🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
12. بَابُ كَمْ حَجَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاعْتَمَرَ
اس چیز کا بیان کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کتنے حج اور کتنے عمرے کیے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4110
عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ أَرْقَمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ غَزَا تِسْعَ عَشْرَةَ، وَأَنَّهُ حَجَّ بَعْدَ مَا هَاجَرَ حَجَّةً وَاحِدَةً، حَجَّةَ الْوَدَاعِ، قَالَ أَبُو إِسْحَاقَ: وَبِمَكَّةَ أُخْرَى
۔ سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انیس غزوے کیے اور ہجرت کے بعد صرف ایک حج کیا، جو کہ حجۃ الوداع تھا۔ ابو اسحاق نے کہا: ایک حج آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (قبل از ہجرت) مکہ میں کیا تھا۔ [الفتح الربانی/كتاب الحج والعمرة/حدیث: 4110]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1254، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19298 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19513»
وضاحت: فوائد: … ”کتاب السیرۃ النبویۃ“ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے غزووں کی تفصیل آئے گی۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہجرت کے بعد بالاتفاق ایک ہی حج کیا تھا، جس کو حجۃ الوداع کہتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ فریضہ۱۰ ھ میں ادا کیا تھا۔

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 1254
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4111
عَنْ قَتَادَةَ قَالَ: سَأَلْتُ أَنَسًا: كَمِ اعْتَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: أَرْبَعًا، عُمْرَتَهُ الَّتِي صَدَّهُ عَنْهَا الْمُشْرِكُونَ فِي ذِي الْقَعْدَةِ، وَعُمْرَتَهُ أَيْضًا فِي الْعَامِ الْمُقْبِلِ فِي ذِي الْقَعْدَةِ، وَعُمْرَتَهُ حِينَ قَسَمَ غَنِيمَةَ حُنَيْنٍ مِنَ الْجِعْرَانَةِ فِي ذِي الْقَعْدَةِ، وَعُمْرَتَهُ مَعَ حَجَّتِهِ
۔ قتادہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کتنے عمرے کئے تھے؟ انہوں نے کہا: چار،پہلا وہ عمرہ جس سے مشرکوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو روک دیا تھا، یہ ذی قعدہ میں تھا، دوسرا جو اگلے سال کیا تھا، یہ بھی ذی قعدہ میں تھا، تیسرا جو غزوۂ حنین کی غنیمت کی تقسیم کے وقت جعرانہ سے کیا تھا اور یہ بھی ذی قعدہ میں تھا، اور چوتھا جو آپ نے حجۃ الوداع کے ساتھ کیا تھا۔ [الفتح الربانی/كتاب الحج والعمرة/حدیث: 4111]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1778، 1779، 1780، ومسلم: 1253، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13565 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13600»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 1778
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4112
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: اعْتَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعَ عُمَرٍ، عُمْرَةَ الْحُدَيْبِيَّةِ، وَعُمْرَةَ الْقَضَاءِ وَالثَّالِثَةَ مِنَ الْجِعْرَانَةِ، وَالرَّابِعَةَ الَّتِي مَعَ حَجَّتِهِ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چار عمرے کئے، ایک عمرۂ حدیبیہ، دوسرا عمرۂ قضا، تیسرا جعرانہ مقام سے اور چوتھا حج کے ساتھ۔ [الفتح الربانی/كتاب الحج والعمرة/حدیث: 4112]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1778، 1779، 1780، ومسلم: 1253، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13565 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2954»
وضاحت: فوائد: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کل چار عمرے کیے:
۱۔ عمرۂ حدیبیہ، جوکہ مکمل نہیں ہوا تھا، بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم راستے سے واپس آ گئے تھے، یہ ذوالقعدہ ۶ھ کا واقعہ تھا۔
۲۔ عمرۂ قضائ، یہ وہ عمرہ ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صلح حدیبیہ کے معاہدے کے مطابق اگلے سال ادا کیا تھا، یہ ذوالقعدہ۷ھ کا واقعہ تھا، اس سے مراد قضائی والا عمرہ نہیں ہے۔ بلکہ یہ مشرکوں کے ساتھ قضاء (فیصلہ) کے نتیجے میں ہوا تھا۔
۳۔ عمرۂ جعرانہ،جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غزوۂ حنین اور غزوۂ طائف سے فارغ ہو کر جعرانہ مقام پر پہنچے اور وہاں پڑاؤ ڈالا تو
اس دوران یہ عمرہ ادا کیا تھایہ فتح مکہ کے بعد۸ھ میں پیش آیا تھا۔
۴۔ حجۃ الوداع کے ساتھ والا عمرہ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حج قران کیا تھا، یعنی ایک ہی احرام میں حج اور عمرہ کی ادائیگی مکمل کی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ۱۰ ھ میں حجۃ الاسلام ادا کیا تھا۔
ہر عمرے کی اس کی مخصوص باب میں وضاحت آ رہی ہے۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 1778
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4113
عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اعْتَمَرَ ثَلَاثَ عُمَرٍ، كُلُّ ذَلِكَ فِي ذِي الْقَعْدَةِ يُلَبِّي حَتَّى يَسْتَلِمَ الْحَجَرَ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین عمرے کئے تھے اور یہ سارے ذوالقعدہ میں تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تلبیہ جاری رکھتے، یہاں تک حجرِ اسود کا استلام کر لیتے۔ [الفتح الربانی/كتاب الحج والعمرة/حدیث: 4113]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6686 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6686»
وضاحت: فوائد: … انھوں نے حج کے ساتھ والا عمرہ شمار نہیں کیا، معلوم ہوا کہ عمرہ کے موقع پر احرام باندھنے سے لے کر طواف شروع کرنے تک تلبیہ جاری رکھا جائے گا۔

الحكم على الحديث:
حسن لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4114
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: مَا اعْتَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَّا فِي ذِي الْقَعْدَةِ وَلَقَدْ اعْتَمَرَ ثَلَاثَ عُمَرٍ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ذی قعدہ میں ہی عمرے کئے تھے اور کل تین عمرے کیے تھے۔ [الفتح الربانی/كتاب الحج والعمرة/حدیث: 4114]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وھذا اسناد ضعيف۔ أخرجه ابن ماجه: 2997، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25910 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26435»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث میں بھی حجۃ الوداع والے عمرے کا ذکر نہیں کیا گیا۔

الحكم على الحديث:
حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4115
عَنْ مُجَاهِدٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: سُئِلَ كَمِ اعْتَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: مَرَّتَيْنِ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: لَقَدْ عَلِمَ ابْنُ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَدِ اعْتَمَرَ ثَلَاثَةً، سِوَى الَّتِي قَرَنَهَا بِحَجَّةِ الْوَدَاعِ
۔ مجاہد کہتے ہیں کہ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے یہ سوال کیا گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کتنے عمرے کئے تھے؟ تو انہوں نے کہا: دو، لیکن سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ابن عمر رضی اللہ عنہ کو علم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حج والے عمرے کے علاوہ کل تین عمرے کئے تھے۔ [الفتح الربانی/كتاب الحج والعمرة/حدیث: 4115]
تخریج الحدیث: «صحيح بالشواھد۔ أخرجه ابوداود: 1992، وأخرجه البخاري: 1775، 1776، 4253، 4254، ومسلم: 1255 مطولا بلفظ: يا ام المؤمنين! الا تسمعي ما يقول ابوعبد الرحمن؟ يقول: اعتمر رسول الله صلي الله عليه وآله وسلم اربعا، احداھن في رجب؟ فقالت: يرحم الله ابا عبد الرحمن، أما انه لميعتمر عمرة الا وھو شاھدھا، وما اعتمر شيئا في رجب۔، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5383 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5383»
وضاحت: فوائد: … صحیح بخاری کی ایک حدیث کے مطابق سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چار عمروں کا تذکرہ کیا ہے، اس حدیث میں حدیبیہ اور حجۃ الوداع والے عمروں کا تذکرہ نہیں کیا گیا، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اول الذکر سے روک لیا گیا تھا اور مؤخر الذکر حج کے ساتھ ملا ہوا تھا، دوسرے دو عمروں کی طرح مستقل نہیں تھا۔

الحكم على الحديث:
صحيح بالشواھد ۔ أخرجه ابوداود: 1992
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
13. فَصْلٌ مِنْهُ فِي عُمْرَةِ الْحُدَيْبِيَةِ
عمرۂ حدیبیہ کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4116
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ مُعْتَمِرًا، فَحَالَ كُفَّارُ قُرَيْشٍ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْبَيْتِ فَنَحَرَ هَدْيَهُ، وَحَلَقَ رَأْسَهُ بِالْحُدَيْبِيَّةِ، فَصَالَحَهُمْ عَلَى أَنْ يَعْتَمِرُوا الْعَامَ الْمُقْبِلَ، وَلَا يَحْمِلُ السِّلَاحَ عَلَيْهِمْ (وَفِي لَفْظٍ: وَلَا يَحْمِلُ سِلَاحًا) إِلَّا سُيُوفًا وَلَا يُقِيمُ بِهَا إِلَّا مَا أَحَبُّوا، فَاعْتَمَرَ مِنَ الْعَامِ الْمُقْبِلِ، فَدَخَلَهَا كَمَا كَانَ صَالَحَهُمْ، فَلَمَّا أَنْ أَقَامَ ثَلَاثًا أَمْرُوهُ أَنْ يَخْرُجَ فَخَرَجَ
۔ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عمرہ کے ارادے سے روانہ ہوئے، لیکن کفارِ قریش آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور بیت اللہ کے درمیان حائل ہو گئے، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حدیبیہ کے مقام پر ہی ہَدی کاجانور ذبح کر دیا اور اپنا سر منڈوا لیا، اور ان کے ساتھ یہ معاہدہ ہواکہ مسلمان آئندہ سال عمرہ کے لئے آ سکیں گے اور ان میں سے کوئی مسلح نہ ہو گا، البتہ ان کے پاس صرف تلواریں ہوں گی اور وہ اس وقت تک ٹھہر سکیں گے، جب تک کفار چاہیں گے، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آئندہ سال آ کر عمرہ کیا، معاہدہ کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین دن قیام کر لیا تو انہوں نے کہا کہ اب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چلے جائیں، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چلے آئے۔ [الفتح الربانی/كتاب الحج والعمرة/حدیث: 4116]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح لغيره۔ أخرج البخاري: 2701، 4252 مثله، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6067 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6067»
وضاحت: فوائد: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس موقع پر ذوالقعدہ کے شروع میں۶ھ میں مدینہ منورہ سے نکلے تھے، یہ سوموار کا دن تھا۔

الحكم على الحديث:
حديث صحيح لغيره ۔ أخرج البخاري: 2701
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4117
عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ وَمَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ قَالَا: قَلَّدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْهَدْيَ وَأَشْعَرَهُ بِذِي الْحُلَيْفَةِ وَأَحْرَمَ مِنْهَا بِالْعُمْرَةِ، وَحَلَقَ بِالْحُدَيْبِيَّةِ فِي عُمْرَتِهِ، وَأَمَرَ أَصْحَابَهُ بِذَلِكَ، وَنَحَرَ بِالْحُدَيْبِيَةِ قَبْلَ أَنْ يَحْلِقَ وَأَمَرَ أَصْحَابَهُ بِذَلِكَ
۔ سیدنا مسور بن مخرمہ اور سیدنا مروان بن حکم رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہَدی کے جانوروں کو قلادے ڈالے، ذوالحلیفہ کے مقام پر ان کے پہلوؤں پر علامتی چیرا دیا اور وہاں سے عمرے کا احرام باندھ کر روانہ ہوئے، لیکن حدیبیہ کے مقام پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سرمنڈوا دیا اور اپنے صحابہ کو بھی یہی کچھ کرنے کا حکم دیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سر منڈوانے سے پہلے ہدی کو نحر کیا تھا اور صحابہ کو بھی یہی حکم دیا۔ [الفتح الربانی/كتاب الحج والعمرة/حدیث: 4117]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1811، 2731، 2732، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18920 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19128»
وضاحت: فوائد: … ”کتاب الھدایا و الضحایا“ میں ہدی اور قربانی کے احکام کی تفصیل بیان ہو گی۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 1811
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
14. فَصْلٌ مِنْهُ فِي عُمْرَةِ الْقَضَاءِ
عمرۂ قضاء کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4118
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حِينَ اعْتَمَرَ، فَطَافَ وَطُفْنَا مَعَهُ، وَصَلَّى وَصَلَّيْنَا مَعَهُ، وَسَعَى بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَكُنَّا نَسْتُرُهُ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ لَا يُصِيبُهُ أَحَدٌ بِشَيْءٍ
۔ سیدنا عبد اللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عمرہ کیا تو ہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے طواف کیا تو ہم نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ طواف کیا اور جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز پڑھی تو ہم نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صفا مروہ کی سعی کی، ہم نے اس دوران آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو گھیرے میں لئے رکھا تاکہ کہیں ایسا نہ ہو کہ مکہ والے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کوئی نقصان پہنچا دیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الحج والعمرة/حدیث: 4118]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 4188، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19129 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19340»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 4188
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4119
عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ قَالَ: قُلْتُ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَدَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْبَيْتَ فِي عُمْرَتِهِ؟ قَالَ: لَا
۔ اسماعیل بن ابی خالد کہتے ہیں: میں نے سیدنا عبد اللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے پوچھاکہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عمرہ کے موقع پر بیت اللہ میں داخل ہوئے تھے؟ انہوں نے کہا: جی نہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الحج والعمرة/حدیث: 4119]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1600، 1791، ومسلم: 1332، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19336»
وضاحت: فوائد: … اس عمرہ کو عمرۂ قضیہ، عمرۂ صلح اور عمرۂ قصاص بھی کہتے ہیں، عمرۂ قضاء کی وجہ تسمیہیہ ہے کہ یہ عمرہ اس فیصلے کے مطابق تھا، جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حدیبیہ کے مقام پر مشرکوں کے ساتھ کیا تھا، اس سے مراد قضائی والا عمرہ نہیں ہے، کیونکہ جس کو راستے میں روک دیاجائے، اس پر قضائی واجب نہیں ہوتی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عمرہ ٔ قضاء کے موقع پر کعبہ میں داخل نہیں ہوئے تھے، فتح مکہ کے موقع پر داخل ہوئے تھے، حجۃ الوداع کے موقع پر ایسے ہوا تھا یا نہیں، اس میں اختلاف ہے، وضاحت آ گے آ رہی ہے۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 1600
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں