الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
41. بَابُ مَتَى يُفْطِرُ الْمُسَافِرُ إِذَا خَرَجَ وَمِقْدَارُ الْمَسَافَةِ الَّتِي تُبِيحُ لَهُ الْفِطْرَ
جب مسافر (اپنے علاقے سے) باہر نکل جائے تو کب روزہ چھوڑ سکتا ہے، نیز افطار کو جائز قرار دینے والی مسافت کی مقدار کا بیان
حدیث نمبر: 3847
عَنْ عُبَيْدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ: رَكِبْتُ مَعَ أَبِي بَصْرَةَ (الْغِفَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ) مِنَ الْفُسْطَاطِ إِلَى الْإِسْكَنْدَرِيَّةِ فِي سَفِينَةٍ فَلَمَّا دَفَعْنَا مِنْ مَرْسَانَا أَمَرَ بِسُفْرَتِهِ، فَقُرِّبَتْ ثُمَّ دَعَا إِلَى الْغَدَاءِ وَذَلِكَ فِي رَمَضَانَ، فَقُلْتُ: يَا أَبَا بَصْرَةَ! وَاللَّهِ! مَا تَغَيَّبَتْ عَنَّا مَنَازِلُنَا بَعْدُ؟ فَقَالَ: أَتَرْغَبُ عَنْ سُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ؟ قُلْتُ: لَا، قَالَ: فَكُلْ، فَلَمْ نَزَلْ مُفْطِرِينَ حَتَّى بَلَغْنَا مَا حَوَّزَنَا
۔ عبید بن جبیر کہتے ہیں: میں سیدنا ابو بصرہ غفاری رضی اللہ عنہ کے ہمراہ فسطاط سے اسکندریہ جانے کے لیے ایک کشتی پر سوار ہوا، جب ہم اپنی بندرگاہ سے روانہ ہوئے تو انہوں نے دستر خوان منگوایا، پس وہ ان کے قریب کیا گیا، پھر انہوں نے مجھے کھانے کی د عوت دی،یہ رمضان کا واقعہ تھا۔ میں نے کہا: ابو بصرہ! اللہ کی قسم! ابھی تو ہمارے مکانات ہماری نظروں سے اوجھل نہیں ہوئے؟ یہ سن کر انہوں نے کہا: کیا تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت سے اعراض کرتے ہو؟ میں نے کہا: جی نہیں۔ انہوں نے کہا: تو پھر کھاؤ، پھر ہم نے اپنی منزلِ مقصود پر پہنچنے تک کوئی روزہ نہ رکھا۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3847]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره۔ اخرجه ابوداود: 2412، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27233 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27775»
الحكم على الحديث:
حسن لغيره۔ اخرجه ابوداود: 2412
حدیث نمبر: 3848
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) : قَالَ: رَكِبْتُ مَعَ أَبِي بَصْرَةَ السَّفِينَةَ وَهُوَ يُرِيدُ الْإِسْكَنْدَرِيَّةَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ
۔ (دوسری سند) وہ کہتے ہیں: میں ابو بصرہ کے ساتھ ایک کشتی پر سوار ہوا، وہ اسکندریہ جا رہے تھے، …۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3848]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27776»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث اور پچھلے باب کی حدیث (۳۸۴۶)کے فوائد میں مذکورہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کی حدیث سے یہ مسئلہ ثابت ہوتا ہے کہ جب ایک آدمی طلوع فجر کے بعد کسی وقت سفر کا قصد رکھتا ہو تو وہ اس دن کا روزہ ترک کر سکتا ہے، یہ بات بالکل ایسے ہی ہے،جیسے روزے کی صلاحیت رکھنے والے ایک آدمی کے بارے میں ڈاکٹر حضرات نے یہ فیصلہ کر دیا ہو کہ فلاں دن اس شخص کا آپریشن کیا جائے گا، تو اس دن نہ وہ آدمی روزہ رکھے گا اور نہ کوئی اسے رکھنے دے گا۔
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27776
حدیث نمبر: 3849
عَنْ مَنْصُورٍ الْكَلْبِيِّ عَنْ دِحْيَةَ بْنِ خَلِيفَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ خَرَجَ مِنْ قَرْيَتِهِ إِلَى قَرِيبٍ مِنْ قَرْيَةِ عُقْبَةَ فِي رَمَضَانَ ثُمَّ إِنَّهُ أَفْطَرَ وَأَفْطَرَ مَعَهُ النَّاسُ، وَكَرِهَ آخَرُونَ أَنْ يُفْطِرُوا، قَالَ: فَلَمَّا رَجَعَ إِلَى قَرْيَتِهِ قَالَ: وَاللَّهِ لَقَدْ رَأَيْتُ الْيَوْمَ أَمْرًا مَا كُنْتُ أَظُنُّ أَنْ أَرَاهُ، إِنْ قَوْمًا رَغِبُوا عَنْ هَدْيِ رَسُولِ اللَّهِ وَأَصْحَابِهِ، يَقُولُ ذَلِكَ لِلَّذِينَ صَامُوا، ثُمَّ قَالَ عِنْدَ ذَلِكَ: اللَّهُمَّ اقْبِضْنِي إِلَيْكَ
۔ منصور کلبی کہتے ہیں: سیدنا دحیہ بن خلیفہ رضی اللہ عنہ ماہ رمضان میں اپنی بستی سے عقبہ بستی کے نواح میں جانے کے لیے روانہ ہوئے، انہوں نے بھی روزہ رکھنا ترک کر دیا اور ان کے ساتھ والے بعض لوگوں نے بھی، جبکہ بعض نے روزہ چھوڑنے کو پسند نہ کیا، جب وہ اپنی بستی میں واپس پہنچے تو انھوں نے کہا: اللہ کی قسم! میں نے آج ایسی چیز دیکھی ہے کہ مجھے جس کو دیکھنے کی توقع نہ تھی، لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور صحابہ کے عمل سے اعراض کیا ہے۔ دراصل وہ یہ بات ان لوگوں کے متعلق کہہ رہے تھے جنہوں نے روزہ رکھا ہوا تھا، پھر یہ دعا کرنے لگے: اے اللہ! مجھے اپنی طرف اٹھا لے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3849]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره۔ اخرجه ابوداود: 2413، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27231 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27773»
وضاحت: فوائد: … ہم حدیث نمبر (۲۳۵۷)کے باب میں قصر کی مسافت پر سیر حاصل بحث کر آئے ہیں،یہ مسئلہ بھی اسی مسافت سے متعلقہ ہے، اس لیے قارئین کو اس بحث کا مطالعہ کر لینا چاہیے۔
الحكم على الحديث:
حسن لغيره۔ اخرجه ابوداود: 2413
42. بَابُ مَا جَاءَ فِي حُكْمِ الصِّيَامِ لِلْمَرِيضِ وَالْكَبِيرِ وَالْحَامِلِ وَالْمُرْضِعِ
مریض، بوڑھے، حاملہ اور مرضِعہ کے روزے کے حکم کا بیان
حدیث نمبر: 3850
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَجُلٍ مِنْ بَنِي عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبٍ (زَادَ فِي رِوَايَةٍ: وَلَيْسَ بِالْأَنْصَارِيِّ) قَالَ: أَغَارَتْ عَلَيْنَا خَيْلُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ (وَفِي لَفْظٍ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي إِبِلٍ لِجَارِي أُخِذَتْ) فَأَتَيْتُهُ وَهُوَ يَتَغَدَّى، فَقَالَ: ( (ادْنُ فَكُلْ) ) ، قُلْتُ: إِنِّي صَائِمٌ، قَالَ: ( (اجْلِسْ أُحَدِّثْكَ عَنِ الصَّوْمِ أَوِ الصِّيَامِ، إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَضَعَ عَنِ الْمُسَافِرِ شَطْرَ الصَّلَاةِ وَعَنِ الْمُسَافِرِ وَالْحَامِلِ وَالْمُرْضِعِ الصَّوْمَ أَوِ الصِّيَامَ) ) ، وَاللَّهِ! لَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كِلَاهُمَا أَوْ أَحَدَهُمَا، فَيَا لَهْفَ نَفْسِي، هَلَّا كُنْتُ طَعِمْتُ مِنْ طَعَامِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
۔ بنو عبداللہ بن کعب کے ایک آدمی سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ، جو کہ انصاری نہیں ہیں، کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھڑ سواروں نے ہمارے قبیلے پر چڑھائی کر دی، ایک روایت میں ہے: میرے ہمسائے کا اونٹ لوٹ لیا گیا تھا، میں اس سلسلہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس وقت کھانا تناول فرما رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: قریب آجاؤ اور کھانا کھاؤ۔ میں نے عرض کیا: میں تو روزے سے ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیٹھ جاؤ، میں تمہیں روزے کے متعلق بتاتا ہوں، اللہ تعالیٰ نے مسافر کو آدھی نماز کی اور مسافر، حاملہ اور دودھ پلانے والی کو روزوں کی رخصت دی ہے۔ اللہ کی قسم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حاملہ اور مرضعہ دونوں کا یا کسی ایک کا ذکر کیا تھا، ہائے افسوس! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ کھانا کیوں نہیں کھایا تھا۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3850]
تخریج الحدیث: «حديث حسن۔ اخرجه الترمذي: 715، وابن ماجه: 1667، 3299، والنسائي: 5/190، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19047 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19256»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث کے راوی سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ، وہ انس بن مالک نہیں ہیں، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خادم تھے اور عام روایات میں جن کا نام آتا ہے۔
الحكم على الحديث:
حديث حسن۔ اخرجه الترمذي: 715
حدیث نمبر: 3851
عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبْلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَدِيثٍ طَوِيلٍ تَقَدَّمَ فِي بَابِ الْأَحْوَالِ الَّتِي عُرِضَتْ لِلصِّيَامِ رَقَم (31) صَفْحَة (239) مِنَ الْجُزْءِ التَّاسِعِ قَالَ: ثُمَّ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَنْزَلَ الْآيَةَ الْأُخْرَى {شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِي أُنْزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ} إِلَى قَوْلِهِ {فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ} قَالَ: فَأَثْبَتَ اللَّهُ صِيَامَهُ عَلَى الْمُقِيمِ الصَّحِيحِ وَرَخَّصَ فِيهِ لِلْمَرِيضِ وَالْمُسَافِرِ، وَثَبَتَ الْإِطْعَامُ لِلْكَبِيرِ الَّذِي لَا يَسْتَطِيعُ الصِّيَامَ
۔ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کی ایک طویل حدیث ہے، جو جز نمبر ۹، حدیث نمبر (۳۱) اور صفحہ نمبر (۲۳۹) میں باب الاحوال التی عرضت للصیام میں گزر چکی ہے، اس میں ہے:پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: {شَہْرُ رَمَضَانَ الَّذِی … شَہِدَ مِنْکُمُ الشَّہْرَ فَلْیَصُمْہُ} (سورۂ بقرہ: ۱۸۵) یعنی: ماہِ رمضان وہ مہینہ ہے، جس میں لوگوں کو ہدایت کے لئے اور ہدایت کے واضح دلائل بیان کرنے کے لئے قرآن مجید نازل کیا گیا ہے، جو حق و باطل میں امتیاز کرنے والا ہے، اب تم میں سے جو آدمی اس مہینہ کو پائے وہ روزے رکھے۔) تو اللہ نے تندرست اور مقیم آدمی پر روزہ فرض کر دیا اور مریض اورمسافر کو رخصت دے دی اور جو عمر رسیدہ آدمی روزہ رکھنے کی طاقت نہ رکھتا ہو اس کے لیے (مسکین کو) کھانا کھلانا مشروع ٹھہرا۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3851]
تخریج الحدیث: «قال الالباني: صحيح (ابوداود: 506، 507)۔ اخرجه ابوداود: 507، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22124 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22475»
وضاحت: فوائد: … یہ حوالہ مصنف کا ہے، آپ اگر پوری حدیث پڑھنا چاہیں تو کتاب الصیام کی حدیث نمبر (۳۶۷۳) کا مطالعہ کریں۔ مسافر، شفاء کی امید رکھنے والے مریض، مستقل مریض اور روزہ کی طاقت نہ رکھنے والا عمر رسیدہ آدمی، اِن چاروں افراد کے احکام واضح ہیں کہ اول الذکر دو افراد قضائی دیں گے اور مؤخر الذکر ہر روزے کے عوض ایک ایک مسکین کھانا کھلا کر کفارہ دیں گے۔ ہماری مراد وہ مریض ہے، جس کے لیے روزہ رکھنا بہت مشکل ہویا روزے کی وجہ سے اس کی بیماری بڑھ سکتی ہو یا شفا میں زیادہ تاخیر ہو سکتی ہو۔
حَامِلَہ (حمل والی) اور مُرْضِعَہ (دودھ پلانے والی) خواتین کے بارے میں سوال یہ ہے کہ وہ روزوں کی قضائی دیں گییا کفارہ ادا کریں گی؟ اس مسئلے کا دارومدار اس بات پر بھی ہے کہ درج ذیل آیت منسوخ ہے یا محکم: { وَعَلَی الَّذِیْنَیُطِیْقُوْنَہُ فِدْیَۃٌ طَعَامُ مِسْکِیْنٍ} ”اور جو لوگ روزہ رکھنے کی طاقت رکھتے ہیں، وہ (روزہ کی بجائے) ایک مسکین کوبطور فدیہ کھانا کھلا دیا کریں۔“ اس کے بارے میں دو آراء ہے، ایک رائے یہ کہ آیت منسوخ ہو چکی ہے اور درج ذیل آیت اس کی ناسخ ہے: {فَمَنْ شَہِدَ مِنْکُمُ الشَّہْرَ فَلْیَصُمْہُ} ”اب تم میں سے جو آدمی اس مہینہ کو پائے وہ روزے رکھے۔“
اس دعوی کے دلائل مندرجہ ذیل ہیں: سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جب یہ آیت نازل ہوئی: {وَعَلَی الَّذِیْنَیُطِیْقُوْنَہُ فِدْیَۃٌ طَعَامُ مِسْکِیْنٍ} تو جو چاہتا (روزہ رکھ لیتا اور) جو چاہتا روزہ چھوڑ دیتا اور فدیہ دے دیتا،یہاں تک کہ اس سے بعد والی آیت کے نازل اور اس نے اس کو منسوخ کر دیا۔ (بخاری: ۴۵۰۷، مسلم: ۱۱۴۵) بعد والی آیت سے مراد {فَمَنْ شَہِدَ مِنْکُمُ الشَّہْرَ فَلْیَصُمْہُ} کے الفاظ ہیں۔
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے اس آیت الفاظ اس طرح پڑھے {فِدْیَۃٌ طَعَامُ مَسَاکِیْن} اور کہا: یہ آیت منسوخ ہو چکی ہے۔ سیدنامعاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، … … پھر اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ماہِ رمضان کے روزے فرض کر دیئے اور یہ آیات نازل فرمائیں: {یَا اَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوا کُتِبَ عَلَیْکُمُ الصِّیَامُ کَمَا کُتِبَ عَلَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ۔} (اے ایمان والو! تم پر اسی طرح روزے فرض کئے گئے ہیں، جس طرح کہ تم سے پہلے والے لوگوں پر فرض کئے گئے تھے، تاکہ تم پرہیزگار بن جائو۔“)نیز فرمایا: {وَعَلَی الَّذِیْنَیُطِیْقُوْنَہُ فِدْیَۃٌ طَعَامُ مِسْکِیْنٍ} (اور جو لوگ روزہ رکھنے کی طاقت رکھتے ہیں، وہ (روزہ کی بجائے) ایک مسکین کوبطور فدیہ کھانا کھلا دیا کریں۔) ان آیات پر عمل کرتے ہوئے جو آدمی چاہتا وہ روزہ رکھ لیتا اور جو کوئی روزہ نہ رکھنا چاہتا وہ بطورِ فدیہ ایک مسکین کو کھانا کھلا دیتا اور یہی چیز اس کی طرف سے کافی ہو جاتی، اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے یہ حکم نازل فرمایا: {شَہْرُ رَمَضَانَ الَّذِی اُنْزِلَ فیِہِ الْقُرْآنُ ھُدًی لِّلنَّاسِ وَبَیِّنَاتٍ مِّنَ الْھُدٰی وَالْفُرْقَانِ فَمَنْ شَہِدَ مِنْکُمُ الشَّہْرَ فَلْیَصُمْہُ} (ماہِ رمضان وہ مہینہ ہے، جس میں لوگوں کو ہدایت کے لئے اور ہدایت کے واضح دلائل بیان کرنے کے لئے قرآن مجید نازل کیا گیا ہے، جو حق و باطل میں امتیاز کرنے والا ہے، اب تم میں سے جو آدمی اس مہینہ کو پائے وہ روزے رکھے۔) اس طرح اللہ تعالیٰ نے مقیم اورتندرست آدمی پراس مہینے کے روزے فرض کر دیئے، البتہ مریض اور مسافر کو روزہ چھوڑنے کی رخصت دے دی اور روزہ کی طاقت نہ رکھنے والے عمر رسیدہ آدمی کے لیے روزہ کی جگہ یہ حکم برقرار رکھا کہ وہ بطورِ فدیہ مسکین کو کھانا کھلا دیا کرے۔ (یہ حدیث تفصیل کے ساتھ اس نمبر (۳۶۷۳)میں گزر چکی ہے)
لیکن سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا خیال ہے کہ یہ آیت محکم ہے، منسوخ نہیں ہوئی، جیسا کہ عطاء کہتے ہیں: سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے یہ آیتیوں پڑھی: {وَعَلَی الَّذِیْنَیُطَوَّقُوْنَہُ فِدْیَۃٌ طَعَامُ مِسْکِیْنٍ} (اور جن لوگوں کو روزہ رکھنے سے کلفت و مشقت ہوتی ہو، وہ (روزہ کی بجائے) ایک مسکین کوبطور فدیہ کھانا کھلا دیا کریں۔) اور پھر کہا: یہ آیت منسوخ نہیں ہے، یہ عمر رسیدہ مرد اور بڑی عمر کی خاتون کے بارے میں ہے، جو روزہ رکھنے کی طاقت ہی نہیں رکھتے، ان کو چاہیے کہ وہ ہر روزے کے عوض ایک مسکین کو کھانا کھلا دیا کریں۔ (صحیح بخاری: ۴۵۰۵) اسی نظریے کو سامنے رکھ کر ہی سیدنا عبد اللہ بن عباس اور سیدنا عبد اللہ بن عمر نے کہا: اَلْحَامِلُ وَ الْمُرْضِعُ تُفْطِرُ وَ لَا تَقْضِیْ۔ حاملہ اور مرضعہ روزہ ترک کر دیں گی اور قضائی بھی نہیں دیں گی، (یعنی کفارہ ادا کریں گی)۔ (سنن دارقطنی:۲/۲۰۷)
لیکن درج ذیل تین وجوہات کی بنا پر اول الذکر یعنی اس آیت کے منسوخ ہو جانے کی رائے قوی معلوم ہوتی ہے:
(۱) اکثر کی قراء ت ”یُطِیْقُوْنَہ“ ہے، نہ کہ ”یُطَوَّقُوْنَہُ“
(۲)ابن منذر نے کہا: اگر یہ الفاظ روزے کی طاقت نہ رکھنے والے لوگوں کے بارے میں ہوتے تو اسی آیت کے آخری کلمات {وَاَنْ تَصُوْمُوْا خَیْرٌ لَّکُمْ} (اور تمہارا روزہ رکھ لینا بہتر ہے) کی کوئی مناسبت باقی نہ رہتی۔ اس قول کی تفصیلیہ ہے کہ یہ کیا ہوا کہ جو لوگ روزہ رکھنے کی طاقت نہیں رکھتے، ان کا روزہ رکھنا بہتر ہے، دراصل شروع شروع میں یہ رخصت تھی کہ جو لوگ روزہ کی صلاحیت ہونے کے باوجود روزہ نہیں رکھنا چاہتے تھے، وہ ہر روزے کے عوض ایک مسکین کو کھانا کھلا دیتے تھے، ان کو کہا جا رہا ہے کہ اگر وہ کفارے کی بجائے روزہ رکھ لیں تو بہتر ہے۔
(۳) اول الذکر رائے رکھنے والوں کی روایات بڑی واضح ہیں، جن سے واضح طور پر یہ پتہ چلتا ہے کہ یہ الفاظ منسوخ ہو گئے ہیں: {وَعَلَی الَّذِیْنَیُطِیْقُوْنَہُ فِدْیَۃٌ طَعَامُ مِسْکِیْنٍ} اس باب کی پہلی حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حاملہ اور مرضعہ کو مسافر کے ساتھ ذکر کیاہے، اس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ ان کا حکم بھی مسافر والا ہے۔ ابراہیم نخعی اور حسن بصری نے کہا: جب حاملہ اور مرضعہ کو اپنی جانوں کا یا اپنے بچوںکا ڈر ہو تو وہ روزہ چھوڑ دیں، لیکن پھر قضائی دیں۔ (صحیح بخاری: حدیث نمبر ۴۵۰۵ سے پہلے) اس بحث کا خلاصہ یہ کہ حاملہ اور مرضعہ کا حکم مسافر اور شفا کی امید رکھنے والے مریض کا ہے، کسی نقصان سے بچنے کے لیے وہ روزہ ترک کر سکتی ہیں، لیکن بعد میں قضائی دیں گی۔ اگر کسی خاتون کییہ صورتحال ہو کہ وہ ایک رمضان میں حاملہ ہوتی ہے اور اگلے رمضان میں مرضعہ، اگر اس کا لگاتار چھ سات سالوں تک یہی مسئلہ بنتا رہے اور اتنے برسوں کے روزے رہ جائیں تو وہ کیا کرے؟ اسے چاہیے کہ وہ اہل علم سے رابطہ کرے، اپنی صورت حال سے آگاہ کرے اور اہل علم غور کریں کہ کیا اتنے روزوںکی قضائی دینا اس کے بس کی بات ہے یا نہیں، اس مجلس میں قضائییا کفارے کا فیصلہ کر دیا جائے۔
اہم تنبیہ: اس بحث میں حاملہ اور مرضعہ سے مراد وہ خواتین ہیں کہ اگر وہ روزہ رکھیں تو ان کو یا ان کے بچوں کو کوئی نقصان ہونے کا خطرہ ہو یا عام روزے داروں کی بہ نسبت کوئی بڑی مشقت اٹھانا پڑتی ہے، ہم نے کئی ایسی خواتین کو دیکھا کہ آرام سے اپنا روزہ پورا کر لیتی ہیں، بہرحال بعض شہری خواتین ضرورت سے زیادہ نرم مزاج والی بن جاتی ہیں اور ان کییہ کوشش ہوتی ہے کہ کفارے والی رخصت ان کو مل جائے، ان سے گزارش ہے کہ کم از کم ان میں اتنا عذر ہونا چاہیے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں اپنے آپ کو معذور ثابت کر سکیں۔
مسکین کو کھانا کھلانا، اس کے بارے میں دو سوالات باقی ہیں:
(۱) یہ بات معلوم ہے کہ ایک روزے کے عوض ایک مسکین کو کھانا کھلایا جائے گا، لیکن کیا ایک وقت کا کھانا کافی ہے یا دو وقتوں کا؟
(۲) اس کھانے کی مقدار کیا ہونی چاہیے؟ رہا مسئلہ ایکیا دو وقت کے کھانے کا، تو نصوص کے الفاظ سے تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ ایک روزے کے عوض ایک مسکین کا ایک وقت کا کھانا مطلوب ہے۔ ایوب بن ابی تمیمہ کہتے ہے: جب سیدنا انس رضی اللہ عنہ کمزور ہو جانے کی وجہ سے روزے نہ رکھ سکے تو انھوں نے ایک بڑے برتن میں ثرید کا کھانا تیار کروایا اور تیس مساکین کو بلا کر ان کو کھلا دیا۔ (ابو یعلی: ۷/ ۲۰۴، واسنادہ منقطع)
قتادہ کہتے ہیں: جب سیدنا انس رضی اللہ عنہ اپنی وفات سے ایک سال قبل روزے رکھنے سے کمزور ہو گئے تو انھوں نے روزہ رکھنا چھوڑ دیا اور ہر روز کے عوض ایک مسکین کو کھانا کھلایا۔ (معجم کبیر: ۱/ ۲۴۲)
ایوب بن ابی تمیمہ ہی کہتے ہیں: جب ایک سال سیدنا انس رضی اللہ عنہ روزہ رکھنے سے کمزور ہو گئے تو انھوں نے ایک بڑے برتن میں کھانا بنوایا اور تیس مسکینوں کو بلا کر ان کو سیرو سیراب کر دیا۔ (سنن دارقطنی: ۲/ ۲۰۷)
کھانے کی مقدار معلوم کرنے کے لیے درج ذیل بحث کو سمجھنا ضروری ہے: ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {فَمَنْ کَانَ مِنْکُمْ مَرِیْضًا اَوْ بِہٖاَذًی مِّنْ رَّاْسِہٖفَفِدْیَۃٌ مِّنْ صِیَامٍ اَوْ صَدَقَۃٍ اَوْ نُسُکٍ} ”البتہ تم میں سے جو بیمار ہو، یا اس کے سر میں کوئی تکلیف ہو تو اس پر فدیہ ہے، خواہ روزے رکھ لے، خواہ صدقہ دے دے، خواہ قربانی کرے۔“ (سورۂ بقرہ: ۱۹۶) اس آیت میں حج وعمرہ سے متعلقہ احکام بیان کیے جا رہے ہیں، جب ایک صحابی کو جوؤں کی وجہ سے تکلیف ہوئی، جبکہ اس نے عمرے کا احرام پہن رکھا تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا: ((اِحْلِقْ ثُمَّ اذْبَحْ شَاۃً نُسُکًا اَوْ صُمْ ثَلَاثَۃَ اَیَّامٍ اَوْ اَطْعِمْ ثَلَاثَۃَ آصُعٍ مِِنْ تَمْرٍ عَلٰی سِتَّۃِ مَسَاکِیْنَ۔)) (بخاری: ۱۸۱۴، ۱۸۱۶، مسلم: ۱۲۰۱، واللفظ لابی داود، وفی روایۃ للبخاری: ((اَوْ اَطْعِمْ سِتَّۃَ مَسَاکِیْنَ لِکُلِّ مِسْکِیْنٍ نِصْفَ صَاعٍ۔)) ”تو اپنا سر مونڈ دے اور بطورِ قربانی ایک بکری ذبح کر دے، یا تین روزے رکھ لے یا چھ مسکینوں کو کھجوروں کے تین صاع کھلا دے۔“ ایک روایت میں ہے: ”یا چھ مساکین کو کھانا کھلا دے، ہر مسکین کو نصف صاع۔“
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اگر بطورِ کفارہ کسی مسکین کو کھانا کھلانا پڑ جائے تو اس کی مقدار نصف صاع (تقریباً ایک کلو پچاس گرام) ہونی چاہیے، لیکن حدیث نمبر (۳۸۱۹) والے باب کے مطابق جس آدمی نے ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو یہ مقصد پورا کرنے کے لیے پندرہ صاع کھجوریں دیں تھیں، اس طرح سے ہر مسکین کو صاع کاچوتھائی حصہ (تقریباً۵۲۵ گرام) آتا ہے، جبکہ ہمارے ہاں کھانا کھلانے کا معیار ہی اس سے مختلف ہے۔ اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے، ویسےیوں معلوم ہوتا ہے کہ اگر ہم میں سے کسی پر اس قسم کا کوئی کفارہ پڑ جائے تووہ مروجہ کھانوں میں سے کوئی کھانا مساکین کو اس طرح کھلائے کہ وہ خوب سیرو سیراب ہو جائیں، بعض صحابہ کے عمل سے یہی بات ثابت ہوتی ہے، ہمارے ہاں روٹی اور سالن کو ترجیح دینی چاہیے۔ اگر کسی کا ذہن اس بات پر مطمئن نہ ہو تو وہ صحیح بخاری کی روایت کے الفاظ ”یا چھ مساکین کو کھانا کھلا دے، ہر مسکین کو نصف صاع“ پر عمل کرتے ہوئے ہر مسکین کو نصف صاع کے بقدر کھانا کھلا دے۔ باقی مذکورہ بالا دو احادیث ِ مبارکہ آپ کے سامنے ہیں، آپ خود فیصلہ کریں، اللہ تعالیٰ آپ کا حامی و ناصر ہو۔
حَامِلَہ (حمل والی) اور مُرْضِعَہ (دودھ پلانے والی) خواتین کے بارے میں سوال یہ ہے کہ وہ روزوں کی قضائی دیں گییا کفارہ ادا کریں گی؟ اس مسئلے کا دارومدار اس بات پر بھی ہے کہ درج ذیل آیت منسوخ ہے یا محکم: { وَعَلَی الَّذِیْنَیُطِیْقُوْنَہُ فِدْیَۃٌ طَعَامُ مِسْکِیْنٍ} ”اور جو لوگ روزہ رکھنے کی طاقت رکھتے ہیں، وہ (روزہ کی بجائے) ایک مسکین کوبطور فدیہ کھانا کھلا دیا کریں۔“ اس کے بارے میں دو آراء ہے، ایک رائے یہ کہ آیت منسوخ ہو چکی ہے اور درج ذیل آیت اس کی ناسخ ہے: {فَمَنْ شَہِدَ مِنْکُمُ الشَّہْرَ فَلْیَصُمْہُ} ”اب تم میں سے جو آدمی اس مہینہ کو پائے وہ روزے رکھے۔“
اس دعوی کے دلائل مندرجہ ذیل ہیں: سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جب یہ آیت نازل ہوئی: {وَعَلَی الَّذِیْنَیُطِیْقُوْنَہُ فِدْیَۃٌ طَعَامُ مِسْکِیْنٍ} تو جو چاہتا (روزہ رکھ لیتا اور) جو چاہتا روزہ چھوڑ دیتا اور فدیہ دے دیتا،یہاں تک کہ اس سے بعد والی آیت کے نازل اور اس نے اس کو منسوخ کر دیا۔ (بخاری: ۴۵۰۷، مسلم: ۱۱۴۵) بعد والی آیت سے مراد {فَمَنْ شَہِدَ مِنْکُمُ الشَّہْرَ فَلْیَصُمْہُ} کے الفاظ ہیں۔
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے اس آیت الفاظ اس طرح پڑھے {فِدْیَۃٌ طَعَامُ مَسَاکِیْن} اور کہا: یہ آیت منسوخ ہو چکی ہے۔ سیدنامعاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، … … پھر اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ماہِ رمضان کے روزے فرض کر دیئے اور یہ آیات نازل فرمائیں: {یَا اَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوا کُتِبَ عَلَیْکُمُ الصِّیَامُ کَمَا کُتِبَ عَلَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ۔} (اے ایمان والو! تم پر اسی طرح روزے فرض کئے گئے ہیں، جس طرح کہ تم سے پہلے والے لوگوں پر فرض کئے گئے تھے، تاکہ تم پرہیزگار بن جائو۔“)نیز فرمایا: {وَعَلَی الَّذِیْنَیُطِیْقُوْنَہُ فِدْیَۃٌ طَعَامُ مِسْکِیْنٍ} (اور جو لوگ روزہ رکھنے کی طاقت رکھتے ہیں، وہ (روزہ کی بجائے) ایک مسکین کوبطور فدیہ کھانا کھلا دیا کریں۔) ان آیات پر عمل کرتے ہوئے جو آدمی چاہتا وہ روزہ رکھ لیتا اور جو کوئی روزہ نہ رکھنا چاہتا وہ بطورِ فدیہ ایک مسکین کو کھانا کھلا دیتا اور یہی چیز اس کی طرف سے کافی ہو جاتی، اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے یہ حکم نازل فرمایا: {شَہْرُ رَمَضَانَ الَّذِی اُنْزِلَ فیِہِ الْقُرْآنُ ھُدًی لِّلنَّاسِ وَبَیِّنَاتٍ مِّنَ الْھُدٰی وَالْفُرْقَانِ فَمَنْ شَہِدَ مِنْکُمُ الشَّہْرَ فَلْیَصُمْہُ} (ماہِ رمضان وہ مہینہ ہے، جس میں لوگوں کو ہدایت کے لئے اور ہدایت کے واضح دلائل بیان کرنے کے لئے قرآن مجید نازل کیا گیا ہے، جو حق و باطل میں امتیاز کرنے والا ہے، اب تم میں سے جو آدمی اس مہینہ کو پائے وہ روزے رکھے۔) اس طرح اللہ تعالیٰ نے مقیم اورتندرست آدمی پراس مہینے کے روزے فرض کر دیئے، البتہ مریض اور مسافر کو روزہ چھوڑنے کی رخصت دے دی اور روزہ کی طاقت نہ رکھنے والے عمر رسیدہ آدمی کے لیے روزہ کی جگہ یہ حکم برقرار رکھا کہ وہ بطورِ فدیہ مسکین کو کھانا کھلا دیا کرے۔ (یہ حدیث تفصیل کے ساتھ اس نمبر (۳۶۷۳)میں گزر چکی ہے)
لیکن سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا خیال ہے کہ یہ آیت محکم ہے، منسوخ نہیں ہوئی، جیسا کہ عطاء کہتے ہیں: سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے یہ آیتیوں پڑھی: {وَعَلَی الَّذِیْنَیُطَوَّقُوْنَہُ فِدْیَۃٌ طَعَامُ مِسْکِیْنٍ} (اور جن لوگوں کو روزہ رکھنے سے کلفت و مشقت ہوتی ہو، وہ (روزہ کی بجائے) ایک مسکین کوبطور فدیہ کھانا کھلا دیا کریں۔) اور پھر کہا: یہ آیت منسوخ نہیں ہے، یہ عمر رسیدہ مرد اور بڑی عمر کی خاتون کے بارے میں ہے، جو روزہ رکھنے کی طاقت ہی نہیں رکھتے، ان کو چاہیے کہ وہ ہر روزے کے عوض ایک مسکین کو کھانا کھلا دیا کریں۔ (صحیح بخاری: ۴۵۰۵) اسی نظریے کو سامنے رکھ کر ہی سیدنا عبد اللہ بن عباس اور سیدنا عبد اللہ بن عمر نے کہا: اَلْحَامِلُ وَ الْمُرْضِعُ تُفْطِرُ وَ لَا تَقْضِیْ۔ حاملہ اور مرضعہ روزہ ترک کر دیں گی اور قضائی بھی نہیں دیں گی، (یعنی کفارہ ادا کریں گی)۔ (سنن دارقطنی:۲/۲۰۷)
لیکن درج ذیل تین وجوہات کی بنا پر اول الذکر یعنی اس آیت کے منسوخ ہو جانے کی رائے قوی معلوم ہوتی ہے:
(۱) اکثر کی قراء ت ”یُطِیْقُوْنَہ“ ہے، نہ کہ ”یُطَوَّقُوْنَہُ“
(۲)ابن منذر نے کہا: اگر یہ الفاظ روزے کی طاقت نہ رکھنے والے لوگوں کے بارے میں ہوتے تو اسی آیت کے آخری کلمات {وَاَنْ تَصُوْمُوْا خَیْرٌ لَّکُمْ} (اور تمہارا روزہ رکھ لینا بہتر ہے) کی کوئی مناسبت باقی نہ رہتی۔ اس قول کی تفصیلیہ ہے کہ یہ کیا ہوا کہ جو لوگ روزہ رکھنے کی طاقت نہیں رکھتے، ان کا روزہ رکھنا بہتر ہے، دراصل شروع شروع میں یہ رخصت تھی کہ جو لوگ روزہ کی صلاحیت ہونے کے باوجود روزہ نہیں رکھنا چاہتے تھے، وہ ہر روزے کے عوض ایک مسکین کو کھانا کھلا دیتے تھے، ان کو کہا جا رہا ہے کہ اگر وہ کفارے کی بجائے روزہ رکھ لیں تو بہتر ہے۔
(۳) اول الذکر رائے رکھنے والوں کی روایات بڑی واضح ہیں، جن سے واضح طور پر یہ پتہ چلتا ہے کہ یہ الفاظ منسوخ ہو گئے ہیں: {وَعَلَی الَّذِیْنَیُطِیْقُوْنَہُ فِدْیَۃٌ طَعَامُ مِسْکِیْنٍ} اس باب کی پہلی حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حاملہ اور مرضعہ کو مسافر کے ساتھ ذکر کیاہے، اس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ ان کا حکم بھی مسافر والا ہے۔ ابراہیم نخعی اور حسن بصری نے کہا: جب حاملہ اور مرضعہ کو اپنی جانوں کا یا اپنے بچوںکا ڈر ہو تو وہ روزہ چھوڑ دیں، لیکن پھر قضائی دیں۔ (صحیح بخاری: حدیث نمبر ۴۵۰۵ سے پہلے) اس بحث کا خلاصہ یہ کہ حاملہ اور مرضعہ کا حکم مسافر اور شفا کی امید رکھنے والے مریض کا ہے، کسی نقصان سے بچنے کے لیے وہ روزہ ترک کر سکتی ہیں، لیکن بعد میں قضائی دیں گی۔ اگر کسی خاتون کییہ صورتحال ہو کہ وہ ایک رمضان میں حاملہ ہوتی ہے اور اگلے رمضان میں مرضعہ، اگر اس کا لگاتار چھ سات سالوں تک یہی مسئلہ بنتا رہے اور اتنے برسوں کے روزے رہ جائیں تو وہ کیا کرے؟ اسے چاہیے کہ وہ اہل علم سے رابطہ کرے، اپنی صورت حال سے آگاہ کرے اور اہل علم غور کریں کہ کیا اتنے روزوںکی قضائی دینا اس کے بس کی بات ہے یا نہیں، اس مجلس میں قضائییا کفارے کا فیصلہ کر دیا جائے۔
اہم تنبیہ: اس بحث میں حاملہ اور مرضعہ سے مراد وہ خواتین ہیں کہ اگر وہ روزہ رکھیں تو ان کو یا ان کے بچوں کو کوئی نقصان ہونے کا خطرہ ہو یا عام روزے داروں کی بہ نسبت کوئی بڑی مشقت اٹھانا پڑتی ہے، ہم نے کئی ایسی خواتین کو دیکھا کہ آرام سے اپنا روزہ پورا کر لیتی ہیں، بہرحال بعض شہری خواتین ضرورت سے زیادہ نرم مزاج والی بن جاتی ہیں اور ان کییہ کوشش ہوتی ہے کہ کفارے والی رخصت ان کو مل جائے، ان سے گزارش ہے کہ کم از کم ان میں اتنا عذر ہونا چاہیے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں اپنے آپ کو معذور ثابت کر سکیں۔
مسکین کو کھانا کھلانا، اس کے بارے میں دو سوالات باقی ہیں:
(۱) یہ بات معلوم ہے کہ ایک روزے کے عوض ایک مسکین کو کھانا کھلایا جائے گا، لیکن کیا ایک وقت کا کھانا کافی ہے یا دو وقتوں کا؟
(۲) اس کھانے کی مقدار کیا ہونی چاہیے؟ رہا مسئلہ ایکیا دو وقت کے کھانے کا، تو نصوص کے الفاظ سے تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ ایک روزے کے عوض ایک مسکین کا ایک وقت کا کھانا مطلوب ہے۔ ایوب بن ابی تمیمہ کہتے ہے: جب سیدنا انس رضی اللہ عنہ کمزور ہو جانے کی وجہ سے روزے نہ رکھ سکے تو انھوں نے ایک بڑے برتن میں ثرید کا کھانا تیار کروایا اور تیس مساکین کو بلا کر ان کو کھلا دیا۔ (ابو یعلی: ۷/ ۲۰۴، واسنادہ منقطع)
قتادہ کہتے ہیں: جب سیدنا انس رضی اللہ عنہ اپنی وفات سے ایک سال قبل روزے رکھنے سے کمزور ہو گئے تو انھوں نے روزہ رکھنا چھوڑ دیا اور ہر روز کے عوض ایک مسکین کو کھانا کھلایا۔ (معجم کبیر: ۱/ ۲۴۲)
ایوب بن ابی تمیمہ ہی کہتے ہیں: جب ایک سال سیدنا انس رضی اللہ عنہ روزہ رکھنے سے کمزور ہو گئے تو انھوں نے ایک بڑے برتن میں کھانا بنوایا اور تیس مسکینوں کو بلا کر ان کو سیرو سیراب کر دیا۔ (سنن دارقطنی: ۲/ ۲۰۷)
کھانے کی مقدار معلوم کرنے کے لیے درج ذیل بحث کو سمجھنا ضروری ہے: ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {فَمَنْ کَانَ مِنْکُمْ مَرِیْضًا اَوْ بِہٖاَذًی مِّنْ رَّاْسِہٖفَفِدْیَۃٌ مِّنْ صِیَامٍ اَوْ صَدَقَۃٍ اَوْ نُسُکٍ} ”البتہ تم میں سے جو بیمار ہو، یا اس کے سر میں کوئی تکلیف ہو تو اس پر فدیہ ہے، خواہ روزے رکھ لے، خواہ صدقہ دے دے، خواہ قربانی کرے۔“ (سورۂ بقرہ: ۱۹۶) اس آیت میں حج وعمرہ سے متعلقہ احکام بیان کیے جا رہے ہیں، جب ایک صحابی کو جوؤں کی وجہ سے تکلیف ہوئی، جبکہ اس نے عمرے کا احرام پہن رکھا تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا: ((اِحْلِقْ ثُمَّ اذْبَحْ شَاۃً نُسُکًا اَوْ صُمْ ثَلَاثَۃَ اَیَّامٍ اَوْ اَطْعِمْ ثَلَاثَۃَ آصُعٍ مِِنْ تَمْرٍ عَلٰی سِتَّۃِ مَسَاکِیْنَ۔)) (بخاری: ۱۸۱۴، ۱۸۱۶، مسلم: ۱۲۰۱، واللفظ لابی داود، وفی روایۃ للبخاری: ((اَوْ اَطْعِمْ سِتَّۃَ مَسَاکِیْنَ لِکُلِّ مِسْکِیْنٍ نِصْفَ صَاعٍ۔)) ”تو اپنا سر مونڈ دے اور بطورِ قربانی ایک بکری ذبح کر دے، یا تین روزے رکھ لے یا چھ مسکینوں کو کھجوروں کے تین صاع کھلا دے۔“ ایک روایت میں ہے: ”یا چھ مساکین کو کھانا کھلا دے، ہر مسکین کو نصف صاع۔“
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اگر بطورِ کفارہ کسی مسکین کو کھانا کھلانا پڑ جائے تو اس کی مقدار نصف صاع (تقریباً ایک کلو پچاس گرام) ہونی چاہیے، لیکن حدیث نمبر (۳۸۱۹) والے باب کے مطابق جس آدمی نے ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو یہ مقصد پورا کرنے کے لیے پندرہ صاع کھجوریں دیں تھیں، اس طرح سے ہر مسکین کو صاع کاچوتھائی حصہ (تقریباً۵۲۵ گرام) آتا ہے، جبکہ ہمارے ہاں کھانا کھلانے کا معیار ہی اس سے مختلف ہے۔ اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے، ویسےیوں معلوم ہوتا ہے کہ اگر ہم میں سے کسی پر اس قسم کا کوئی کفارہ پڑ جائے تووہ مروجہ کھانوں میں سے کوئی کھانا مساکین کو اس طرح کھلائے کہ وہ خوب سیرو سیراب ہو جائیں، بعض صحابہ کے عمل سے یہی بات ثابت ہوتی ہے، ہمارے ہاں روٹی اور سالن کو ترجیح دینی چاہیے۔ اگر کسی کا ذہن اس بات پر مطمئن نہ ہو تو وہ صحیح بخاری کی روایت کے الفاظ ”یا چھ مساکین کو کھانا کھلا دے، ہر مسکین کو نصف صاع“ پر عمل کرتے ہوئے ہر مسکین کو نصف صاع کے بقدر کھانا کھلا دے۔ باقی مذکورہ بالا دو احادیث ِ مبارکہ آپ کے سامنے ہیں، آپ خود فیصلہ کریں، اللہ تعالیٰ آپ کا حامی و ناصر ہو۔
الحكم على الحديث:
قال الالباني: صحيح (ابوداود: 506
43. بَابُ قَضَاءِ الصَّوْمِ عَنْ رَمَضَانَ وَوَقْتِهِ
رمضان کے روزوں کی قضاء اور اس کے وقت کا بیان
حدیث نمبر: 3852
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (مَنْ أَدْرَكَ رَمَضَانَ وَعَلَيْهِ مِنْ رَمَضَانَ شَيْءٌ لَمْ يَقْضِهِ لَمْ يُتَقَبَّلْ مِنْهُ، وَمَنْ صَامَ تَطَوُّعًا وَعَلَيْهِ مِنْ رَمَضَانَ شَيْءٌ لَمْ يَقْضِهِ فَإِنَّهُ لَا يُتَقَبَّلُ مِنْهُ حَتَّى يَصُومَهُ) )
۔ سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی ماہِ رمضان کو پالے، جبکہ سابقہ رمضان کے روزوں کی قضاء اس کے ذمے باقی ہو تو اس کے اِس رمضان کے روزے قبول نہیں ہوں گے، اسی طرح جو آدمی نفلی روزے رکھ رہا ہو، جبکہ اس کے ذمہ رمضان کے روزوں کی قضا ہو تو اس وقت تک یہ نفلی روزے قبول نہیں ہو گے جب تک وہ اُن کی قضائی نہ دے لے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3852]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، ابن لھيعة سييء الحفظ۔ اخرجه الطبراني في ’’الاوسط‘‘: 3308، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8621 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8606»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
حدیث نمبر: 3853
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: مَا كُنْتُ أَقْضِي مَا يَكُونُ عَلَيَّ مِنْ رَمَضَانَ إِلَّا فِي شَعْبَانَ حَتَّى تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میرا معمول یہ تھا کہ میں ماہ رمضان کے روزوں کی قضا شعبان میں دیا کرتی تھی،یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فوت ہو گئے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3853]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري: 1950، ومسلم: 1146، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24999 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25513»
وضاحت: فوائد: … رمضان میں رہ جانے والے روزوں کی قضائی کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {فَـعِـدَّۃٌ مِّـنْ اَیَّامٍ اُخَرَ} ”دوسرے دنوں میں گنتی کو پورا کرنا ہے۔“ (سورۂ بقرہ: ۱۸۴) یہ آیت مطلق ہے، اس میں کسی قسم کی کوئی قید نہیں لگائی گئی، جبکہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا دس ماہ کے بعد شعبان میں روزوں کی قضائی دیا کرتی تھیں، اس لیے کسی وقت بھی قضائی دی جا سکتی ہے، اگلے رمضان کے بعد تک تاخیر کی جا سکتی ہے، لیکن اس بات پر علمائے کرام کا اتفاق ہے کہ بغیر عذر کے اگلے رمضان کے بعد تک تاخیر کر دینا مکروہ ہے۔ یہ بات علیحدہ ہے کہ کئی آیات اور احادیثیہ رغبت دلائی گئی ہے کہ اس قسم کی ذمہ داریوں کو جلدی جلدی اد اکر لینا چاہیے، کیونکہ موت اور بیماری کا کوئی علم نہیں۔
الحكم على الحديث:
اخرجه البخاري: 1950
44. بَابُ قَضَاءِ الصَّوْمِ عَنِ الْمَيِّتِ
فوت شدہ کی طرف سے روزوں کی قضاء دینے کا بیان
حدیث نمبر: 3854
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (أَيُّمَا مَيِّتٍ مَاتَ وَعَلَيْهِ صِيَامٌ فَلْيَصُمْهُ عَنْهُ وَلِيُّهُ) )
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی اس حال میں فوت ہو جائے کہ اس کے ذمہ میں روزے ہوں تو اس کا رشتہ دار اس کی طرف سے روزے رکھے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3854]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري: 1952، ومسلم: 1147، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24402 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24906»
الحكم على الحديث:
اخرجه البخاري: 1952
حدیث نمبر: 3855
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ امْرَأَةٌ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّ أُمِّي مَاتَتْ وَعَلَيْهَا صَوْمُ شَهْرٍ، أَفَأَقْضِي عَنْهَا؟ قَالَ: فَقَالَ: ( (أَرَأَيْتِ لَوْ كَانَ عَلَى أُمِّكِ دِينٌ أَمَا كُنْتِ تَقْضِينَهُ؟) ) قَالَ: بَلَى، قَالَ: ( (فَدِينُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَحَقُّ) )
۔ سیدنا عبدا للہ بن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک خاتون نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور کہا: اے اللہ کے رسول! میری امی فوت ہو گئی ہے، جبکہ اس کے ذمہ میں ایک مہینہ کے روزے تھے، کیا اب میں اس کی طرف سے روزوں کی قضائی دے سکتی ہوں؟آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس بارے میں تمہارا کیا خیال ہے کہ اگر تمہاری والدہ پر قرضہ ہوتا تو کیا تم نے وہ ادا کرنا تھا؟ اس نے کہا: جی کیوں نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر اللہ تعالیٰ کا قرض اس امر کا زیادہ حق دار ہے کہ اسے ادا کیا جائے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3855]
تخریج الحدیث: «اخرجه مسلم: 1148، وعلقه البخاري: 1953، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1970 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1970»
وضاحت: فوائد: … صحیح بخاری کی روایت میں ہے کہ اس خاتون پر نذر کے روزے تھے۔
الحكم على الحديث:
اخرجه مسلم: 1148
حدیث نمبر: 3856
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّ أُمِّي مَاتَتْ وَعَلَيْهَا صَوْمُ شَهْرٍ أَفَأَقْضِيهِ عَنْهَا؟ فَقَالَ: ( (لَوْ كَانَ عَلَى أُمِّكَ دَيْنٌ أَكُنْتَ قَاضِيَهُ عَنْهَا؟) ) قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: ( (فَدَيْنُ اللَّهِ أَحَقُّ أَنْ يُقْضَى) )
۔ سیدنا عبدا للہ بن عباس رضی اللہ عنہ ہی سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آیا اوراس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میری والدہ کا انتقال ہو گیا ہے، جبکہ اس کے ذمہ ایک ماہ کے روزے تھے، تو کیا میں اس کی طرف سے قضائی دے سکتا ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تمہاری والدہ کے ذمے قرض ہوتا تو کیا تم نے اسے ادا کرنا تھا؟ اس نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر اللہ تعالیٰ کا قرض اس بات کا زیادہ حقدار ہے کہ اسے ادا کیا جائے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3856]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2336 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2336»
وضاحت: فوائد: … ابن قیم کی تحقیق سے ثابت ہوتا ہے کہ اس سے مراد نذر کے روزے ہیں، لیکن صحیحین کی روایت عام ہے، اس لیے اس سے مراد ہر وہ روزہ ہے، جو میت کے ذمے ہو، وہ نذر کا ہویا رمضان کا۔ جیسا کہ خطابی نے کہا: اس حدیث میں میت کا وہ روزہ مراد ہے، جو اس پر فرض تھا، وہ نذر کی صورت میں ہو یا رمضان کے روزوں کی قضا دینے کی صورت میں۔
الحكم على الحديث:
انظر الحديث السابق