🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
49. بَابُ جَامِعٍ لِبَعْضِ مَا يُسْتَحَبُّ صَوْمُهُ وَمَا يُكْرَهُ
ان ایام کا بیان کہ جن میں روزہ رکھنا مستحب یا مکروہ ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3887
عَنْ هُنَيْدَةَ بْنِ خَالِدٍ عَنِ امْرَأَتِهِ عَنْ بَعْضِ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ تِسْعَ ذِي الْحِجَّةِ، وَيَوْمَ عَاشُورَاءَ وَثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ، قَالَ: عَفَّانُ: أَوَّلَ اثْنَيْنِ مِنَ الشَّهْرِ وَخَمِيسَيْنِ
۔ ایک ام المومنین رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نوذوالحجہ،یومِ عاشورا اور ہر ماہ کے تین روزے رکھا کرتے تھے، یعنی ہر ماہ کا پہلا سوموار اور دو جمعراتیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3887]
تخریج الحدیث: «ضعيف لاضطرابه۔ اخرجه ابوداود: 2437، والنسائي: 4/ 205، 220، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26468 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27001»

الحكم على الحديث:
ضعيف لاضطرابه۔ اخرجه ابوداود: 2437
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3888
وَعَنْهُ أَيْضًا عَنْ حَفْصَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: أَرْبَعٌ لَمْ يَكُنْ يَدَعُهُنَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صِيَامَ عَاشُورَاءَ وَالْعَشْرَ وَثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ وَرَكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْغَدَاةِ
۔ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں،وہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چار کاموں کو ترک نہیں کرتے تھے: یوم عاشوراء، عشرہ ذوالحجہ اور ہر ماہ میں سے تین دنوں کے روزے اور نماز فجر سے پہلے والی دو سنتیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3888]
تخریج الحدیث: «حديث ضعيف دون الركعتين قبل الغداة، فھو صحيح بالشواھد، ابو اسحاق الاشجعي مجھول۔ اخرجه النسائي: 4/ 220، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26459 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26991»

الحكم على الحديث:
حديث ضعيف دون الركعتين قبل الغداة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3889
عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (يَوْمُ عَرَفَةَ وَيَوْمُ النَّحْرِ وَأَيَّامُ التَّشْرِيقِ عِيدُنَا أَهْلَ الْإِسْلَامِ وَهُنَّ أَيَّامُ أَكْلٍ وَشُرْبٍ) )
۔ سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عرفہ کا دن، قربانی کا دن اور ایامِ تشریق ہم اہل اسلام کی عید ہیں اور یہ کھانے پینے کے دن ہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3889]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم۔ اخرجه ابوداود: 2419، والنسائي: 5/ 252، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة:17379 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17514»
وضاحت: فوائد: … عرفہ کے دن روزہ رکھنا جائز ہے، بلکہ افضل ہے، اس کی وضاحت آگے آ رہی ہے، کھانے پینے کے دن عید اور تشریق کے دن ہیں، اغلبی طور پر اس کو بھی ساتھ ذکر کر دیا گیا۔ یہ دن بھی جمعہ کی طرح مسلمانوں کے لیے عید ہے، اگر حجاج کرام کو دیکھا جائے تو وہ اس دن کو عرفات کے میدان میں جمع ہوتے ہیں اور خطبہ سنتے ہیں، دوسرے لوگ عید اور قربانیوں کی تیاری میں عجیب فرحت و مسرت کے ساتھ یہ دن گزارتے ہیں، نیزیہ دن کئی فضائل سے بھی متصف ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کئی انداز اور ترتیب کے ساتھ نفلی روزے رکھا کرتے تھے، احادیث کی دوسری کتابوں میں ان کی تفصیل موجود ہے۔

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط مسلم۔ اخرجه ابوداود: 2419
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
50. بَابُ مَا جَاءَ فِي صَوْمِ التَّطَوُّعِ فِي السَّفَرِ
نفلی روزوں اوران ایام کا بیان، جن میں نفلی روزے رکھنا مستحبّ ہیں سفر میں نفلی روزہ رکھنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3890
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (مَنْ صَامَ يَوْمًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ زَحْزَحَ اللَّهُ وَجْهَهُ عَنِ النَّارِ بِذَلِكَ سَبْعِينَ خَرِيفًا) )
۔ سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی اللہ کی راہ میں ایک دن کا روزہ رکھتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے عوض اسے جہنم سے ستر برس کی مسافت دور کر دیتاہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3890]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم۔ اخرجه النسائي: 4/ 172، وابن ماجه: 8690، والترمذي: 1622، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7990 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7977»

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط مسلم۔ اخرجه النسائي: 4/ 172
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3891
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِثْلُهُ
۔ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اسی طرح کی حدیث روایت کی ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3891]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري: 2840، ومسلم: 1153، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11560 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11581»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث کے الفاظ یہ ہیں: ((لَایَصُوْمُ عَبْدٌ یَوْمًا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ اِلَّا بَاعَدَ اللّٰہُ بِذَالِکَ الْیَوْمِ النَّارَ عَنْ وَجْھِہٖسَبْعِیْنَ خَرِیْفًا۔)) ”جو آدمی بھی اللہ تعالیٰ کی راہ میں ایک دن کا روزہ رکھتا ہے، تو وہ اس کے عوض آگ کو اس کے چہرے سے ستر سال کی مسافت تک دور کر دیتا ہے۔“
”فِی سَبِیْلِ اللّٰہِ“ (اللہ تعالیٰ کی راہ) سے مراد جہاد ہے یا اللہ تعالیٰ کی اطاعت؟ حافظ ابن حجرنے کہا: اول الذکر معنی راجح ہے، کیونکہ میں ”فوائد ابی الطاھر الذھلی“ میں سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے ان الفاظ کے ساتھ مروی ایک حدیث دیکھی ہے: ((مَا مِنْ مُرَابِطٍ یُرَابِطُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ فَیَصُوْمُیَوْمًا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ …۔)) ”جو آدمی اللہ تعالیٰ کی راہ میں سرحدوں پر مقیم رہتا ہے اور اللہ کی راہ میں ایک روزہ رکھتا ہے، …۔“ ابن دقیق العید نے کہا: عرفِ اکثر میں اس لفظ کا استعمال جہاد کے لیے ہی ہوتا ہے۔ (فتح الباری: ۶/ ۵۹) یہ بات علیحدہ ہے کہ ایسی حالت میں روزہ رکھنے والے کو یہ فکر کرنی چاہیے کہ اس میں ایسی کمزوری پیدا نہ ہو جائے جو لڑتے وقت نقصان کا سبب بن سکے، بہرحال جس کو اللہ تعالیٰ نے عزم اور قوت سے نواز رکھا ہو، وہ دونوں فضیلتوں کو جمع کر سکتا ہے کہ شب و روز بھی راہِ جہاد میں گزر رہے ہوں اور اللہ تعالیٰ کے لیے جان بوجھ کر کھانا پینا بھی چھوڑ رکھا ہو۔

الحكم على الحديث:
اخرجه البخاري: 2840
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3892
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِطَعَامٍ بِمَرِّ الظَّهْرَانِ، فَقَالَ لِأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ: ( (ادْنُيَا فَكُلَا) ) ، قَالَا: إِنَّا صَائِمَانِ، قَالَ: ( (ارْحِلُوا لِصَاحِبَيْكُمْ، اعْمَلُوا لِصَاحِبَيْكُمْ) )
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مَرُّ الظَّہْرَانِ کے مقام پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں کھانا پیش کیا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا ابوبکراور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما سے فرمایا: قریب ہو جاؤ اور کھانا کھاؤ۔ انہوں نے کہا: ہم تو روزے دار ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوگو! اپنے اِن ساتھیوں کو سواریاں دو اور ان کے حصے کا کام بھی کرو۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3892]
تخریج الحدیث: «قال الالباني: صحيح (نسائي: 2264)۔ أخرجه النسائي: 4/ 177، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8436 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8417»
وضاحت: فوائد: … آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مقصود یہ تھا کہ چونکہ سیدنا ابو بکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما روزے سے تھے، اس لیے دوسرے صحابہ کو چاہیے کہ وہ اِن کی خدمت کریں۔

الحكم على الحديث:
قال الالباني: صحيح (نسائي: 2264)۔ أخرجه النسائي: 4/ 177
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3893
عَنْ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ وَاصْطَحَبَ هُوَ وَيَزِيدُ ابْنُ أَبِي كَبْشَةَ فِي سَفَرٍ وَكَانَ يَزِيدُ يَصُومُ، فَقَالَ لَهُ أَبُو بُرْدَةَ: سَمِعْتُ أَبَا مُوسَى الْأَشْعَرِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِرَارًا يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (إِذَا مَرِضَ الْعَبْدُ أَوْ سَافَرَ كُتِبَ لَهُ مِنَ الْأَجْرِ مِثْلُ مَا كَانَ يَعْمَلُ مُقِيمًا صَحِيحًا) )
۔ ابوبردہ بن ابی موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ اور یزید بن ابی کبشہ ایک سفر میں اکٹھے ہو گئے، یزید تو سفر میں روزے رکھتا تھا، سیدنا ابوبردہ رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا: میں نے سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کو کئی بار یہ بیان کرتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب بندہ بیمارہو جائے یا سفر میں ہو تو اسے اتنا ہی اجر ملتا رہتا ہے، جتنا اجر اسے اس عمل کا ملتا تھا، جو وہ اقامت اورصحت کی حالت میں کرتا تھا۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3893]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري: 2996، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19679 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19915»
وضاحت: فوائد: … جس آدمی کی نفلی عبادت اس کی بیمارییا سفر کی وجہ متأثر ہو جائے، تو بغیر عمل کے اس کو اجر و ثواب ملتا رہے گا۔

الحكم على الحديث:
اخرجه البخاري: 2996
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
51. بَابُ لَا تَصُومُ الْمَرْأَةُ تَطَوُّعًا وَزَوْجُهَا حَاضِرٌ بِغَيْرِ إِذْنِهِ
خاوند کی موجودگی میں بیوی کا اس کی اجازت کے بغیر نفلی روزہ نہ رکھنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3894
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (لَا تَصُمِ الْمَرْأَةُ يَوْمًا وَاحِدًا وَزَوْجُهَا شَاهِدٌ إِلَّا بِإِذْنِهِ، إِلَّا رَمَضَانَ) )
۔ سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب کسی عورت کا شوہر موجود ہو تو وہ اس کی اجازت کے بغیر ایک روزہ بھی نہ رکھے، الّا یہ کہ رمضان ہو۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3894]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري: 5195، ومسلم: 1026، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9734 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9732»

الحكم على الحديث:
اخرجه البخاري: 5195
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3895
وَعَنْهُ أَيْضًا يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (لَوْ لَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي لَأَمَرْتُهُمْ بِتَأْخِيرِ الْعِشَاءِ وَالسِّوَاكِ مَعَ الصَّلَاةِ، وَلَا تَصُومُ امْرَأَةٌ وَزَوْجُهَا شَاهِدٌ يَوْمًا وَاحِدًا غَيْرَ رَمَضَانَ إِلَّا بِإِذْنِهِ) )
۔ سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر مجھے اپنی امت پر مشقت ڈالنے کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں حکم دے دیتا کہ عشاء کی نماز تاخیر سے ادا کی جائے اور ہر نماز کے ساتھ مسواک کی جائے اور جس عورت کا شوہر موجود ہو تو وہ اس کی اجازت کے بغیرایک دن کا روزہ بھی نہ رکھے، الّا یہ کہ ماہِ رمضان ہو۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3895]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7342، 7343 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7338»
وضاحت: فوائد: … ان احادیث سے معلوم ہوا کہ جب بیوی نفلی روزہ رکھنا چاہے یا فرضی روزے کی قضائی دینا چاہے، دونوں صورتوں میں اس کو چاہیے کہ وہ خاوند سے اجازت لے، کیونکہ خاوند کا حق ان حقوق میں سے ہے، جو فوراً واجب ہو جاتے ہیں، جبکہ نفلی روزوں کو ترک کیا جا سکتاہے اور فرض روزوں کی قضائی کو مؤخر کیا جا سکتا ہے۔ اس سے بیویوں کو اندازہ کر لینا چاہیے کہ ان کے خاوندوں کا ان پر کتنا حق ہے۔ خاوند کی اجازت کے بغیر نفلی روزے کی ممانعت کی وجہ وظیفۂ زوجیت ہے۔

الحكم على الحديث:
انظر الحديث السابق
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
52. بَابُ فِي أَنَّ صَوْمَ التَّطَوُّعِ لَا يَلْزَمُ بِالشُّرُوعِ فِيهِ
نفلی روزہ شروع کر دینے سے اس کے واجب نہ ہو جانے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3896
عَنْ أُمِّ هَانِئٍ (بِنْتِ أَبِي طَالِبٍ) رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ شَرِبَ شَرَابًا فَنَاوَلَهَا لِتَشْرَبَ، فَقَالَتْ: إِنِّي صَائِمَةٌ وَلَكِنِّي كَرِهْتُ أَنْ أَرُدَّ سُؤْرَكَ، فَقَالَ: ( (إِنْ كَانَ قَضَاءً مِنْ رَمَضَانَ فَاقْضِي يَوْمًا مَكَانَهُ، وَإِنْ كَانَ تَطَوُّعًا فَإِنْ شِئْتِ فَاقْضِي وَإِنْ شِئْتِ فَلَا تَقْضِي) )
۔ سیدہ ام ہانی بنت ابی طالب رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک مشروب پیا اور مجھے بھی دیا۔ میں نے بعد میں کہا: میں تو روزے سے تھی، لیکن آپ کے جوٹھے کو چھوڑنا گوارا نہیں تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر یہ روزہ ماہِ رمضان کی قضاء کا تھا تواس کے عوض ایک روزہ رکھ لینا اور اگر یہ نفلی تھا تو تمہاری مرضی ہے کہ قضائی دو یا نہ دو۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيام/حدیث: 3896]
تخریج الحدیث: «قال الالباني: صحيح (صحيحه:2802)۔ اخرجه الترمذي: 731، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26910 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27449»

الحكم على الحديث:
قال الالباني: صحيح (صحيحه:2802)۔ اخرجه الترمذي: 731
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں