الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
38. بَابُ تَظَلُّلِ الْمُحْرِمِ مِنَ الْحَرِّ أَوْ غَيْرِهِ وَمَا جَاءَ فِي تَغْطِيَةِ الرَّأْسِ لِلرَّجُلِ
احرام کی حالت میں گرمی وغیرہ سے بچنے کے لئے سایہ کرنے، مرد کا سر کو اور¤عورت کا چہرہ کو ڈھانپنے اور محرم کا اپنے خادم کو مارنے کا بیان
حدیث نمبر: 4269
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فِي الرَّجُلِ الَّذِي وَقَصَتْهُ نَاقَتُهُ وَهُوَ مُحْرِمٌ فَمَاتَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (وَلَا تُخَمِّرُوا رَأْسَهُ، فَإِنَّهُ يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُلَبِّيًا) )
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ اس آدمی کا واقعہ بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں، جسے اس کی اونٹنی نے گرا دیا تھا اور وہ فوت ہو گیا تھا،کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے بارے میں فرمایا تھا: اس کا سر نہ ڈھانپنا، کیونکہ اس کو قیامت کے دن اس حال میں اٹھایا جائے گا کہ یہ تلبیہ کہہ رہا ہو گا۔ [الفتح الربانی/كتاب الحج والعمرة/حدیث: 4269]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1851، ومسلم: 1206، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1850 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1850»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 1851
حدیث نمبر: 4270
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ الرُّكْبَانُ يَمُرُّونَ بِنَا وَنَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مُحْرِمَاتٌ، فَإِذَا حَاذَوْا بِنَا، أَسْدَلَتْ إِحْدَانَا جِلْبَابَهَا مِنْ رَأْسِهَا عَلَى وَجْهِهَا، فَإِذَا جَازُوا بِنَا كَشَفْنَاهُ
۔ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ احرام کی حالت میں تھیں، جب قافلے ہمارے پاس سے گزرتے تو ہم اپنی چادریں سروں سے چہروں کے اوپر کر لیتیں اور جب وہ گزر جاتے تو ہم چہرے سے چادریں ہٹا لیتیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الحج والعمرة/حدیث: 4270]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف يزيد بن ابي زياد القرشي۔ أخرجه ابوداود: 1833، وابن ماجه: 2935، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة:24021 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24522»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف يزيد بن ابي زياد القرشي ۔ أخرجه ابوداود: 1833
حدیث نمبر: 4271
عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَتْ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حُجَّاجًا حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالْعَرْجِ، نَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، فَجَلَسَتْ عَائِشَةُ إِلَى جَنْبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَجَلَسْتُ إِلَى جَنْبِ أَبِي وَكَانَتْ زِمَالَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَزِمَالَةُ أَبِي بَكْرٍ وَاحِدَةً مَعَ غُلَامِ أَبِي بَكْرٍ، فَجَلَسَ أَبُو بَكْرٍ يَنْتَظِرُهُ أَنْ يَطْلُعَ عَلَيْهِ فَطَلَعَ وَلَيْسَ مَعَهُ بَعِيرٌ، فَقَالَ: أَيْنَ بَعِيرُكَ؟ قَالَ: قَدْ أَضْلَلْتُهُ الْبَارِحَةَ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: بَعِيرٌ وَاحِدٌ تُضِلُّهُ؟ فَطَفِقَ يَضْرِبُهُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَتَبَسَّمُ، وَيَقُولُ: ( (انْظُرُوا إِلَى هَذَا الْمُحْرِمِ وَمَا يَصْنَعُ) )
۔ سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی معیت میں حج کے لئے روانہ ہوئے، جب ہم مقام عرج پر پہنچے تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پہلو میں بیٹھ گئیں اور میں اپنے والد کے پہلو میں بیٹھ گئی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی سواری اور سامان وغیرہ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کے غلام کی تحویل میں تھے، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ بیٹھے غلام کا انتظار کر رہے تھے، لیکن جب وہ آیا تو اس کے پاس اونٹ نہیں تھا، جب انھوں نے اس سے پوچھا کہ اونٹ کہاں ہے؟ اس نے کہا: وہ تو رات کو گم ہو گیا تھا، یہ سن کر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو غصہ آ گیا اور کہنے لگے: ایک ہی اونٹ تھا، وہ بھی تم نے گم کر دیا،یہ کہہ کر اسے مارنے بھی لگ گئے،جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دیکھ کر مسکرا رہے تھے اور یہ فرما رہے تھے: دیکھویہ احرام کی حالت میں ہے اور کیا کر رہا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الحج والعمرة/حدیث: 4271]
تخریج الحدیث: «قال الالباني: حسن (سنن ابي داود)۔ أخرجه ابوداود: 1818،و ابن ماجه: 2933، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة:26916 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27455»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث سے معلوم ہوا کہ محرِم تادیبی کاروائی کرتے ہوئے اپنے غلام کو سزا دے سکتا ہے، بہرحال افضل یہی ہے کہ معاف کر دیا جائے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مقصود یہی تھا یا سزا دینا ضروری ہو تو ممکن حد تک اسے حلال ہونے تک مؤخر کر دیا جائے۔
الحكم على الحديث:
قال الالباني: حسن (سنن ابي داود)۔ أخرجه ابوداود: 1818
39. بَابُ حَدِيثِ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَتَعَدُّدِ طُرُقِهِ فِي الرُّخْصَةِ فِي حَلْقِ
سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث اور اس کے متعدد طرق کا بیان
حدیث نمبر: 4272
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِالْحُدَيْبِيَةِ، وَنَحْنُ مُحْرِمُونَ وَقَدْ حَصَرَنَا الْمُشْرِكُونَ وَكَانَتْ لِي وَفْرَةٌ فَجَعَلَتِ الْهَوَامُّ تَسَاقَطُ عَلَى وَجْهِي، فَمَرَّ بِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: ( (أَيُؤْذِيكَ هَوَامُّ رَأْسِكَ؟) ) قُلْتُ: نَعَمْ، فَأَمَرَهُ أَنْ يَحْلِقَ، قَالَ: وَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: {فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَرِيضًا أَوْ بِهِ أَذًى مِنْ رَأْسِهِ فَفِدْيَةٌ مِنْ صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُكٍ}
۔ سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ حدیبیہ کے مقام پر احرام کی حالت میں تھے، مشرکین مکہ نے ہمیں آگے جانے سے روک دیا، میرے لمبے لمبے بال تھے اورجوئیں میرے چہرے پر گر رہی تھیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا میرے پاس سے گزر ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: کیا تمہارے سر کی جوئیں تمہیں تکلیف دے رہی ہیں؟ میں نے عرض کیا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے سر منڈانے کا حکم دیا اور یہ آیت نازل ہوئی: {فَمَنْ کَانَ … أَوْصَدَقَۃٍ أَوْ نُسُکٍ}(تم میں سے جو آدمی مریض ہو یا اس کے سر میں تکلیف ہو، تو وہ بال منڈوالے اور روزوں کا،یا صدقہ کا یا قربانی کا فدیہ دے)۔ [الفتح الربانی/كتاب الحج والعمرة/حدیث: 4272]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1814، 1816، 4517، 6708، ومسلم: 1201، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18101 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18280»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 1814
حدیث نمبر: 4273
( (وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) بِنَحْوِهِ وَفِيهِ) فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَحْلِقَ رَأْسَهُ وَقَالَ: صُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ أَوْ أَطْعِمْ سِتَّةَ مَسَاكِينَ، مُدَّيْنِ مُدَّيْنِ لِكُلِّ إِنْسَانٍ أَوِ انْسُكْ بِشَاةٍ، أَيَّ ذَلِكَ فَعَلْتَ أَجْزَأَكَ
۔ (دوسری سند) اسی طرح مروی ہے، البتہ اس میں ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے حکم دیا کہ وہ سر منڈوالے اور فرمایا: تم فدیہ میں تین روزے رکھو یا چھ مساکین کو اس طرح کھانا کھلاؤ کہ ہر ایک کو دو دو مُدّ کھانا آ جائے یا ایک بکری ذبح کر دو، تم ان میں سے جو کام بھی کر لو گے، تمہیں کفایت کرے گا۔ [الفتح الربانی/كتاب الحج والعمرة/حدیث: 4273]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18286»
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18286
حدیث نمبر: 4274
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَالِثٍ بِنَحْوِهِ وَفِيهِ) فَأَمَرَنِي أَنْ أَحْلِقَ وَهُمْ بِالْحُدَيْبِيَةِ وَلَمْ يَتَبَيَّنْ لَهُمْ أَنَّهُمْ يَحْلِقُونَ بِهَا، وَهُمْ عَلَى طَمَعٍ أَنْ يَدْخُلُوا مَكَّةَ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ الْفِدْيَةَ فَأَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ أُطْعِمَ فَرْقًا بَيْنَ سِتَّةِ مَسَاكِينَ أَوْ أَصُومَ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ أَوْ أَذْبَحَ شَاةً
۔ (تیسری سند) اسی طرح مروی ہے، البتہ اس میں ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں سر منڈوالوں، جبکہ مسلمان ابھی حدیبیہ کے مقام میں تھے اور ابھی تک ان کو یہ علم نہیں تھا کہ سب کو اسی مقام پر سر منڈوانا پڑے گا، سب کو یہی امید تھی کہ وہ مکہ مکرمہ داخل ہوں گے، اُدھر اللہ تعالیٰ نے فدیہ کا حکم نازل کر دیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں ایک فَرَق چھ مساکین میں تقسیم کر دوں یا تین روزے رکھوں یا ایک بکری ذبح کروں۔ [الفتح الربانی/كتاب الحج والعمرة/حدیث: 4274]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18293»
وضاحت: فوائد: … ایک ”فَرَق“ میں تین صاع کی گنجائش ہوتی ہے اور ایک صاع میں چار مُدّ ہوتے ہیں، اس طرح ہر مسکین کو دو دو مُدّ ہی آئے گے۔
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18293
حدیث نمبر: 4275
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ رَابِعٍ بِنَحْوِهِ وَفِيهِ) قَالَ: فَاحْلِقْهُ وَاذْبَحْ شَاةً أَوْ صُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ أَوْ تَصَدَّقْ بِثَلَاثَةِ أَصْعِثٍ مِنْ تَمْرٍ بَيْنَ سِتَّةِ مَسَاكِينَ
۔ (چوتھی سند) یہ حدیث اسی طرح مروی ہے، البتہ اس میں ہے: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سرمنڈوا دو اور بطور فدیہ ایک بکری ذبح کرو یا تین روزے رکھو یا کھجور کے تین صاع چھ مساکین میں تقسیم کر دو۔ [الفتح الربانی/كتاب الحج والعمرة/حدیث: 4275]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18297»
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18297
حدیث نمبر: 4276
(وَمِنْ طَرِيقٍ خَامِسٍ) عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْقِلٍ الْمُزَنِّيِّ قَالَ: قَعَدْتُ إِلَى كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَهُوَ فِي الْمَسْجِدِ (وَفِي لَفْظٍ: يَعْنِي مَسْجِدَ الْكُوفَةِ) فَسَأَلْتُهُ عَنْ هَذِهِ الْآيَةِ {فَفِدْيَةٌ مِنْ صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُكٍ} قَالَ: فَقَالَ كَعْبٌ: نَزَلَتْ فِيَّ، كَانَ بِي أَذًى مِنْ رَأْسِي فَحُمِلْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَالْقَمْلُ يَتَنَاثَرُ عَلَى وَجْهِي، فَقَالَ: ( (مَا كُنْتُ أَرَى أَنَّ الْجَهْدَ بَلَغَ مِنْكَ مَا أَرَى، أَتَجِدُ شَاةً؟) ) فَقُلْتُ: لَا، فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: {فَفِدْيَةٌ مِنْ صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُكٍ} قَالَ: صَوْمُ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ أَوْ إِطْعَامُ سِتَّةِ مَسَاكِينَ، نِصْفَ صَاعٍ طَعَامٍ لِكُلِّ مِسْكِينٍ، قَالَ: فَنَزَلَتْ فِيَّ خَاصَّةً وَهِيَ لَكُمْ عَامَّةً
۔ (پانچویں سند) عبد اللہ بن معقل مزنی کہتے ہیں: میں کوفہ کی مسجد میں سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا ہواتھا، میں نے ان سے اس آیت {فَفِدْیَۃٌ مِّنْ صِیَامٍ أَوْ صَدَقَۃٍ أَوْ نُسُکٍ}(سورۂ بقرہ: ۱۹۶) کی بابت پوچھا، انہوں نے کہا: یہ آیت میرے بارے میں نازل ہوئی تھی، میرے سر میں جوئیں تھیں، اس لیے مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لایا گیا، جوئیں میرے چہرے پر گر رہی تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرایہ خیال تو نہیں تھا کہ تجھے اس قدر تکلیف اور مشقت ہو گی، کیا تم بکری ذبح کرنے کی استطاعت رکھتے ہو؟ میں نے عرض کیا: جی نہیں، اس وقت یہ آیت نازل ہوئی: {فَفِدْیَۃٌ مِّنْ صِیَامٍ أَوْ صَدَقَۃٍ أَوْ نُسُکٍ} (سورۂ بقرہ: ۱۹۶) یعنی تین روزے رکھنا یا چھ مساکین کو اس طرح کھانا کھلانا کہ ہر ایک کو نصف نصف صاع آ جائے۔ سیدنا کعب رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ آیت خاص طور پر نازل تو میرے بارے میں ہوئی، لیکن اس کا حکم تم سب کے لیے عام ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الحج والعمرة/حدیث: 4276]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18289»
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18289
حدیث نمبر: 4277
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ سَادِسٍ بِنَحْوِهِ وَفِيهِ) قَالَ: ( (أَتَقْدِرُ عَلَى نُسُكٍ؟) ) قُلْتُ: لَا، قَالَ: ( (فَصُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ أَوْ أَطْعِمْ سِتَّةَ مَسَاكِينَ، لِكُلِّ مِسْكِينٍ نِصْفُ صَاعٍ مِنْ تَمْرٍ) )
۔ (چھٹی سند) اس میں ہے: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم بکری ذبح کرنے کی طاقت رکھتے ہو؟ میں نے کہا: جی نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر تم تین روزے رکھ لو یا چھ مسکینوں کو اس طرح کھانا کھلا دو کہ ہر مسکین کو کھجوروں کا نصف نصف صاع مل جائے۔ [الفتح الربانی/كتاب الحج والعمرة/حدیث: 4277]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18300»
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18300
حدیث نمبر: 4278
(وَمِنْ طَرِيقٍ سَابِعٍ) عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَمِلْتُ، حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّ كُلَّ شَعْرَةٍ مِنْ رَأْسِي فِيهَا الْقَمْلُ مِنْ أَصْلِهَا إِلَى فَرْعِهَا، فَأَمَرَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حِينَ رَأَى ذَلِكَ قَالَ: ( (احْلِقْ) ) وَنَزَلَتِ الْآيَةُ، قَالَ: ( (أَطْعِمْ سِتَّةَ مَسَاكِينَ ثَلَاثَةَ أَصْوَعٍ مِنْ تَمْرٍ) )
۔ (ساتویں سند) سیدنا کعب بن عجرہ کہتے ہیں:میرے سر میں اس قدر جوئیں ہو گئیں کہ مجھے یہ گمان ہونے لگا کہ میرے سر کے ہر ہر بال کی جڑ سے لے کر اوپر تک جوئیں ہی جوئیں ہیں، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرایہ حال دیکھا تو فرمایا: سر منڈا دو۔ اور اس کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: چھ مساکین کو تین صاع کھجوریں کھلا دو۔ [الفتح الربانی/كتاب الحج والعمرة/حدیث: 4278]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18281»
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18281