🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
21. بَابُ مَوَاقِيتِ الْإِحْرَامِ الْمَكَانِيَّةِ
مواقیت ِاحرام کے مقامات کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4149
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (ارْحَلْ هَذِهِ النَّاقَةَ، ثُمَّ أَرْدِفْ أُخْتَكَ فَإِذَا هَبَطْتُمَا مِنْ أَكَمَةِ التَّنْعِيمِ فَأَهِلَّا وَأَقْبِلَا) ) ، وَذَلِكَ لَيْلَةَ الصَّدَرِ
۔ سیدناعبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس اونٹنی پر سوار ہو جاؤ اوراپنی بہن عائشہ کو اپنے پیچھے بٹھا لو، پھر جب تم تنعیم کے ٹیلے سے اترو تو احرام باندھ لو اور (عمرہ کے لیے) آ جاؤ۔ یہ روانگی والی رات کی بات تھی۔ [الفتح الربانی/كتاب الحج والعمرة/حدیث: 4149]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1784، 2985، ومسلم: 1212، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1709 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1709»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 1784
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4150
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) ، بِنَحْوِهِ وَفِيهِ: ( (فَإِذَا هَبَطْتَ بِهَا مِنَ الْأَكَمَةِ فَلْتُحْرِمْ فَإِنَّهَا عُمْرَةٌ مُتَقَبَّلَةٌ) )
۔ (دوسری سند) یہ حدیث بھی سابق حدیث کی مانند ہے، البتہ اس میں ہے: جب تم تنعیم کے ٹیلے سے اترو تو عائشہ احرام باندھ لے، پس بیشک یہ عمرہ مقبول ہو گا۔ [الفتح الربانی/كتاب الحج والعمرة/حدیث: 4150]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1710»
وضاحت: فوائد: … حج و عمرہ کے مکانی مواقیت کا ذکر اس باب میں کیا گیا ہے، مسئلہ بالکل واضح ہے کہ جو آدمی ان مواقیت کے اندر رہتا ہے، وہ اپنی رہائش گاہ سے احرام باندھ لے گا اور جو ان مواقیت سے باہر رہتا ہے، وہ احرام کے ساتھ ان کو عبور کرے گا۔ رہا مسئلہ زمانی مواقیت کا تو عمرہ کے لیے تو ہر وقت احرام باندھا جا سکتا ہے، لیکن حج کے لیے صرف حج والے مہینوں میں احرام باندھا جائے گا۔

الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1710
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
22. بَابُ اخْتِلَافِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ فِي الْمَكَانِ الَّذِي أَهَلَّ عَنْهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ
صحابہ کرام کا اس بارے میں اختلاف کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کس جگہ سے تلبیہ پڑھا تھا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4151
عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ: قُلْتُ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: يَا أَبَا الْعَبَّاسِ عَجَبًا لِاخْتِلَافِ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي إِهْلَالِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حِينَ أَوْجَبَ، فَقَالَ: إِنِّي لَأَعْلَمُ النَّاسِ بِذَلِكَ، إِنَّهَا إِنَّمَا كَانَتْ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَجَّةٌ وَاحِدَةٌ فَمِنْ هُنَالِكَ اخْتَلَفُوا، خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ حَاجًّا، فَلَمَّا صَلَّى فِي مَسْجِدِهِ بِذِي الْحُلَيْفَةِ رَكْعَتَيْهِ أَوْجَبَ فِي مَجْلِسِهِ، فَأَهَلَّ بِالْحَجِّ حِينَ فَرَغَ مِنْ رَكْعَتَيْهِ، فَسَمِعَ ذَلِكَ مِنْهُ أَقْوَامٌ فَحَفِظُوا عَنْهُ ثُمَّ رَكِبَ فَلَمَّا اسْتَقَلَّتْ بِهِ نَاقَتُهُ أَهَلَّ وَأَدْرَكَ ذَلِكَ مِنْهُ أَقْوَامٌ، وَذَلِكَ أَنَّ النَّاسَ إِنَّمَا كَانُوا يَأْتُونَ أَرْسَالًا، فَسَمِعُوهُ حِينَ اسْتَقَلَّتْ بِهِ نَاقَتُهُ يُهِلُّ، فَقَالُوا: إِنَّمَا أَهَلَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حِينَ اسْتَقَلَّتْ بِهِ نَاقَتُهُ، ثُمَّ مَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا عَلَا عَلَى شَرَفِ الْبَيْدَاءِ، أَهَلَّ وَأَدْرَكَ ذَلِكَ مِنْهُ أَقْوَامٌ، فَقَالُوا: إِنَّمَا أَهَلَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حِينَ عَلَا عَلَى شَرَفِ الْبَيْدَاءِ، وَأَيْمُ اللَّهِ لَقَدْ أَوْجَبَ فِي مُصَلَّاهُ، وَأَهَلَّ حِينَ اسْتَقَلَّتْ بِهِ نَاقَتُهُ، وَأَهَلَّ حِينَ عَلَا عَلَى شَرَفِ الْبَيْدَاءِ فَمَنْ أَخَذَ بِقَوْلِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ أَهَلَّ فِي مُصَلَّاهُ إِذَا فَرَغَ مِنْ رَكْعَتَيْهِ
۔ سعید بن جییرکہتے ہیں: میں نے سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے کہا:ابوالعباس! مجھے تعجب ہے کہ صحابہ کا اس جگہ کے بارے میں بھی اختلاف ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تلبیہ کہاں سے پڑھا تھا؟ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اس کے بارے میں میں سب سے زیادہ علم رکھتا ہوں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چونکہ ایک ہی حج کیا تھا، اس لئے یہ اختلاف ہوا ہے، تفصیل یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حج کے ارادہ سے روانہ ہوئے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ذوالحلیفہ میں اپنی مسجد میں دو رکعت نماز پڑھ کر فارغ ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہیں سے تلبیہ پڑھا تھا اور حج کا احرام باندھا تھا، جن لوگوں نے یہ تلبیہ آپ سے سنا، انہوں نے اس کو یاد کر لیا، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سواری پر سوارے ہوئے اور اونٹنی سیدھی ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دوبارہ تلبیہ پڑھا، کچھ لوگوں نے پہلی بار یہ تلبیہ سنا، بات یہ ہے کہ لوگ مختلف گروہوں اور قافلوں کی صورت میں آ رہے تھے، بہرحال جب اونٹنی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو لے کر سیدھی کھڑی ہوئی تو اس وقت کچھ لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے تلبیہ سنا اورانہوں نے یہ کہہ دیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اونٹنی کے کھڑے ہونے کے بعد تلبیہ پڑھا۔اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آگے روانہ ہوئے اور جب بیداء کے ٹیلے پر پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر تلبیہ پڑھا، جن لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے وہاں تلبیہ سنا انہوں نے کہہ دیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیداء کے ٹیلہ پر جا کر تلبیہ پڑھا تھا، اللہ کی قسم! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جہاں نماز پڑھی تھی وہیں سے تلبیہ شروع کیا تھا، اس کے بعد جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اونٹنی سیدھی کھڑی ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر تلبیہ پڑھا تھا اور جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیداء کے ٹیلہ پر پہنچے تب بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تلبیہ پڑھا تھا۔ پس جن لوگوں نے سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے قول کو اختیار کیا ہے وہ دو رکعت نماز سے فارغ ہو کر تلبیہ پڑھتے ہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الحج والعمرة/حدیث: 4151]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره۔ أخرجه ابوداود: 1770، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2358 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2358»
وضاحت: فوائد: … سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے صحابۂ کرام کے اس اختلاف میں بہترین تطبیق پیش کی ہے، اس اختلاف کی وجہ دوسری حدیث کا علم نہ ہونا ہے، آنے والی روایات کو اس تطبیق کی روشنی میں سمجھنا چاہیے۔ذوالحلیفہ میں اپنی مسجد سے مراد وہ جگہ ہے، جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز پڑھی تھی، بعد میں اس مقام پر مسجد تعمیر کی گئی۔

الحكم على الحديث:
حسن لغيره ۔ أخرجه ابوداود: 1770
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4152
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَلَّى الظُّهْرَ ثُمَّ رَكِبَ رَاحِلَتَهُ فَلَمَّا عَلَا جَبَلَ الْبَيْدَاءِ أَهَلَّ
۔ سیدناانس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ظہر کی نماز ادا کی، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سوار ہوئے اور جب بیداء کے ٹیلے پر پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تلبیہ پکارا۔ [الفتح الربانی/كتاب الحج والعمرة/حدیث: 4152]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره۔ أخرجه ابوداود: 1770، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2358 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13185»

الحكم على الحديث:
حسن لغيره ۔ أخرجه ابوداود: 1770
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4153
عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ: كَانَ ابْنُ عُمَرَ يَقُولُ: هَذِهِ الْبَيْدَاءُ الَّتِي تَكْذِبُونَ فِيهَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، وَاللَّهِ! مَا أَحْرَمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَّا مِنْ عِنْدِ الْمَسْجِدِ (زَادَ فِي رِوَايَةٍ:) يَعْنِي مَسْجِدَ ذِي الْحُلَيْفَةِ
۔ سالم بن عبد اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ یہ کہا کرتے تھے: یہ ہے وہ مقامِ بیداء، جس کے متعلق لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف غلط بات منسوب کرتے ہیں، اللہ کی قسم! نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تو اس مقام سے احرام باندھا اور تلبیہ پڑھا تھا، جہاں اس وقت مسجد ذوالحلیفہ ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الحج والعمرة/حدیث: 4153]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1541، ومسلم: 1186، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4570 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4570»
وضاحت: فوائد: … یعنی لوگ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیداء مقام سے تلبیہ شروع کیا تھا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس سے پہلے تلبیہ کہہ چکے تھے۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 1541
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4154
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ: كَانَ ابْنُ عُمَرَ إِذَا ذُكِرَ عِنْدَهُ الْبَيْدَاءُ يَسُبُّهَا، وَيَقُولُ إِنَّمَا أَحْرَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ ذِي الْحُلَيْفَةِ
۔ (دوسری سند) جب سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ کے سامنے بیداء کا ذکر کیا جاتا تو وہ اسے برا بھلا کہتے اورپھر بیان کرتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تو ذوالحلیفہ سے احرام باندھا تھا۔ [الفتح الربانی/كتاب الحج والعمرة/حدیث: 4154]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5907»

الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5907
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4155
عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أَدْخَلَ رِجْلَهُ فِي الْغَرْزِ، وَاسْتَوَتْ بِهِ نَاقَتُهُ قَائِمَةً أَهَلَّ مِنْ مَسْجِدِ ذِي الْحُلَيْفَةِ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رکاب میں پاؤں رکھتے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اونٹنی سیدھی کھڑی ہو جاتی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ذوالحلیفہ مسجد کے مقام سے تلبیہ کہتے۔ [الفتح الربانی/كتاب الحج والعمرة/حدیث: 4155]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1187، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4842 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4842»
وضاحت: فوائد: … آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اہل مدینہ کے لیے ذوالحلیفہ کو بطورِ میقات مقرر کیا اور خود بھی اسی پر عمل کیا، بعد میں اس مقام پر ایک مسجد تعمیر کر دی گئی تھی۔

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 1187
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
23. بَابُ مَا يَصْنَعُ مَنْ أَرَادَ الْإِحْرَامَ مِنَ الْغُسْلِ وَالطِّيبِ
احرام کا ارادہ کرنے والے کا غسل کرنا اور خوشبو لگانا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4156
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يُحْرِمَ غَسَلَ رَأْسَهُ بِخَطْمِيٍّ وَأُشْنَانٍ وَدَهَنَهُ بِشَيْءٍ مِنْ زَيْتٍ غَيْرِ كَثِيرٍ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب احرام باندھنے کا ارادہ کرتے تو خطمی بوٹی اور اُشنان گھاس سے اپنا سر دھوتے اور سر پر کچھ زیتون کا تیل بھی لگاتے تھے۔ [الفتح الربانی/كتاب الحج والعمرة/حدیث: 4156]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، عبد الله بن محمد بن عقيل ضعيفيعتبر به، ولم يتابع ھنا۔ أخرجه البزار: 1085، والدارقطني: 2/ 226، والطبراني في ’’الاوسط‘‘: 1172، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24490 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24995»
وضاحت: فوائد: … احرام باندھتے وقت غسل کرنا مستحب ہے، جیسا کہ سیدنا زیدبن ثابت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم احرام باندھنے کے لیے علیحدہ ہوئے اور غسل کیا۔ (ترمذی: ۸۳۰)

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4157
وَعَنْهَا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: طَيَّبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِيَدَيَّ (وَفِي لَفْظٍ: بِيَدَيَّ هَاتَيْنِ) بِذَرِيرَةٍ لِحَجَّةِ الْوَدَاعِ لِلْحِلِّ وَالْإِحْرَامِ حِينَ أَحْرَمَ وَحِينَ رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ يَوْمَ النَّحْرِ قَبْلَ أَنْ يَطُوفَ بِالْبَيْتِ (وَفِي لَفْظٍ: قَبْلَ أَنْ يُفِيضَ)
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: حجۃ الوداوع کے موقع پر میں نے اپنے ان ہاتھوں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو احرام باندھتے وقت اور احرام کھولتے وقت مختلف اشیاء سے بنی ہوئی خو شبو لگائی تھی،یعنی جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم احرام باندھنے لگے تو اس وقت لگائی اور جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دس ذوالحجہ کو طوافِ افاضہ سے پہلے جمرۂ عقبہ کو کنکریاں ماریں تو اس وقت خوشبو لگائی تھی۔ [الفتح الربانی/كتاب الحج والعمرة/حدیث: 4157]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5930، ومسلم: 1189، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26078 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26606»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 5930
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4158
عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عُرْوَةَ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَاهُ يَقُولُ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا بِأَيِّ شَيْءٍ طَيَّبْتِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَتْ: بِأَطْيَبِ الطِّيبِ
۔ عروہ کہتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا: آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کونسی خوشبو لگائی تھی؟ انہوں نے کہا: سب سے عمدہ خوشبو (یعنی کستوری)۔ [الفتح الربانی/كتاب الحج والعمرة/حدیث: 4158]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1189، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24105 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24606»

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 1189
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں