الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
35. الْفَصْلُ الثَّالِثُ فِي مُدَّةِ التَّلْبِيَةِ وَفِعْلِهَا عَقِبَ الصَّلَاةِ
تلبیہ کے دورانیہ اور نمازوں کے بعد تلبیہ پکارنے کا بیان
حدیث نمبر: 4239
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: غَدَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى عَرَفَاتٍ، مِنَّا الْمُكَبِّرُ وَمِنَّا الْمُلَبِّي
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ عرفات کو جا رہے تھے، تو ہم میں سے کوئی تکبیر کہہ رہا تھا اور کوئی تلبیہ پکار رہا تھا۔ [الفتح الربانی/كتاب الحج والعمرة/حدیث: 4239]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1284، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4733 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4733»
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 1284
حدیث نمبر: 4240
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَفَاضَ مِنْ عَرَفَاتٍ وَرِدْفُهُ أُسَامَةُ، وَأَفَاضَ مِنْ جَمْعٍ، وَرِدْفُهُ الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ، قَالَ: وَلَبَّى حَتَّى رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عرفات سے روانہ ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے سواری پر سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ سوار تھے اور جب مزدلفہ سے روانہ ہوئے تو سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے سواری پر سوار تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جمرۂ عقبہ کی رمی تک تلبیہ پکارتے رہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الحج والعمرة/حدیث: 4240]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1543، 1686، ومسلم: 1286، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1860 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1860»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 1543
حدیث نمبر: 4241
عَنْ عِكْرِمَةَ قَالَ: وَقَفْتُ مَعَ الْحُسَيْنِ، فَلَمْ أَزَلْ أَسْمَعُهُ يَقُولُ لَبَّيْكَ حَتَّى رَمَى الْجَمْرَةَ، فَقُلْتُ: يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ! مَا هَذَا الْإِهْلَالُ؟ قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يُهِلُّ حَتَّى انْتَهَى إِلَى الْجَمْرَةِ وَحَدَّثَنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَهَلَّ حَتَّى انْتَهَى إِلَيْهَا
۔ عکرمہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے ساتھ وقوف کیا اور میں نے سنا کہ وہ جمرۂ عقبہ کی رمی تک تلبیہ پکارتے رہے، میں نے عرض کیا: ابو عبد اللہ! یہ تلبیہ کیسا؟ انہوں نے کہا: میں نے سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو سنا تھا کہ وہ جمرۂ عقبہ کی رمی تک تلبیہ پکارتے رہے، نیز سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے یہ بیان کیا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جمرۂ العقبہ تک تلبیہ پکارا تھا۔ [الفتح الربانی/كتاب الحج والعمرة/حدیث: 4241]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ أخرجه ابويعلي: 321، والبيھقي: 5/ 138، والبزار: 500، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1334 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1334»
الحكم على الحديث:
اسناده حسن ۔ أخرجه ابويعلي: 321
حدیث نمبر: 4242
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ: أَفَضْتُ مَعَ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا مِنَ الْمُزْدَلِفَةِ فَلَمْ أَزَلْ أَسْمَعُهُ يُلَبِّي حَتَّى رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ، فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ: أَفَضْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، فَلَمْ أَزَلْ أَسْمَعْهُ يُلَبِّي حَتَّى رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ
۔ دوسری سند: عکرمہ کہتے ہیں: میں سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی معیت میں مزدلفہ سے آ رہا تھا، میں نے سنا کہ جمرۂ عقبہ کی رمی تک وہ تلبیہ پکارتے رہے، جب میں نے ان سے اس کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: میں اپنے والد سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی معیت میں مزدلفہ سے چلاتھا، وہ جمرۂ عقبہ کی رمی تک تلبیہ پکارتے رہے تھے، اورانہوں نے یہ بتلایا تھا کہ جب وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ مزدلفہ سے چلا تھا تو یہ دیکھا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی جمرۂ عقبہ کی رمی تک تلبیہ پکارتے رہے تھے۔ [الفتح الربانی/كتاب الحج والعمرة/حدیث: 4242]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 915»
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 915
حدیث نمبر: 4243
عَنِ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَبَّى يَوْمَ النَّحْرِ حَتَّى رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ
۔ سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دس ذوالحجہ کو جمرۂ عقبہ کی رمی تک تلبیہ پکارتے رہے تھے۔ [الفتح الربانی/كتاب الحج والعمرة/حدیث: 4243]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1670،و مسلم: 1281، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1806 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1806»
وضاحت: فوائد: … دوران حج تلبیہ کہنے کی مدت ابتدائے احرام سے لے کر (۱۰) ذوالحجہ کو جمرۂ عقبہ کی رمی کرنے تک ہے، جبکہ عمرہ کے موقع پر اس کی مدت ابتدائے احرام سے طوافِ قدوم شروع کرنے تک ہے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 1670
36. بَابُ نَزْعِ الْمَخِيطِ لِلْمُحْرِمِ وَمَا لَا يَجُوزُ لَهُ مِنَ الثِّيَابِ وَالطِّيبِ
محرم کے لئے جائز اور ناجائز امور کا بیان محرم کا سلے ہوئے کپڑے اتار دینے کا بیان اور اس امر کی وضاحت کہ کون سے کپڑے اور خوشبو اس کے لیے ناجائز ہے
حدیث نمبر: 4244
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَجُلًا قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! مَا يَلْبَسُ الْمُحْرِمُ أَوْ قَالَ: مَا يَتْرُكُ الْمُحْرِمُ، فَقَالَ: ( (لَا يَلْبَسُ الْقَمِيصَ وَلَا السَّرَاوِيلَ وَلَا الْعِمَامَةَ وَلَا الْخُفَّيْنِ إِلَّا أَنْ لَا يَجِدَ نَعْلَيْنِ، فَمَنْ لَمْ يَجِدْ نَعْلَيْنِ فَلْيَلْبَسْهُمَا، أَسْفَلَ مِنَ الْكَعْبَيْنِ وَلَا الْبُرْنُسَ، وَلَا شَيْئًا مِنَ الثِّيَابِ مَسَّهُ وَرْسٌ وَلَا زَعْفَرَانٌ) )
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، ایک آدمی نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! محرم کس قسم کا لباس پہن سکتا ہے؟ یا اس نے کہا کہ محرم کس قسم کا لباس نہیں پہن سکتا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ قمیص، شلوار، پگڑی اور موزے نہیں پہن سکتا، ہاں اگر اسے جوتے دستیاب نہ ہوں تو موزوں کو ٹخنوں سے نیچے تک (کاٹ کر) پہن سکتا ہے، اسی طرح کوٹ یا برانڈی نہیں پہن سکتا اور وہ کپڑے بھی نہیں پہن سکتا، جس کو ورس اور زعفران کی خوشبو لگی ہو ئی ہو۔ [الفتح الربانی/كتاب الحج والعمرة/حدیث: 4244]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1838،5794، 5805، 5806، ومسلم: 1177، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4482 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4482»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 1838
حدیث نمبر: 4245
( (وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) بِنَحْوِهِ وَزَادَ فِيهِ) وَلَا تَنْتَقِبُ الْمَرْأَةُ الْمُحْرِمَةُ، وَلَا تَلْبَسُ الْقُفَّازَيْنِ
۔ (دوسری سند) یہ حدیث بھی سابقہ حدیث کی مانند ہے، البتہ اس میں یہ الفاظ زائد ہیں: اور احرام والی عورت نہ نقاب اوڑھے اور نہ دستانے پہنے۔ [الفتح الربانی/كتاب الحج والعمرة/حدیث: 4245]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6003»
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6003
حدیث نمبر: 4246
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَالِثٍ) قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (لَا يَلْبَسُ الْمُحْرِمُ الْبُرْنُسَ وَلَا الْقَمِيصَ وَلَا الْعِمَامَةَ وَلَا السَّرَاوِيلَ وَلَا الْخُفَّيْنِ إِلَّا أَنْ يَضْطَرَّ، يَقْطَعُهُ مِنْ عِنْدِ الْكَعْبَيْنِ، وَلَا يَلْبَسَ ثَوْبًا مَسَّهُ الْوَرْسُ، وَلَا الزَعْفَرَانُ إِلَّا أَنْ يَكُونَ غَسِيلًا) )
۔ (تیسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: محرم کوٹ یا برانڈی، قمیص، پگڑی، شلوار اور موزے نہیں پہن سکتا، اگر جوتے دستیاب نہ ہوں تو موزوں کو ٹخنوں سے نیچے تک کاٹ کر استعمال کر سکتا ہے، نیز وہ کپڑا بھی نہیں پہن سکتا، جس کو ورس یا زعفران خوشبو لگی ہوئی ہو، الّا یہ کہ وہ دھو لیا جائے۔ [الفتح الربانی/كتاب الحج والعمرة/حدیث: 4246]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5003»
وضاحت: فوائد: … سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: ((اِنْطَلَقَ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مِنَ الْمَدِیْنَۃِ بَعْدَ مَا تَرَجَّلَ وَادَّھَنَ وَلَبِسَ اِزَارَہٗوَھُوَوَاَصْحَابُہٗ،فَلَمْیَنْہَ عَنْ شَیْئٍ مِنَ الْاَرْْدِیَۃِ وَالْاُزُرِ تُلْبَسُ اِلَّا الْمُزَعْفَرَۃَ الَّتِیتَرْدَعُ عَلَی الْجِلْدِ)) … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کنگھی کی، تیل لگایا اور ازار پہنا اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور صحابہ مدینہ سے چل پڑے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کوئی چادر اور ازار پہننے سے منع نہیں کیا، مگر وہ زعفران والی چادر، جس سے زعفران جسم پر لگ جاتی ہو۔ (صحیح بخاری: ۱۵۴۵)
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5003
حدیث نمبر: 4247
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ رَابِعٍ) قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ عَلَى هَذَا الْمِنْبَرِ وَهُوَ يَنْهَى النَّاسَ إِذَا أَحْرَمُوا عَمَّا يُكْرَهُ لَهُمْ: ( (لَا تَلْبَسُوا الْعَمَائِمَ) ) فَذَكَرَ نَحْوَهُ
۔ (چوتھی سند) سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس منبر پر فرماتے ہوئے سنا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں کو احرام کے دوران ان امور سے منع کر رہے تھے، جو ان کے لیے ناپسند کیے جاتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: احرام کی حالت میں پگڑیاں نہ باندھا کرو، …۔ باقی حدیث سابقہ حدیث کی مانند ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الحج والعمرة/حدیث: 4247]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4868»
وضاحت: فوائد: … قمیص اور شلوار سے منع کر کے یہ تنبیہ کر دی گئی کہ ہر وہ لباس منع ہے جو بدن یا کسی ایک عضو کے مطابق سلائی کیا جائے۔ ٹخنوں سے مراد ہر پاؤں کی وہ دو دو ہڈیاں ہیں، جو پنڈلی اور پاؤں کے جوڑ پر نظر آتی ہیں، عام طور پر ہم لوگ ان ہی ہڈیوں کو ٹخنے کہتے ہیں۔ نقاب سے مراد عورت کا چہرے پر کپڑے کا کسنا اور باندھنا ہے۔حافظ ابن حجر نے کہا: نقاب سے مراد وہ دوپٹہ ہے، جو ناک پر یا آنکھوں کے خانوں کے نیچے باندھا جاتا ہے۔لیکنیہ بات ذہن نشین رہنی چاہیے کہ جیسے مرد قمیص نہیں پہن سکتا ہے، لیکن اپنے بدن کو چادر سے ڈھانک سکتا ہے اور عورت دستانے نہیں پہن سکتی، لیکن اس کے دوپٹے یا چادر وغیرہ میں اس کے ہاتھ چھپ سکتے ہیں، اسی طرح اگر کوئی عورت اپنے چہرے پر اس طرح کپڑا کر لے، جو کہ نقاب سے مختلف ہو تو یہ جائز ہو گا، مثلا سر سے نیچے کپڑا لٹکا لینا، شیڈ والی ٹوپی پہن کر اس پر کپڑا لٹکا لینا۔ واللہ اعلم بالصواب۔
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے:
((نَھَی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم النِّسَائَ فِیْ اِحْرَامِھِنَّ عَنِ الْقُفَّازَیْنِ وَالنِّقَابِ وَمَا مَسَّ الْوَرسُ وَالزَّعْفَرَانُ مِنَ الثَّیَابِ وَلْتَلْبَسْ بَعْدَ ذَالِکَ مَا اَحَبَّتْ مِنْ اَلْوَانِ الثِّیَابِ مُعَصْفَرًا اَوْ خَزًّا اَوْ حُلِیًّا اَوْ سَرَاوِیْلَ اَوْ قَمِیْصًا اَوْ خُفًّا۔)) … (ابو داود: ۱۸۲۷)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عورتوں کو دورانِ احرام دستانوں، نقاب اور ان کپڑوں سے منع کیا، جس کو ورس یا زعفران لگا ہوا ہو، اس کے بعد عورت قسم قسم کے جو ملبوس پسند کرے، پہن سکتی ہے، وہ زرد رنگ کی عُصْفُر بوٹی سے رنگا ہوا ہو یا اون یا ریشم کا بناہوا ہو یا زیور ہو یا شلوار ہویا قمیص ہو یا موزہ ہو۔
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے:
((نَھَی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم النِّسَائَ فِیْ اِحْرَامِھِنَّ عَنِ الْقُفَّازَیْنِ وَالنِّقَابِ وَمَا مَسَّ الْوَرسُ وَالزَّعْفَرَانُ مِنَ الثَّیَابِ وَلْتَلْبَسْ بَعْدَ ذَالِکَ مَا اَحَبَّتْ مِنْ اَلْوَانِ الثِّیَابِ مُعَصْفَرًا اَوْ خَزًّا اَوْ حُلِیًّا اَوْ سَرَاوِیْلَ اَوْ قَمِیْصًا اَوْ خُفًّا۔)) … (ابو داود: ۱۸۲۷)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عورتوں کو دورانِ احرام دستانوں، نقاب اور ان کپڑوں سے منع کیا، جس کو ورس یا زعفران لگا ہوا ہو، اس کے بعد عورت قسم قسم کے جو ملبوس پسند کرے، پہن سکتی ہے، وہ زرد رنگ کی عُصْفُر بوٹی سے رنگا ہوا ہو یا اون یا ریشم کا بناہوا ہو یا زیور ہو یا شلوار ہویا قمیص ہو یا موزہ ہو۔
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4868
حدیث نمبر: 4248
عَنْ عَطَاءٍ أَنَّهُ كَانَ لَا يَرَى بَأْسًا أَنْ يُحْرِمَ الرَّجُلُ فِي ثَوْبٍ مَصْبُوغٍ بِزَعْفَرَانٍ قَدْ غُسِلَ لَيْسَ فِيهِ نَفْضٌ وَلَا رَدْعٌ
۔ عطاء سے روایت ہے وہ اس بات میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے کہ محرم زعفران سے رنگے ہوئے کپڑے کو اس طرح دھو کر استعمال کرے کہ نہ تو اس میں اتنا رنگ رہے کہ وہ جسم کو لگے اور نہ اس میں اس کی خوشبو رہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الحج والعمرة/حدیث: 4248]
تخریج الحدیث: «أخرجه ابن ابي شيبة: ص 142، والبزار: 1086، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3313»
الحكم على الحديث:
أخرجه ابن ابي شيبة: ص 142