🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
3. وجوب الحج على النساء تتعلق بهن
خواتین پر حج کے فرض ہونے اور ان سے متعلقہ بعض مسائل کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4071
عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ أَنَّ عَائِشَةَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: قُلْتُ لِلنَّبِيِّ: أَلَا نُجَاهِدُ مَعَكَ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (لَكِ أَحْسَنُ الْجِهَادِ وَأَجْمَلُهُ، الْحَجُّ حَجٌّ مَبْرُورٌ) ) ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: فَلَا أَدَعُ الْحَجَّ أَبَدًا بَعْدَ أَنْ سَمِعْتُ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا: کیا ہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ جہاد کے لئے نہیں جا سکتیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہارے لئے ایک انتہائی حسین و جمیل جہاد ہے اور وہ ہے حج مبرور۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ کہتی ہیں: یہ حدیث سننے کے بعد میں کبھی بھی حج نہیں چھوڑوں گی۔ [الفتح الربانی/كتاب الحج والعمرة/حدیث: 4071]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1861، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24497 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25002»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 1861
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4072
عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حِطَّانَ السَّدُوسِيِّ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا سَأَلَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَعَلَى النِّسَاءِ جِهَادٌ، قَالَ: ( (الْحَجُّ وَالْعُمْرَةُ هُوَ جِهَادُ النِّسَاءِ) )
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کرتے ہوئے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا عورتوں پر بھی جہاد فرض ہے؟ آپ نے فرمایا: حج اور عمرہ عورتوں کا جہاد ہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الحج والعمرة/حدیث: 4072]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ أخرجه ابن ماجه: 2901، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24463 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24967»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث کی وضاحت حدیث نمبر (۴۰۶۲) میں ہو چکی ہے۔

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح۔ أخرجه ابن ماجه: 2901
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
4. بَابُ وُجُوبِ الْحَجِّ عَلَى الشَّيْخِ الْكَبِيرِ وَالزَّمِنِ (*) إِذَا أَمْكَنَهُمَا الِاسْتِنَابَةُ -
عمر رسیدہ اور مستقل بیمار پر حج کے فرض ہونے کا بیان، بشرطیکہ ان کی طرف سے نیابت¤ممکن ہو اور میت کی طرف سے حج کے جواز کا بیان، جبکہ اس پر واجب ہو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4073
عَنِ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: أَتَتْ امْرَأَةٌ مِنْ خَثْعَمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّ أَبِي أَدْرَكَتْهُ فَرِيضَةُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فِي الْحَجِّ وَهُوَ شَيْخٌ كَبِيرٌ لَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَثْبُتَ عَلَى دَابَّةِ، قَالَ: ( (فَحُجِّي عَنْ أَبِيكِ) )
۔ سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ خثعم قبیلہ کی ایک خاتون نے آ کر عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اللہ تعالی کے فریضۂ حج نے میرے باپ کو پا لیا ہے، لیکن صورتحال یہ ہے کہ وہ عمر رسیدہ ہونے کی وجہ سے سواری پر بیٹھنے کی سکت بھی نہیں رکھتے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر تم خود اپنے والد کی طرف سے حج کر لو۔ [الفتح الربانی/كتاب الحج والعمرة/حدیث: 4073]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 4399، 6228، ومسلم: 1334، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1818 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1818»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 4399
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4074
عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ أَوْ عَنِ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّ أَبِي أَدْرَكَهُ الْإِسْلَامُ وَهُوَ شَيْخٌ كَبِيرٌ لَا يَثْبُتُ عَلَى رَاحِلَتِهِ أَفَأَحُجُّ عَنْهُ؟ قَالَ: ( (أَرَأَيْتَ لَوْ كَانَ عَلَيْهِ دَيْنٌ فَقَضَيْتَهُ عَنْهُ أَكَانَ يُجْزِيهِ؟) ) ، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: ( (فَاحْجُجْ عَنْ أَبِيكَ) )
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ یا سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا: اے اللہ کے رسول! میرا والد مسلمان ہے، لیکن اب وہ اس قدر عمر رسیدہ ہو چکا ہے کہ سواری پر بھی بیٹھ نہیں سکتا، تو کیا میں اس کی طرف سے حج کر سکتاہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس بارے میں تمہارا کیا خیال ہے اگر اس کے ذمہ قرض ہوتا اور تم اس کی طرف سے ادا کرتے، تو کیا اس کی طرف سے ادا ہو جاتا؟ اس نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر تم اپنے والد کی طرف سے حج کرو۔ [الفتح الربانی/كتاب الحج والعمرة/حدیث: 4074]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1812»

الحكم على الحديث:
انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1812
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4075
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) حَدَّثَنَا الْفَضْلُ قَالَ: كُنْتُ رَدِيفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ رَجُلٌ فَقَالَ: إِنَّ أَبِي أَوْ أُمِّي شَيْخٌ كَبِيرٌ لَا يَسْتَطِيعُ الْحَجَّ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ
۔ (دوسری سند) سیدنافضل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے سواری پر سوار تھا کہ ایک آدمی نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کرتے ہوئے کہا: میرا والد یا والدہ اس قدر بوڑھے ہیں کہ وہ حج کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے، …۔ [الفتح الربانی/كتاب الحج والعمرة/حدیث: 4075]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1813»
وضاحت: فوائد: … سائل مرد تھا یا خاتون اور باپ کے بارے میں سوال کیا گیایا ماں کے بارے یا دونوں کے بارے میں؟ اس ضمن میں مختلف روایات موجود ہیں، حافظ ابن حجر نے اس صورتحال کا یہ جواب دیا ہے: تمام طرق کو جمع کرنے سے جو بات مجھے معلوم ہو رہی ہے، وہ یہ ہے کہ سائل مرد تھا،لیکن اس کے ساتھ اس کی بیٹی بھی تھی اور اس نے بھی سوال کیا تھا اور اس مجلس میں باپ اور ماں دونوں کے بارے میں سوال کیا گیا تھا۔ (فتح الباری: ۴/ ۶۸)

الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1813
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4076
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ مِنْ خَثْعَمَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنَّ أَبِي أَدْرَكَهُ الْإِسْلَامُ وَهُوَ شَيْخٌ كَبِيرٌ لَا يَسْتَطِيعُ رُكُوبَ الرَّحْلِ وَالْحَجُّ مَكْتُوبٌ عَلَيْهِ، أَفَأَحُجُّ عَنْهُ؟ قَالَ: ( (أَنْتَ أَكْبَرُ وَلَدِهِ؟) ) ، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: ( (أَرَأَيْتَ لَوْ كَانَ عَلَى أَبِيكَ دَيْنٌ فَقَضَيْتَهُ عَنْهُ أَكَانَ ذَلِكَ يُجْزِئُ عَنْهُ؟) ) ، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: ( (فَاحْجُجْ عَنْهُ) )
۔ سیدناعبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ خثعم قبیلے کا ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: میرا والد مسلمان ہے،لیکن وہ اس قدر بوڑھا ہو چکا ہے کہ سواری پر سوار ہونے کی طاقت بھی نہیں رکھتا، جبکہ اس پر حج بھی فرض ہو چکا ہے، تو آیا میں اس کی طرف سے حج کر سکتا ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم اس کے سب سے بڑے بیٹے ہو؟ اس نے کہا: جی ہاں۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اچھا بتلاؤ اگر تمہارے والد کے ذمہ قرض ہوتا اور تم اس کی طرف سے ادا کرتے،تو کیا وہ اس کی طرف سے ادا ہو جاتا؟ اس نے کہا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھرتم اس کی طرف سے حج کرو۔ [الفتح الربانی/كتاب الحج والعمرة/حدیث: 4076]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح دون قوله: ’’انت اكبر ولده‘‘ انفرد بھذه اللفظةيوسف بن الزبير، ولم يتابعه احد عليھا، وھو ممن لا يحتمل تفرده۔ أخرجه النسائي: 5/117، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16125 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16224»

الحكم على الحديث:
حديث صحيح دون قوله: ’’انت اكبر ولده‘‘ انفرد بھذه اللفظةيوسف بن الزبير
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4077
وَعَنْ سَوْدَةَ بِنْتِ زَمْعَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَحْوُهُ وَفِي آخِرِهِ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (فَاللَّهُ أَرْحَمُ، حُجَّ عَنْ أَبِيكَ) )
۔ سیدہ سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اسی قسم کی حدیث بیان کی ہے، البتہ اس کے آخری الفاظ یہ ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پس اللہ تعالی بڑا مہربان ہے، تم اپنے والد کی طرف سے حج کرو۔ [الفتح الربانی/كتاب الحج والعمرة/حدیث: 4077]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه الدارمي: 1/ 41، وابويعلي: 6818، والطبراني في ’’الكبير‘‘: 24/ 101، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27417 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27962»

الحكم على الحديث:
حديث صحيح ۔ أخرجه الدارمي: 1/ 41
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4078
عَنْ بُرَيْدَةَ الْأَسْلَمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ امْرَأَةً أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: إِنَّ أُمِّي قَدْ مَاتَتْ وَلَمْ تَحُجَّ فَيُجْزِئُهَا أَنْ أَحُجَّ عَنْهَا؟ قَالَ: ( (نَعَمْ) ) ، قَالَتْ: فَإِنَّ أُمِّي كَانَ عَلَيْهَا صَوْمُ شَهْرٍ فَيُجْزِئُهَا أَنْ أَصُومَ عَنْهَا؟ قَالَ: ( (نَعَمْ) )
۔ سیدنا بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک خاتون نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئی اور کہا: میری والدہ حج کئے بغیر فوت ہو گئی ہے، تو کیا میں اس کی طرف سے حج کر سکتی ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں۔ اس عورت نے مزید پوچھا: میری والدہ کے ذمہ ایک ماہ کے روزے بھی تھے،تو کیا میں اس کی طرف سے روزے رکھ سکتی ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں۔ [الفتح الربانی/كتاب الحج والعمرة/حدیث: 4078]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1149، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22956 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23344»
وضاحت: فوائد: … حج کے سلسلے میں ان احادیث سے درج ذیل مسائل ثابت ہوئے: & جو شخص صاحب ِ مال ہو، لیکن بڑھاپے یا بیماری (جس سے بظاہر شفا کی امید نہ ہو) کی وجہ سے حج اور حج کے لوازمات ادا نہ کر سکتا ہے تو اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی طرف سے کسی آدمی کو حج کی ادائیگی کے لیے بھیجے۔
& حج کا معاملہ قرض والا ہے، جو آدمی استطاعت کے باوجود اس فریضے کی ادائیگی سے محروم رہتا ہے، وہ اللہ تعالی کا مقروض ہے۔
& میت کی طرف سے حج ادا کیا جا سکتا ہے۔
& اس سلسلے میں مرد و زن ایک دوسرے کی طرف سے نیابت کر سکتے ہیں۔
& حج بدل کرنے والے کے لیے ضروری ہے کہ اس نے پہلے خود حج ادا کیا ہوا ہو، جیسا کہ درج ذیل حدیث سے معلوم ہوتا ہے:
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک آدمی کو یہ کہتے ہوئے سنا: لَبَّیْکَ عَنْ شُبْرُمَۃَ۔ (میں شبرمہ کی طرف سے حاضر ہوں)، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: ((مَنْ شُبْرُمَۃُ؟)) … ”شبرمہ کون ہے؟“ اس نے کہا: میرا بھائی ہے، یا کہا کہ میرا رشتہ دار ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے پوچھا: ((حَجَجْتَ عَنْ نَّفْسِکَ؟)) … ”کیا تو نے خود حج ادا کیا ہوا ہے؟“ اس نے کہا: جی نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((حُجَّ عَنْ نَفْسِکَ، ثُمَّ حُجَّ عَنْ شُبْرُمَۃَ۔)) … ”تو پہلے اپنی طرف سے حج کر، پھر شبرمہ کی طرف سے حج کرنا۔“ (ابوداود، ابن ماجہ)

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 1149
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
5. بَابُ مَا جَاءَ فِي صِحَّةِ حَجِّ الصَّبِيِّ وَالْعَبْدِ مِنْ غَيْرِ إِيجَابٍ لَهُ عَلَيْهِمَا
نابالغ بچے اور غلام کے حج کا صحیح ہونا، جبکہ یہ ان پر واجب نہیں ہوتا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4079
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِالرَّوْحَاءِ، فَلَقِيَ رَكْبًا فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ فَقَالَ: ( (مَنِ الْقَوْمُ؟) ) ، قَالُوا: الْمُسْلِمُونَ، قَالُوا: فَمَنْ أَنْتُمْ؟ قَالَ: ( (رَسُولُ اللَّهِ) ) ، فَفَزِعَتِ امْرَأَةٌ، فَأَخَذَتْ بِعَضُدِ صَبِيٍّ فَأَخْرَجَتْهُ مِنْ مِحَفَّتِهَا، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! هَلْ لِهَذَا حَجٌّ؟ قَالَ: ( (نَعَمْ وَلَكِ أَجْرٌ) )
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (مکہ سے مدینہ کی طرف واپسی کے دوران) روحاء کے مقام پر تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایک قافلے سے ملاقات ہو گئی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں سلام کہا اور پوچھا: تم کون لوگ ہو؟ انہوں نے کہا: جی ہم مسلمان ہیں، پھر انہوں نے پوچھا: اور آپ کون ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں اللہ کا رسول ہوں۔ یہ سن کر ایک خاتون نے گھبراہٹ کے عالَم میں اپنے بچے کو بازو سے پکڑا اور اس کو پالکی سے نکالا اور کہا: اے اللہ کے رسول! کیا اس کا بھی حج ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں اوراجر تیرے لیے ہو گا۔ [الفتح الربانی/كتاب الحج والعمرة/حدیث: 4079]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1336، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1898 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1898»
وضاحت: فوائد: … آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ادائیگی ٔحج کے بعد مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کی طرف آ رہے تھے کہ راستے میں یہ واقعہ پیش آیا، روحاء کا مقام مدینہ منورہ سے چھتیس میل پر واقع ہے۔اہل علم کا اس بات پر اجماع ہے کہ بچے کا حج اس کو حجۃ الاسلام سے کفایت نہیں کرے گا، یعنی جب وہ بالغ ہونے کے بعد صاحب ِ استطاعت بنے گا تو دوبارہ اس پر حج فرض ہو جائے گا۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((اَیُّمَا صَبِیٍّ حَجَّ، ثُمَّ بَلَغَ الْحِنْثَ، فَعَلَیْہِ اَنْ یَّحُجَّ حَجَّۃً اُخْرٰی، وَاَیُّمَا عَبْدٍ حَجَّ، ثُمْ اُعْتِقَ، فَعَلَیْہِ اَنْ یَّحُجَّ حَجَّۃً اُخْرٰی۔)) … ”جو بچہ حج کرے اور پھر وہ بالغ ہو جائے تو اس پر ایک اور حج فرض ہو گا، اسی طرح جو غلام حج کرے اور پھر وہ آزاد ہو جائے تو اس پر ایک اور حج فرض ہو گا۔“ (ابن ابی شیبہ، سنن بیہقی، وھو صحیح مرفوعا، انظر: ارواء الغلیل: ۴/ ۱۵۵)
بچے کے حج کا ثواب اس کے نامۂ اعمال میں بھی لکھ دیا جائے گا اور یہ ثواب اس کے باپ یا ماں کو بھی ملے گا جو اس کو حج کروائیں گے، بچے پر دورانِ حج احرام کی پابندیاں عائد ہوں گی، اگر اس کے لیے حج و عمرہ کی نیت اور اس کے الفاظ کی ادائیگی ناممکن ہو تو اس کا باپ یا ماں اس کی طرف سے یہ امور سرانجام دیں گے۔

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 1336
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4080
عَنْ جَابِرِ (بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا) قَالَ: حَجَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَمَعَنَا النِّسَاءُ وَالصِّبْيَانُ وَرَمَيْنَا عَنْهُمْ
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ حج کیا، ہمارے ساتھ خواتین اور بچے بھی تھے اور ہم نے ان کی طرف سے کنکریاں ماری تھی۔ [الفتح الربانی/كتاب الحج والعمرة/حدیث: 4080]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف اشعث بن سوار۔ أخرجه الترمذي: 927، وابن ماجه: 3038، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14370 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14423»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف اشعث بن سوار۔ أخرجه الترمذي: 927
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں