الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
76. بَابُ مَنْ سَمَّاهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيَّرَ أَسْمَاءَهُمْ لِمَصْلَحَةٍ
وہ افراد جن کے نام نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رکھے اور وہ افراد کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کسی مصلحت کی وجہ سے جن کے نام تبدیل کیے
حدیث نمبر: 4766
عَنْ مُسْلِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَزْدِيِّ قَالَ جَاءَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قُرْطٍ الْأَزْدِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا اسْمُكَ قَالَ شَيْطَانُ بْنُ قُرْطٍ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْتَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قُرْطٍ
۔ سیدنا مسلم بن عبد اللہ ازدی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا عبد اللہ قرط ازدی رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: تیرا نام کیا ہے؟ انھوں نے کہا: شیطان بن قرط، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا: تو عبداللہ بن قرط ہے۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4766]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19076 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19286»
الحكم على الحديث:
اسناده حسن
حدیث نمبر: 4767
عَنْ لَيْلَى امْرَأَةِ بَشِيرِ ابْنِ الْخَصَاصِيَّةِ عَنْ بَشِيرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ وَكَانَ قَدْ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ اسْمُهُ زَحْمٌ فَسَمَّاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَشِيرًا
۔ سیدنا بشیر بن خصاصیہ رضی اللہ عنہ کی بیوی سیدہ لیلی رضی اللہ عنہا اپنے خاوند سے بیان کرتی ہے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے، جبکہ ان کا اصل نام زحم تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کا نام بشیر رکھا۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4767]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه البخاري في الادب المفرد: 830، والطبراني: 24/532، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21956 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22302»
وضاحت: فوائد: … زَحْم کا معنی ازدحام اور بھیڑ لگائے ہوئے لوگ ہے، جبکہ بشیر کا معنی خوشخبری سنانے والے کے ہیں۔
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح
حدیث نمبر: 4768
عَنِ ابْنِ الْمُسَيِّبِ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِجَدِّهِ جَدِّ سَعِيدٍ مَا اسْمُكَ قَالَ حَزْنٌ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَلْ أَنْتَ سَهْلٌ فَقَالَ لَا أُغَيِّرُ اسْمًا سَمَّانِيهِ أَبِي قَالَ ابْنُ الْمُسَيِّبِ فَمَا زَالَتْ فِينَا حُزُونَةٌ بَعْدُ
۔ ابن مسیب اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے دادے سے فرمایا: تیرا نام کیا ہے؟ انھوں نے کہا: حزن، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں، بلکہ تو سہل ہے۔ اس نے کہا: لیکن میرے باپ نے میرا جو نام رکھا ہے، میں اس کو تبدیل نہیں کروں گا، ابن مسیب نے کہا: پس ہمیشہ ہمارے خاندان میں سختی اور اکھڑ مزاجی رہی۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4768]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 6190، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة:)23673۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24073»
وضاحت: فوائد: … حَزْن کا معنی سخت اور اکھڑ مزاج کا ہے اور جبکہ سَھْل کا معنی نرم اور آسان ہے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 6190
حدیث نمبر: 4769
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَدِمْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَلَيْسَ اسْمِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ فَسَمَّانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ
۔ سیدنا عبد اللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہے: جب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا تو میرا نام عبد اللہ بن سلام نہیں تھا، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرا نام عبد اللہ بن سلام رکھا۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4769]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة ابن اخي عبد الله بن سلام، أخرجه ابن ماجه: 3734، والترمذي: 3256، 3803، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23782 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24190»
وضاحت: فوائد: … طبرانی کی ایک روایت میں ہے: سیدنا عبد اللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے کہا: جاہلیت میں میرا نام غیلان تھا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرا نام عبد اللہ رکھا۔
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لجھالة ابن اخي عبد الله بن سلام
حدیث نمبر: 4770
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ سَمِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا يَقُولُ لِرَجُلٍ مَا اسْمُكَ قَالَ شِهَابٌ فَقَالَ أَنْتَ هِشَامٌ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سنا کہ ایک آدمی نے دوسرے آدمی کو کہا: تیرا نام کیا ہے؟ اس نے کہا: میرا نام شہاب ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو ہشام ہے۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4770]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه الحاكم: 4/ 276، والبخاري في الادب المفرد: 825، والطبراني في الاوسط: 2408، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24465 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24969»
وضاحت: فوائد: … شہاب کے معنی آگ کے شعلہ کے ہیں اور آگ کے ذریعے عذاب دیا جاتا ہے، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس نام کو ناپسند کیا۔
الحكم على الحديث:
اسناده حسن
77. بَابُ مَا جَاءَ فِي الْكُنْيَةِ وَاللَّقَبِ وَمَنْ كَنَّاهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
لقب اور ان افراد کا بیان جن کی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کنیتیں رکھیں
حدیث نمبر: 4771
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَدْخُلُ عَلَيْنَا وَفِي رِوَايَةٍ يُخَالِطُنَا وَكَانَ لِي أَخٌ صَغِيرٌ وَفِي لَفْظٍ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُضَاحِكُهُ وَكَانَ لَهُ نُغَيْرٌ يَلْعَبُ بِهِ فَمَاتَ نُغَرُهُ الَّذِي كَانَ يَلْعَبُ بِهِ فَدَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ فَرَآهُ حَزِينًا فَقَالَ مَا شَأْنُ أَبِي عُمَيْرٍ حَزِينًا فَقَالُوا مَاتَ نُغَرُهُ الَّذِي كَانَ يَلْعَبُ بِهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ أَبَا عُمَيْرٍ مَا فَعَلَ النُّغَيْرُ أَبَا عُمَيْرٍ مَا فَعَلَ النُّغَيْرُ
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس تشریف لاتے تھے، میرا ایک چھوٹا بھائی تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے ساتھ ہنستے تھے، اس کا ایک منّا سا چڑیا کا بچہ تھا، وہ اس کے ساتھ کھیلتا تھا، ایک دن اس کا وہ بچہ مر گیا، جس کے ساتھ وہ کھیلتا تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک دن تشریف لائے اور میرے بھائی کو غمزدہ دیکھ کر فرمایا: ابو عمیر کو کیا ہوا، غمزدہ نظر آ رہا ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ اس کا وہ چڑیا کا بچہ مر گیا ہے، جس کے ساتھ یہ کھیلتا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے ابو عمیر! چڑیا کے منّے سے بچے نے کیا کیا؟ اے ابو عمیر! چڑیا کے منّے سے بچے نے کیا کیا؟ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4771]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5664، 5735، ومسلم: 4003، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14071 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14117»
وضاحت: فوائد: … آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بچے کو کنیت کے ساتھ پکارا، نیز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بچے کا دل بہلانے کے لیے نُغَر کو نُغَیْر کہہ رہے ہیں، یہ حسن اخلاق کا خوبصورت انداز ہے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 5664
حدیث نمبر: 4772
عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنْتُ أَنَا وَعَلِيٌّ رَفِيقَيْنِ فِي غَزْوَةِ ذَاتِ الْعُشَيْرَةِ قَالَ فَاضْطَجَعْنَا فِي صَوْرٍ مِنَ النَّخْلِ فِي دَقْعَاءَ مِنَ التُّرَابِ فَنِمْنَا فَوَاللَّهِ مَا أَهَبَّنَا إِلَّا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُحَرِّكُنَا بِرِجْلِهِ وَقَدْ تَتَرَّبْنَا مِنْ تِلْكَ الدَّقْعَاءِ فَيَوْمَئِذٍ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِعَلِيٍّ يَا أَبَا تُرَابٍ
۔ سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ غزوۂ ذات العشیرہ میں ایک دوسرے کے رفیق تھے، پس ہم چند کھجور کے درختوں کے سائے میں مٹی پر لیٹے اور سو گئے، اللہ کی قسم! ہمیں نہیں جگایا، مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ٹانگ سے ہمیں حرکت دی، جبکہ ہم مٹی میں لت پت ہو چکے تھے، اس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: اے ابو تراب! (مٹی والے)۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4772]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، أخرجه الحاكم: 3/ 140، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18321 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18511»
وضاحت: فوائد: … صحیحین کی حدیث میں ابوتراب کی کنیت کا واقعہ یوں بیان کیا گیا ہے:
الحكم على الحديث:
حسن لغيره
حدیث نمبر: 4773
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَنَّانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا غُلَامٌ بِبَقْلَةٍ كُنْتُ أَجْتَنِيهَا
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک ایسی سبزی کے نام کے ساتھ میری کنیت رکھی، جس کو میں چنا کرتا تھا، جبکہ میں ابھی تک ایک لڑکا تھا۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4773]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف جابر الجعفي، أخرجه الترمذي: 3830، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12637 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12665»
وضاحت: فوائد: … اس سبزی کا نام حمزہ تھا، اس کو فارسی میں ترہ تیزک کہتے ہیں، کنیت ابو حمزہ رکھی گئی۔
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف جابر الجعفي
حدیث نمبر: 4774
عَنْ حَمْزَةَ بْنِ صُهَيْبٍ أَنَّ صُهَيْبًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كَانَ يُكَنَّى أَبَا يَحْيَى وَيَقُولُ إِنَّهُ مِنَ الْعَرَبِ وَيُطْعِمُ الطَّعَامَ الْكَثِيرَ فَقَالَ لَهُ عُمَرُ يَا صُهَيْبُ مَا لَكَ تُكَنَّى أَبَا يَحْيَى وَلَيْسَ لَكَ وَلَدٌ وَتَقُولُ إِنَّكَ مِنَ الْعَرَبِ وَتُطْعِمُ الطَّعَامَ الْكَثِيرَ وَذَلِكَ سَرَفٌ فِي الْمَالِ فَقَالَ صُهَيْبٌ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَنَّانِي أَبَا يَحْيَى
۔ حمزہ بن صہیب سے مروی ہے کہ سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ نے ابو یحییٰ کنیت رکھی ہوئی تھی اور وہ کہتے تھے کہ وہ عربوں میں سے ہیں اور وہ بڑی مقدار میں کھانا کھلاتے ہیں، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: اے صہیب! تجھے کیا ہو گیا ہے، تو نے ابو یحیی کنیت رکھی ہوئی ہے، جبکہ تیری اولاد نہیں ہے اور تو کہتا ہے کہ تو عربوں میں سے ہے اور تو بڑی مقدار میں کھانا کھلاتا ہے، یہ تو مال میں اسراف ہے؟ سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ نے کہا: بیشک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میری کنیت رکھی تھی۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4774]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، أخرجه مختصرا بقصة التكني ابن ماجه: 3738، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23926 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24422»
وضاحت: فوائد: … مفصل حدیث مناقب ِ صحابہ میں آئے گی۔
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
حدیث نمبر: 4775
عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَا رَسُولَ اللَّهِ كُلُّ نِسَائِكَ لَهَا كُنْيَةٌ غَيْرِي فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اكْتَنِي أَنْتِ أُمَّ عَبْدِ اللَّهِ وَفِي لَفْظٍ قَالَ فَتَكَنِّي بِابْنِكِ عَبْدِ اللَّهِ فَكَانَ يُقَالُ لَهَا أُمُّ عَبْدِ اللَّهِ حَتَّى مَاتَتْ وَلَمْ تَلِدْ قَطُّ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے علاوہ آپ کی تمام بیویوں کی کنیتیں ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: تم ام عبد اللہ کی کنیت رکھ لو، ایک روایت میں ہے: تم اپنے بیٹے عبد اللہ کے نام پر کنیت رکھ لو۔ پس سیدہ کو وفات تک ام عبد اللہ کہا جاتا رہا، جبکہ ان کی اولاد نہیں ہوئی تھی۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4775]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه أبوداود: 4970، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25181 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25696»
الحكم على الحديث:
حديث صحيح