الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
18. فَصْلٌ مِنْهُ فِي ذِكْرِ الْأَمْكِنَةِ الَّتِي نَزَلَ بِهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْمَسَاجِدِ الَّتِي
مدینہ منورہ اور مکہ مکرمہ کے درمیان ان مقامات اور مساجد کا تذکرہ، جہاں جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حجۃ الوداع کے سفر کے دوران قیام کیا اور نمازیں ادا کیں
حدیث نمبر: 4130
قَالَ مُوسَى (وَأَخْبَرَنِي سَالِمٌ) أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ فِي مُعَرَّسِهِ فَقِيلَ لَهُ إِنَّكَ فِي بَطْحَاءَ مُبَارَكَةٍ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بطحاء میں رات بسر کی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خواب میں بتلایا گیا کہ آپ بابرکت وادیٔ بطحاء میں ہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الحج والعمرة/حدیث: 4130]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1535، 2336، ومسلم: 1346 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5595»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 1535
حدیث نمبر: 4131
قَالَ: وَقَالَ: (حَدَّثَنَا نَافِعٌ) أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَلَّى عِنْدَ الْمَسْجِدِ الصَّغِيرِ الَّذِي دُونَ الْمَسْجِدِ الَّذِي يُشْرِفُ عَلَى الرَّوْحَاءِ
۔ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے روحاء سے اوپر والی مسجد سے ہٹ کر چھوٹی مسجد کی جگہ پر نماز ادا کی تھی۔ [الفتح الربانی/كتاب الحج والعمرة/حدیث: 4131]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 485، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5596 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5596»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 485
حدیث نمبر: 4132
قَالَ: (وَقَالَ: نَافِعٌ) إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ حَدَّثَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَنْزِلُ تَحْتَ سَرْحَةٍ ضَخْمَةٍ دُونَ الرُّوَيْثَةِ عَنْ يَمِينِ الطَّرِيقِ فِي مَكَانٍ بَطْحٍ سَهْلٍ حَيْثُ يُفْضِي مِنَ الْأَكَمَةِ دُونَ بَرِيدِ الرُّوَيْثَةِ بِمِيلَيْنِ، وَقَدِ انْكَسَرَ أَعْلَاهَا وَهِيَ قَائِمَةٌ عَلَى سَاقٍ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم راستہ کی دائیں جانب رویثہ سے دو میل ہٹ کر کنکروں والی کشادہ اور نرم وادی یا میدان میں اس بڑ ے درخت کے نیچے تشریف رکھا کرتے تھے، جس کا اوپر کا حصہ ٹوٹ گیا ہے اور اب صرف تنا باقی رہ گیا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الحج والعمرة/حدیث: 4132]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 487، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5597 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5597»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 487
حدیث نمبر: 4133
(وَقَالَ نَافِعٌ) إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ حَدَّثَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَلَّى مِنْ وَرَاءِ الْعَرْجِ، وَأَنْتَ ذَاهِبٌ عَلَى رَأْسِ خَمْسَةِ أَمْيَالٍ مِنَ الْعَرْجِ فِي مَسْجِدٍ إِلَى هَضْبَةٍ، عِنْدَ ذَلِكَ الْمَسْجِدِ قَبْرَانِ أَوْ ثَلَاثَةٌ، عَلَى الْقُبُورِ رَضْمٌ مِنْ حِجَارَةٍ عَلَى يَمِينِ الطَّرِيقِ عِنْدَ سَلِمَاتِ الطَّرِيقِ، بَيْنَ أُولَئِكَ السَّلِمَاتِ كَانَ عَبْدُ اللَّهِ يَرُوحُ مِنَ الْعَرْجِ بَعْدَ أَنْ تَمِيلَ الشَّمْسُ بِالْهَاجِرَةِ، فَيُصَلِّي الظُّهْرَ فِي ذَلِكَ الْمَسْجِدِ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عرج سے آگے نماز پڑھی تھی، اس کی تفصیل یہ ہے کہ جب تم عرج سے پانچ میل چلوتو ٹیلہ والی مسجد آئے گی، اس مسجد کے پاس دو تین قبریں بھی ہیں، ان قبروں پر بڑے بڑے پتھر پڑے ہیں، وہاں راستہ کی دائیں جانب کچھ چٹانیں ہیں، سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ ان چٹانوں کے بیچ میں سے عرج سے سورج ڈھلنے کے بعد روانہ ہوتے تھے، اور اس مسجد کی جگہ پر نمازِ ظہر ادا کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/كتاب الحج والعمرة/حدیث: 4133]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 488، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5598 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5598»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 488
حدیث نمبر: 4134
(وَقَالَ نَافِعٌ) : إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ حَدَّثَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَزَلَ تَحْتَ سَرْحَةٍ (وَفِي لَفْظٍ: سَرَحَاتٍ) عَنْ يَسَارِ الطَّرِيقِ فِي مَسِيلٍ دُونَ هَرْشَى، ذَلِكَ الْمَسِيلُ لَاصِقٌ عَلَى هَرْشَى، (وَفِي لَفْظٍ: لَاصِقٌ بِكُرَاعِ هَرْشَا) بَيْنَهُ وَبَيْنَ الطَّرِيقِ قَرِيبٌ مِنْ غَلْوَةِ سَهْمٍ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے راستہ کی داہنی جانب ھرشا سے ہٹ کر پانی کی گزر گاہ میں ایک بڑے درخت کے پاس قیام فرمایا، پانی کی یہ گزر گاہ ھرشا سے متصل ہے۔ (ایک روایت کے مطابق ہرشا کے کنارے کے ساتھ مل گئی ہے) اس کے اور راستہ کے درمیان ایک تیر کی پھینک کے برابر مسافت ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الحج والعمرة/حدیث: 4134]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 489، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5599 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5599»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 489
حدیث نمبر: 4135
(وَقَالَ نَافِعٌ) إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ حَدَّثَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَنْزِلُ بِذِي طُوًى، يَبِيتُ بِهِ حَتَّى يُصَلِّيَ صَلَاةَ الصُّبْحِ حِينَ قَدِمَ إِلَى مَكَّةَ، وَمُصَلَّى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ذَلِكَ عَلَى أَكَمَةٍ غَلِيظَةٍ لَيْسَ فِي الْمَسْجِدِ الَّذِي بُنِيَ ثَمَّ وَلَكِنْ أَسْفَلَ مِنْ ذَلِكَ عَلَى أَكَمَةٍ خَشِنَةٍ غَلِيظَةٍ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب مکہ مکرمہ تشریف لاتے تو ذی طوی میں رات بسر کرتے اور وہیں نمازِ فجر ادا کرتے، جس مقام پراس وقت مسجد تعمیر کی گئی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہاں نہیں، بلکہ اس سے ذرا ہٹ کر نیچے کی طرف پکے ٹیلہ پر نماز ادا کی تھی۔ [الفتح الربانی/كتاب الحج والعمرة/حدیث: 4135]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 491، 1767، ومسلم: 1259، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5600 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5600»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 491
حدیث نمبر: 4136
(قَالَ وَأَخْبَرَنِي) أَنْ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اسْتَقْبَلَ فُرْضَتَيِ الْجَبَلِ الطَّوِيلِ الَّذِي قِبَلَ الْكَعْبَةِ فَجَعَلَ الْمَسْجِدَ الَّذِي بُنِيَ يَسَارَ الْمَسْجِدِ بِطَرَفِ الْأَكَمَةِ وَمُصَلَّى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَسْفَلَ مِنْهُ عَلَى الْأَكَمَةِ السَّوْدَاءِ يَدَعُ مِنَ الْأَكَمَةِ عَشْرَةَ أَذْرُعٍ أَوْ نَحْوَهَا، ثُمَّ يُصَلِّي مُسْتَقْبِلَ الْفُرْضَتَيْنِ مِنَ الْجَبَلِ الطَّوِيلِ الَّذِي بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْكَعْبَةِ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کعبہ کی جانب دو پہاڑی راستوں کو سامنے رکھا اور ٹیلے کی ایک جانب پر جو مسجد ہے، اس سے ذرا بائیں جانب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تقریباً دس ہاتھ چھوڑ کر سیاہ ٹیلے کے اوپر نماز ادا کی۔ [الفتح الربانی/كتاب الحج والعمرة/حدیث: 4136]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 492، ومسلم: 1260، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5601 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5601»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 492
19. بَابُ مَا رَوَاهُ أَبُو الطُّفَيْلِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فِي أَسْبَابِ بَعْضِ أَعْمَالِ
حج کے بعض اعمال کے اسباب کا بیان حج کے بعض اعمال کے اسباب سے متعلقہ روایت، جو سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے ابو طفیل نے روایت کی
حدیث نمبر: 4137
عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا سُرَيْجٌ وَيُونُسُ قَالَا ثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ عَنْ أَبِي عَاصِمٍ الْغَنَوِيِّ عَنْ أَبِي طُفَيْلِ، قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: يَزْعُمُ قَوْمُكَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَمَلَ بِالْبَيْتِ، وَأَنَّ ذَلِكَ سُنَّةٌ، قَالَ: صَدَقُوا وَكَذَبُوا، قُلْتُ: وَمَا صَدَقُوا وَكَذَبُوا؟ قَالَ: صَدَقُوا، رَمَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِالْبَيْتِ، وَكَذَبُوا، لَيْسَ بِسُنَّةٍ، إِنَّ قُرَيْشًا قَالَتْ زَمَنَ الْحُدَيْبِيَةِ: دَعُوا مُحَمَّدًا وَأَصْحَابَهُ حَتَّى يَمُوتُوا مَوْتَ النَّغَفِ، فَلَمَّا صَالَحُوهُ عَلَى أَنْ يَقْدَمُوا مِنَ الْعَامِ الْمُقْبِلِ وَيُقِيمُوا بِمَكَّةَ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، فَقَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَالْمُشْرِكُونَ مِنْ قِبَلِ قُعَيْقِعَانَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِأَصْحَابِهِ: ( (ارْمُلُوا بِالْبَيْتِ ثَلَاثًا) ) ، وَلَيْسَ بِسُنَّةٍ، قُلْتُ: وَيَزْعُمُ قَوْمُكَ أَنَّهُ طَافَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ عَلَى بَعِيرٍ وَأَنَّ ذَلِكَ سُنَّةٌ، فَقَالَ: صَدَقُوا وَكَذَبُوا، فَقُلْتُ: وَمَا صَدَقُوا وَكَذَبُوا؟ فَقَالَ: صَدَقُوا قَدْ طَافَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ عَلَى بَعِيرٍ، وَكَذَبُوا لَيْسَتْ بِسُنَّةٍ، كَانَ النَّاسُ لَا يُدْفَعُونَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَلَا يُصْرَفُونَ عَنْهُ، فَطَافَ عَلَى بَعِيرٍ لِيَسْمَعُوا كَلَامَهُ وَلَا تَنَالَهُ أَيْدِيهِمْ، قُلْتُ: وَيَزْعُمُ قَوْمُكَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سَعَى بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ وَأَنَّ ذَلِكَ سُنَّةٌ، قَالَ: صَدَقُوا، إِنَّ إِبْرَاهِيمَ لَمَّا أُمِرَ بِالْمَنَاسِكِ عَرَضَ لَهُ الشَّيْطَانُ عِنْدَ الْمَسْعَى فَسَابَقَهُ فَسَبَقَهُ إِبْرَاهِيمُ، ثُمَّ ذَهَبَ بِهِ جِبْرِيلُ إِلَى جَمْرَةِ الْعَقَبَةِ فَعَرَضَ لَهُ شَيْطَانٌ (وَفِي لَفْظٍ الشَّيْطَانُ) فَرَمَاهُ بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ حَتَّى ذَهَبَ، ثُمَّ عَرَضَ لَهُ عِنْدَ الْجَمْرَةِ الْوُسْطَى فَرَمَاهُ بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ، قَالَ: قَدْ تَلَّهُ لِلْجَبِينِ (وَفِي لَفْظٍ وَثَمَّ تَلَّهُ لِلْجَبِينِ) وَعَلَى إِسْمَاعِيلَ قَمِيصٌ أَبْيَضُ، وَقَالَ: يَا أَبَتِ إِنَّهُ لَيْسَ لِي ثَوْبٌ تُكَفِّنُنِي فِيهِ غَيْرَهُ فَاخْلَعْهُ حَتَّى تُكَفِّنَنِي فِيهِ، فَعَالَجَهُ لِيَخْلَعَهُ فَنُودِيَ مِنْ خَلْفِهِ أَنْ يَا إِبْرَاهِيمْ! قَدْ صَدَّقْتَ الرُّؤْيَا فَالْتَفَتَ إِبْرَاهِيمُ فَإِذَا هُوَ بِكَبْشٍ أَبْيَضَ أَقْرَنَ أَعْيَنَ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: لَقَدْ رَأَيْتُنَا نَتَّبِّعُ هَذَا الضَّرْبَ مِنَ الْكِبَاشِ، (قَالَ) ثُمَّ ذَهَبَ بِهِ جِبْرِيلُ إِلَى الْجَمْرَةِ الْقُصْوَى، فَعَرَضَ لَهُ الشَّيْطَانُ فَرَمَاهُ بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ حَتَّى ذَهَبَ، ثُمَّ ذَهَبَ بِهِ جِبْرِيلُ إِلَى مِنَى قَالَ: هَذَا مِنَى (وَفِي لَفْظٍ: هَذَا مُنَاخُ النَّاسِ) ثُمَّ أَتَى بِهِ جَمْعًا، فَقَالَ: هَذَا الْمَشْعَرُ الْحَرَامُ، ثُمَّ ذَهَبَ بِهِ إِلَى عَرَفَةَ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: هَلْ تَدْرِي لِمَ سُمِّيَتْ عَرَفَةُ؟ قُلْتُ: لَا، قَالَ: إِنَّ جِبْرِيلَ قَالَ لِإِبْرَاهِيمَ: عَرَفْتَ، (وَفِي لَفْظٍ: هَلْ عَرَفْتَ) ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَمِنْ ثَمَّ سُمِّيَتْ عَرَفَةَ، ثُمَّ قَالَ: هَلْ تَدْرِي كَيْفَ كَانَتِ التَّلْبِيَةُ؟ قُلْتُ: وَكَيْفَ كَانَتْ؟ قَالَ: إِنَّ إِبْرَاهِيمَ لَمَّا أُمِرَ أَنْ يُؤَذِّنَ فِي النَّاسِ بِالْحَجِّ خَفَضَتْ لَهُ الْجِبَالُ رُءُوسَهَا وَرُفِعَتْ لَهُ الْقُرَى فَأَذَّنَ فِي النَّاسِ بِالْحَجِّ
۔ ابوطفیل کہتے ہیں: میں نے سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ کی قوم کا خیال ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیت اللہ کا طواف کرتے وقت رمل کیا تھا، لہٰذا یہ عمل سنت ہے۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: ان کی یہ بات کسی حد تک درست بھی اور کسی حد تک غلط بھی، میں نے کہا: اس کا کیا مطلب کہ درست بھی ہے اور غلط بھی؟ انھوں نے کہا:ان کی یہ بات تو درست ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیت اللہ کا طواف کرتے وقت رمل کیا تھا، البتہ اس عمل کو سنت کہنا درست نہیں،یہ عمل سنت نہیں ہے، اس کی تفصیل یہ ہے کہ قریشیوں نے (توہین کرتے ہوئے) حدیبیہ کے دنوں میں کہا تھا: محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)اور ان کے دوستوں کو چھوڑ دو یہاں تک کہ یہ لوگ اپنی موت آپ مر جائیں، جب قریش کا آپ سے اس بات پر معاہدہ ہو گیا کہ مسلمان آئندہ سال آ کر مکہ میں تین دن قیام کر سکیں گے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے، مشرکینِ مکہ قعیقان پہاڑ کی جانب تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ سے فرمایا: بیت اللہ کا طواف کرتے ہوئے تین چکروں میں رمل کرو۔ لہٰذا یہ عمل سنت نہیں ہے۔ ابو طفیل کہتے ہیں: میں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قوم کا خیال ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صفا و مروہ کے درمیان سعی اونٹ پر کی تھی اور یہ عمل سنت ہے، سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: ان کی یہ بات بھی کچھ صحیح اور کچھ غلط ہے۔ ان کا یہ کہنا تو درست ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صفا و مروہ کی سعی اونٹ پر کی تھی، لیکن ان کا یہ کہنا غلط ہے کہ یہ عمل سنت ہے، اصل بات یہ ہے کہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آگے پیچھے سے ہٹائے نہیں جاتے تھے، (اور وہ خود بھی آپ سے الگ اور دور نہیں ہوتے تھے) اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اونٹ پر سعی کی تھی، تاکہ لوگوں کے ہاتھ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک نہ پہنچ سکیں اور وہ آسانی سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بات بھی سن لیں۔ ابوطفیل کہتے ہیں: میں نے کہا: آپ کی قوم کا خیال ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صفا و مروہ کے مابین دوڑے تھے اور یہ عمل سنت ہے۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: ان کی یہ بات درست ہے، جب ابراہیم علیہ السلام کو مناسک حج ادا کرنے کا حکم ہوا تو سعی کے موقعہ پر شیطان ان کے سامنے آ گیا اور آگے نکل گیا، لیکن پھر ابراہیم علیہ السلام دوڑ کر اس سے آگے نکل گئے، اس کے بعد جبریل علیہ السلام، ابراہیم علیہ السلام کو جمرۂ عقبہ کے پاس لے گیا،وہاں شیطان ان کے سامنے آیاتو انھوں نے اسے سات کنکر مارے، سو وہ چلا گیا، پھرجب جمرۂ وسطیٰ کے قریب ان کے سامنے آیا تو انہوں نے دوبارہ اسے سات کنکر مارے، اس موقعہ پر ابراہیم علیہ السلام نے اسمٰعیل علیہ السلام کو ان کے پہلو کے بل لٹایا، وہ سفید قمیض پہنے ہوئے تھے، انہوں نے کہا: ابا جان! اس قمیض کے علاوہ میرا کوئی کپڑا ایسا نہیں جس میں آپ مجھے کفن دے سکیں گے، اس لیے اس قمیض کو اتار لیجئے تاکہ آپ مجھے اس میں کفن دے سکیں، جب ابراہیم، اسمٰعیل علیہ السلام کی قمیض اتارنے لگے تو ان کے پیچھے سے یہ آواز آئی: ابراہیم! آپ نے خواب سچا کر دکھایا ہے۔ جب ابراہیم علیہ السلام نے مڑ کر ادھر دیکھا تو وہاں ایک سفید سینگ دار خوبصورت فراخ چشم مینڈھا موجود تھا۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا:ہم قربانی کے لئے اسی قسم کے مینڈھے حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں، اس کے بعد جبریل، ابراہیم علیہ السلام کو جمرۂ قصویٰ کی طرف لے گئے، وہاں شیطان ایک مرتبہ پھر سامنے آیا، ابراہیم علیہ السلام نے اسے سات کنکر مارے، سووہ بھاگ گیا، اس کے بعد ابراہیم علیہ السلام کو جبریل علیہ السلام منیٰ کی طرف لے گئے اور بتلایا کہ یہ منیٰ ہے، دوسری روایت میں ہے: انہوں نے بتلایاکہ یہ لوگوں کی قیام گاہ ہے، اس کے بعد جبریل، ابراہیم علیہ السلام کو مزدلفہ میں لے گئے اور بتلایا کہ یہ مشعرِ حرام ہے، اس کے بعد وہ انہیں عرفہ میں لے گئے۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس نے پوچھا: جانتے ہو کہ عرفہ کی وجۂ تسمیہ کیا ہے؟ میں نے کہا: جی نہیں۔ انھوں نے کہا: جب جبریل، ابراہیم علیہ السلام کو یہاں لے آئے تو ان سے پوچھا: کیا آپ یہ سب امور جان گئے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ اس وجہ سے اس وادی کا نام عرفہ رکھا گیا۔اس کے بعد سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے پوچھا: تم جانتے ہو کہ تلبیہ کی ابتدا کیسے ہوئی؟ میں نے کہا: جی کیسے ہوئی؟ انھوں نے کہا: جب ابراہیم علیہ السلام کو حکم ہوا کہ وہ لوگوں میں حج کا اعلان کریں تو ان کی آواز پر پہاڑوں نے سر جھکا دیئے اور تمام آبادیاں بلند کر دی گئیں تب انہوں نے لوگوں میں حج کا اعلان کیا۔ [الفتح الربانی/كتاب الحج والعمرة/حدیث: 4137]
تخریج الحدیث: «رجاله ثقات رجال الصحيح، غير ابي عاصم الغنوي، ولمعظم ھذا الحديث طرق وشواھد يتقوي بھا۔ أخرجه بطوله الطيالسي: 2697، والطبراني: 10628، واخرج القطعتين الاولي والثانية منه مسلم: 1264، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2707 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2707»
وضاحت: فوائد: … یہ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا مسلک ہے کہ طواف قدوم کے پہلے تین چکروں میں رمل کرنا سنت نہیں ہے، لیکن دیگر صحابہ، تابعین اور تبع تابعین کے تمام اہل علم اس رمل کے سنت ہونے کے قائل ہیں،یہ علیحدہ بات ہے کہ رمل کے بغیر طواف ہو جائے گا، البتہ یہ فضیلت رہ جائے گی۔
”مَشْعَر“ کے معانی ظاہری علامت کے ہیں، مزدلفہ کو مشعرِ حرام کہنے کی وجہ یہ ہے کہ یہ حرم کے اندر ہے۔ایک روایت میں ہے: جبرائیل علیہ السلام نے ابراہیم علیہ السلام کو حج کے مناسک دکھائے، انھوں نے جوابا کہا: عَرَفْتُ، عَرَفْتُ۔ (مجھے معرفت ہو گئی ہے، مجھے پہنچان ہو گئی ہے) اس وجہ سے عرفات کا نام رکھ دیا گیا۔ ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے کہا: سیدنا عبد اللہ بن عباس، مجاہد، عکرمہ، سعید بن جبیر اور کئی ایک سلف نے کہا: بیشک اللہ تعالی نے ابراہیم علیہ السلام کو حکم دیا کہ وہ لوگوں میں حج کا اعلان کریں،یعنی انھوں نے اللہ تعالی کے حکم سے جو گھر تعمیر کیا ہے، لوگوں کو اس کا حج کرنے کی دعوت دیں۔ ابراہیم علیہ السلام نے کہا: اے میرے ربّ! میں لوگوں کو اس چیز کی کیسے تبلیغ کروں، میری آواز تو ان تک نہیں پہنچے گی۔ اللہ تعالی نے کہا: تم اعلان کر دو، پہنچانا ہماری ذمہ داری ہے، پس وہ مقام ابراہیمیا پتھریا صفا یا ابو قبیس پر کھڑے ہوئے اور کہا: لوگو! اللہ تعالی نے اپنا ایک گھر بنوایا ہے، پس تم اس کا حج کرو۔ ہوا یوں کہ پہاڑ پست ہو گئے، یہاں تک کہ آواز زمین کے تمام کونوں تک پہنچ گئی اور ماؤں کے رحموں اور باپوں کی پشتوں میں جو لوگ تھے، انھوں نے بھی سن لیا اور ہر چیز نے جواب بھی دیا۔ پتھر، کچی اینٹ، درخت اور جس نے قیامت تک حج کرنا تھا، ان سب نے سنا اور یوں جواب دیا: لَبَّیْکَ، اَللَّھُمَّ لَبَّیْکَ۔
”مَشْعَر“ کے معانی ظاہری علامت کے ہیں، مزدلفہ کو مشعرِ حرام کہنے کی وجہ یہ ہے کہ یہ حرم کے اندر ہے۔ایک روایت میں ہے: جبرائیل علیہ السلام نے ابراہیم علیہ السلام کو حج کے مناسک دکھائے، انھوں نے جوابا کہا: عَرَفْتُ، عَرَفْتُ۔ (مجھے معرفت ہو گئی ہے، مجھے پہنچان ہو گئی ہے) اس وجہ سے عرفات کا نام رکھ دیا گیا۔ ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے کہا: سیدنا عبد اللہ بن عباس، مجاہد، عکرمہ، سعید بن جبیر اور کئی ایک سلف نے کہا: بیشک اللہ تعالی نے ابراہیم علیہ السلام کو حکم دیا کہ وہ لوگوں میں حج کا اعلان کریں،یعنی انھوں نے اللہ تعالی کے حکم سے جو گھر تعمیر کیا ہے، لوگوں کو اس کا حج کرنے کی دعوت دیں۔ ابراہیم علیہ السلام نے کہا: اے میرے ربّ! میں لوگوں کو اس چیز کی کیسے تبلیغ کروں، میری آواز تو ان تک نہیں پہنچے گی۔ اللہ تعالی نے کہا: تم اعلان کر دو، پہنچانا ہماری ذمہ داری ہے، پس وہ مقام ابراہیمیا پتھریا صفا یا ابو قبیس پر کھڑے ہوئے اور کہا: لوگو! اللہ تعالی نے اپنا ایک گھر بنوایا ہے، پس تم اس کا حج کرو۔ ہوا یوں کہ پہاڑ پست ہو گئے، یہاں تک کہ آواز زمین کے تمام کونوں تک پہنچ گئی اور ماؤں کے رحموں اور باپوں کی پشتوں میں جو لوگ تھے، انھوں نے بھی سن لیا اور ہر چیز نے جواب بھی دیا۔ پتھر، کچی اینٹ، درخت اور جس نے قیامت تک حج کرنا تھا، ان سب نے سنا اور یوں جواب دیا: لَبَّیْکَ، اَللَّھُمَّ لَبَّیْکَ۔
الحكم على الحديث:
رجاله ثقات رجال الصحيح
20. باب
احرام، اس کے مواقیت، طریقے اور اس سے متعلقہ دوسرے احکام کے ابواب
اس باب کے تحت درج ذیل، ذیلی ابواب اور احادیث آئی ہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الحج والعمرة/حدیث: Q4138]
21. بَابُ مَوَاقِيتِ الْإِحْرَامِ الْمَكَانِيَّةِ
مواقیت ِاحرام کے مقامات کا بیان
حدیث نمبر: 4138
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: وَقَّتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِأَهْلِ الْمَدِينَةِ ذَا الْحُلَيْفَةِ وَلِأَهْلِ الشَّامِ الْجُحْفَةَ، وَلِأَهْلِ الْيَمَنِ يَلَمْلَمَ وَلِأَهْلِ نَجْدٍ قَرْنًا، وَقَالَ: ( (وَهُنَّ وَقْتٌ لِأَهْلِهِنَّ، وَلِمَنْ مَرَّ بِهِنَّ مِنْ غَيْرِ أَهْلِهِنَّ، يُرِيدُ الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ، فَمَنْ كَانَ مَنْزِلُهُ مِنْ وَرَاءِ الْمِيقَاتِ، فَإِهْلَالُهُ مِنْ حَيْثُ يُنْشِئُ وَكَذَلِكَ، حَتَّى أَهْلُ مَكَّةَ إِهْلَالُهُمْ مِنْ حَيْثُ يُنْشِئُونَ) )
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اہل مدینہ کے لئے ذوالحلیفہ، شام والوں کے لئے حجفہ، اہل یمن کے لئے یلملم اور اہل نجد کے لئے قرن المنازل کو بطورِ میقات مقرر کیا اور فرمایا: یہ مواقیت ان مقامات کے لوگوں کے لئے ہیں اور ان لوگوں کے لئے ہیں جو ان مواقیت سے گزر کر حج یا عمرہ کے لئے آئیں اور جس آدمی کی قیام گاہ ان حدود کے اندرہے، وہ جہاں سے روانہ ہو گا وہی اس کا میقات ہو گا، یہاں تک کہ مکہ والے لوگ مکہ ہی سے احرام باندھیں گے۔ [الفتح الربانی/كتاب الحج والعمرة/حدیث: 4138]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1526، 1529، ومسلم: 1181، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2128 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2128»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 1526