🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
47. بَابُ النَّهْيِ عَنْ أَفْرَادِ يَوْمَيِ الْجُمُعَةِ وَالسَّبْتِ بِالصِّيَامِ
صرف جمعہ اور ہفتہ کو روزہ رکھنے کی ممانعت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3877
عَنْ حَسَّانِ بْنِ نُوحٍ الْحِمْصِيِّ قَالَ: رَأَيْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ بُسْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ: تَرَوْنَ كَفِّي هَذِهِ؟ فَأَشْهَدُ أَنِّي وَضَعْتُهَا عَلَى كَفِّ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ (وَفِي رِوَايَةٍ: بَايَعْتُ بِهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَنَهَى عَنْ صِيَامِ يَوْمِ السَّبْتِ إِلَّا فِي فَرِيضَةٍ، وَقَالَ: ( (إِنْ لَمْ يَجِدْ أَحَدُكُمْ إِلَّا لِحَاءَ شَجَرَةٍ فَلْيُفْطِرْ عَلَيْهِ) )
۔ حسان بن نوح حمصی کہتے ہیں: میں نے سیدنا عبداللہ بن بسر کو دیکھا، انھوں نے کہا: لوگو! تم میری یہ ہتھیلی دیکھ رہے ہو؟ میں شہادت دیتا ہوں کہ میں نے اس کو اپنے نبی محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ہتھیلی پر رکھ کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیعت کی تھی، بات یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صرف ہفتہ کے دن روزہ رکھنے سے منع کر دیا ہے الّایہ کہ فرضی روزہ ہو۔ نیز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر کھانے کے لیے کچھ نہ ملے، ما سوائے درخت کے چھلکے کے، تو وہی کھا کر (روزہ نہ ہونے کی نشاندہی کر دینی چاہیے)۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3877]
تخریج الحدیث: «قال الالباني: صحيح، اخرجه ابوداود: 1726، وابن ماجه: 1726، والترمذي: 744، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17690 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17842»

الحكم على الحديث:
قال الالباني: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3878
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ أُخْتِهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (لَا تَصُومُوا يَوْمَ السَّبْتِ إِلَّا فِيمَا افْتُرِضَ عَلَيْكُمْ، فَإِنْ لَمْ يَجِدْ أَحَدُكُمْ إِلَّا عُودَ عِنَبٍ أَوْ لِحَاءَ شَجَرَةٍ فَلْيَمْضَغْهُ) )
۔ سیدنا عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ کی بہن سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے: ہفتہ کا روزہ نہ رکھا کرو، الّا یہ کہ یہ ان دنوں میں آ جائے کہ جن کے روزے تم پر فرض ہیں، اگر اس دن کو کسی کے پاس کھانے کے لیے کچھ نہ ہو، ما سوائے انگور کی لکڑی یا درخت کے چھلکے کے، تو اسی کو چبا لے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3878]
تخریج الحدیث: «قال الالباني: صحيح۔ اخرجه ابوداود: 2421، وانظر الحديث السابق، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27075 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27615»
وضاحت: فوائد: … ان دو احادیث ِ مبارکہ سے معلوم ہوا کہ ایسے نہ ہو کہ ہفتہ کا دن کھائے پئے بغیر گزر جائے۔

الحكم على الحديث:
قال الالباني: صحيح۔ اخرجه ابوداود: 2421
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3879
عَنْ عُبَيْدِ بْنِ الْعَرْجِ قَالَ: حَدَّثَتْنِي جَدَّتِي أَنَّهَا دَخَلَتْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَتَغَدَّى وَذَلِكَ يَوْمَ السَّبْتِ، فَقَالَ: ( (تَعَالَيْ فَكُلِي) ) ، فَقَالَتْ: إِنِّي صَائِمَةٌ، فَقَالَ لَهَا: ( (صُمْتِ أَمْسِ؟) ) فَقَالَتْ: لَا، قَالَ: ( (فَكُلِي فَإِنَّ صِيَامَ يَوْمِ السَّبْتِ لَيْسَ لَكِ وَلَا عَلَيْكِ) )
۔ عبید اعرج کہتے ہیں: مجھے میری دادی نے بیان کیا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گئیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس وقت کھانا کھا رہے تھے، یہ ہفتہ کا دن تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے فرمایا: آؤ کھانا کھاؤ۔ لیکن انہوں نے کہا: میں تو روزے سے ہوں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے پوچھا: کیا تم نے کل روزہ رکھا تھا؟ اس نے کہا: جی نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر کھا لو، کیونکہ ہفتہ کے دن کے روزہ کا نہ ثواب ملتا ہے اور نہ گناہ ہوتا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3879]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف للاختلاف فيه علي ابن لھيعة، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27076 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27616»
وضاحت: فوائد: … ثواب اور گناہ کا نہ ملنا اس صورت میں ہے، جب آدمی جہالت کی وجہ سے روزہ رکھ لے، وگرنہ اگر علم ہونے کے بعد یا بطورِ تعظیم ہفتہ کا روزہ رکھے گا تو گنہگار ہو گا۔ ان روایات سے معلوم ہوا کہ صرف ہفتہ کا روزہ رکھناممنوع ہے، لیکن حدیث نمبر (۳۸۶۹) اور (۳۸۷۳) وغیرہ سے معلوم ہوا کہ جمعہ اور ہفتہ، دو دنوں کا لگاتار روزہ رکھا جا سکتا ہے، اس رخصت سے یہ استدلال کرنا بھی ممکن ہے کہ ہفتہ اور اتوار کا لگاتار روزہ رکھنا جائز ہے، حدیث نمبر (۳۹۶۸) سے بھییہی مسئلہ ثابت ہوتا ہے اور یہ بات ایسے ہی ہے، جیسے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یوم عاشوراء کے ساتھ(۹) محرم کا روزہ رکھنے کا بھی عزم کیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مقصد یہودیوں کی مخالفت کرنا تھا۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آئندہ سال نو محرم کا روزہ رکھنے کا عزم ظاہر کیا تھا نہ کہ دس کے ساتھ نو محرم کا بھی۔ اس کی مزید وضاحت عاشورا کے روزے کے بارے مستقل عنوان کے تحت آرہی ہے۔ اسے ملاحظہ فرمائیں۔ (عبداللہ رفیق)

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف للاختلاف فيه علي ابن لھيعة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
48. بَابُ النَّهْيِ عَنْ صَوْمِ الْأَبَدِ يَعْنِي الدَّهْرَ
ہمیشہ کے روزے رکھنے سے ممانعت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3880
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو (بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ) قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (لَا صَامَ مَنْ صَامَ الْأَبَدَ) )
۔ سیدناعبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے ہمیشہ کے روزے رکھے، اس نے حقیقت میں کوئی روزہ نہیں رکھا۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3880]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري: 1979، ومسلم: 1159، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6527 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6527»

الحكم على الحديث:
اخرجه البخاري: 1979
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3881
عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِشَرَابٍ فَدَارَ عَلَى الْقَوْمِ وَفِيهِمْ رَجُلٌ صَائِمٌ، فَلَمَّا بَلَغَهُ، قَالَ لَهُ: اشْرَبْ، فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّهُ لَا يُفْطِرُ الدَّهْرَ، فَقَالَ يَعْنِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (لَا صَامَ مَنْ صَامَ الْأَبَدَ) )
۔ سیدہ اسماء بنت یزید کہتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ایک مشروب لایا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو لوگوں کو پلانے کے لیے پیش کیا، ان میں ایک آدمی روزے دار تھا، جب وہ مشروب اس کے پاس پہنچا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا: پیو۔ لیکن کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ تو روزہ ترک ہی نہیں کرتا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے ہمیشہ روزے رکھے، اس نے کوئی روزہ نہیں رکھا۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3881]
تخریج الحدیث: «مرفوعه صحيح لغيره۔ اخرجه الطبراني في ’’الكبير‘‘: 24/ 453، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27576 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 28128»

الحكم على الحديث:
مرفوعه صحيح لغيره۔ اخرجه الطبراني في ’’الكبير‘‘: 24/ 453
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3882
عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَسُئِلَ عَنْ رَجُلٍ يَصُومُ الدَّهْرَ، قَالَ: ( (لَا صَامَ وَلَا أَفْطَرَ) )
۔ سیدنا عبداللہ بن شخیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس آدمی کے بارے میں سوال کیا گیا، جو ہمیشہ روزے رکھتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہ اس نے روزہ رکھا اور نہ اس کو ترک کیا۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3882]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ اخرجه ابن ماجه: 1705، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16308 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16417»

الحكم على الحديث:
حديث صحيح۔ اخرجه ابن ماجه: 1705
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3883
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) : عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَوْمِ الدَّهْرِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (لَا صَامَ وَلَا أَفْطَرَ) ) أَوْ قَالَ: ( (لَمْ يَصُمْ وَلَمْ يُفْطِرْ) )
۔ (دوسری سند) ان کے باپ سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ہمیشہ کے روزوں کے بارے میں سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہ اس نے روزہ رکھا اور نہ اسے ترک کیا۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3883]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16427»

الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16427
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3884
عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (مَنْ صَامَ الدَّهْرَ ضُيِّقَتْ عَلَيْهِ جَهَنَّمُ هَكَذَا) ) وَقَبَضَ كَفَّهُ
۔ سیدناابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے ہمیشہ روزے رکھے، اس کے اوپر جہنم کو اس طرح تنگ کر دیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ آپ نے ہتھیلی کو بند کر کے کیفیت بیان کی۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3884]
تخریج الحدیث: «موقوفه صحيح۔ اخرجه النسائي، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19713 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19951»

الحكم على الحديث:
موقوفه صحيح۔ اخرجه النسائي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3885
عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّ فُلَانًا لَا يُفْطِرُ نَهَارًا الدَّهْرَ، فَقَالَ: ( (لَا أَفْطَرَ وَلَا صَامَ) )
۔ سیدناعمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! فلاں آدمی کسی دن کے روزے کا ناغہ نہیں کرتا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہ اس نے افطار کیا اور نہ اس نے روزہ رکھا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3885]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين۔ اخرجه النسائي: 4/ 206، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19825 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20063»
وضاحت: فوائد: … ”نہ اس نے افطار کیا اور نہ اس نے روزہ رکھا۔“ افطار نہ کرنے کا مفہوم تو واضح ہے کہ وہ کھانے پینے سے رکا رہا، روزہ نہ رکھنے کا مفہوم یہ ہے کہ اس نے اس معاملے میں مسنون طریقے کی مخالفت کی، اجر و ثواب کا مستحق نہیں ٹھہرا اور اپنے آپ کو ایسے تکلیف دینے کے درپے ہو گیا کہ ممکن ہے کہ اپنے نفس کو ہلاکت میں ڈالے اور جہاد اور کئی دوسرے حقوق سے عاجز ا ٓ جائے۔
اس مسئلہ سے متعلقہ ایک فقہی بحث
اگلے باب کی پہلی اور اس موضوع سے متعلقہ دوسری احادیث سے پتہ چلتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اللہ کے نبی داود علیہ السلام کے روزوں کو سب سے زیادہ فضیلت والا قرار دیا،یعنی ایک دن روزہ رکھنا اور ایک دن افطار کرنا۔ سوال یہ ہے کہ اس باب میں مذکورہ احادیث سے پتہ چلتا ہے کہ ہمیشہکے روزے ناجائز ہیں۔ امام اسحاق، اہل ظاہر اور ایک روایت کے مطابق امام احمد کی رائے یہ ہے کہ ان روزوں کا حکم کراہت کا ہے۔ ابن حزم اس انداز کے حرام ہونے کے قائل ہے اور قاضی عیاض نے کہا: جمہور اہل علم کا خیالیہ ہے کہ اگر کوئی آدمی عید الفطر، عیدالاضحی اور تین ایام تشریق کے روزے نہ رکھے تو اس کے لیے باقی تمام دنوں کے روزے رکھنا جائز ہے۔ امام شافعی اور ان کے اصحاب نے کہا: جب آدمی دونوں عیدوں اور ایام تشریق کے روزے نہ رکھے تو اس کے لیے باقی دنوں کے لگاتار روزے رکھنا جائز ہے، بلکہ مستحبّ ہے، لیکن شرط یہ ہے کہ نہ اسے کوئی ضرر لاحق ہو اور کوئی دوسرا حق فوت ہو، بصورتِ دیگر اس کے لیےیہ روزے مکروہ ہوں گے، ان کی دلیل درج ذیل حدیث ہے: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں کہ سیدنا حمزہ بن عمرو اسلمی رضی اللہ عنہ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! إِنِّی رَجُلٌ اَسْرُدُ الصَّوْمَ، اَفَاَصُوْمُ فِی السَّفَرِ؟ قَالَتْ: فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم: ((إِنْ شِئْتَ فَصُمْ وَإِنْ شِئْتَ فَاَفْطِرْ۔)) اے اللہ کے رسول! میں لگاتار روزے رکھتا ہوں، آیا میں سفر میں روزہ رکھ لیا کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم چاہو تو روزہ رکھ لو اور چاہو تو چھوڑ دو۔“ (بخاری: ۱۹۴۲، ۱۹۴۳، مسلم: ۱۱۲۱) وجۂ استدلال یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس صحابی کو لگاتار روزے رکھنے پر برقرار رکھا، سیدنا عبد اللہ بن عمر، سیدہ عائشہ، سیدنا ابو طلحہ اور کئی سلف بھی لگاتار روزے رکھا کرتے تھے۔
اس رائے کے قائلین نے اس باب کی احادیث کے درج ذیل جوابات دیئے:
(۱)ان احادیث کو ان کے حقیقی معانی پر محمول کیا جائے گا، یعنی ان سے مراد یہ ہے کہ دونوں عیدوں اور ایام تشریق سمیت ہمیشہ کے روزے رکھے جائیں۔
(۲) یا ان احادیث کا مصداق وہ شخص ہے، جس کو اس طرح روزے رکھنے سے کوئی ضرر لاحق ہو جاتا ہے یا اس سے کوئی حق فوت ہو جاتا ہے، یہی وجہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کو فرمایا تھا: ((لَا صَامَ مَنْ صَامَ الْاَبَدَ۔)) ”اس نے روزہ نہیں رکھا، جس نے ہمیشہ روزے رکھے۔“ اس کی وجہ یہ تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو علم تھا کہ یہ صحابی ان روزوں سے عاجز آ جائیں گے اور ایسے ہی ہوا کہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کو جن روزوں کی اجازت دی تھی، وہ بھی ان کے لیے مشکل ہو گئے تھے، جس کی وجہ سے وہ اس بات پر ندامت کا اظہار کرتے تھے کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رخصت قبول کیوں نہیں کی تھی۔
جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا حمزہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کو لگاتار روزے رکھنے کی اجازت دے دی تھی، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ اندازہ تھا کہ یہ صحابی ضرر سے محفوظ رہے گا۔
(۳) ”لَا صَامَ“ کے الفاظ اس آدمی کے حق میں بمعنی خبر ہیں، نہ کہ بمعنی دعا، جو ان روزوں سے بڑی مشقت محسوس کرتا ہے۔ رہا اس آدمی کا مسئلہ جو نہ مشقت محسوس کرتا اور نہ کوئی دوسرا حق فوت ہونے دیتا ہے اور نہ ممنوعہ دنوں کے روزے رکھتا ہے تو اس کے لیے تو لگاتار روزے مستحبّ ہوں گے، جب سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے ہمیشہ کے روزوں کے بارے میں سوال کیا گیا، تو انھوں نے کہا: کنا نعد اولئک فینا من السابقین۔ … ہم اپنے اندر ایسے لوگوں کو آگے بڑھ جانے والوں میں شمار کرتے تھے۔ (سنن بیہقی)
عروہ کہتے ہیں: سفر ہو یا حضر، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ہمیشہ کے روزے رکھتی تھیں۔ (سنن بیہقی) سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ جہاد کی وجہ سے عہد ِ نبوی میں روزے نہیں رکھتے تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فوت ہوئے تو میں نے ان کو عید الفطر اور عید الاضحی کے علاوہ روزہ ترک کرتے ہوئے نہیں دیکھا۔ (صحیح بخاری) امام نووی نے ”المجموع“ میں دو عیدوں اور ایام تشریق کے علاوہ ہمیشہ کے روزے رکھنے والوں کے نام ذکر کیے ہیں، ان میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ، سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ، سیدنا ابو طلحہ انصاری رضی اللہ عنہ، سیدنا ابو امامہ اور ان کی بیوی رضی اللہ عنہما اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا۔ سعید بن مسیب، ابو عمرو بن حماس، سعید بن ابراہیم، اسود بن یزید وغیرہ نے بھی ہمیشہ کے روزے رکھے، سعید بن ابراہیم نے چالیس سال لگاتار روزے رکھے تھے۔ جمہور اہل علم کا مسلک راجح معلوم ہوتا ہے، واللہ اعلم بالصواب۔

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط الشيخين۔ اخرجه النسائي: 4/ 206
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
49. بَابُ جَامِعٍ لِبَعْضِ مَا يُسْتَحَبُّ صَوْمُهُ وَمَا يُكْرَهُ
ان ایام کا بیان کہ جن میں روزہ رکھنا مستحب یا مکروہ ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3886
عَنْ أَبِي قَتَادَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَوْمِهِ فَغَضِبَ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: رَضِينَا بِاللَّهِ رَبًّا وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا، قَالَ: وَلَا أَعْلَمُهُ إِلَّا قَدْ قَالَ: وَبِمُحَمَّدٍ رَسُولًا وَبِبَيْعَتِنَا بَيْعَةً، قَالَ: فَقَامَ عُمَرُ أَوْ رَجُلٌ آخَرُ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! رَجُلٌ صَامَ الْأَبَدَ، قَالَ: ( (لَا صَامَ وَلَا أَفْطَرَ أَوْ مَا صَامَ وَمَا أَفْطَرَ) ) ، قَالَ: صَوْمُ يَوْمَيْنِ وَإِفْطَارُ يَوْمٍ؟ قَالَ: ( (وَمَنْ يُطِيقُ ذَلِكَ؟) ) قَالَ: لَيْتَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَوَّانَا لِذَلِكَ، قَالَ: صَوْمُ يَوْمٍ وَإِفْطَارُ يَوْمٍ؟ قَالَ: ذَاكَ صَوْمُ أَخِي دَاوُدَ، قَالَ: صَوْمُ الْإِثْنَيْنِ وَالْخَمِيسِ؟ قَالَ: ذَاكَ يَوْمٌ وُلِدْتُ فِيهِ وَأُنْزِلَ عَلَيَّ فِيهِ، قَالَ: صَوْمُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ، وَرَمَضَانَ إِلَى رَمَضَانَ؟ قَالَ: ( (صَوْمُ الدَّهْرِ وَإِفْطَارُهُ) ) ، قَالَ: صَوْمُ يَوْمِ عَرَفَةَ؟ قَالَ: ( (يُكَفِّرُ السَّنَةَ الْمَاضِيَةَ وَالْبَاقِيَةَ) ) ، قَالَ: صَوْمُ يَوْمِ عَاشُورَاءَ؟ قَالَ: ( (يُكَفِّرُ السَّنَةَ الْمَاضِيَةَ) )
۔ سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے روزوں کے بارے میں سوال کیا، اس پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو غصہ آ گیا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے: ہم اللہ کے رب ہونے پر، اسلام کے دین ہونے پر، محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے رسول ہونے پر اور اپنی بیعت کے حق ہونے پر راضی ہیں، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ یا کوئی دوسرا آدمی اٹھا اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! ایک آدمی ہمیشہ کے روزے رکھتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ نہ روزہ رکھتا ہے اور نہ افطار کرتا ہے۔ اس نے پوچھا: دو دن روزہ اور ایک دن ناغہ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کی استطاعت کون رکھتا ہے؟کاش کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اتنی طاقت دے دیتا۔ اس نے پوچھا: ایک دن روزہ اور ایک دن ناغہ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرے بھائی داؤد علیہ السلام کا روزہ اسی طرح ہوتا تھا۔ اس نے پوچھا: سوموار اور جمعرات کے روزے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس دن کو میری ولادت ہوئی اور اسی میں مجھ پر قرآن کا نزول شروع ہوا۔ اس نے پوچھا: ہر مہینہ میں تین روزے اور رمضان کے روزے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ ہمیشہ کے روزے بھی ہیں اور ہمیشہ کا افطار بھی ہے۔ اس نے پوچھا: عرفہ کے دن کا روزہ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ روزہ گزشتہ اور آئندہ دو سالوں کے گناہوں کا کفارہ بنتا ہے۔ اس نے پوچھا: یوم عاشوراء (دس محرم) کا روزہ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ روزہ گزشتہ سال کے گناہوں کا کفارہ بنتا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3886]
تخریج الحدیث: «اخرجه مسلم: 1162، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22537 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22905»
وضاحت: فوائد: … حدیث کے شروع والے حصے پر غور کریں، دراصل سائل کو اس طرح سوال کرنا چاہیے تھا کہ وہ کتنے اور کیسے روزے رکھے، تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کی ذات کا اندازہ کر کے اس کے بارے میں کسی لائحہ عمل کی خبر دیتے۔ اس کا براہِ راست یہ سوال کر دینا کہ اس معاملے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عادت کیا ہے، جس کی وضاحت میں مصلحتیں نہیں ہیں، مثلا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بسا اوقات وصال کر رہے ہوتے ہیں، جو امت کے لیے ناپسندیدہ ہے، بسا اوقات آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لگاتار روزے رکھ رہے ہوتے ہیں، جو عام آدمی کے مشکل ہیں اور بسا اوقات آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تسلسل کے ساتھ روزے ترک کرنا شروع کر دیتے ہیں، اس کی وضاحت سے سائل کو یہ نقصان ہو سکتا ہے کہ ممکن ہے کہ وہ زندگی بھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اسی رخصت کو اپنائے رکھے، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو اس وقت مسلمانوں، مہمانوں اور اپنی بیویوں کے دوسرے حقوق اور مصلحتوں میں مصروف ہوتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے رات کے قیام کو دیکھیں، جس میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے زیادہ سے زیادہ تیرہ اور کم از کم سات رکعتیں ادا کی ہیں، کم رکعتوں کی وجہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عمر رسیدگی تھی، اس لیے ہر خواہش مند کو دیکھنایہ چاہیے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فلاں مسئلے کے بارے میں مختلف احادیث کے ذریعے کون سا شرعی قانون پیش کیا ہے، اس میں رخصت و عزیمت اور اختیار و اجبار کی صورتوں کو کیسے مد نظر رکھا گیا، ان امور کو سامنے رکھ کر عمل پیرا ہونا چاہیے۔

الحكم على الحديث:
اخرجه مسلم: 1162
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں