🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
30. بَابُ مَا جَاءَ فِي التَّمَتُّعِ بِالْعُمْرَةِ إِلَى الْحَجِّ
حج تمتع کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4199
عَنْ شُعْبَةَ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا جَمْرَةَ، الضُّبَعِيَّ قَالَ: تَمَتَّعْتُ فَنَهَانِي نَاسٌ عَنْ ذَلِكَ فَأَتَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فَسَأَلْتُهُ عَنْ ذَلِكَ فَأَمَرَنِي بِهَا، قَالَ: ثُمَّ انْطَلَقْتُ إِلَى الْبَيْتِ فَنِمْتُ فَأَتَانِي آتٍ فِي مَنَامِي فَقَالَ عُمْرَةٌ مُتَقَبَّلَةٌ وَحَجٌّ مَبْرُورٌ، قَالَ: فَأَتَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ فَأَخْبَرْتُهُ بِالَّذِي رَأَيْتُ فَقَالَ: اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، سُنَّةُ أَبِي الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ فِي الْهَدْيِ: جَزُورٌ أَوْ بَقَرَةٌ أَوْ شَاةٌ أَوْ شِرْكٌ فِي دَمٍ
۔ ابو جمرہ ضبعی کہتے تھے: میں نے حج تمتع کرنا چاہا لیکن لوگوں نے مجھے ایسا کرنے سے منع کردیا، پس میں سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی خدمت میں گیا اور ان سے اس بارے میں پوچھا، انہوں نے مجھے حج تمتع کرنے کا حکم دیا، سو میں بیت اللہ کی طرف روانہ ہوا اور وہاں جا کر سو گیا،میں نے خواب میں دیکھا کہ کوئی میرے پاس آیا اور اس نے کہا: یہ تو عمرۂ مقبولہ اور حج مبرور ہے۔ میں نے سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کو اپنا خواب بیان کیا، تو انہوں نے تعجب کرتے ہوئے بار بار کہا: اللّٰہُ أَکْبَرُ،اللّٰہُ أَکْبَرُ یہ عمل تو ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت ہے، پھر سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے ہدی کے بارے میں کہاکہ وہ ایک اونٹ یا ایک گائے یا ایک بکری یا بھیڑ ہو سکتی ہے یا ایک جانور میں حصہ بھی ڈالا جا سکتا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الحج والعمرة/حدیث: 4199]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1567، 1688، ومسلم: 1242، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2158 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2158»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 1567
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4200
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: تَمَتَّعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَتَّى مَاتَ وَأَبُو بَكْرٍ حَتَّى مَاتَ، وَعُمَرُ حَتَّى مَاتَ، وَعُثْمَانُ حَتَّى مَاتَ وَكَانَ أَوَّلَ مَنْ نَهَى عَنْهَا مُعَاوِيَةُ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَعَجِبْتُ مِنْهُ، وَقَدْ حَدَّثَنِي أَنَّهُ قَصَّرَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِمِشْقَصٍ
۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے، سیدنا ابوبکر نے، سیدنا عمر نے اور سیدنا عثمان نے دنیا سے رخصت ہونے تک تمتع کی اجازت دیئے رکھی۔سب سے پہلے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے اس سے منع کیا، سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: مجھے ان کے حج تمتع سے منع کرنے پر تعجب ہوا، کیونکہ انہوں نے خود مجھے بیان کیا تھا کہ انہوں نے تیر کے چوڑے پھل کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بال تراشے تھے۔ [الفتح الربانی/كتاب الحج والعمرة/حدیث: 4200]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف ليث بن ابي سليم۔ أخرجه الترمذي: 822، والنسائي: 5/ 153، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2664»
وضاحت: فوائد: … یہ روایت تو ضعیف ہے، لیکنیہ دو باتیں درست ہیں کہ سیدنا معاویہ حج کے مہنیوں میں عمرے سے منع کرتے تھے اور انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بال کاٹے تھے، لیکن سوال یہ ہے کہ وہ کون سا موقع تھا کہ جس پر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بال کاتے تھے، سنن ابو داود کی روایت میں ہے کہ بال کاٹنے کا یہ واقعہ مروہ پر پیش آیا تھا اور اس میں تقصیر کی گئی تھی، جبکہ حجۃ الوداع کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (۱۰) ذوالحجہ کو منی میں سر منڈوایا تھا۔ ایسے معلوم ہوتا ہے کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے عمرۂ جعرانہ کے موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بال کاٹے تھے، عمرۂ قضا کے موقع پر تو وہ مسلمان ہی نہیں ہوئے تھے، سنن ابو داود کی روایت میں”لِحَجَّتِہٖ“ کے الفاظ شاذ ہیں۔ اس تفصیل سے پتہ چلا کہ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے تعجب کی کوئی گنجائش نہیں ہے، کیونکہ وہ حجۃ الوداع کا موقع ہی نہیں تھا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے قبل خلفائے راشدین حج کے مہینوں میں عمرہ کرنے سے منع بھی کرتے تھے، لیکن اس کی گنجائش بھی دیتے تھے، منع کرنے کی وجوہات بیان کی جا چکی ہیں، رہا مسئلہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کا تو ممکن ہے کہ ان کا منع کرنا بھی اسی نوعیت کا ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ اس موضوع سے متعلقہ مرفوع روایات کا علم نہ ہونے اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی رائے کا لحاظ کرنے کی وجہ سے انھوں نے سختی سے منع کر دیا ہو۔

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف ليث بن ابي سليم ۔ أخرجه الترمذي: 822
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4201
عَنْ غُنَيْمٍ قَالَ: سَأَلْتُ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ الْمُتْعَةِ قَالَ: فَعَلْنَاهَا وَهَذَا كَافِرٌ بِالْعُرُشِ، يَعْنِي مُعَاوِيَةَ
۔ غنیم کہتے ہیں: میں نے سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے تمتع کے بارے میں پوچھا، انہوں نے کہا: ہم نے (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ) اُس وقت تمتع کیا تھا، جب یہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ مکہ مکرمہ کے گھروں میں ابھی تک مسلمان نہیں ہوئے تھے۔ [الفتح الربانی/كتاب الحج والعمرة/حدیث: 4201]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1225، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1568 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1568»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث میں تمتع سے مراد۷ھ والا عمرۂ قضاء ہے، اس وقت سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ مکہ مکرمہ میں مقیم جاہلیت کی حالت میں تھے، وہ ۸ھ میں فتح مکہ کے موقع پر مسلمان ہوئے تھے، اس طرح آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب جعرانہ اور حجۃ الوداع والا عمرہ کیا تو اس وقت سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ مسلمان تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے اور مکہ میں مقیم بھی نہ تھے۔ ”عُرُش“ سے مرادمکہ مکرمہ کے گھر ہیں، لغوی اعتبار سے یہ لفظ ”عَرِیْش“ کی جمع ہے، جس کے معانی سایہ دار چیز جیسے شامیانہ، چھپر، سائبان اور شیڈ کے ہیں، چونکہ مکہ مکرمہ میں زیادہ تر اسی قسم کے گھر نظر آتے تھے، اس لیے اس شہر کو ”عُرُش“ کہہ دیا گیا۔ بعض نے اس لفظ کو ”بِالْعَرْش“ پڑھا، اس سے مراد اللہ تعالی کا عرش ہے، اس سے مقصود بھی کفر ہی ہے۔

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 1225
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4202
عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ أَنَّهُ حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ وَالضَّحَّاكَ بْنَ قَيْسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَامَ حَجَّ مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ، وَهُمَا يَذْكُرَانِ التَّمَتُّعَ بِالْعُمْرَةِ إِلَى الْحَجِّ فَقَالَ الضَّحَّاكُ: لَا يَصْنَعُ ذَلِكَ إِلَّا مَنْ جَهِلَ أَمْرَ اللَّهِ، فَقَالَ سَعْدٌ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: بِئْسَ مَا قُلْتَ يَا ابْنَ أَخِي، فَقَالَ الضَّحَّاكُ: فَإِنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ قَدْ نَهَى عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ لَهُ سَعْدٌ: قَدْ صَنَعَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَصَنَعْنَاهَا مَعَهُ
۔ محمد بن عبد اللہ بن حارث کہتے ہیں: میں نے سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ اور سیدنا ضحاک بن قیس رضی اللہ عنہ سے اس سال سنا، جس سال سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے حج کیا تھا، یہ دونوں حج تمتع کا ذکر کر رہے تھے، ضحاک نے کہا: وہی آدمی یہ حج کرے گا، جو اللہ تعالی کے حکم سے جاہل ہو گا۔یہ سن کر سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: بھتیجے! تم نے بڑی غلط بات کہی ہے، آگے سے سیدنا ضحاک نے کہا: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے بھی اس سے منع کیا ہے، سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے جواباًکہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اور ہم نے آپ کی معیت میں حج تمتع کیا۔ [الفتح الربانی/كتاب الحج والعمرة/حدیث: 4202]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ أخرجه الترمذي: 823، والنسائي: 5/ 152، وأخرجه مسلم بلفظ الحديث السابق، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1503 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1503»
وضاحت: فوائد: … اگر حج تمتع سے اس کی اصطلاحی تعریف مراد لی جائے، یعنی عمرہ کر کے حلال ہو جانا اور پھر بعد میں از سرِ نو حج کا احرام باندھنا، تو اس حدیث کا معنییہ ہو گا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حج تمتع کرنے کی اجازت دی تھی، اور رئیس کسی چیز کا حکم دیتا ہے تو اس کو عملی طور پر بھی اس کی طرف منسوب کیا جاتا ہے، جیسے کہا جاتا ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے زانی کو رجم کیا اور چور کا ہاتھ کاٹا، حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ کام خود اپنے ہاتھ سے انجام نہیں دیئے تھے، بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تو صرف حکم دیا تھا، ارشادِ باری تعالی ہے: {وَنَادٰی فِرْعَوْنُ فِیْ قَوْمِہٖ} (فرعون نے اپنی قوم میں آواز دی)، اس کا معنییہ ہے کہ فرعون کے حکم سے آواز دی گئی تھی۔

الحكم على الحديث:
اسناده حسن ۔ أخرجه الترمذي: 823
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4203
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: مُتْعَتَانِ كَانَتَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَنَهَانَا عَنْهُمَا عُمَرُ فَانْتَهَيْنَا
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ نکاح متعہ اور حج تمتع دونوں کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں اجازت تھی، لیکن جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ہمیں ان سے منع کیا تو ہم رک گئے۔ [الفتح الربانی/كتاب الحج والعمرة/حدیث: 4203]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1249، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14834 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14895»
وضاحت: فوائد: … نکاح متعہ: کسی عورت سے مقررہ مدت تک نکاح کرنا۔ یہ نکاح عہد ِ نبوی میں ہی حرام ہو گیا تھا اور اس کی حرمت پر مسلمانوں پر اتفاق ہے، مگر بعض لوگوں کو اس کی حرمت کا علم نہ ہو سکا اور وہ اسے حسب ِ سابق جائز سمجھتے رہے، جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو اس چیز کا علم ہوا تو انھوں سرکاری اعلان کے ذریعے اس کی حرمت کا دوبارہ اعلان کر دیا، لیکن جن لوگوں کو ساری تفصیل کا علم نہیں تھا، انھوں نے یہ سمجھا کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ہی اس نکاح کو حرام قرار دیا ہے، نکاح متعہ کی مزید وضاحت کتاب النکاح میں آئے گی۔ حج تمتع کا جائز ہونا بھی اتفاقی مسئلہ ہے، پہلے یہ بات گزر چکی ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا اس سے منع کرنے کا کیا مطلب ہے۔

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 1249
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4204
عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَبِي مُوسَى عَنْ أَبِي مُوسَى (الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ) أَنَّهُ كَانَ يُفْتِي بِالْمُتْعَةِ فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: رُوَيْدَكَ بِبَعْضِ فُتْيَاكَ، فَإِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا أَحْدَثَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ فِي النُّسُكِ بَعْدَكَ حَتَّى لَقِيَهُ بَعْدُ فَسَأَلَهُ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: قَدْ عَلِمْتُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَدْ فَعَلَهُ وَأَصْحَابَهُ، وَلَكِنِّي كَرِهْتُ أَنْ يَظَلُّوا بِهِنَّ مُعْرِسِينَ فِي الْأَرَاكِ ثُمَّ يَرُوحُوا بِالْحَجِّ تَقْطُرُ رُءُوسُهُمْ
۔ سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ حج تمتع کے جواز کا فتویٰ دیا کرتے تھے، ایک آدمی نے ان سے کہا: ذرا اپنے بعض فتووں سے رک جاؤ،کیونکہ آپ نہیں جانتے کہ آپ کے بعد امیر المومنین نے مناسک ِ حج کے بارے میں کیا حکم جاری کیا ہے۔ بعد میں سیدناابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے ان سے اس کے بارے میں پوچھا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں جانتا ہوں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اور صحابہ کرام نے حج تمتع کیا ہے، مگر میں یہ پسند نہیں کرتا کہ یہ لوگ رات کو اَرَاک درختوں کے نیچے اپنی بیویوں کے ساتھ ہم بستری کریں اور پھر جب حج کے لئے روانہ ہوں تو ان کے سروں سے غسل کے پانی کے قطرے گر رہے ہوں۔ [الفتح الربانی/كتاب الحج والعمرة/حدیث: 4204]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1222، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 351 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 351»

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 1222
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4205
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِي مُوسَى (الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ) أَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: هِيَ سُنَّةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَعْنِي الْمُتْعَةَ، وَلَكِنِّي أَخْشَى أَنْ يُعْرِسُوا بِهِنَّ تَحْتَ الْأَرَاكِ ثُمَّ يَرُوحُوا بِهِنَّ حُجَّاجًا
۔ (دوسری سند) سیدناابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: حج تمتع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت ہے، مگر اس بات کا اندیشہ ہے کہ یہ لوگ اَرَاک کے درختوں کے نیچے اپنی بیویوں سے ہم بستری کریں گے اور پھر حج کا احرام باندھ کر چل پڑیں گے۔ [الفتح الربانی/كتاب الحج والعمرة/حدیث: 4205]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 342»
وضاحت: فوائد: … سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے جو پابندی لگائی تھی، اس کی وجہ بیان کر دی، بہرحال یہ چیز سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو طبعی طور پر ناگوار گزرتی تھی، وگرنہ شرعی احکام کی روشنی میں جب میاں بیوی احرام کی حالت میں نہ ہوں تو وہ حق زوجیت ادا کر سکتے ہیں،یہ حج و عمرہ کے احرام سے پہلے ہو یا کسی اور وقت۔

الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 342
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4206
عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ: كَانَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يُفْتِي بِالَّذِي أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنَ الرُّخْصَةِ بِالتَّمَتُّعِ، وَسَنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِيهِ، فَيَقُولُ نَاسٌ لِابْنِ عُمَرَ: كَيْفَ تُخَالِفُ أَبَاكَ وَقَدْ نَهَى عَنْ ذَلِكَ؟ فَيَقُولُ لَهُمْ عَبْدُ اللَّهِ: وَيْلَكُمْ! أَلَا تَتَّقُونَ اللَّهَ، إِنْ كَانَ عُمَرُ نَهَى عَنْ ذَلِكَ فَيَبْتَغِي فِيهِ الْخَيْرَ يَلْتَمِسُ بِهِ تَمَامَ الْعُمْرَةِ، فَلِمَ تُحَرِّمُونَ ذَلِكَ وَقَدْ أَحَلَّهُ اللَّهُ وَعَمِلَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، أَفَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَحَقُّ أَنْ تَتَّبِعُوا أَمْ سُنَّةُ عُمَرَ؟ إِنَّ عُمَرَ لَمْ يَقُلْ لَكُمْ إِنَّ الْعُمْرَةَ فِي أَشْهُرِ الْحَجِّ حَرَامٌ، وَلَكِنَّهُ قَالَ: إِنَّ أَتَمَّ الْعُمْرَةِ أَنْ تُفْرِدُوهَا مِنْ أَشْهُرِ الْحَجِّ
۔ سالم بن عبد اللہ بن عمرسے مروی ہے کہ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ قرآن مجید اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت کے مطابق حج تمتع کے جواز کا فتویٰ دیا کرتے تھے۔ جب لوگ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے کہتے کہ آپ کے والد تو حج تمتع سے منع کرتے ہیں، تو پھر آپ ان کے حکم کی مخالفت کیوں کرتے ہو تو وہ ان کو یوں جواب دیتے تھے: تم پر افسوس ہے، کیا تم اللہ سے نہیں ڈرتے؟اگر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے منع کیاہے تو ان کا ارادہ بھی خیر کاہی ہو گا کہ تم مستقل طور پر عمرہ کرو، اب تم اسے حرام کیوں سمجھتے ہو؟ جبکہ اللہ نے اسے حلال کیا ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس پر عمل کیا ہے۔ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اتباع کے زیادہ حق دار ہیں یا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا فعل؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے تم سے یہ تو نہیں کہا کہ حج کے مہینوں میں عمرہ کرنا حرام ہے، ان کا کہنا تو یہ تھا کہ مکمل عمرہ یہ ہے کہ تم اس کو حج کے مہینوں کے علاوہ مستقل طور پر ادا کرو۔ [الفتح الربانی/كتاب الحج والعمرة/حدیث: 4206]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف بھذه السياقة لضعف صالح بن ابي الاخضر۔ أخرجه الترمذي بسياقة اخري: 824، سياتي لفظ في الشرح، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5700 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5700»
وضاحت: فوائد: … جامع ترمذی کی روایت کے الفاظ یہ ہیں: سالم بن عبد اللہ کہتے ہیں: ایک شامی باشندے نے سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے حج کے ساتھ عمرہ کر لینے کے بارے میں سوال کیا، انھوں نے کہا: ایسا کرنا درست ہے۔ شامی نے کہا: آپ کے باپ تو اس سے منع کرتے ہیں؟ انھوں نے کہا: اس بارے تمہارا کیا خیال ہے کہ اگر میرے باپ ایک چیز سے منع کرتے ہیں، جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے عملاً کیا ہے تو میرے باپ کے حکم کی پیروی کی جائے گییا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم کی؟ اس آدمی نے کہا: جی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم کی پیروی کی جائے گی۔ یہ سن کر سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تو پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تو یہ کام کیا ہے۔

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف بھذه السياقة لضعف صالح بن ابي الاخضر۔ أخرجه الترمذي بسياقة اخري: 824
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4207
عَنْ أَبِي نَضْرَةَ قَالَ: قُلْتُ لِجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: إِنَّ ابْنَ الزُّبَيْرِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَنْهَى عَنِ الْمُتْعَةِ وَإِنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَأْمُرُ بِهَا، قَالَ: فَقَالَ لِي: عَلَى يَدَيَّ جَرَى الْحَدِيثُ، تَمَتَّعْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، قَالَ عَفَّانُ: وَمَعَ أَبِي بَكْرٍ، فَلَمَّا وَلِيَ عُمَرُ خَطَبَ النَّاسَ فَقَالَ: إِنَّ الْقُرْآنَ هُوَ الْقُرْآنُ وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ هُوَ الرَّسُولُ، وَإِنَّهُمَا كَانَتَا مُتْعَتَانِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِحْدَاهُمَا مُتْعَةُ الْحَجِّ وَالْأُخْرَى مُتْعَةُ النِّسَاءِ
۔ ابو نضرہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے کہاکہ سیدنا عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ حج تمتع سے منع کرتے ہیں اور سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ اس کا حکم دیتے ہیں، سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے کہا: حج سے متعلقہ یہ حدیث میرے ہاتھ پر گھومتی ہے، ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور پھر سیدنا ابو بکر کے ساتھ حج تمتع کیا تھا، جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ خلیفہ ہوئے تو انہوں نے لوگوں کو خطبہ دیا اور کہا: بیشک قرآن قرآن ہے اور اللہ کے رسول بھی رسول ہیں، بات یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں متعہ کی دو قسمیں رائج تھیں، ایک حج والا متعہ اور دوسرا عورتوں والا۔ [الفتح الربانی/كتاب الحج والعمرة/حدیث: 4207]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1217، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 369 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 369»
وضاحت: فوائد: … ”بیشک قرآن قرآن ہے اور اللہ کے رسول بھی رسول ہیں۔“اس جملے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالی کی کتاب ہر قسم کی تبدیلی سے محفوظ ہے اور واجب الاتباع ہے، اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بات سنی جائے گی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم پر عمل کیا جائے گا، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بولنے کا دارومدار بھی وحی پر ہے۔سیدنا عمر رضی اللہ عنہ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں دو قسم کے متعے جائز اور رائج تھے، اب ان کی ضرورت ختم ہو چکی ہے۔سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حج تمتع کیا تھا، لیکن جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ خلیفہ بنے توا نھوں نے کہا: بیشک اللہ تعالی اپنے رسول کے لیے جو چاہتا ہے، حلال کر دیتا ہے اور بیشک قرآن مجید بھی اپنی منازل پر نازل ہوا، {وَأَتِمُّوْا الْحَجَّ وَالْعُمْرَۃَ لِلّٰہِ} … ”اور حج اور عمرے کو اللہ تعالی کے لیے پورا کرو۔“ جیسے اللہ تعالی نے تم کو حکم دیا ہے، اور ان عورتوں کے اس نکاح کو ختم کر دو، جس نے کسی عورت کے ساتھ مقررہ مدت تک یہ نکاح کیا تو میں اس کو پتھروں سے رجم کر دوں گا۔ (صحیح مسلم)نکاح متعہ کی مزید وضاحت کتاب النکاح میں آئے گی۔

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 1217
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4208
عَنْ يُونُسَ عَنِ الْحَسَنِ أَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَرَادَ أَنْ يَنْهَى عَنْ مُتْعَةِ الْحَجِّ فَقَالَ لَهُ أُبَيُّ (بْنُ كَعْبٍ) رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: لَيْسَ ذَلِكَ لَكَ، قَدْ تَمَتَّعْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يَنْهَنَا، فَأَضْرَبَ عَنْ ذَلِكَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، وَأَرَادَ أَنْ يَنْهَى عَنْ حُلَلِ الْحِبْرَةِ، لِأَنَّهَا تُصْبَغُ بِالْبَوْلِ، فَقَالَ لَهُ أُبَيٌّ: لَيْسَ ذَلِكَ لَكَ، قَدْ لَبِسَهُنَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَلَبِسْنَاهُنَّ فِي عَهْدِهِ
۔ حسن سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے حج تمتع سے منع کرنے کا ارادہ کیا تو سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: آپ حج تمتع سے منع نہیں کر سکتے، کیونکہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی معیت میں یہ حج کیاہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں اس سے نہیں روکا، لیکن سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان کی بات سے اعراض کیا اور اس کی طرف کوئی توجہ نہیں کی، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے یمنی چادروں سے منع کرنا چاہا کیونکہ ان کو پیشاب کے ساتھ رنگا جاتا تھا، لیکن سیدنا ابی رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: آپ اس سے بھی نہیں روک سکتے، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی یہ پہنی تھیں اور آپ کے زمانہ میں ہم نے ان کو زیب ِ تن کیا تھا۔ [الفتح الربانی/كتاب الحج والعمرة/حدیث: 4208]
تخریج الحدیث: «ھذا الحديث منقطع، لان الحسن البصري لم يلق عمر ولا ابيّا، لكن قد صحح نھي عمر عن متعة الحج، وأما الشطر الثاني فقد جاء من۔ طرق عن عمر۔، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21283 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21607»
وضاحت: فوائد: … اگر واقعی وہ کپڑا پیشاب میں رنگا جاتا تھا تووہ اس وقت تک ناپاک رہے گا، جب تک اس پر پیشاب کے اثرات باقی رہیں گے، جب اس کے اثرات ختم ہو جائیں گے تو وہ پاک ہو جائے گا، ایسی صورت کپڑے کو جس رنگ میں رنگا جائے گا، وہ رنگ ناپاک نہیں ہو گا۔

الحكم على الحديث:
ھذا الحديث منقطع
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں