الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
6. بَابُ اعْتِبَارِ الزَّادِ وَالرَّاحِلَةِ مِنَ الِاسْتِطَاعَةِ وَكَذَلِكَ سَلَامَةِ الطَّرِيقِ وَوُجُودِ
زادِ راہ اور سواری کی دستیابی کے ساتھ ساتھ راستے کا پرامن ہونا اور عورت کے ساتھ محرم کا ہونا حج کی استطاعت میں سے ہے
حدیث نمبر: 4091
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (لَا تُسَافِرُ امْرَأَةٌ إِلَّا وَمَعَهَا ذُو مَحْرَمٍ، وَجَاءَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ، فَقَالَ: إِنِّي اُكْتُتِبْتُ فِي غَزْوَةِ كَذَا وَكَذَا وَامْرَأَتِي حَاجَّةٌ، قَالَ: ( (فَارْجِعْ فَحُجَّ مَعَهَا) )
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کوئی خاتون محرم کے بغیر سفر نہ کرے۔ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: فلاں غزوے میں میرا نام لکھا گیاہے،جبکہ میری اہلیہ حج کے لئے جانا چاہتی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو لوٹ جا اور اس کے ساتھ حج کر۔ [الفتح الربانی/كتاب الحج والعمرة/حدیث: 4091]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3006، 3061، 5233، ومسلم: 1341، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة:3231 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3231»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث سے معلوم ہوا کہ عورت مطلق طور پر کوئی سفر نہیں کر سکتی، الّا یہ کہ اس کے ساتھ اس کا محرم یا خاوند ہو۔ بعض احادیث میں تین دنوں کا، بعض میں دو دنوں کا، بعض میں ایک دن رات کا، بعض میں ایک رات کا اور بعض ایک دن کے سفر کی قید لگائی گئی ہے، لیکنحقیقتیہ ہے کہ اتفاقی قیدیں ہیں، اصل مسئلہ یہ ہے کہ عورت اپنے محرم یا خاوند کے بغیر سفر نہیں کر سکتی۔ اس کا نتیجہیہ نکلا کہ عورت کو حج و عمرہ کی ادائیگی کے لیے محرم یا خاوند کے بغیر نہیں جانا چاہیے، جمہور اہل علم کا یہی مسلک ہے، نیز وہ کہتے ہیں کہ اس کو دوسری عورتوں کے ساتھ سفر نہیں کرنا چاہیے، اگرچہ وہ بااعتبار ہوں، دلائل کے ظاہری مفہوم کا یہی تقاضا ہے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 3006
حدیث نمبر: 4092
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ تُسَافِرُ يَوْمًا وَلَيْلَةً (وَفِي رِوَايَةٍ: تُسَافِرُ لَيْلَةً، وَفِي رِوَايَةٍ: ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، وَفِي رِوَايَةٍ: يَوْمًا تَامًا) إِلَّا مَعَ ذِي مَحْرَمٍ مِنْ أَهْلِهَا
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو عورت اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہے، اس کے لئے حلال نہیں کہ وہ ایک دن رات کا سفر محرم کے بغیر کرے۔ ایک روایت میں صرف ایک رات کا، ایک روایت میں تین دنوں کا اور ایک روایت میں ایک مکمل دن کے سفر کا ذکر ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الحج والعمرة/حدیث: 4092]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1088، ومسلم: 1339، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7222 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7221»
وضاحت: فوائد: … ارشادِ باری تعالی ہے: {وَلِلّٰہِ عَلَی النَّاسِ حِجُّ الْبَیْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ اِلَیْہِ سَبِیْلًا۔} … ”اور اللہ تعالی کے لیے ان لوگوں پر حج فرض ہے، جو اس کی طرف راہ پا سکتے ہیں۔“ (سورۂ آل عمران: ۹۷)
”راہ پا سکتے ہیں“ سے مراد یہ ہے کہ آمدو رفت کے سفری اخراجات پورے ہوں، جبکہ پیچھے رہ جانے والے بیوی بچوں کے پاس جائز اخراجات موجود ہوں، راستہ پرامن ہو اور جان و مال محفوظ رہے، صحت و تندرستی کے لحاظ سے سفر کے قابل ہو، نیز عورت کے ساتھ محرم ہو۔ استطاعت میں مطلق طور پر سواری کی شرط نہیں لگائی جا سکتی، پیدل چلنے کی طاقت رکھنے والے سواری نہ ہونے کا عذر پیش نہیں کرسکتے۔
”راہ پا سکتے ہیں“ سے مراد یہ ہے کہ آمدو رفت کے سفری اخراجات پورے ہوں، جبکہ پیچھے رہ جانے والے بیوی بچوں کے پاس جائز اخراجات موجود ہوں، راستہ پرامن ہو اور جان و مال محفوظ رہے، صحت و تندرستی کے لحاظ سے سفر کے قابل ہو، نیز عورت کے ساتھ محرم ہو۔ استطاعت میں مطلق طور پر سواری کی شرط نہیں لگائی جا سکتی، پیدل چلنے کی طاقت رکھنے والے سواری نہ ہونے کا عذر پیش نہیں کرسکتے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 1088
7. بَابُ التَّغْلِيظِ فِي تَرْكِ الْحَجِّ لِلْمُسْتَطِيعِ
صاحب استطاعت ہونے کے باوجود حج نہ کرنے والے کے حق میں وعید کا بیان
حدیث نمبر: 4093
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: ( (لَا صَرُورَةَ فِي الْإِسْلَامِ) )
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسلام میں حج چھوڑنا نہیں ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الحج والعمرة/حدیث: 4093]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف۔ أخرجه ابوداود: 1729، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2843 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2844»
وضاحت: فوائد: … ”صَرُوْرَۃ“، ”صرّ“ سے ماخوذ ہے، اس کا معانی روکنے اور منع کرنے کے ہیں،یعنی جو آدمی استطاعت کے باوجود حج کو ترک کر دیتا ہے، وہ اپنے نفس کو خیر سے روک دیتا ہے۔ یہ حدیث تو ضعیف ہے، لیکن استطاعت کے باوجود حج نہ کرنے کی کوئی گنجائش موجود نہیں ہے۔ ایسی گنجائش پیدا کر لینا ان لوگوں کی صفت ہے جو اپنے خزانے پر سانپ بن کر بیٹھ گئے ہیں اور اپنی ذات کو اپنا روزی رساں سمجھتے ہیں،یہ ایسے بے رغبت لوگ ہیں کہ جن میں بیت اللہ اور مسجد نبوی کی زیارت کی تڑپ معدوم ہو گئی ہے۔ اس ضمن میں درج ذیل حدیث مبارکہ بھی بڑی اہمیت کی حامل ہے: سیدنا ابو سعید خدری اور سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
((إِنَّ اللّٰہَ یَقُوْلُ: إِنَّ عَبْدًا أَصْحَحْتُ لَہٗجِسْمَہٗ،وَوَسَّعْتُعَلَیْہِ فِیْ الْمَعِیْشَۃِ، تَمْضِیْ عَلَیْہِ خَمْسَۃُ أَعْوَامٍ لَایَفِدُ إِلَیَّ، لَمَحْرُوْمٌ۔)) (بیہقي۵/ ۲۶۲، ابن حبان: ۹۶۰، صحیحہ: ۱۶۶۲)
”اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:میں نے ایک بندے کا جسم تندرست رکھا، اس کی معیشت میں وسعت پیدا کی، لیکن اس حالت میں پانچ سال بیت گئے اوروہ میری طرف نہیں آیا، ایسا آدمی محروم ہے۔“
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا:
((لَقَدْ ھَمَمْتُ اَنْ اَبْعَثَ رِجَالًا اِلٰی اَھْلِ الْاَمْصَارِ فَیَنْظُرُوْا کُلَّ مَنْ کَانَ لَہٗجِدَۃٌ وَلَمْ یَحُجَّ فَیَضْرِبُوْا عَلَیْہِ الْجِزْیَۃَ مَا ھُمْ بِمُسْلِمِیْنَ، مَا ھُمْ بِمُسْلِمِیْنَ۔))
میں نے ارادہ کیا ہے کہ کچھ لوگوں کو شہر والوں کی طرف بھیجوں، پس وہ دیکھیں کہ کون لوگ مالی وسعت کے باوجود حج نہیں کرتے، پھر وہ ان پر جزیہ لگا دیں،یہ لوگ مسلمان نہیں ہیں،یہ لوگ مسلمان نہیں ہیں۔
((إِنَّ اللّٰہَ یَقُوْلُ: إِنَّ عَبْدًا أَصْحَحْتُ لَہٗجِسْمَہٗ،وَوَسَّعْتُعَلَیْہِ فِیْ الْمَعِیْشَۃِ، تَمْضِیْ عَلَیْہِ خَمْسَۃُ أَعْوَامٍ لَایَفِدُ إِلَیَّ، لَمَحْرُوْمٌ۔)) (بیہقي۵/ ۲۶۲، ابن حبان: ۹۶۰، صحیحہ: ۱۶۶۲)
”اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:میں نے ایک بندے کا جسم تندرست رکھا، اس کی معیشت میں وسعت پیدا کی، لیکن اس حالت میں پانچ سال بیت گئے اوروہ میری طرف نہیں آیا، ایسا آدمی محروم ہے۔“
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا:
((لَقَدْ ھَمَمْتُ اَنْ اَبْعَثَ رِجَالًا اِلٰی اَھْلِ الْاَمْصَارِ فَیَنْظُرُوْا کُلَّ مَنْ کَانَ لَہٗجِدَۃٌ وَلَمْ یَحُجَّ فَیَضْرِبُوْا عَلَیْہِ الْجِزْیَۃَ مَا ھُمْ بِمُسْلِمِیْنَ، مَا ھُمْ بِمُسْلِمِیْنَ۔))
میں نے ارادہ کیا ہے کہ کچھ لوگوں کو شہر والوں کی طرف بھیجوں، پس وہ دیکھیں کہ کون لوگ مالی وسعت کے باوجود حج نہیں کرتے، پھر وہ ان پر جزیہ لگا دیں،یہ لوگ مسلمان نہیں ہیں،یہ لوگ مسلمان نہیں ہیں۔
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف۔ أخرجه ابوداود: 1729
8. باب
عمرہ کے ابواب
اس باب کے تحت درج ذیل، ذیلی ابواب اور احادیث آئی ہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الحج والعمرة/حدیث: Q4094]
9. بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلِ الْعُمْرَةِ خُصُوصًا فِي رَمَضَانَ
عمرہ کی اور بالخصوص ماہِ رمضان کے عمرہ کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 4094
عَنْ هَرِمِ بْنِ خَنْبَشٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَتَتْهُ امْرَأَةٌ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! فِي أَيِّ الشُّهُورِ أَعْتَمِرُ؟ قَالَ: ( (اعْتَمِرِي فِي رَمَضَانَ، فَإِنَّ عُمْرَةً فِي رَمَضَانَ تَعْدِلُ حَجَّةً) )
۔ سیدنا ہرم بن خنبش رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ ایک عورت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئی اور کہا: اے اللہ کے رسول! میں کس مہینہ میں عمرہ کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ماہِ رمضان میں عمرہ کرو، کیونکہ ماہِ رمضان میں ادا کیا ہوا عمرہ حج کے برابر ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الحج والعمرة/حدیث: 4094]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وھذا اسناد ضعيف۔ أخرجه ابن ماجه: 2992، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17600 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17743»
الحكم على الحديث:
حديث صحيح
حدیث نمبر: 4095
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (عُمْرَةٌ فِي رَمَضَانَ تَعْدِلُ حَجَّةً) )
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ماہِ رمضان میں عمرہ کرنا حج کے برابر ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الحج والعمرة/حدیث: 4095]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1782، ومسلم: 1256، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2809 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2809»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 1782
حدیث نمبر: 4096
عَنْ جَابِرِ (بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا) عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِثْلُهُ
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اسی طرح کی ایک حدیث بیان کی ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الحج والعمرة/حدیث: 4096]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين۔ أخرجه ابن ماجه: 2995، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14795 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14855»
وضاحت: فوائد: … حدیث نمبر (۴۰۸۲)کی شرح میں اس فضیلت کی وضاحت ہو چکی ہے۔
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط الشيخين ۔ أخرجه ابن ماجه: 2995
حدیث نمبر: 4097
عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ اسْتَأْذَنَهُ فِي الْعُمْرَةِ، فَأَذِنَ لَهُ، فَقَالَ: ( (يَا أَخِي! لَا تَنْسَنَا مِنْ دُعَائِكَ) ) ، وَقَالَ بَعْدُ فِي الْمَدِينَةِ: ( (أَشْرِكْنَا فِي دُعَائِكَ) ) ، فَقَالَ عُمَرُ: مَا أُحِبُّ أَنَّ لِي بِهَا مَا طَلَعَتْ عَلَيْهِ الشَّمْسُ لِقَوْلِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (يَا أَخِي) )
۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عمرہ کرنے کی اجازت طلب کی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں اجازت دی اوریہ بھی فرمایا: میرے بھائی! ہمیں اپنی دعاؤں میں بھلا نہ دینا۔ راویٔ حدیث شعبہ نے بعد میں مدینہ میں حدیث بیان کرتے ہوئے یہ الفاظ کہے تھے: ہمیں اپنی دعاؤں میں شامل کیے رکھنا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جو مجھے اپنا بھائی کہا تھا، یہ چیز مجھے اتنی پسند آئی کہ میں اس کے مقابلے میں پوری دنیا کو ترجیح نہیں دیتا۔ [الفتح الربانی/كتاب الحج والعمرة/حدیث: 4097]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف عاصم بن عبد الله۔ أخرجه ابوداود: 1498، وابن ماجه: 2894، والترمذي: 3562، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 195 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 195»
وضاحت: فوائد: … ”مَا طَلَعَتْ عَلَیْہِ الشَّمْسُ“ کا لفظی معنی ہے وہ چیزیں جن پر سورج کی روشنی پڑتی ہے، اس سے مراد پوری دنیا ہے۔
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف عاصم بن عبد الله۔ أخرجه ابوداود: 1498
حدیث نمبر: 4098
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (الْعُمْرَةُ إِلَى الْعُمْرَةِ كَفَّارَةٌ لِمَا بَيْنَهُمَا مِنَ الذُّنُوبِ وَالْخَطَايَا، وَالْحَجُّ الْمَبْرُورُ لَيْسَ لَهُ جَزَاءٌ إِلَّا الْجَنَّةُ) )
۔ سیدنا عامر بن ربیعہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک عمرہ کے بعد دوسرا عمرہ کرنا، یہ عمل اِن دو کے درمیانی عرصے کے گناہوں اور خطاؤں کا کفارہ بنتا ہے اور رہا مسئلہ حج مبرور کا تو اس کا بدلہ تو صرف جنت ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الحج والعمرة/حدیث: 4098]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15701م ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15792»
وضاحت: فوائد: … دو عمروں کی وجہ سے ان کے درمیانے گناہوں کا بخش دیا جانا، ظاہر بات تو یہی ہے کہ ان گناہوں کی معافی دوسرے عمرے کی وجہ سے ہو گی اور پہلے عمرے کی وجہ سے اس سے پہلے والے گناہ معاف کیے جائیں گے، ”کِتَابُ الْحَجِّ وَالْعُمْرَۃِ“ کے پہلے باب میں مذکورہ احادیث سے یہی پتہ چلتا ہے کہ ہر عمرے کی وجہ سے اس سے پہلے والے گناہ معاف ہوتے ہیں۔
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
10. بَابُ جَوَازِ الْعُمْرَةِ فِي جَمِيعِ أَشْهُرِ السَّنَةِ قَبْلَ الْحَجِّ وَبَعْدَهُ وَمَعَهُ
حج سے پہلے، اس کے بعد اور اس کے ساتھ، غرضیکہ سال کے تمام مہینوں میںعمرہ کے جواز کا بیان
حدیث نمبر: 4099
عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ خَالِدٍ قَالَ: سَأَلْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ الْعُمْرَةِ قَبْلَ الْحَجِّ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: لَا بَأْسَ عَلَى أَحَدٍ يَعْتَمِرُ قَبْلَ أَنْ يَحُجَّ، قَالَ عِكْرِمَةُ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: اعْتَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ أَنْ يَحُجَّ
۔ عکرمہ بن خالد کہتے ہیں: میں نے سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے قبل از حج عمرہ کرنے کے بارے میں پوچھا، انہوں نے کہا: حج سے پہلے عمرہ کرنے والے پر کوئی حرج نہیں ہے، بلکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود حج سے پہلے عمرہ کیا تھا۔ [الفتح الربانی/كتاب الحج والعمرة/حدیث: 4099]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1774، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5069 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5069»
وضاحت: فوائد: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کل چار عمرے کیے:
(۱) عمرۂ حدیبیہ،(۲) عمرۂ قضا، (۳) عمرۂ جعرانہ اور (۴) حجۃ الوداع کے ساتھ والا عمر۔
پہلے تینوں عمرے حرمت والے مہینے ذوالقعدہ میں ادا کیے،یہ مہینہ ذوالحجہ سے پہلے ہے اور چوتھا عمرہ ذوالحجہ کے مہینے میں حج کے ساتھ ادا کیا، ایک باب کے بعد ان تمام عمروں کی وضاحت آ رہی ہے۔
(۱) عمرۂ حدیبیہ،(۲) عمرۂ قضا، (۳) عمرۂ جعرانہ اور (۴) حجۃ الوداع کے ساتھ والا عمر۔
پہلے تینوں عمرے حرمت والے مہینے ذوالقعدہ میں ادا کیے،یہ مہینہ ذوالحجہ سے پہلے ہے اور چوتھا عمرہ ذوالحجہ کے مہینے میں حج کے ساتھ ادا کیا، ایک باب کے بعد ان تمام عمروں کی وضاحت آ رہی ہے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 1774