🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
30. بَابُ مَا جَاءَ فِي التَّمَتُّعِ بِالْعُمْرَةِ إِلَى الْحَجِّ
حج تمتع کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4209
عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ قَالَ: اجْتَمَعَ عَلِيٌّ وَعُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا بِعُسْفَانَ فَكَانَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَنْهَى عَنِ الْمُتْعَةِ وَالْعُمْرَةِ، فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: تُرِيدُ إِلَى أَمْرٍ فَعَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تَنْهَى عَنْهَا، فَقَالَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: دَعْنَا مِنْكَ
۔ سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ وادیٔ عسفان میں اکٹھے ہو گئے، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ حج تمتع اور عمرہ سے منع کرتے تھے، لیکن سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: آپ اس عمل سے روکنا چاہتے ہیں، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود کیا تھا، لیکن انھوں نے آگے سے کہا: آپ اپنی باتوں سے ہمیں معاف ہی رکھیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الحج والعمرة/حدیث: 4209]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1569، ومسلم: 1223، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1146 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1146»
وضاحت: فوائد: … سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی دلیل انتہائی مضبوط تھی، کیونکہ انھوںنے مقابلے میں جواز یا عدم جواز کی بات نہیں کی، بلکہ براہِ راست یہ کہہ دیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خود جو کام سرانجام دیتے تھے، اے عثمان! تم اس سے کیوں منع کرتے ہو۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 1569
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4210
عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ يَسَارٍ قَالَ: إِنَّا لَبِمَكَّةَ إِذْ خَرَجَ عَلَيْنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فَنَهَى عَنِ التَّمَتُّعِ بِالْعُمْرَةِ إِلَى الْحَجِّ وَأَنْكَرَ أَنْ يَكُونَ النَّاسُ صَنَعُوا ذَلِكَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَبَلَغَ ذَلِكَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، فَقَالَ: وَمَا عَلِمَ ابْنُ الزُّبَيْرِ بِهَذَا؟ فَلْيَرْجِعْ إِلَى أُمِّهِ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فَلْيَسْأَلْهَا فَإِنْ لَمْ يَكُنِ الزُّبَيْرُ قَدْ رَجَعَ إِلَيْهَا حَلَالًا، وَحَلَّتْ، فَبَلَغَ ذَلِكَ أَسْمَاءَ فَقَالَتْ: يَغْفِرُ اللَّهُ لِابْنِ عَبَّاسٍ، وَاللَّهِ! لَقَدْ أَفْحَشَ، قَدْ وَاللَّهِ! صَدَقَ ابْنُ عَبَّاسٍ، لَقَدْ حَلُّوا وَأَحْلَلْنَا وَأَصَابُوا النِّسَاءَ
۔ اسحاق بن یسار کہتے ہیں: ہم مکہ مکرمہ میں تھے کہ سیدنا عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ ہمارے ہاں تشریف لائے اور حج تمتع کرنے سے منع کیا اور انہوں نے اس بات کا بھی انکار کیا کہ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ایسا حج کیا ہو، جب یہ بات سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کو پہنچی تو انہوں نے کہا: ابن زبیر رضی اللہ عنہ کو اس کا کیا علم؟ اسے چاہیے کہ وہ اپنی ماں اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہ سے جا کر پوچھ لے، اگر سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے احرام نہ کھولا ہو اور ان کی ماں نے کھول دیا ہو۔ جب یہ بات سیدہ اسماء نے سنی تو انہوں نے کہا: اللہ تعالیٰ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کو معاف فرمائے، انھوں نے نامناسب بات کی ہے، بہرحال اللہ کی قسم ہے کہ انھوں نے سچی بات کی ہے، لوگوں نے واقعی احرام کھول دیئے تھے اور ہم نے بھی احرام کھول دیتے تھے اور لوگوں نے اپنی بیویوں سے ہم بستری بھی کی تھی۔ [الفتح الربانی/كتاب الحج والعمرة/حدیث: 4210]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16103 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16202»
وضاحت: فوائد: … یہ حدیث مختلف الفاظ کے ساتھ چند ابواب پہلے اس باب میں گزر چکی ہے: ”حج تمتع، حج افراد اور حج قران میں سے کوئی ایک ادا کر لینے کا اختیار دینے کا بیان“ اس باب کی دوسری حدیث دیکھیں۔ ”انھوں نے نامناسب بات کی ہے۔“ اس سے ان کی مراد دو باتوں میں سے ایک ہو سکتی ہے: (۱) اسے چاہیے کہ وہ اپنی ماں اسماء سے پوچھ لے، اس کے نامناسب ہونے کی وجہ یہ ہے کہ وہ یہ اشارہ کرنا چاہتے ہیں کہ سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ اور سیدہ اسمائ رضی اللہ عنہا نے حق زوجیت ادا کیا ہو گا، جبکہ اس طرح کا اشارہ نہیں کرنا چاہیے۔ (۲)اس بات سے یہ سمجھ آ رہی ہے کہ سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ بھی حلال ہو گئے تھے، جبکہ وہ حلال نہیں ہوئے تھے، دیکھیں حدیث نمبر(۴۲۱۳)۔

الحكم على الحديث:
اسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4211
عَنْ مُسْلِمِ بْنِ الْقُرِّيِّ قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنْ مُتْعَةِ الْحَجِّ فَرَخَّصَ فِيهَا وَكَانَ ابْنُ الزُّبَيْرِ يَنْهَى عَنْهَا، فَقَالَ: هَذِهِ أُمُّ ابْنِ الزُّبَيْرِ تُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَخَّصَ فِيهَا فَادْخُلُوا عَلَيْهَا فَاسْأَلُوهَا، قَالَ: فَدَخَلْنَا عَلَيْهَا فَإِذَا امْرَأَةٌ ضَخْمَةٌ عَمْيَاءُ فَقَالَتْ: قَدْ رَخَّصَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِيهَا
۔ مسلم قری کہتے ہیں: میں نے سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے حج تمتع کی بابت پوچھا، انہوں نے اس میں رخصت دے دی، لیکن سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہ نے اس سے منع کر دیا،یہ دیکھ کر سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: ابن زبیر رضی اللہ عنہ تو حج تمتع سے منع کرتے ہیں، جبکہ ان کی والدہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی اجازت دی ہے، تم جا کر ان سے پوچھ لو۔ مسلم قری کہتے ہیں: چنانچہ ہم ان کے ہاں گئے، وہ ایک بھاری بھر کم خاتون تھیں اور نابینا ہو چکی تھیں، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے واقعی اس کی اجازت دی ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الحج والعمرة/حدیث: 4211]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1238، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26946 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27485»

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 1238
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4212
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَرِيكٍ الْعَامِرِيِّ قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ سُئِلُوا عَنِ الْعُمْرَةِ قَبْلَ الْحَجِّ فِي الْمُتْعَةِ، فَقَالُوا: نَعَمْ سُنَّةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تَقَدَّمُ فَتَطُوفُ بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ثُمَّ تَحِلُّ، وَإِنْ كَانَ ذَلِكَ قَبْلَ يَوْمِ عَرَفَةَ بِيَوْمٍ، ثُمَّ تُهِلُّ بِالْحَجِّ فَتَكُونُ قَدْ جَمَعْتَ عُمْرَةً وَحَجَّةً أَوْ جَمَعَ اللَّهُ لَكَ عُمْرَةً وَحَجَّةً
۔ عبد اللہ بن شریک عامری کہتے ہیں: میں نے سنا کہ سیدنا عبداللہ بن عمر، سیدنا عبداللہ بن عباس اور عبداللہ بن زبیر سے حج سے قبل عمرہ کر لینے کے متعلق پوچھا گیا تو ان سب نے کہا: جی ہاں، یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت ہے، جب تو مکہ مکرمہ پہنچے تو بیت اللہ کا طواف اور صفاو مروہ کی سعی کرکے حلال ہو جا (اس طرح یہ عمرہ ہو جائے گا)، خواہ یہ عمل عرفہ سے ایک دن پہلے ہو، اس کے بعد تم حج کا احرام باندھ لو، اس طرح اللہ تعالیٰ تمہیں حج اور عمرہ دونوں کو ادا کرنے کا موقع دے دے گا۔ [الفتح الربانی/كتاب الحج والعمرة/حدیث: 4212]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف شريك بن عبد الله بن النخعي، وعبد الله بن شريك العامري مختلف فيه۔ أخرجه الطبراني في ’’الكبير‘‘، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6240 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6240»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف شريك بن عبد الله بن النخعي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4213
عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَتْ: خَرَجْنَا مُحْرِمِينَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (مَنْ كَانَ مَعَهُ هَدْيٌ فَلْيُتِمَّ (وَفِي لَفْظٍ: فَلْيَقُمْ عَلَى إِحْرَامِهِ) وَمَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْيٌ فَلْيَحْلِلْ) ) ، قَالَتْ: فَلَمْ يَكُنْ مَعِي هَدْيٌ فَحَلَلْتُ وَكَانَ مَعَ الزُّبَيْرِ زَوْجِهَا هَدْيٌ فَلَمْ يَحِلَّ، قَالَتْ: فَلَبِسْتُ ثِيَابِي وَحَلَلْتُ، فَجِئْتُ إِلَى الزُّبَيْرِ، فَقَالَ: قُومِي عَنِّي، قَالَتْ: فَقُلْتُ: أَتَخْشَى أَنْ أَثِبَ عَلَيْكَ
۔ سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: ہم احرام باندھ کر سفر پر روانہ ہوئے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جن لوگوں کے ہمراہ قربانی کا جانور ہے،وہ احرام کی حالت میں رہیں گے اور جن کے ساتھ یہ جانور نہیں ہے، وہ عمرہ کرکے حلال ہو جائیں۔ اب میرے پاس قربانی کا جانور نہیں تھا، اس لیے میں حلال ہو گئی یعنی احرام کھول دیا، لیکن میرے شوہر سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کے ساتھ قربانی کا جانور تھا، سو وہ حلال نہ ہوئے۔ میں نے احرام کھول کر عام کپڑے پہن لیے اور اپنے شوہر سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کے قریب چلی گئی، لیکن انھوں نے کہا: مجھ سے دور ہٹ جاؤ۔ میں نے کہا: کیا آپ اس سے ڈرتے ہیں کہ میں آپ پر کود پڑوں گی؟ [الفتح الربانی/كتاب الحج والعمرة/حدیث: 4213]
تخریج الحدیث: «ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27505»
وضاحت: فوائد: … سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ چونکہ احرام کی حالت میں تھے، جبکہ ان کی بیوی حلال ہو چکی تھی، اس لیے انھوں نے احتیاط کرتے ہوئے اپنی بیوی کو دور ہو جانے کا حکم دیا۔

الحكم على الحديث:
ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27505
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4214
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ النَّاسَ عَامَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ، فَقَالَ: ( (مَنْ أَحَبَّ أَنْ يَبْدَأَ مِنْكُمْ بِعُمْرَةٍ قَبْلَ الْحَجِّ فَلْيَفْعَلْ) ) ، وَأَفْرَدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْحَجَّ وَلَمْ يَعْتَمِرْ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر لوگوں کو حکم دیتے ہوئے فرمایا: تم میں سے جو کوئی حج سے قبل عمرہ کرنا چاہتا ہو، وہ کر سکتا ہے، بہرحال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حج افراد کیا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عمرہ نہیں کیا تھا۔ [الفتح الربانی/كتاب الحج والعمرة/حدیث: 4214]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح دون قولھا: ’’ولم يعتمر‘‘ وھذا اسناد ضعيف، ام علقمة ابن ابي علقمة لم يرو عنها سوي اثنين، ولم يؤثر توثيقھا عن غير ابن حبان والعجلي۔ أخرجه مسلم: 1211 بلفظ: ان رسول الله صلي الله عليه وآله وسلم افرد الحج۔، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24615 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25122»
وضاحت: فوائد: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حج مفرد کیا تھا۔ اس کی وضاحت پہلے ہو چکی ہے۔ (دیکھیں حدیث۴۱۸۲ کے فوائد)

الحكم على الحديث:
حديث صحيح دون قولھا: ’’ولم يعتمر‘‘ وھذا اسناد ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4215
وَعَنْهَا أَيْضًا قَالَتْ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَامَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ فَأَهْلَلْنَا بِعُمْرَةٍ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (مَنْ كَانَ مَعَهُ هَدْيٌ فَلْيُهِلَّ بِالْحَجِّ مَعَ الْعُمْرَةِ ثُمَّ لَا يَحِلُّ حَتَّى يَحِلَّ مِنْهُمَا جَمِيعًا) ) ، قَالَتْ: فَقَدِمْتُ مَكَّةَ وَأَنَا حَائِضٌ وَلَمْ أَطُفْ بِالْبَيْتِ وَلَا بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، فَشَكَوْتُ ذَلِكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: ( (انْقُضِي رَأْسَكِ وَامْتَشِطِي وَأَهِلِّي بِالْحَجِّ وَدَعِي الْعُمْرَةَ) ) ، قَالَتْ: فَفَعَلْتُ، فَلَمَّا قَضَيْنَا الْحَجَّ أَرْسَلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَعَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ إِلَى التَّنْعِيمِ فَاعْتَمَرْتُ فَقَالَ: ( (هَذِهِ مَكَانُ عُمْرَتِكِ) ) ، قَالَتْ: فَطَافَ الَّذِينَ أَهَلُّوا بِالْعُمْرَةِ بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، ثُمَّ أَحَلُّوا، ثُمَّ طَافُوا طَوَافًا آخَرَ بَعْدَ أَنْ رَجَعُوا مِنْ مِنًى لِحَجِّهِمْ، فَأَمَّا الَّذِينَ جَمَعُوا الْحَجَّ فَطَافُوا طَوَافًا وَاحِدًا
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ کہتی ہیں: ہم حجۃ الوداع کے سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ روانہ ہوئے، ہم نے عمرہ کا تلبیہ پکارا، بعد ازاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جن لوگوں کے ساتھ قربانی کا جانور ہے وہ حج اور عمرہ دونوں کا اکٹھا تلبیہ پکاریں، وہ ان دونوں سے اکٹھے حلال ہوں گے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ کہتی ہیں: جب میں مکہ پہنچی تو مجھے حیض آ گیا، لہٰذا میں بیت اللہ کا طواف اور صفا مروہ کی سعی نہ کر سکی، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس بات کا شکوہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم سر کھول دو اورکنگھی کرکے حج کا احرام باندھ لو اور عمرے کو ترک کر دو۔ پس میں نے اسی طرح کیا، جب ہم حج سے فارغ ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے میرے بھائی عبد الرحمن کے ساتھ تنعیم کی طرف بھیجا، تاکہ میں عمرہ کر آؤں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ تمہارے عمرے کا متبادل ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ کہتی ہیں: جن لوگوں نے عمرے کا احرام باندھا تھا، وہ بیت اللہ کا طواف اورصفا مروہ کی سعی کرکے حلال ہو گئے،اس کے بعد انہوں نے منیٰ سے آ کر حج کا طواف کیا اور جن لوگوں نے حج اور عمرہ کو جمع کیا تھا یعنی حج قران کیا تھا انہوں نے ایک ہی طواف کیا۔ [الفتح الربانی/كتاب الحج والعمرة/حدیث: 4215]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1556، 1638، 4395، ومسلم: 1211، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25441 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25955»
وضاحت: فوائد: … ” اور عمرے کو ترک کر دو“ اس کا مفہوم یہ ہے کہ عمرہ کے افعال یعنی طواف، سعی اور تقصیر کو ترک کر دو اور حج قران کا تلبیہ شروع کر دو۔ اس کا یہ معنی نہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا حلال ہو جائیں اور پھر احرام باندھیں۔ ”یہ تمہارے عمرے کا متبادل ہے۔“ یعنی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے دوسری امہات المؤمنین اور بعض صحابہ کی طرح حج تمتع کرتے ہوئے جو عمرہ الگ سے کرنا تھا، یہ عمرۂ تنعیم اس کا متبادل ہے، وگرنہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے حج قران میں ایک عمرہ کر لیا تھا۔ اس حدیث کے آخر سے واضح طور پر پتہ چل رہا ہے کہ حج قران کرنے والوں کو حج اور عمرہ دونوں کے لیے ایک ہی طواف کافی ہے، لیکن امام ابوحنیفہ ایسے حجاج کے لیے بھی دو طوافوں کے قائل ہیں، لیکنیہ قول مرجوح ہے۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 1556
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
31. بَابُ جَوَازِ إِدْخَالِ الْحَجِّ عَلَى الْعُمْرَةِ وَالتَّحَلُّلِ بِالْإِحْصَارِ
حج کے مہینوں میں عمرہ کی ادائیگی کے جائز ہونے اور کسی رکاوٹ کی بنا پر احرام کھول دینے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4216
عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَامَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ فَأَهْلَلْتُ بِعُمْرَةٍ وَلَمْ أَكُنْ سُقْتُ الْهَدْيَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (مَنْ كَانَ مَعَهُ الْهَدْيُ فَلْيُهِلَّ بِالْحَجِّ مَعَ عُمْرَتِهِ، ثُمَّ لَا يَحِلُّ حَتَّى يَحِلَّ مِنْهُمَا جَمِيعًا) ) ، فَحِضْتُ، فَلَمَّا دَخَلَتْ لَيْلَةُ عَرَفَةَ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنِّي كُنْتُ أَهْلَلْتُ بِعُمْرَةٍ فَكَيْفَ أَصْنَعُ بِحَجَّتِي؟ قَالَ: ( (انْقُضِي رَأْسَكِ وَامْتَشِطِي وَأَمْسِكِي عَنِ الْعُمْرَةِ، وَأَهِلِّي بِالْحَجِّ) ) ، فَلَمَّا قَضَيْتُ حَجِّي أَمَرَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي بَكْرٍ فَأَعْمَرَنِي مِنَ التَّنْعِيمِ مَكَانَ عُمْرَتِي الَّتِي نَسَكْتُ عَنْهَا
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ کہتی ہیں: حجۃ الوداع کے موقع پر ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ حج کے لئے روانہ ہوئے، میں نے عمرے کا احرام باندھا تھا اور میرے ساتھ قربانی کا جانور نہیں تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جن لوگوں کے ہمراہ قربانی کا جانور ہے، وہ حج اور عمرہ دونوں کا اکٹھا احرام باندھیں اور وہ ان دونوں کے بعد احرام کھولیں گے۔ اُدھر مجھے حیض آ گیا،جب عرفہ کی رات تھی تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا کہ میں نے تو عمرے کا احرام باندھا تھا، اب میرے حج کا کیا بنے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سر کھول کر کنگھی کرو اور عمرہ کو ترک کر دو اور حج کا احرام باندھ لو۔ جب میں نے حج کر لیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے بھائی سیدنا عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ کو حکم دیا، پس انہوں نے مجھے تنعیم سے عمرہ کروایا،یہ عمرہ اس عمرے کا متبادل تھا، جس کا میں نے پہلے احرام باندھا تھا۔ [الفتح الربانی/كتاب الحج والعمرة/حدیث: 4216]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 319، ومسلم: 1211، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25307 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25821»
وضاحت: فوائد: … سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا صرف عمرے کا احرام باندھ کر آئی تھیں، لیکن حیض کی وجہ سے ابھی تک وہ یہ عمرہ ادا نہ کر سکیںتھیں کہ اُدھر سے حج کے ایام شروع ہونے والے ہو گئے، جب انھوں نے اپنی صورتحال رسول اللہ کے سامنے پیش کی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو اسی احرام کو حج قران میں بدل دینے کا حکم دے دیا اور انھوں نے عمرہ ترک کر کے یہ حج شروع کر دیا۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 319
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4217
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ أَخْبَرَنِي نَافِعٌ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ وَسَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ كَلَّمَا عَبْدَ اللَّهِ (يَعْنِي ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا) حِينَ نَزَلَ الْحَجَّاجُ لِقِتَالِ ابْنِ الزُّبَيْرِ، فَقَالَا: لَا يَضُرُّكَ أَنْ لَا تَحُجَّ هَذَا الْعَامَ، فَإِنَّا نَخْشَى أَنْ يَكُونَ بَيْنَ النَّاسِ قِتَالٌ، وَأَنْ يُحَالَ بَيْنَكَ وَبَيْنَ الْبَيْتِ، قَالَ: إِنْ حِيلَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ فَعَلْتُ كَمَا فَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا مَعَهُ حِينَ حَالَتْ كُفَّارُ قُرَيْشٍ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْبَيْتِ، أُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ أَوْجَبْتُ عُمْرَةً فَإِنْ خُلِّيَ سَبِيلِي قَضَيْتُ عُمْرَتِي، وَإِنْ حِيلَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ فَعَلْتُ كَمَا فَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا مَعَهُ، ثُمَّ خَرَجَ حَتَّى أَتَى ذَا الْحُلَيْفَةِ فَلَبَّى بِعُمْرَةٍ ثُمَّ تَلَا {لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ} ثُمَّ سَارَ حَتَّى إِذَا كَانَ بِظَهْرِ الْبَيْدَاءِ، قَالَ: مَا أَمْرُهُمَا إِلَّا وَاحِدٌ، إِنْ حِيلَ بَيْنِي وَبَيْنَ الْعُمْرَةِ حِيلَ بَيْنِي وَبَيْنَ الْحَجِّ، أُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ أَوْجَبْتُ حَجَّةً مَعَ عُمْرَتِي، فَانْطَلَقَ حَتَّى ابْتَاعَ بِقُدَيْدٍ هَدْيًا ثُمَّ طَافَ لَهُمَا طَوَافًا وَاحِدًا بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، ثُمَّ لَمْ يَزَلْ كَذَلِكَ إِلَى يَوْمِ النَّحْرِ
۔ نافع کہتے ہیں کہ جس سال حجاج،سیدنا عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے لڑائی کرنے کے لیے مکہ مکرمہ آیا ہوا تھا، اس سال سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے بیٹوں عبد اللہ اور سالم نے اپنے باپ سے کہا: اس سال جنگ کا خطرہ ہے، اس لئے بہتر یہ ہے کہ آپ حج کے لئے نہ جائیں، کیونکہ یہ اندیشہ ہے کہ لڑائی کی وجہ سے آپ بیت اللہ تک نہیں پہنچ سکیں گے، انہوں نے کہا: اگر بیت اللہ تک جانے میں کوئی رکاوٹ آ گئی تو میں اسی طرح کروں گا، جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس موقع پر کیا تھا، جب کفارِ قریش نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بیت اللہ کی طرف جانے سے روک دیا تھا۔ اب میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں عمرہ کا ارادہ کر چکا ہوں، اگر مجھے نہ روکا گیا تو عمرہ ادا کر لوں گا اور اگر بیت اللہ تک پہنچنے میں مجھے رکاوٹ پیش آ گئی تو میں اسی طرح کروں گا جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کیا تھا، جبکہ اُس موقع پر میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھا،اس کے بعد سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ نے سفر شروع کر دیا، جب وہ ذوالحلیفہ پہنچے تو انہوں نے عمرے کا احرام باندھا اور تلبیہ پڑھا۔ اور یہ آیت تلاوت کی: {لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ أُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ} (سورۂ احزاب: ۲۱) تمہارے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں بہترین نمونہ ہے۔ اس کے بعد آگے کو روانہ ہوئے اور جب بیداء کے اوپر پہنچے تو کہا: حج اور عمرے کے احکام تو ایک جیسے ہی ہیں، اگر میرے عمرے کے سامنے کوئی رکاوٹ آ گئی تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ میرے حج کے سامنے بھی رکاوٹ آ جائے گی، لہٰذا میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں عمرہ کے ساتھ حج کا احرام بھی باندھ رہا ہوں، اس کے بعد وہ آگے کو روانہ ہوئے اور قدید کے مقام پر جا کر قربانی کا جانور خریدا۔ پھر مکہ پہنچ کر حج اور عمرہ دونوں کے لئے بیت اللہ کا ایک طواف اور صفا مروہ کی ایک سعی کی، اس کے بعد یوم النحریعنی دس ذوالحجہ تک اسی طرح رہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الحج والعمرة/حدیث: 4217]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري مختصرا: 4183، ومسلم: 1230، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4165 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5165»
وضاحت: فوائد: … جب بنو امیہ کا خلیفہ معاویہ بن یزید بن معاویہ خلیفہ کے تعین کے بغیر فو ت ہو گیا تو دو ماہ اور کچھ دنوں تک کوئی خلیفہ نہ بن سکا، اس دورانیے میں مکہ مکرمہ کے اہل حل و عقد نے سیدنا عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی بیعت کر لی اور حجاز، عراق، خراسان اور مشرق کے کچھ علاقے ان کے ماتحت ہو گئے، جبکہ اُدھر شام اور مصر والوں نے مروان بن حکم کی بیعت کر لی، مروان کی وفات تک یہی سلسلہ جاری رہا، جب عبد الملک بن مروان کی خلافت شروع ہوئی تو اس نے اس ڈر سے لوگوں کو حج سے روک دیا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہ کی بیعتکر لیں، پھر اہل مکہ سے لڑنے کے لیے اس نے حجاج بن یوسف کی قیادت میں ایک لشکر بھیجا، اس نے اہل مکہ سے قتال کیا اور ان کا محاصرہ کر لیا،یہاں تک کہ ان پر غالب آ گیا اور سیدنا عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کو قتل کر دیا،یہ۷۳ ھ کا واقعہ ہے۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري مختصرا: 4183
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4218
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ نَافِعٍ خَرَجَ ابْنُ عُمَرَ يُرِيدُ الْعُمْرَةَ فَأَخْبَرُوهُ أَنَّ بِمَكَّةَ أَمَرًا، فَقَالَ: أُهِلُّ بِالْعُمْرَةِ فَإِنْ حُبِسْتُ صَنَعْتُ كَمَا صَنَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَهَلَّ بِالْعُمْرَةِ، فَلَمَّا سَارَ قَلِيلًا وَهُوَ بِالْبَيْدَاءِ قَالَ: مَا سَبِيلُ الْعُمْرَةِ إِلَّا سَبِيلُ الْحَجِّ أُوجِبُ حَجًّا أَوْ قَالَ: أُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ أَوْجَبْتُ حَجًّا، فَإِنَّ سَبِيلَ الْحَجِّ سَبِيلُ الْعُمْرَةِ، فَقَدِمَ مَكَّةَ فَطَافَ بِالْبَيْتِ سَبْعًا وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ سَبْعًا، وَقَالَ: هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَعَلَ، أَتَى قُدَيْدًا فَاشْتَرَى هَدْيًا فَسَاقَهُ
۔ (دوسری سند) نافع کہتے ہیں: سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ عمرہ کے ارادہ سے روانہ ہوئے، جب انہیں بتایا گیا کہ اس دفعہ مکہ میں لڑائی کا خطرہ ہے تو انہوں نے کہا: میں عمرے کا احرام باندھ لیتا ہوں، اگر مجھے آگے جانے سے روک دیا گیا تو میں اسی طرح کروں گا، جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کیا تھا۔ چنانچہ انہوں نے عمرے کا احرام باندھ لیا اور ذوالحلیفہ سے تھوڑا آگے جا کر جب بیداء کے ٹیلہ پر پہنچے تو کہنے لگے: حج اور عمرہ کے احکام تو ایک جیسے ہیں، لہٰذا میں حج کا ارادہ کرتاہوں، یایوں کہا: میں تم لوگوں کو گواہ بناتا ہوں کہ میں حج کا ارادہ کرتا ہوں، کیونکہ حج اور عمرہ کے احکام و مسائل ایک جیسے ہیں، پس جب وہ مکہ پہنچے تو بیت اللہ کے گرد سات چکر اور صفا مروہ کی سعی کے بھی سات چکر لگائے اور کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اسی طرح کرتے ہوئے دیکھا تھا، اس سفر میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ قدید کے مقام سے قربانی کا جانور خرید کر اسے اپنے ساتھ مکہ مکرمہ لے گئے تھے۔ [الفتح الربانی/كتاب الحج والعمرة/حدیث: 4218]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4595»
وضاحت: فوائد: … رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حدیبیہ کے مقام پر حلال ہو گئے تھے، سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ اسی سنت کی طرف اشارہ کر رہے ہیں۔ اس باب سے متعلقہ یہ بات ہے کہ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ذوالحلیفہ سے عمرے کا احرام باندھا، لیکن جب بیداء مقام تک پہنچے تو عمرے کے احرام میں حج کو بھی داخل کر لیا۔

الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4595
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں