🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
33. فِيهِ ثَلَاثَةُ فُصُولٍ - الْفَصْلُ الْأَوَّلُ فِيمَا جَاءَ فِي أَلْفَاظِهَا وَفَضْلِهَا
تلبیہ کے الفاظ اور اس کی فضیلت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4229
عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (يَا آلَ مُحَمَّدٍ! مَنْ حَجَّ مِنْكُمْ فَلْيُهِلَّ فِي حَجِّهِ أَوْ حَجَّتِهِ) ) ، شَكَّ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ
۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: اے آل محمد! تم میں سے جو کوئی حج کرے تو اسے چاہیے کہ وہ تلبیہ کہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الحج والعمرة/حدیث: 4229]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ أخرجه ابن حبان: 3920، وابويعلي: 7011، والطبراني في ’’الكبير‘‘: 23/ 791، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26693 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27228»

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح ۔ أخرجه ابن حبان: 3920
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4230
عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ: أَتَيْتُ عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا بِعَرَفَةَ وَهُوَ يَأْكُلُ رُمَّانًا، فَقَالَ: أَفْطَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِعَرَفَةَ وَقَدْ بَعَثَتْ إِلَيْهِ أُمُّ الْفَضْلِ بِلَبَنٍ فَشَرِبَهُ، وَقَالَ: لَعَنَ اللَّهُ فُلَانًا، عَمَدُوا إِلَى أَعْظَمِ أَيَّامِ الْحَجِّ، فَمَحَوْا زِينَتَهُ، وَإِنَّمَا زِينَةُ الْحَجِّ التَّلْبِيَةُ
۔ سعید بن جبیر کہتے ہیں: میں عرفہ میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا، وہ انار کھا رہے تھے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عرفہ میں روزہ نہیں رکھا تھا، سیدہ ام فضل رضی اللہ عنہا نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں دودھ بھیجا تھا، جسے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نوش فرما لیا تھا، پھرآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا: اللہ تعالی فلاں آدمی پر لعنت کرے،انہوں نے ایام حج میں سے سب سے زیادہ عظمت والے دن کی طرف قصد کیا اور اس کی زینت کو مٹا ڈالا، حج کی زینت تلبیہ ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الحج والعمرة/حدیث: 4230]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه النسائي في ’’الكبري‘‘: 2815، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1870 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1870»
وضاحت: فوائد: … ممکن ہے کہ یہ ملعون عرب کا کوئی مشرک ہو، ایام حج سے مراد وہ دن ہیں، جن میں تلبیہ کہا جاتا ہے، اگلے باب میں ان کی وضاحت کی جائے گی۔ زینت کو مٹانے کی دو صورتیں ہو سکتی ہیں: (۱) تلبیہ کے کلمات کو کلی طور پر ترک کر دیا تھا، (۲) تلبیہ میں شرکیہ الفاظ داخل کر دیئے تھے، صحیح مسلم کی روایت کے مطابق وہ یوں تلبیہ کہتے تھے: ”لَبَّیْکَ،لَا شَرِیْکَ لَکَ اِلَّا شَرِیْکًا تَمْلِکُہُ وَمَا مَلَکَ۔“

الحكم على الحديث:
حديث صحيح ۔ أخرجه النسائي في ’’الكبري‘‘: 2815
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4231
عَنْ خَلَّادِ بْنِ السَّائِبِ بْنِ خَلَّادٍ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (أَتَانِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ فَقَالَ: مُرْ أَصْحَابَكَ فَلْيَرْفَعُوا أَصْوَاتَهُمْ بِالْإِهْلَالِ) )
۔ سیدنا سائب بن خلاد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرے پاس جبریل علیہ السلام تشریف لائے اور انہوں نے کہا: آپ انپے صحابہ کو حکم دیں کہ وہ تلبیہ پکارتے وقت آواز بلند رکھیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الحج والعمرة/حدیث: 4231]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ أخرجه ابوداود: 1814، والترمذي: 829، والنسائي: 5/ 162، وابن ماجه: 2922، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16557/1 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16672»

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح ۔ أخرجه ابوداود: 1814
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4232
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ قَالَ: أَتَانِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ فَقَالَ: أَنْ آمُرَ أَصْحَابِي أَوْ مَنْ مَعِيَ أَنْ يَرْفَعُوا أَصْوَاتَهُمْ بِالتَّلْبِيَةِ، أَوْ بِالْإِهْلَالِ يُرِيدُ أَحْدَهُمَا
۔ (دوسری سند) سیدنا سائب بن خلاد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرے پاس جبریل علیہ السلام آئے اور انہوں نے مجھے کہا کہ میں اپنے صحابہ یا ساتھیوں کو یہ حکم دوں کہ وہ بلند آواز سے تلبیہ پکاریں۔ [الفتح الربانی/كتاب الحج والعمرة/حدیث: 4232]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16683»

الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16683
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
34. الْفَصْلُ الثَّانِي فِي حُكْمِ التَّلْبِيَةِ وَالْجَهْرِ بِهَا
تلبیہ کا حکم اور اسے بآواز بلند پکارنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4233
عَنِ السَّائِبِ بْنِ خَلَّادٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: كُنْ عَجَّابًا ثَجَّاجًا، وَالْعَجُّ التَّلْبِيَةُ، وَالثَّجُّ نَحْرُ الْبُدْنِ
۔ سیدنا سائب بن خلاد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جبریل علیہ السلام، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور کہا: آپ بہت زیادہ تلبیہ کہنے والے اور بہت زیادہ جانوروں کے خون بہانے والے ہو جائیں۔ عَجّ کے معانی تلبیہ کے اور ثَجّ کے معانی اونٹوں کو نحر کرنے کے ہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الحج والعمرة/حدیث: 4233]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16682»

الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16682
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4234
عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (جَاءَنِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ! مُرْ أَصْحَابَكَ فَلْيَرْفَعُوا أَصْوَاتَهُمْ بِالتَّلْبِيَةِ، فَإِنَّهَا مِنْ شَعَائِرِ الدِّينِ) )
۔ سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ کا بیان ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرے پاس جبریل علیہ السلام آئے اور کہا: اے محمد! آپ اپنے صحابہ کو حکم دیں کہ وہ بلند آواز سے تلبیہ پکاریں، کیونکہ یہ دین کے شعائر اورعلامات میں سے ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الحج والعمرة/حدیث: 4234]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22018»

الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22018
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4235
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (أَمَرَنِي جِبْرِيلُ بِرَفْعِ الصَّوْتِ فِي الْإِهْلَالِ فَإِنَّهُ مِنْ شَعَائِرِ الْحَجِّ) )
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جبریل علیہ السلام نے مجھے بلند آواز سے تلبیہ پکارنے کا حکم دیا ہے، کیونکہ یہ حج کے شعائر اور علامات میں سے ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الحج والعمرة/حدیث: 4235]
تخریج الحدیث: «متن الحديث صحيح من حديث زيدبن خالد الجھني، فقد اخطأ اسامة بن زيد في ھذا الحديث، فجعله من حديث ابي ھريرة۔ أخرجه ابن خزيمة: 2630، والحاكم: 1/ 450، والبيھقي: 5/ 42، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8314 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8297»

الحكم على الحديث:
متن الحديث صحيح من حديث زيدبن خالد الجھني
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4236
عَنْ ابْنِ عَبَّاسِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (إِنَّ جِبْرِيلَ أَتَانِي فَأَمَرَنِي أَنْ أُغْلِيَ بِالتَّلْبِيَةِ) )
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: حضرت جبریل علیہ السلام میرے پاس آئے اور مجھ سے کہا کہ میں بلند آواز سے تلبیہ پکاروں۔ [الفتح الربانی/كتاب الحج والعمرة/حدیث: 4236]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2950 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2950»
وضاحت: فوائد: … ان تمام احادیث کا تقاضا یہ ہے کہ تلبیہ بآواز بلند پڑھا جائے، اگرچہ جمہور نے ان اوامر کو استحباب پر محمول کیا ہے۔

الحكم على الحديث:
حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
35. الْفَصْلُ الثَّالِثُ فِي مُدَّةِ التَّلْبِيَةِ وَفِعْلِهَا عَقِبَ الصَّلَاةِ
تلبیہ کے دورانیہ اور نمازوں کے بعد تلبیہ پکارنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4237
وَعَنْهُ أَيْضًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَبَّى دُبُرَ الصَّلَاةِ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز کے بعد تلبیہ پکارا۔ [الفتح الربانی/كتاب الحج والعمرة/حدیث: 4237]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره۔ أخرجه ابوداود: 1770، والترمذي: 819، والنسائي: 5/ 162، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2579 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2579»
وضاحت: فوائد: … اس سے مراد وہ تلبیہ ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ابتدائے احرام میں کہا تھا۔

الحكم على الحديث:
حسن لغيره۔ أخرجه ابوداود: 1770
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4238
عَنِ ابْنِ سَخْبَرَةَ قَالَ: غَدَوْنَا مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ مِنًى إِلَى عَرَفَاتٍ، فَكَانَ يُلَبِّي، قَالَ: وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ رَجُلًا آدَمَ، لَهُ ضَفْرَانِ عَلَيْهِ مَسْحَةُ أَهْلِ الْبَادِيَةِ، فَاجْتَمَعَ عَلَيْهِ غَوْغَاءُ مِنْ غَوْغَاءِ النَّاسِ، قَالُوا: يَا أَعْرَابِيُّ! إِنَّ هَذَا الْيَوْمَ لَيْسَ يَوْمَ تَلْبِيَةٍ إِنَّمَا هُوَ يَوْمُ تَكْبِيرٍ، قَالَ: فَعِنْدَ ذَلِكَ الْتَفَتَ إِلَيَّ فَقَالَ: أَجَهَلُ النَّاسُ أَمْ نَسُوا؟ وَالَّذِي بَعَثَ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِالْحَقِّ لَقَدْ خَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَمَا تَرَكَ التَّلْبِيَةَ حَتَّى رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ إِلَّا أَنْ يُخْلِطَهَا بِتَكْبِيرٍ أَوْ تَهْلِيلٍ
۔ ابن سنجرہ کہتے ہیں: ہم سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ منیٰ سے عرفات کو گئے، وہ تلبیہ پکارتے جارہے تھے، سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا رنگ گندمی تھا،ان کے سر پر دو لٹیں تھیں اور ان کا حلیہ دیہاتیوں کا سا تھا، ان کے تلبیہ کی آواز سن کر عام سادہ سے لوگوں نے شور مچا دیا اور کہنے لگے: ارے دیہاتی! آج تلبیہ کا دن نہیں ہے، تکبیرات کا دن ہے۔ یہ سن کر سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے میری طرف دیکھا اور کہا: لوگوں کو سرے سے علم نہیں تھا یایہ بھول گئے ہیں؟ اس ذات کی قسم، جس نے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حق کے ساتھ مبعوث کیا، میں خود رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ جا رہا تھا،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جمرۂ عقبہ کی رمی تک تلبیہ ترک نہیں کیا تھا، البتہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس دوران اللہ اکبر اور لا الہ الا اللہ بھی کہہ لیتے۔ [الفتح الربانی/كتاب الحج والعمرة/حدیث: 4238]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1683، ومسلم: 1283، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3961 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3961»
وضاحت: فوائد: … حج کا تلبیہ (۱۰) ذوالحجہ کو جمرۂ عقبہ کو کنکریاں مارنے تک جاری رکھا جائے گا، البتہ بیچ میں دوسرے اذکار بھی کیے جا سکتے ہیں۔
یہ تلبیہ جمرہ عقبہ کو کنکریاں مارتے ہوئے آخری کنکری کے ساتھ موقوف ہوگا۔ (ابن خزیمہ)

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 1683
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں