۔ اتنے میں ایک بوڑھا آدمی آیااور اس نے بھی یہی سوال کیا کہ وہ روزہ کی حالت میں اپنی بیوی کا بوسہ لے سکتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں۔ یہ جواب سن کر ہم نے (ازراہِ تعجب) ایک دوسرے کی طرف دیکھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں جانتا ہوں کہ تم نے ایک دوسرے کی طرف کیوں دیکھا ہے،بات یہ ہے کہ بوڑھا آدمی اپنے اوپر کنٹرول کر سکتا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3771]
تخریج الحدیث: «صححه الالباني بالشواھد (صحيحه: 1606)۔ اخرجه الطبراني في ’’الكبير‘‘، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7054 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7054»
الحكم على الحديث:
صححه الالباني بالشواھد (صحيحه: 1606)۔ اخرجه الطبراني في ’’الكبير‘‘
حدیث نمبر: 3772
عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ثَعْلَبَةَ بْنِ صُعَيْرٍ الْعُذْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَدْ مَسَحَ عَلَى وَجْهِهِ وَأَدْرَكَ أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: كَانُوا يَنْهَوْنِي عَنِ الْقُبْلَةِ تَخَوُّفًا أَنْ أَتَقَرَّبَ لِأَكْثَرَ مِنْهَا، ثُمَّ الْمُسْلِمُونَ الْيَوْمَ يَنْهَوْنَ عَنْهَا وَيَقُولُ قَائِلُهُمْ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ لَهُ مِنْ حِفْظِ اللَّهِ مَا لَيْسَ لِأَحَدٍ
۔ سیدنا عبداللہ بن ثعلبہ بن صعیر عذری رضی اللہ عنہ، جن کے چہرے پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہاتھ پھیرا تھا اور انہوں نے بہت سے صحابہ کو پایا تھا، سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:صحابہ کرام اس اندیشہ کی بناء پر مجھے (اپنی بیوی کا) بوسہ لینے سے منع کیا کرتے تھے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ اس سے اگلی چیز کی طرف تجاوز کر جاؤں اور آج کے مسلمان (تابعین) بھی اس سے (مطلق طور پر) منع کرتے ہیں اور (بطورِ دلیل) یہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو حفاظت حاصل تھی، وہ کسی دوسرے کے لیے تو نہیں ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3772]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط البخاري۔ اخرجه بنحوه الطحاوي في ’’شرح معاني الآثار‘‘: 2/ 95، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23669 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24069»
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط البخاري۔ اخرجه بنحوه الطحاوي في ’’شرح معاني الآثار‘‘: 2/ 95
29. الرُّخْصَةُ فِي الْقُبْلَةِ وَالْمُبَاشَرَةِ لِلصَّائِمِ إِلَّا لِمَنْ يَخَافُ عَلَى نَفْسِهِ
روزے دار کے لیے (بیوی کا) بوسہ لینے اور اس کے ساتھ مباشرت کرنے کی رخصت ہے، ما سوائے اس شخص کے جسے اپنے نفس پر کوئی اندیشہ ہو
حدیث نمبر: 3773
عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: هَشَشْتُ يَوْمًا فَقَبَّلْتُ وَأَنَا صَائِمٌ فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: صَنَعْتُ الْيَوْمَ أَمْرًا عَظِيمًا فَقَبَّلْتُ وَأَنَا صَائِمٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (أَرَأَيْتَ لَوْ تَمَضْمَضْتَ بِمَاءٍ وَأَنْتَ صَائِمٌ؟) ) قُلْتُ: لَا بَأْسَ بِذَلِكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (فَفِيمَ) )
۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ایک دن مجھے راحت اور نشاط محسوس ہوا، سو میں نے اپنی بیوی کا بوسہ لے لیا، جبکہ میں روزے کی حالت میں تھا، پھر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا: آج میں ایک بہت بڑا کام کر بیٹھا ہوں اور وہ یہ کہ روزہ کی حالت میں اپنی بیوی کا بوسہ لے لیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تم روزے کی حالت میں پانی سے کلی کر لو تو اس کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہو گا؟ میں نے کہا:اس میں کوئی حرج نہیں ہو گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو (پھر اس بوسے کے بارے میں) کیا پوچھتے کیا ہو؟ یعنی بوسہ لینے میں بھی کوئی حرج نہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3773]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم۔ اخرجه ابوداود: 2385، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 138 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 138»
وضاحت: فوائد: … کوئی بھی مشروب ہو، اس کو نوش کرنے کے لیے اسے منہ میں ڈالا جاتا ہے، گویا منہ میں پانی ڈالنا پانی پینے کا داعیہ اور چابی ہے، لیکن کلی کے لیے منہ میں یہی پانی ڈالنے سے کچھ نہیں ہوتا، یہی معاملہ بیوی کا بوسہ لینے کے حکم ہے، کہ یہ جماع کا داعیہ اور چابی ہے، لیکن صرف بوسہ لینے سے روزہ متأثر نہیں ہو گا۔
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط مسلم۔ اخرجه ابوداود: 2385
حدیث نمبر: 3774
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُبَاشِرُ وَهُوَ صَائِمٌ ثُمَّ يَجْعَلُ بَيْنَهُ وَبَيْنَهَا ثَوْبًا تَعْنِي الْفَرْجَ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم روزے کی حالت میں (اپنی بیوی کے ساتھ) مباشرت کرتے یعنی جسم کے ساتھ جسم ملا لیتے تھے، البتہ اپنے اور اس کی شرمگاہ کے درمیان کپڑا رکھ لیتے تھے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3774]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ اخرجه مسلم: 1106 بلفظ ان رسول الله صلي الله عليه وآله وسلم كان يباشر وھو صائم، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24314 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24818»
الحكم على الحديث:
حديث صحيح۔ اخرجه مسلم: 1106 بلفظ ان رسول الله صلي الله عليه وآله وسلم كان يباشر وھو صائم
حدیث نمبر: 3775
عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ: خَرَجَ عَلْقَمَةُ وَأَصْحَابُهُ حُجَّاجًا فَذَكَرَ بَعْضُهُمْ: الصَّائِمَ يُقَبِّلُ وَيُبَاشِرُ فَقَالَ رَجُلٌ مِنْهُمْ، قَدْ قَامَ سَنَتَيْنِ وَصَامَهُمَا هَمَمْتُ أَنْ آخُذَ قَوْسِي فَأَضْرِبَكَ بِهَا قَالَ: فَكُفُّوا حَتَّى تَأْتُوا عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، فَدَخَلُوا عَلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَسَأَلُوهَا عَنْ ذَلِكَ فَقَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُبِّلُ وَيُبَاشِرُ وَكَانَ أَمْلَكَكُمْ لِإِرْبِهِ، قَالُوا: يَا أَبَا شِبْلٍ! سَلْهَا، قَالَ: لَا أَرْفُثُ عِنْدَهَا الْيَوْمَ، فَسَأَلُوهَا فَقَالَتْ: كَانَ يُقَبِّلُ وَيُبَاشِرُ وَهُوَ صَائِمٌ
۔ علقمہ اور ان کے ساتھی حج کے لیے روانہ ہوئے، کسی نے کہا:روزے دار (اپنی بیوی کا) بوسہ لے سکتا ہے اور اس کے ساتھ لیٹ بھی سکتا ہے۔ ان میں سے ایک آدمی دو سال کے قیام اور روزوں کا اہتمام کر چکا تھا، اس نے یہ سن کر کہا: میں نے ارادہ کیا ہے کہ میں اپنی کمان لے کر تمہیں دے ماروں۔ علقمہ نے کہا: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس پہنچنے تک اس مسئلہ سے رک جاؤ۔ بالآخر وہ سارے لوگ سیدہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ان سے اس مسئلہ کے بارے میں دریافت کیا، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم روزہ کی حالت میں بوسہ بھی لے لیتے تھے اور مباشرت بھی کر لیا کرتے تھے، بہرحال آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تم سب لوگوں سے زیادہ اپنی حاجت پر قابو پانے والے تھے۔ساتھیوں نے کہا: ابوشبل! اب سیدہ رضی اللہ عنہا سے خود پوچھ لو۔ لیکن اس نے کہا: میں آج ان کے ہاں اس قسم کی گفتگو نہیں کروں گا۔ پھر انھوں نے سوال کیا تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم روزہ کی حالت میں بوسہ بھی لے لیتے اور مباشرت بھی کر لیا کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3775]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1106، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24130 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24631»
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 1106
حدیث نمبر: 3776
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: أَهْوَى إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِيُقَبِّلَنِي فَقُلْتُ: إِنِّي صَائِمَةٌ، فَقَالَ: وَأَنَا صَائِمٌ، قَالَتْ: فَأَهْوَى إِلَيَّ فَقَبَّلَنِي
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے بوسہ دینے کے لیے میری طرف جھکے، میں نے کہا: میں تو روزہ دار ہوں۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے بھی روزہ رکھا ہوا ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میری طرف جھکے اور میرا بوسہ لیا۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3776]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1927، 1928، ومسلم: 1106، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25022 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25536»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 1927
حدیث نمبر: 3777
(وَعَنْهَا مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَبَّلَ امْرَأَةً مِنْ نِسَائِهِ وَهُوَ صَائِمٌ ثُمَّ ضَحِكَتْ
۔ (دوسری سند) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی اہلیہ کا بوسہ لیا، جب کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم روزہ کی حالت میں تھے، پھر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ہنس پڑیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3777]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26251»
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26251