🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
42. فَصْلٌ مِنْهُ فِي جَوَازِ أَكْلِ صَيْدِ الْبَرِّ إِذَا لَمْ يَصِدْهُ أَوْ يُصَدْ لَهُ
اس امر کا بیان کہ اگر محرم نہ تو خود شکار کرے اور نہ اس کی خاطر کیا جائے تو¤اس کے لیے اس کا کھانا جائز ہو گا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4299
(وَمِنْ طَرِيقٍ رَابِعٍ) عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي قَتَادَةَ بِنَحْوِهِ (وَفِيهِ) أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (هَلْ مَعَكُمْ مِنْ لَحْمِهِ مِنْ شَيْءٍ؟) )
۔ (چوتھی سند) اس میں ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: کیا تمہارے پاس اس کے گوشت کا کوئی حصہ باقی ہے؟ [الفتح الربانی/كتاب الحج والعمرة/حدیث: 4299]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22936»

الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22936
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4300
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ زَمَنَ الْحُدَيْبِيَةِ فَأَحْرَمَ أَصْحَابِي وَلَمْ أُحْرِمْ، فَرَأَيْتُ حِمَارًا فَحَمَلْتُ عَلَيْهِ فَاصْطَدْتُهُ فَذَكَرْتُ شَأْنَهُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَذَكَرْتُ أَنِّي لَمْ أَكُنْ أَحْرَمْتُ وَإِنَّمَا اصْطَدْتُهُ لَكَ، فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَصْحَابَهُ فَأَكَلُوا وَلَمْ يَأْكُلْ مِنْهُ حِينَ أَخْبَرْتُهُ أَنِّي اصْطَدْتُهُ لَهُ
۔ سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی معیت میں حدیبیہ والے سال سفر میں روانہ ہوا، میرے رفقاء نے احرام باندھا ہوا تھا اور میں نے احرام نہیں باندھا تھا،میں نے دوران سفر ایک جنگلی گدھا دیکھ کر اس پر حملہ کر دیا اور اس کو شکار کر لیا۔ پھر میں نے یہ واقعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ذکر کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بتلایا کہ میں احرام کی حالت میں نہیں تھا اور میں نے اس کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خاطر شکار کیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے صحابہ سے فرمایا: تم کھالو۔ پس صحابہ نے تو کھا لیا، مگر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نہ کھایا، اس کی وجہ یہ تھی کہ میں نے آپ کو بتلا دیا تھا کہ میں نے یہ شکار آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خاطر کیا تھا۔ [الفتح الربانی/كتاب الحج والعمرة/حدیث: 4300]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح دون قوله: ’’انما اصطدته لك‘‘ ودون قوله: ’’ولم يأكل منه حين اخبرته اني اصطدته له‘‘۔ أخرجه ابن ماجه: 3093، وأخرجه البخاري: 1823، ومسلم: 1196 مختصرا، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22590 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22961»

الحكم على الحديث:
حديث صحيح دون قوله: ’’انما اصطدته لك‘‘ ودون قوله: ’’ولم يأكل منه حين اخبرته اني اصطدته له‘‘۔ أخرجه ابن ماجه: 3093
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4301
عَنْ عُمَيْرِ بْنِ سَلَمَةَ الضَّمْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِالْعَرْجِ، فَإِذَا هُوَ بِحِمَارٍ عَقِيرٍ، فَلَمْ يَلْبَثْ أَنْ جَاءَ رَجُلٌ مِنْ بَهْزٍ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! هَذِهِ رَمْيَتِي فَشَأْنُكُمْ بِهَا، فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَسَّمَهُ بَيْنَ الرِّفَاقِ، ثُمَّ سَارَ حَتَّى أَتَى عُقْبَةَ أُثَايَةَ، فَإِذَا هُوَ بِظَبْيٍ فِيهِ سَهْمٌ وَهُوَ حَاقِفٌ فِي ظِلِّ صَخْرَةٍ، فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِهِ فَقَالَ: ( (قِفْ هَاهُنَا حَتَّى يَمُرَّ الرِّفَاقُ لَا يَرْمِيهِ أَحَدٌ بِشَيْءٍ) )
۔ سیدنا عمیر بن سلمہ ضمری سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عرج کے مقام پر تھے کہ وہاں ایک شکار کیا ہوا جنگلی گدھا پڑا تھا، تھوڑی دیر کے بعد بنو بہز کا ایک آدمی وہاں آ گیا، اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے اس پر تیر چلایا تھا، یہ یہاں آ کر گر گیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسے کھائیں، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو حکم دیا اور انہوں نے اس کا گوشت رفقائے سفر میں تقسیم کر دیا، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آگے کو روانہ ہوئے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اثایہ کی گھاٹی پر پہنچے تو وہاں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک ہرن دیکھا، اس کو تیر لگا ہوا تھا اور وہ ایک پتھر کے سائے میں سر جھکائے کھڑا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ایک ساتھی سے فرمایا: تم یہاں کھڑے رہو تاکہ لوگ گزر جائیں اوران میں سے کوئی بھی اس کی طرف کوئی چیز نہ پھینکے۔ [الفتح الربانی/كتاب الحج والعمرة/حدیث: 4301]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين۔ أخرجه النسائي: 7/ 205، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15450 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15529»
وضاحت: فوائد: … آخری جملے سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مقصد یہ تھا کہ کوئی آدمی نہ اس جانور کو چھوئے، نہ اس کو حرکت دے اور نہ اس کو جوش دلائے۔

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط الشيخين ۔ أخرجه النسائي: 7/ 205
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4302
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عُثْمَانَ قَالَ: كُنَّا مَعَ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَنَحْنُ حُرُمٌ فَأُهْدِيَ لَهُ طَيْرٌ وَطَلْحَةُ رَاقِدٌ، فَمِنَّا مَنْ أَكَلَ وَمِنَّا مَنْ تَوَزَّعَ فَلَمْ يَأْكُلْ، فَلَمَّا اسْتَيْقَظَ طَلْحَةُ وَفَّقَ مَنْ أَكَلَهُ وَقَالَ: أَكَلْنَاهُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
۔ عبد الرحمن بن عثمان کہتے ہیں: ہم سیدنا طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ احرام کی حالت میں جا رہے تھے، ان کی خدمت میں شکار کیا ہوا ایک پرندہ بطورِ ہدیہ پیش کیا گیا، سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ اس وقت سوئے ہوئے تھے، ہم میں سے بعض نے تو اس کو کھا لیا اور بعض نے اپنا حصہ تقسیم کر دیا اور اسے نہ کھایا، جب سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ بیدار ہوئے تو انہوں نے اس شکار کو کھانے والوں کو درست قرار دیا اور کہا: ہم نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ایسے شکار کا گوشت کھایا تھا۔ [الفتح الربانی/كتاب الحج والعمرة/حدیث: 4302]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1197، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1383 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1383»

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 1197
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4303
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِلَحْمِ صَيْدٍ وَهُوَ مُحْرِمٌ فَلَمْ يَأْكُلْهُ
۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم احرام کی حالت میں تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں شکار کا گوشت پیش کیا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے نہ کھایا۔ [الفتح الربانی/كتاب الحج والعمرة/حدیث: 4303]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره۔ أخرجه ابن ماجه: 3091، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: ترقیم بيت الأفكار الدولية: 830»
وضاحت: فوائد: … اس باب کی روایات سے معلوم ہوا کہ محرِم شکار کا گوشت اس وقت کھا سکتا ہے جب نہ تو اس نے خود شکار کیا گیا ہو اور نہ اس کو کھلانے کی نیت سے کیا گیا ہو۔ اس کی صورت یہ ہے کسی غیر محرِم آدمی نے اپنے لیےیا دوسرے غیر محرِم افراد کے لیے شکار کیا ہو، لیکن اتفاقی طور پر محرِم تک بھی وہ گوشت پہنچ گیا تو اسے چاہیے کہ وہ کھا لے۔
جَزَائُ الصَّیْدِ وَقَوْلُ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ: {یَا اَیُّھَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا
لَاتَقْتُلُوْا الصَّیْدَ وَ اَنْتُمْ حُرُمٌ … الاٰیۃ}
شکار کا متبادل اور اس آیت ِ کریمہ کی تفسیر:{یَا اَیُّھَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا … اَنْتُمْ حُرُمٌ}

الحكم على الحديث:
حسن لغيره ۔ أخرجه ابن ماجه: 3091
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4304
عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ عَنْ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ أَنَّ رَجُلًا أَوْطَأَ بَعِيرَهُ أُدْحِيَّ نَعَامٍ وَهُوَ مُحْرِمٌ فَكَسَرَ بَيْضَهَا، فَانْطَلَقَ إِلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَسَأَلَهُ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ: عَلَيْكَ بِكُلِّ بَيْضَةٍ جَنِينُ نَاقَةٍ أَوْ ضِرَابُ نَاقَةٍ، فَانْطَلَقَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (قَدْ قَالَ عَلِيٌّ بِمَا سَمِعْتَ، وَلَكِنْ هَلُمَّ إِلَى الرُّخْصَةِ عَلَيْكَ بِكُلِّ بَيْضَةٍ صَوْمٌ، أَوْ إِطْعَامُ مِسْكِينٍ) )
۔ ایک انصاری آدمی بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی کے اونٹ نے شتر مرغ کے انڈے توڑ ڈالے، جبکہ اس پر سوار آدمی احرام کی حالت میں تھا، وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں گیا اور ان سے اس بارے میں مسئلہ پوچھا، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا: تو ہر انڈے کے عوض اونٹنی کا ایک جنین (یعنی بچہ) بطور فدیہ ادا کر، اس کے بعد وہ آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں پہنچ گیا اور سارا واقعہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بیان کیا،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم علی کی بات تو سن چکے ہو، لیکن اب رخصت اور آسانی کی طرف آؤ اور وہ یہ کہ تم ہر انڈے کے بدلے ایک روزہ رکھ لو یا ایک مسکین کو کھانا کھلاؤ۔ [الفتح الربانی/كتاب الحج والعمرة/حدیث: 4304]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، مطر بن طھمان الوراق كثير الخطأ ليس بذاك القوي، وقد اضطرب في اسناده۔ أخرجه ابوداود في ’’المراسيل‘‘: 139، والبيھقي: 5/ 207، والدار قطني: 2/ 248، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20582 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20858»
وضاحت: فوائد: … ارشادِ باری تعالی ہے: {یَا اَیُّھَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا لَاتَقْتُلُوْا الصَّیْدَ وَ اَنْتُمْ حُرُمٌ وَمَنْ قَتَلَہٗمِنْکُمْمُّّتَعَمِّدًافَجَزَآئٌمِّثْلُمَاقَتَلَمِنَالنَّعَمِیَحْکُمُ بِہٖذَوَاعَدْلٍمِّنْکُمْھَدْیًا بَالِغَ الْکَعْبَۃِ اَوْ کَفَّارَۃٌ طَعَامُ مَسٰکِیْنَ اَوْ عَدْلُ ذَالِکَ صِیَامًا لِّیَذُوْقَ وَبَالَ اَمْرِہٖ} … ”اےایمان والو! (وحشی) شکار کو قتل مت کرو جب کہ تم حالت ِ احرام میں ہو، اور جو شخص تم میں سے اس کو جان بوجھ کر قتل کرے گا تو اس پر فدیہ واجب ہو گا، جو کہ مساوی ہو گا اس جانور کے جس کو اس نے قتل کیا، جس کا فیصلہ تم میں سے دو معتبر شخص کر دیں، خواہ وہ فدیہ خاص چوپایوں میں سے ہو جو نیاز کے طور پر کعبہ تک پہنچایا جائے اور خواہ کفارہ مساکین کو دے دیا جائے اور خواہ اس کے برابر روزے رکھ لیے جائیں تاکہ اپنے کیے کی شامت کا مزہ چکھے۔“ (سورۂ مائدہ: ۹۵)
سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ”ضَبُع“ کے بارے میں سوال کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((ھُوَ صَیْدٌ وَیُجْعَلُ فِیْہِ کَبْشٌ اِذَا صَادَہُ الْمُحْرِمُ۔)) … یہ واقعی شکا ر ہے اور جب محرِم اس کا شکار کرے گا تو اس میں (بطورِ فدیہ) دنبے کا فیصلہ کیا جائے گا۔“ (ابو داود: ۳۸۰۱، ترمذی: ۸۵۱، نسائی: ۲۸۳۶، ابن ماجہ: ۳۰۸۵)”ضَبُع“ کو فارسی میں کفتار کہتے ہیں،یہ وہ جانور ہے جو تازہ قبریں اکھاڑتا ہے، کیونکہیہ بندوں کا گوشت کھانے کا بڑا شوقین ہوتا ہے، اگر تصویر والی لغت دیکھ لی جائے تو بہتر ہو گا۔آیت ِ کریمہ میں مساوی جانور سے مراد خلقت یعنی قد و قامت میں مساوی ہونا ہے، قیمت میں مساوی ہونا نہیں، مثلا اگر ہرن کو قتل کیا ہے تو اس کی مساوی بکری ہے، نیل گائے کی مثل گائے ہے، وغیرہ، ایسے متبادل جانور کو حرم میں لے جا کر ذبح کر کے وہاں کے مسکینوں میں اس کا گوشت تقسیم کر دیا جائے۔ البتہ جس جانور کا مثل نہ مل سکتا ہو، وہاں اس کی قیمت بطورِ فدیہ لے کر مکہ پہنچا دی جائے گی اور اس سے غلہ خرید کر مکہ کے مساکین میں تقسیم کر دیا جائے گا، یہاں کعبہ اور مکہ سے مراد حرم ہے۔مساکین کو کھانا کھلانا یا اس کے برابر روزے رکھنا، دونوں میں سے کسی ایک پر عمل کرناجائز ہے، مقتول جانور کے حساب سے طعام میں جس طرح کمی بیشی ہو گی، روزوں میں بھی کمی بیشی ہو گی، مثلا محرِم نے ہرن قتل کر دیا، اس کی مثل بکری ہے، یہ فدیہ حرم مکہ میں ذبح کیا جائے گا، اگر یہ نہ ملے تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کے ایک قول کے مطابق چھ مساکین کو کھانا یا تین دن کے روزے رکھنے ہوں گے، اگر اس نے بارہ سنگھا، سانبھر یا اس جیسا کوئی جانور قتل کر دیا تو اس کی مثل گائے ہے، اگر یہ دستیاب نہ ہو یا اس کی طاقت نہ ہو تو بیس مسکین کو کھانا یا بیس دن کے روزے رکھنا ہوں گے، یا ایسا جانور (شتر مرغ یا گورخر وغیرہ) قتل کیا ہے، جس کی مثل اونٹ ہے تو اس کی عدم دستیابی کی صورت میں۳۰ مساکین کو کھانا یا۳۰ روزے رکھنے ہوں گے۔ (ابن کثیر)
حدیث نمبر (۴۲۷۳) میں یہ بات گزر چکی ہے کہ جب سیدنا کعب بن عجرہ نے احرام کی حالت میں سر منڈوا لیا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کو جو فدیہ بتلایا تھا، اس کی تفصیلیہ تھی: وہ تین روزے رکھے یا چھ مساکین کو تین صاع کھانا کھلائے یا ایک بکری ذبح کر دے۔ اس حدیث سے اس حقیقت کا اشارہ سا ملتا ہے کہ ایک صاع کے بدلے ایک روزہ ہے۔ واللہ اعلم بالصواب۔
جَوَازُ اَکْلِ صَیْدِ الْبَحْرِ مُطْلَقًا لِلْمُحْرِمِ وَغَیْرِہٖ وَمَا جَائَ فِیْ الْجَرَادِ، وَقَوْلُ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ:
{اُحِلَّ لَکُمْ صَیْدُ الْبَحْرِ وَطَعَامُہٗمَتَاعًالَّکُمْوَلِلسَّیَّارَۃِ}
محرم اور غیر محرم کے لیے مطلق طور پر سمندری شکار کو کھانے کا اور اس سلسلے میں ٹڈی کے حکم اور اللہ تعالی کے اس فرمان
{اُحِلَّ لَکُمْ صَیْدُ الْبَحْرِ وَطَعَامُہٗمَتَاعًالَّکُمْوَلِلسَّیَّارَۃِ} کا بیان

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4305
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي حَجٍّ أَوْ عُمْرَةٍ فَاسْتَقْبَلَنَا رِجْلٌ مِنْ جَرَادٍ فَجَعَلْنَا نَضْرِبُهُنَّ بِعَصِيِّنَا وَسِيَاطِنَا وَنَقْتُلُهُنَّ وَأُسْقِطَ فِي أَيْدِينَا، فَقُلْنَا: مَا نَصْنَعُ وَنَحْنُ مُحْرِمُونَ؟ فَسَأَلْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: ( (لَا بَأْسَ بِصَيْدِ الْبَحْرِ) )
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم حج یا عمرہ کے ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے، ٹڈیوں کا ایک لشکر ہمارے سامنے آگیا، ہم اپنی لاٹھیوں اورچھڑیوں کے ساتھ ان کو مارنے لگے اور قتل کرنے لگے، پھر ہمیں اپنے کیے پر ندامت ہوئی اور ہم نے کہا: ہم تو محرم تھے، ہم نے کیا کر دیا ہے؟ پس ہم نے اس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سمندر کے شکار میں کوئی حرج نہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الحج والعمرة/حدیث: 4305]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف جدا، مؤمل بن اسماعيل سيء الحفظ، وابو المھزم واسمه يزيد ويقال: عبد الرحمن بن سفيان، متروك۔ أخرجه ابوداود: 1854، وابن ماجه: 3222، والترمذي: 850، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8765 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8750»
وضاحت: فوائد: … پوری آیتیوں ہے: {اُحِلَّ لَکُمْ صَیْدُ الْبَحْرِ وَطَعَامُہٗمَتَاعًالَّکُمْوَلِلسَّیَّارَۃِ وَحُرِّمَ عَلَیْکُمْ صَیْدُ الْبَرِّ مَا دُمْتُمْ حُرُمًا وَّاتَّقُوْا اللّٰہَ الَّذِیْ اِلَیْہِ تُحْشَرُوْنَ۔} … ”تمہارے لیے دریا کا شکار پکڑنا اور اس کا کھانا حلال کیا گیا ہے، تمہارے فائدے کے واسطے اور مسافروں کے واسطے اور خشکی کا شکار پکڑنا تمہارے لیے حرام کیا گیا ہے، جب تک تم احرام میں رہو اور اللہ تعالی سے ڈرو جس کے پاس جمع کیے جاؤ گے۔“ (سورۂ مائدہ: ۹۶)اس حقیقت پر اہل علم کا اجماع ہے کہ محرِم کے لیے سمندر کا شکار کرنا، اس کو کھانا اور اس کی خرید و فروخت کرنا جائز ہے اور اس شکار سے مراد وہ جانور ہے جو صرف پانی میں زندہ رہ سکتا ہے، جیسے مچھلی۔ سمندر کے شکار سے مراد وہ جانور ہے جو صرف پانی میں رہتا ہے، اس لیے اگر محرِم ایسے جانور کو کنووں اور تالابوں وغیرہ میں پا لے تو اس کا شکار کر سکتا ہے۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((اَلْجَرَادُ مِنْ صَیْدِ الْبَحْرِ۔)) … ”ٹڈی سمندر کے شکار میں سے ہے۔“ (ابوداود: ۱۸۵۳، اسنادہ حسن، میمون بن جابان لاینزل حدیثہ عن درجۃ الحسن) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ محرِم ٹڈی کا شکار بھی کر سکتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس لحاظ سے اس جانور کو سمندر کا شکار قرار دیا ہو کہ اس کے مردار کا حکم مچھلی کے مردار کی طرح ہے۔ واللہ اعلم بالصواب

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف جدا
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
43. بَابُ مَا يَجُوزُ لِلْمُحْرِمِ قَتْلُ مِنَ الدَّوَابِّ فِي الْحَرَمِ وَغَيْرِهِ
ان حیوانات کا بیان، جن کو حرم کی حدود کے اندر اور باہر قتل کرنا محرم کے لئے جائز ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4306
عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (خَمْسٌ مِنَ الدَّوَابِّ، كُلُّهُنَّ فَاسِقٌ، يُقْتَلْنَ فِي الْحَرَمِ: الْكَلْبُ الْعَقُورُ وَالْعَقْرَبُ وَالْغُرَابُ وَالْحُدَيَّا وَالْفَأْرَةُ) )
۔ زوجۂ رسول سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پانچ قسم کے جانور موذی اور فاسق ہیں، ان کو حرم کے اندر بھی قتل کر دیا جائے: کلب ِ عقور، بچھو، کوا، چیل اور چوہا۔ [الفتح الربانی/كتاب الحج والعمرة/حدیث: 4306]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف جدا، مؤمل بن اسماعيل سيء الحفظ، وابو المھزم واسمه يزيد ويقال: عبد الرحمن بن سفيان، متروك۔ أخرجه ابوداود: 1854، وابن ماجه: 3222، والترمذي: 850، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8765 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25076»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف جدا
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4307
(وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: ( (خَمْسٌ، فَوَاسِقُ، يُقْتَلْنَ فِي الْحِلِّ، وَالْحَرَمِ، الْحَيَّةُ وَالْغُرَابُ الْأَبْقَعُ وَالْفَأْرَةُ وَالْكَلْبُ الْعَقُورُ وَالْحُدَيَّا) )
(دوسری سند) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے:”پانچ قسم کے جانور موذی اور فاسق ہیں، ان کو حدودِ حرم کے اندر اور باہر ہر جگہ قتل کیا جائے: سانپ، کوا، چوہا، کلبِ عقور اور چیل۔“ [الفتح الربانی/كتاب الحج والعمرة/حدیث: 4307]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25168»

الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25168
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4308
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَالِثٍ) عَنْ عَائِشَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (خَمْسٌ يَقْتُلُهُنَّ الْمُحْرِمُ: الْحَيَّةُ وَالْفَأْرَةُ وَالْغُرَابُ الْأَبْقَعُ وَالْحِدَأَةُ وَالْكَلْبُ الْكَلِبُ، قَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ: يُقْتَلْنَ فِي الْحِلِّ وَالْحَرَمِ) )
(تیسری سند) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:”ان پانچ قسم کے جانوروں کو محرم قتل کر سکتا ہے: سانپ، چوہا، کوا، چیل اور باؤلا کتا، ان جانوروں کو حدودِ حرم کے اندر اور باہر ہر جگہ قتل کیا جا سکتا ہے۔“ [الفتح الربانی/كتاب الحج والعمرة/حدیث: 4308]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26197»

الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26197
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں