الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
41. بَابُ تَحْرِيمِ صَيْدِ الْبَرِّ عَلَى الْمُحْرِمِ وَأَكْلِهِ
محرم کے لئے خشکی کا شکار کرنے اور اس کو کھانے کے حرام ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 4289
وَعَنْهُ أَيْضًا عَنِ الصَّعْبِ بْنِ جَثَّامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: مَرَّ بِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا بِالْأَبْوَاءِ، أَوْ بِوَدَّانَ فَأَهْدَيْتُ لَهُ مِنْ لَحْمِ حِمَارٍ وَحْشٍ وَهُوَ مُحْرِمٌ فَرَدَّهُ عَلَيَّ، فَلَمَّا رَأَى فِي وَجْهِي الْكَرَاهَةَ، قَالَ: ( (إِنَّهُ لَيْسَ بِنَا رَدٌّ عَلَيْكَ وَلَكِنَّا حُرُمٌ) )
۔ سیدنا صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں ابواء یا ودان کی وادی میں تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وہاں سے گزر ہوا، میں نے جگلی گدھے کا گوشت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں بطورِ ہدیہ پیش کیا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم احرام کی حالت میں تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ واپس کر دیا،لیکن جب میرے چہرے پر افسردگی کے آثار دیکھے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہم نے یہ گوشت واپس نہیں کرنا تھا، بات یہ ہے کہ ہم احرام کی حالت میں ہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الحج والعمرة/حدیث: 4289]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1825، 2573، ومسلم: 1193، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16422 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16536»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 1825
حدیث نمبر: 4290
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنِ الصَّعْبِ بْنِ جَثَّامَةَ اللَّيْثِيِّ أَنَّهُ أَهْدَى إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بِالْأَبْوَاءِ أَوْ بِوَدَّانَ حِمَارًا وَحْشِيًّا فَرَدَّهُ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْحَدِيثَ
۔ (دوسری سند) سیدنا صعب بن جثامہ لیثی رضی اللہ عنہ نے ابواء یا ودان میں جنگلی گدھے کا گوشت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے ردّ کر دیا، …۔ [الفتح الربانی/كتاب الحج والعمرة/حدیث: 4290]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16807»
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16807
حدیث نمبر: 4291
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَالِثٍ بِنَحْوِهِ وَفِيهِ) فَأَهْدَيْتُ لَهُ حِمَارَ وَحْشٍ فَرَدَّهُ عَلَيَّ، الْحَدِيثَ، وَفِي آخِرِهِ قُلْتُ لِابْنِ شِهَابٍ: الْحِمَارُ عَقِيرٌ؟ قَالَ: لَا أَدْرِي
۔ (تیسری سند) یہ حدیث ایسے ہی مروی ہے، البتہ اس میں ہے: میں نے جنگلی گدھے کا گوشت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا، لیکن آپ۱ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ واپس کر دیا،۔اس کے آخر میں ہے: میں (ابن جریج) نے ابن شہاب سے کہا: کیایہ جنگلی گدھا شکاری کے تیر کی وجہ سے مرا ہوا تھا؟ انہوں نے کہا: معلوم نہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الحج والعمرة/حدیث: 4291]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16542»
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16542
حدیث نمبر: 4292
عَنْ طَاوُوسٍ قَالَ: قَدِمَ زَيْدُ بْنُ أَرْقَمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَ لَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَسْتَذْكِرُهُ: كَيْفَ أَخْبَرْتَنِي عَنْ لَحْمٍ أُهْدِيَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ حَرَامٌ، قَالَ: نَعَمْ أَهْدَى رَجُلٌ عُضْوًا مِنْ لَحْمِ صَيْدٍ، فَرَدَّهُ وَقَالَ: إِنَّا لَا نَأْكُلُهُ، إِنَّا حُرُمٌ
۔ طاؤس سے روایت ہے کہ سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ تشریف لائے اورسیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے انہیں یاد دلاتے ہوئے کہا: آپ نے مجھے کیسے بیان کیا تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم محرم تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں گوشت پیش کیا گیا تھا۔ انھوں نے کہا: جی ہاں، ایک آدمی نے شکار کے گوشت کا ایک عضو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا تھا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے واپس کر دیا اور فرمایا تھا: ہم یہ نہیں کھائیں گے، کیونکہ ہم محرم ہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الحج والعمرة/حدیث: 4292]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1195، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19271 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19486»
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 1195
حدیث نمبر: 4293
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: أُهْدِيَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَشِيقَةُ ظَبْيٍ وَهُوَ مُحْرِمٌ فَرَدَّهَا، (وَفِي لَفْظٍ: فَلَمْ يَأْكُلْهُ) قَالَ سُفْيَانُ: الْوَشِيقَةُ مَا طُبِخَ وَقُدِّدَ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ ہرن کا کم ابلا ہوا گوشت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا گیا، چونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم احرام کی حالت میں تھے اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ واپس کر دیا اور نہیں کھایا۔ سفیان نے کہا: وَشِیْقَہ وہ ہوتا ہے، جس کو پکایا جائے اور پارچے بنا کر خشک کر لیا جائے۔ [الفتح الربانی/كتاب الحج والعمرة/حدیث: 4293]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح ان ثبت سماع الحسن بن محمد من عائشة۔ أخرجه ابو يعلي: 4616، وعبد الرزاق: 8325، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24129 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24629»
الحكم على الحديث:
حديث صحيح ان ثبت سماع الحسن بن محمد من عائشة ۔ أخرجه ابو يعلي: 4616
حدیث نمبر: 4294
عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ الْهَاشِمِيُّ قَالَ: كَانَ أَبِي الْحَارِثُ عَلَى أَمْرٍ مِنْ أَمْرِ مَكَّةَ فِي زَمَنِ عُثْمَانَ فَأَقْبَلَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِلَى مَكَّةَ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ: فَاسْتَقْبَلْتُ عُثْمَانَ بِالنُّزُلِ بِقُدَيْدٍ فَاصْطَادَ أَهْلُ الْمَاءِ حَجَلًا، فَطَبَخْنَاهُ بِمَاءٍ وَمِلْحٍ، فَجَعَلْنَاهُ عُرَاقًا لِلثَّرِيدِ، فَقَدَّمْنَاهُ إِلَى عُثْمَانَ وَأَصْحَابِهِ فَأَمْسَكُوا، فَقَالَ عُثْمَانُ: صَيْدٌ لَمْ نَصْطَدْهُ وَلَمْ نَأْمُرْ بِصَيْدِهِ، اصْطَادَهُ قَوْمٌ حِلٌّ، فَأَطْعَمُونَا فَمَا بَأْسٌ؟ فَقَالَ عُثْمَانُ: مَنْ يَقُولُ فِي هَذَا؟ فَقَالُوا: عَلِيٌّ، فَبَعَثَ إِلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَجَاءَ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ: فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى عَلِيٍّ حِينَ جَاءَ وَهُوَ يَحُتُّ الْخَبَطَ عَنْ كَفَّيْهِ، فَقَالَ لَهُ عُثْمَانُ: صَيْدٌ لَمْ نَصْطَدْهُ وَلَمْ نَأْمُرْ بِصَيْدِهِ، قَوْمٌ حِلٌّ فَأَطْعَمُونَا فَمَا بَأْسٌ؟ قَالَ: فَغَضِبَ عَلِيٌّ وَقَالَ: أَنْشُدُ اللَّهَ رَجُلًا شَهِدَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حِينَ أُتِيَ بِقَائِمَةِ حِمَارِ وَحْشٍ (وَفِي لَفْظٍ: بِعَجُزِ حِمَارٍ وَحْشٍ وَهُوَ مُحْرِمٌ) فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (إِنَّا قَوْمٌ حُرُمٌ فَأَطْعِمُوهُ أَهْلَ الْحِلِّ) ) قَالَ: فَشَهِدَ اثْنَا عَشَرَ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ عَلِيٌّ: أُشْهِدُ اللَّهَ رَجُلًا شَهِدَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حِينَ أُتِيَ بِبَيْضِ النَّعَامِ، (وَفِي لَفْظٍ: بِخَمْسِ بَيْضَاتِ نَعَامٍ) فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (إِنَّا قَوْمٌ حُرُمٌ، أَطْعِمُوهُ أَهْلَ الْحِلِّ) ) قَالَ: فَشَهِدَ دُونَهُمْ مِنَ الْعِدَّةِ مِنَ الِاثْنَيْ عَشَرَ، قَالَ: فَثَنَى عُثْمَانُ وَرِكَهُ عَنِ الطَّعَامِ فَدَخَلَ رَحْلَهُ (وَفِي لَفْظٍ: فُسْطَاطَهُ) وَأَكَلَ ذَلِكَ الطَّعَامَ أَهْلُ الْمَاءِ
۔ عبد اللہ بن حارث بن نوفل ہاشمی کا بیان ہے، وہ کہتے ہیں: سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے عہد میں میرے والد حارث بن نوفل مکہ کے مسئول تھے، جب سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ مکہ تشریف لائے تو میں عبد اللہ بن حارث نے قدید کے قریب نزل کے مقام پر ان کا استقبال کیا، وہاں کے لوگوں نے چکور پرندے کا شکار کیا ہوا تھا، ہم نے اسے پانی اور نمک میں پکایا اور ثرید کے لئے اس کا شوربا بنایا، پھر ہم نے اسے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ اور ان کے رفقاء کی خدمت میں پیش کیا، لیکن وہ اسے کھانے سے باز رہے، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم نے نہ تو یہ شکار کیاہے اور نہ اس کے بارے میں کوئی حکم دیا ہے اور جو لوگ احرام میں نہیں ہیں، انہوں نے یہ شکار کرکے ہمارے سامنے پیش کیا ہے، اب اس میں کیا حرج ہے؟ پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا: اس مسئلہ کے بارے میں کون بیان کرے گا؟ لوگوں نے کہا: سیدنا علی رضی اللہ عنہ، پس سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو بلوا بھیجا، سو وہ تشریف لائے۔ عبد اللہ بن حارث کہتے ہیں: میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو دیکھا اور وہ منظر اب بھی میری آنکھوں کے سامنے ہے، وہ اپنی ہتھیلیوں سے پتے جھاڑ رہے تھے، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: نہ تو ہم نے یہ شکار کیا اور نہ ہم نے اس کو شکار کرنے کے بارے میں کوئی حکم دیا، جو لوگ احرام میں نہیں ہیں، انہوں نے شکار کرکے اس کو ہمارے سامنے پیش کر دیا،اب اس میں کیا حرج ہے؟ یہ سن کر سیدنا علی رضی اللہ عنہ غضبناک ہو گئے اور کہنے لگے: میں اس آدمی کو اللہ تعالی کا واسطہ دے کر کہتا ہوں جو اس واقعہ میں موجود تھا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں جنگلی گدھے کا ایک عضو پیش کیا گیا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم محرم تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا: ہم احرام کی حالت میں ہیں،یہ ان لوگوں کو کھلاؤ جو احرام میں نہیں ہیں۔ بارہ صحابہ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی اس بات کی تائید کی۔ اس کے بعد سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: میں اللہ کا واسطہ دیتا ہوں اس آدمی کو جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس اس وقت موجود تھا جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں شتر مرغ کے انڈے (اور ایک روایت کے مطابق) پانچ انڈے پیش کئے گئے تھے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایاتھا: ہم تو احرام کی حالت میں ہیں،یہ ان لوگوں کو کھلاؤ جو احرام میں نہیں ہیں۔ اس دفعہ بارہ سے کم افراد نے گواہی دی،یہ سن کر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے کھانے سے اپنے سرین موڑ لیے اور اٹھ کر اپنے خیمے میں چلے گئے اور اس پانی والوں نے وہ کھانا کھا لیا۔ [الفتح الربانی/كتاب الحج والعمرة/حدیث: 4294]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره۔ أخرجه البزار: 914، وأخرجه بنحوه ابوداود: 1849، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 783 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 783»
وضاحت: فوائد: … ان احادیث ِ مبارکہ سے ثابت ہوا کہ احرام کی حالت میں شکار کا گوشت نہیں کھایاجا سکتا، مزید وضاحت اگلے باب میں آ رہی ہے۔
الحكم على الحديث:
حسن لغيره۔ أخرجه البزار: 914
42. فَصْلٌ مِنْهُ فِي جَوَازِ أَكْلِ صَيْدِ الْبَرِّ إِذَا لَمْ يَصِدْهُ أَوْ يُصَدْ لَهُ
اس امر کا بیان کہ اگر محرم نہ تو خود شکار کرے اور نہ اس کی خاطر کیا جائے تو¤اس کے لیے اس کا کھانا جائز ہو گا
حدیث نمبر: 4295
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ (وَفِي لَفْظٍ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ) : ( (صَيْدُ الْبَرِّ لَكُمْ حَلَالٌ، قَالَ سَعِيدٌ، وَأَنْتُمْ حُرُمٌ مَا لَمْ تَصِيدُوهُ أَوْ يُصَدْ لَكُمْ) )
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تم احرام کی حالت میں ہو تو تمہارے لیے خشکی کا شکار اس صورت میں حلال ہو گا کہ نہ تو تم خود وہ شکار کرو اور نہ تمہاری خاطر کیا جائے۔ [الفتح الربانی/كتاب الحج والعمرة/حدیث: 4295]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ أخرجه ابوداود: 1851، والترمذي: 846، والنسائي: 5/ 187، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14894 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14955»
وضاحت: فوائد: … محرِم کے لیے خشکی کے کون سے شکار کا گوشت جائز ہے اور کون سا ناجائز؟ اس معاملے میں اس حدیث ِ مبارکہ میں ایک امتیازی قانون بیان کیا گیا ہے، اس کی روشنی میں دوسری احادیث کے عموم کو خاص کیا جائے گا۔ پچھلے باب کی جن احادیث کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شکار کا گوشت نہیں کھایا تھا، اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ شکار آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کھلانے کے لیے کیا گیا تھا۔
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره۔ أخرجه ابوداود: 1851
حدیث نمبر: 4296
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ قَالَ: أَحْرَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْحُدَيْبِيَةِ وَلَمْ يُحْرِمْ أَبُو قَتَادَةَ، قَالَ: وَحُدِّثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّ عَدُوًّا بِغَيْقَةَ، فَانْطَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَبَيْنَمَا أَنَا مَعَ أَصْحَابِي فَضَحِكَ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ، فَنَظَرْتُ فَإِذَا أَنَا بِحِمَارِ وَحْشٍ فَاسْتَعَنْتُهُمْ فَأَبَوْا أَنْ يُعِينُونِي، فَحَمَلْتُ عَلَيْهِ فَأَثْبَتُّهُ فَأَكَلْنَا مِنْ لَحْمِهِ وَخَشِينَا أَنْ نُقْتَطَعَ، فَانْطَلَقْتُ أَطْلُبُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَجَعَلْتُ أَرْفَعُ فَرَسِي شَأْوًا وَأَسِيرُ شَأْوًا، وَلَقِيتُ رَجُلًا مِنْ بَنِي غِفَارٍ فِي جَوْفِ اللَّيْلِ فَقُلْتُ أَيْنَ تَرَكْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: تَرَكْتُهُ وَهُوَ بِتِعْهِنَ، وَهُوَ مِمَّا يَلِي السُّقْيَا، فَأَدْرَكْتُهُ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّ أَصْحَابَكَ يُقْرِئُونَكَ السَّلَامَ وَرَحْمَةَ اللَّهِ، وَقَدْ خَشُوا أَنْ يُقْتَطَعُوا دُونَكَ فَانْتَظِرْهُمْ، قَالَ: فَانْتَظَرَهُمْ، قُلْتُ وَقَدْ أَصَبْتُ حِمَارَ وَحْشٍ وَعِنْدِي مِنْهُ فَاضِلَةٌ، فَقَالَ لِلْقَوْمِ: ( (كُلُوا وَهُمْ مُحْرِمُونَ) )
۔ سیدناعبداللہ بن ابی قتادہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حدیبیہ کے سال احرام باندھا اور ابوقتادہ نے احرام نہیں باندھا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بتلایا گیا کہ دشمن غیقہ کے مقام پر ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم روانہ ہوئے، میں اپنے دوستوں کے ساتھ تھا کہ وہ ایک دوسرے کی طرف دیکھ کر ہنسنے لگے، جب میں بھی ادھر متوجہ ہوا تو میری نظر ایک جنگلی گدھے پر پڑی، میں نے ان سے مدد چاہی، لیکن انہوں نے شکار کرنے میں میری مدد کرنے سے انکار دیا، بہرحال میں نے اس کا پیچھا کیا اور اسے مار گرایا، ہم نے اس کا گوشت کھایا، لیکن ہمیں اندیشہ ہوا کہ کہیں ایسا نہ ہو ہم اچک لیے جائیں (یعنی ہماری تعداد تھوڑی ہونے کی وجہ سے دشمن ہمیں کوئی نقصان نہ پہنچا دے)، اس لیے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تلاش میں روانہ ہوا، میں اپنے گھوڑے کو کچھ دور تک دوڑاتا اور کچھ فاصلے تک آہستہ چلتا، رات کو میری ملاقات بنو غفار کے ایک آدمی سے ہوئی، میں نے اس سے پوچھا: آپ کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کس مقام پر ملاقات ہوئی تھی؟ اس نے بتایا کہ اس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سقیا کے قریب تَعْھِن کے مقام پر چھوڑا تھا، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس مقام پر پا لیا اورعرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ کے رفقاء آپ کو سلام اور اللہ کی رحمت پیش کرتے تھے، انہیں اندیشہ تھا کہ دشمن ان پر حملہ نہ کر دے، لہٰذا آپ یہیں ان کا انتظار کریں، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہاں ان کا انتظار کیا اور میں نے عرض کیا: میں نے ایک جنگلی گدھے کا شکار کیا تھا، میرے پاس اس کا ایک عضو باقی بچا ہوا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کھالو۔ جبکہ وہ محرم تھے۔ [الفتح الربانی/كتاب الحج والعمرة/حدیث: 4296]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1821، 1822،2570، 2854، 4149، 5406، ومسلم: 1196، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22569 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22937»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 1821
حدیث نمبر: 4297
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ مَعْبَدِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ أَبِي قَتَادَةَ الْحَارِثِ بْنِ رِبْعِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى سِيفِ الْبَحْرِ، فِي بَعْضِ عُمَرِهِ إِلَى مَكَّةَ وَوَعَدَنَا أَنْ نَلْقَاهُ بِقُدَيْدٍ فَخَرَجْنَا وَمِنَّا الْحَلَالُ وَمِنَّا الْحَرَامُ، قَالَ: فَكُنْتُ حَلَالًا، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَقَالَ فِيهِ: هَذِهِ الْعَضُدُ قَدْ شَوَيْتُهَا وَأَنْضَجْتُهَا وَأَطْيَبْتُهَا، قَالَ: ( (فَهَاتِهَا) ) قَالَ: فَجِئْتُهُ بِهَا فَنَهَسَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ حَرَامٌ حَتَّى فَرَغَ مِنْهَا
۔ (دوسری سند) معبد بن کعب سے روایت ہے کہ سیدنا ابوقتادہ حارث بن ربعی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عمرہ کے ایک سفر میں ہمیں ساحل سمندر کی طرف روانہ کیا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس وقت مکہ مکرمہ کی طرف جا رہے تھے اور ہم سے وعدہ لیا کہ ہم قدید کے مقام پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جا ملیں، پس ہم نکل پڑے، ہم میں سے بعض لوگ محرم تھے اور بعض غیر محرم، میں بھی غیر محرم تھا، …۔ اس کے بعد ساری حدیث بیان کی اور کہا: یہ اس کی ایک ٹانگ ہے، میں نے اسے خوب بھونا پکایا اور اچھا بنایا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ادھر لاؤ۔ جب میں وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لے آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے کھانا شروع کر دیا،یہاں تک کہ اس سے فارغ ہو گئے، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم محرم تھے۔ [الفتح الربانی/كتاب الحج والعمرة/حدیث: 4297]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22976»
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22976
حدیث نمبر: 4298
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَالِثٍ) عَنْ نَافِعٍ مَوْلَى أَبِي قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيِّ عَنْ أَبِي قَتَادَةَ أَنَّهُ كَانَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا كَانَ بِبَعْضِ طُرُقِ مَكَّةَ، تَخَلَّفَ مَعَ أَصْحَابٍ لَهُ مُحْرِمِينَ وَهُوَ غَيْرُ مُحْرِمٍ فَرَأَى حِمَارًا وَحْشِيًّا فَاسْتَوَى عَلَى فَرَسِهِ وَسَأَلَ أَصْحَابَهُ أَنْ يُنَاوِلُوهُ سَوْطَهُ فَأَبَوْا فَسَأَلَهُمْ رُمْحَهُ فَأَبَوْا، فَأَخَذَهُ، ثُمَّ شَدَّ عَلَى الْحِمَارِ فَقَتَلَهُ فَأَكَلَ بَعْضُ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَبَى بَعْضُهُمْ، فَلَمَّا أَدْرَكُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سَأَلُوهُ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: ( (إِنَّمَا هِيَ طُعْمَةٌ، أَطْعَمَكُمُوهَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ) )
۔ (تیسری سند) سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکہ کے کسی راستے میں تھے، میں اپنے کچھ دوستوں کے ساتھ پیچھے رہ گیا، دوسرے لوگ محرم تھے اور میں محرم نہ تھا، میں ایک جنگلی گدھا دیکھ کر گھوڑے پر سیدھا ہو گیا اور اپنے دوستوں سے کہا: مجھے ذرا میری لاٹھی پکڑا دو، لیکن انہوں نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا۔ میں نے کہا: مجھے میرا نیزہ پکڑا دو، انہوں نے یہ کام کرنے سے بھی انکار کر دیا۔ میں نے خود اتر کر نیزہ اٹھا لیا اور اس جنگلی گدھے پر چڑھ دوڑا اور بالآخر اسے شکار کر لیا، بعض صحابہ نے تو اس سے کھا لیا، لیکن بعض نے اسے کھانے سے انکار دیا، جب یہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پہنچے تو انہوں نے اس بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مسئلہ پوچھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ ایسا کھانا تھا، جو اللہ تعالی نے تمہیں کھلایا۔ [الفتح الربانی/كتاب الحج والعمرة/حدیث: 4298]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22935»
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22935