🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
25. فَصْلٌ مِنْهُ فِي الرُّخْصَةِ فِي ذَلِكَ
روزے کی حالت میں سینگی لگوانے کی رخصت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3758
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) : قَالَ: احْتَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ وَهُوَ صَائِمٌ مُحْرِمٌ
۔ (دوسری سند) انھوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے روزہ اور احرام کی حالت میں مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے درمیان سینگی لگوائی، (جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سفر پر تھے)۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3758]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف يزيد بن ابي زياد۔ اخرجه الترمذي: 777، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1943 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1943»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف يزيد بن ابي زياد۔ اخرجه الترمذي: 777
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3759
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَالِثٍ) أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ احْتَجَمَ بِالْقَاحَةِ وَهُوَ صَائِمٌ
۔ (تیسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قاحہ مقام پر سینگی لگوائی، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم روزے کی حالت میں تھے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3759]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ اخرجه الطبراني: 12053، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2186 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2186»
وضاحت: فوائد: … مدینہ کے جنوب مغرب میں (۹۵) کلومیٹر فاصلے پر ”قاحہ“ مقام واقع ہے۔

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح۔ اخرجه الطبراني: 12053
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3760
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ رَابِعٍ) قَالَ: احْتَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ احْتِجَامَةً فِي رَأْسِهِ وَهُوَ مُحْرِمٌ
۔ (چوتھی سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے احرام کی حالت میں سر پر سینگی لگوائی تھی۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3760]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري: 5700، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2243 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2243»
وضاحت: فوائد: … تمام روایات کا حکم آپ کے سامنے ہے، صحیح بخاری کی روایت کا درج ذیل متن اس معاملے میں فیصلہ کن ہے:
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اِحْتَجَمَ وَھُوَ صَائِمٌ، وَاحْتَجَمَ وَھُوَ مُحْرِمٌ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے روزے کی حالت میں سینگی لگوائی اور احرام کی حالت میں سینگی لگوائی۔ معلوم ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے احرام کی حالت میں علیحدہ اور روزے کی حالت میں علیحدہ سینگی لگوائی، ان دو چیزوں کو ایک حالت پر محمول کرنا وہم ہے۔

الحكم على الحديث:
اخرجه البخاري: 5700
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3761
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ وَحَسَنٌ قَالَا ثَنَا ثَابِتٌ ثَنَا هِلَالُ بْنُ عِكْرِمَةَ قَالَ: سَأَلْتُ عِكْرِمَةَ عَنِ الصَّائِمِ أَيَحْتَجِمُ؟ فَقَالَ: إِنَّمَا كُرِهَ لِلضُّعْفِ، ثُمَّ حَدَّثَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ احْتَجَمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ مِنْ أَكْلَةٍ أَكَلَهَا مِنْ شَاةٍ مَسْمُومَةٍ سَمَّتْهَا امْرَأَةٌ مِنْ أَهْلِ خَيْبَرَ
۔ ہلال بن عکرمہ کہتے ہیں: میں نے عکرمہ سے پوچھا کہ کیاروزے دار سینگی لگوا سکتا ہے؟ انہوں نے کہا: کمزور ہو جانے کی وجہ سے اس کو ناپسند کیا گیا ہے، پھر انہوں نے سیدناابن عباس رضی اللہ عنہ سے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے احرام کی حالت میں سینگی تو لگوائی تھی، لیکن اس کی وجہ یہ تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے زہریلی بکری کا گوشت کھا لیا تھا، جو خیبر والوں کی ایک عورت نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کھلائی تھی۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3761]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ اخرجه الطبراني: 11699، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3547 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3547»
وضاحت: فوائد: … دونوں ابواب کی احادیث کا خلاصہ یہ ہے کہ روزے دار سینگی لگوا سکتا ہے۔

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح۔ اخرجه الطبراني: 11699
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
26. بَابُ مَا جَاءَ فِي الْقَيْءِ لِلصَّائِمِ
روزہ دار کو قے آجانے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3762
عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ أَنَّ أَبَا الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَاءَ فَأَفْطَرَ، قَالَ: فَلَقِيتُ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي مَسْجِدِ دِمَشْقَ فَقُلْتُ: إِنَّ أَبَا الدَّرْدَاءِ أَخْبَرَنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَاءَ فَأَفْطَرَ قَالَ: صَدَقَ، أَنَا صَبَّبْتُ لَهُ وَضُوءَهُ
۔ معدان بن ابی طلحہ کہتے ہیں:سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ نے مجھے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قے کی اور اس طرح روزہ افطار کر دیا۔ اس کے بعد میں دمشق کی جامع مسجد میں مولائے رسول سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ کو ملا اور ان سے کہا: ابو درداء رضی اللہ عنہ نے مجھے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو قے آگئی تھی،اس طرح آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے روزہ افطار کر دیا تھا۔ انھوں نے کہا: جی، انہوں نے درست کہا، پھر میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے وضو کا پانی بہایا تھا۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3762]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه ابوداود: 2381، والترمذي: 87،، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22381 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22740»

الحكم على الحديث:
حديث صحيح ۔ أخرجه ابوداود: 2381
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3763
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) : عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: اسْتَقَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَفْطَرَ فَأُتِيَ بِمَاءٍ فَتَوَضَّأَ
۔ (دوسری سند) سیدنا ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے از خود قے کی تھی، اس طرح آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے روزہ افطار کر لیا، اس کے بعدپانی لایا گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وضو کیا۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3763]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 28087»

الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 28087
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3764
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (مَنْ ذَرَعَهُ الْقَيْءُ فَلَيْسَ عَلَيْهِ قَضَاءٌ وَمَنِ اسْتَقَاءَ فَلْيَقْضِ) )
۔ سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس روزے دار پر قے غالب آ جائے تو اس پر کوئی قضائی نہیں، لیکن جو از خود قے کرے تو وہ روزے کی قضائی دے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3764]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم۔ اخرجه ابوداود: 2380، والترمذي: 720، ابن ماجه: 1676،، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10463 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10468»

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط مسلم۔ اخرجه ابوداود: 2380
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3765
عَنْ أَبِي مَرْزُوقٍ عَنْ فَضَالَةَ الْأَنْصَارِيِّ سَمِعْتُهُ يُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ خَرَجَ عَلَيْهِمْ فِي يَوْمٍ كَانَ يَصُومُهُ فَدَعَا بِإِنَاءٍ فِيهِ مَاءٌ فَشَرِبَ، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّ هَذَا الْيَوْمَ كُنْتَ تَصُومُهُ، قَالَ: ( (أَجَلْ وَلَكِنْ قِئْتُ) )
۔ سیدنافضالہ انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے ہاں ایک ایسے دن میں تشریف لائے، جس کا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم روزہ رکھا کرتے تھے، لیکن ہوا یوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پانی والا برتن منگوا یا اور پانی پی لیا۔ ہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ تو اس دن کا روزہ رکھا کرتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں، لیکن میں نے قے کر دی تھی۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3765]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ اخرجه ابن ماجه: 1675، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23935 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24432»

الحكم على الحديث:
حديث صحيح۔ اخرجه ابن ماجه: 1675
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3766
عَنْ أَبِي الْجُودِيِّ عَنْ بَلْجٍ عَنْ أَبِي شَيْبَةَ الْمَهْرِيِّ قَالَ وَكَانَ قَاصُّ النَّاسِ بِقُسْطَنْطِينِيَّةَ، قَالَ: قِيلَ لِثَوْبَانَ حَدِّثْنَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَاءَ فَأَفْطَرَ
۔ ابو شیبہ مہری، جوقسطنطینیہ میں لوگوں کے واعظ (معتبر قصہ گو) تھے، کہتے ہیں: کسی نے سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کوئی حدیث بیان کریں، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قے کی اور اس طرح روزہ افطار کر دیا۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3766]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ اخرجه الطيالسي: 993، وابن ابي شيبة: 3/ 39، والبيھقي: 4/ 220، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22372 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22730»
وضاحت: فوائد: … جن روایات سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ قے مطلق طور پر روزے کو توڑ دیتی ہے، ان کو حدیث نمبر (۳۷۶۴)کی روشنی میں سمجھیں گے، یعنی اگر کوئی آدمی جان بوجھ کر قے کر دیتا ہے تو اس کا روزہ ٹوٹ جائے گا اور وہ قضائی دے گا، لیکن جس آدمی پر قے غالب آ جائے تو اس کا روزہ سالم رہے گا۔

الحكم على الحديث:
حديث صحيح۔ اخرجه الطيالسي: 993
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
27. بَابُ جَوَازِ السِّوَاكِ وَالْمَضْمَضَةِ وَالِاسْتِنْشَاقِ وَالِاغْتِسَالِ مِنَ الْحَرِّ لِلصَّائِمِ
روزے دار کے لیے مسواک کرنے، کلی کرنے، ناک میںپانی چڑھانے اور گرمی کی وجہ سے غسل کرنے کے جواز کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3767
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا لَا أَعُدُّ وَلَا أُحْصِي، يَسْتَأْكُ (وَفِي لَفْظٍ يَتَسَوَّكُ) وَهُوَ صَائِمٌ
۔ سیدناعامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے بے شمار مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو روزہ کی حالت میں مسواک کرتے دیکھا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3767]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره۔ اخرجه ابوداود: 2364، والترمذي: 725، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15688 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15776»

الحكم على الحديث:
حسن لغيره۔ اخرجه ابوداود: 2364
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں