🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
68. فَصْلٌ مِنْهُ فِيمَا جَاءَ فِي الْفَرْعِ وَالْعَتِيرَةِ مِنْ أَمْرٍ وَنَهْيٍ
فرع اور عتیرہ کے حکم اور ان سے نہی کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4726
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا عَتِيرَةَ فِي الْإِسْلَامِ وَلَا فَرَعَ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسلام میں عتیرہ ہے نہ فرع۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4726]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5474، ومسلم: 1976، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7135 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7135»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 5474
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4727
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا فَرَعَ وَلَا عَتِيرَةَ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ وَالْفَرَعُ كَانَ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ يَذْبَحُونَ أَوَّلَ نِتَاجٍ يَكُونُ لَهُمْ وَالْعَتِيرَةُ ذَبِيحَةُ رَجَبٍ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہ کوئی فرع ہے اور نہ کوئی عتیرہ۔ ابن شہاب نے کہا: فرع سے مراد پیدا ہونے والا وہ پہلا جانور ہے جو جاہلیت والے لوگ ذبح کرتے تھے اور رجب کے ذبیحہ کو عتیرہ کہتے ہیں۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4727]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10361»
وضاحت: فوائد: … فرع اور عتیرہ کی جائز صورتیں بھی ہیں اور ناجائز بھی، تفصیل درج ذیل ہے:

الحكم على الحديث:
انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10361
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
69. بَابُ الْأَمْرِ بِالْعَقِيقَةِ لِلْغُلَامِ وَالْجَارِيَةِ
بچے اور بچی کی طرف سے عقیقہ کرنے کا حکم
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4728
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ نُعِقَّ عَنِ الْجَارِيَةِ شَاةً وَعَنِ الْغُلَامِ شَاتَيْنِ وَأَمَرَنَا بِالْفَرَعِ مِنْ كُلِّ خَمْسِ شِيَاهٍ شَاةٌ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہم کو حکم دیا کہ ہم عقیقہ میں بچی کی طرف سے ایک بکری اور بچے کی طرف سے دو بکریاں ذبح کریں، نیز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم ہر پانچ بکریوں میں سے ایک بکری بطورِ فرع ذبح کریں۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4728]
تخریج الحدیث: «حديث العقيقة صحيح لغيره، وھذا اسناد ضعيف، أخرج حديث العقيقة ابن ماجه: 3163، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25250 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25764»
وضاحت: فوائد: … شَاۃ کے لفظ کا اطلاق دو جنسوں پر ہوتا ہے، بکری اور بھیڑ، اس لیے عقیقہ میں بکرا، بکری، بھیڑ اور دنبہ میں کوئی جانور ذبح کیا جا سکتا ہے۔

الحكم على الحديث:
حديث العقيقة صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4729
عَنْ أُمِّ بَنِي كُرْزٍ الْكَعْبِيَّةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا سَأَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْعَقِيقَةِ فَقَالَ عَنِ الْغُلَامِ شَاتَانِ مُكَافَأَتَانِ وَعَنِ الْجَارِيَةِ شَاةٌ قُلْتُ لِعَطَاءٍ مَا الْمُكَافَأَتَانِ قَالَ الْمِثْلَانِ
۔ سیدہ ام بنی کرز کعبیہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عقیقہ کے بارے میں سوال کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بچے کی طرف سے ایک جیسی دو بکریاں اور بچی کی طرف سے ایک بکری ہے۔ راوی کہتاہے: میں نے عطاء سے کہا: الْمُکَافَأَتَان سے کیا مراد ہے؟ انھوں نے کہا: ایک جیسی۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4729]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه أبوداود: 2835،و ابن ماجه: 3162،والنسائي: 7/ 164، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27372 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27916»

الحكم على الحديث:
حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4730
عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْعَقِيقَةُ حَقٌّ عَنِ الْغُلَامِ شَاتَانِ مُكَافَأَتَانِ وَعَنِ الْجَارِيَةِ شَاةٌ
۔ سیدہ اسماء بنت ِ یزید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عقیقہ حق ہے، بچے کی طرف سے دو ایک جیسی بکریاں اور بچی کی طرف سے ایک بکری ہو گی۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4730]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه الطبراني في الكبير: 24/ 461، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27582 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 28134»

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4731
عَنْ سِبَاعِ بْنِ ثَابِتٍ سَمِعْتُ مِنْ أُمِّ كُرْزٍ الْكَعْبِيَّةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا الَّتِي تُحَدِّثُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِالْحُدَيْبِيَّةِ وَذَهَبْتُ أَطْلُبُ مِنَ اللَّحْمِ عَنِ الْغُلَامِ شَاتَانِ وَعَنِ الْجَارِيَةِ شَاةٌ لَا يَضُرُّكُمْ ذُكْرَانًا كُنَّ أَوْ إِنَاثًا قَالَتْ وَسَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ أَقِرُّوا الطَّيْرَ عَلَى مَكِنَاتِهَا
۔ سیدام کرز کعبیہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا، جبکہ میں گوشت لینے کے لیے گئی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بچے کی طرف سے دو بکریاں اور بچی کی طرف سے ایک بکری، اس سے کوئی نقصان نہیں ہو گا کہ وہ مذکر ہوں یا مؤنث۔ اور میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے بھی سنا: پرندے کو اس کی جگہ پر بیٹھنے دیا کرو۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4731]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح دون قوله اقروا الطير علي مكناتھا، أخرجه أبوداود: 2835،و ابن ماجه: 3162،والنسائي: 7/ 164(27139 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27680»
وضاحت: فوائد: … آخری جملے کا مطلب یہ ہے کہ پرندوں کے ذریعے بری یا اچھی فال نہ نکالا کرو۔ اس کی صورت یہ تھی کہ جب کوئی آدمی کسی کام کو سرانجام دینے کا ارادہ کرتے تو وہ بیٹھے ہوئے پرندے کو اڑاتا، اگر وہ دائیں طرف اڑتا تو اس کو وہ اپنی کامیابی کی علامت سمجھ کر کام شروع کر دیتا، لیکن اگر وہ اس کی بائیں جانب اڑ جاتا تو اس کو ناکامی کی علامت سمجھ کر کام کو ترک کر دیتا۔

الحكم على الحديث:
حديث صحيح دون قوله اقروا الطير علي مكناتھا
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4732
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَقَّ عَنِ الْحَسَنِ وَالْحُسَيْنِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا
۔ سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا حسن اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہما کی طرف سے عقیقہ کیا۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4732]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه النسائي: 7/ 164، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23058 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23446»

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4733
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ عَنِ ابْنِ عَوْنٍ وَسَعِيدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ عَنْ سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَعَ الْغُلَامِ عَقِيقَتُهُ فَأَهْرِيقُوا عَنْهُ الدَّمَ وَأَمِيطُوا عَنْهُ الْأَذَى قَالَ وَكَانَ ابْنُ سِيرِينَ يَقُولُ إِنْ لَمْ تَكُنْ إِمَاطَةُ الْأَذَى حَلْقَ الرَّأْسِ فَلَا أَدْرِي مَا هُوَ
۔ سیدنا سلمان بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بچے کے ساتھ عقیقہ ہوتا ہے، پس تم اس کی طرف سے خون بہاؤ اور اس سے تکلیف کو دور کرو۔ ابن سیرین نے کہا: اگر تکلیف کو دور کرنے سے مراد سر کو مونڈنا نہیں ہے تو پھر میں نہیں جانتا کہ اس کا معنی کیا ہے۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4733]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5472، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16240 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16348»
وضاحت: فوائد: … امام عطاء کہتے ہیں:

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 5472
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
70. بَابُ وَقْتِ الْعَقِيقَةِ وَتَسْمِيَةِ الْمَوْلُودِ وَحَلْقِ رَأْسِهِ وَالتَّصَدُّقِ بِوَزْنِ شَعْرِهِ مِنْ فِضَّةٍ
عقیقہ کا وقت، بچے کا نام رکھنا، اس کو سر مونڈنا اور اس کے بالوں کے وزن کے برابر چاندی کا صدقہ کرنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4734
عَنْ أَبِي رَافِعٍ قَالَ لَمَّا وَلَدَتْ فَاطِمَةُ حَسَنًا قَالَتْ أَلَا أَعُقُّ عَنِ ابْنِي بِدَمٍ قَالَ لَا وَلَكِنِ احْلِقِي رَأْسَهُ ثُمَّ تَصَدَّقِي بِوَزْنِ شَعْرِهِ مِنْ فِضَّةٍ عَلَى الْمَسَاكِينِ وَالْأَوْفَاضِ وَكَانَ الْأَوْفَاضُ نَاسًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مُحْتَاجِينَ فِي الْمَسْجِدِ أَوْ فِي الصُّفَّةِ قَالَ أَبُو النَّضَرِ مِنَ الْوَرِقِ عَلَى الْأَوْفَاضِ يَعْنِي أَهْلَ الصُّفَّةِ أَوْ عَلَى الْمَسَاكِينِ فَفَعَلَتْ ذَلِكَ قَالَتْ فَلَمَّا وَلَدْتُ حُسَيْنًا فَعَلْتُ مِثْلَ ذَلِكَ
۔ سیدنا ابو رافع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کو جنم دیا تو انھوں نے کہا: کیا میں اپنے بیٹے کی طرف سے خون بہا کر اس کا عقیقہ نہ کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں، بلکہ اس کا سر مونڈو اور پھر اس کے بالوں کے وزن کے برابر چاندی مسکینوں اور کمزوروں پر صدقہ کر دو۔ یہ کمزور لوگ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ میں سے بعض محتاج افراد تھے، جو مسجد یا صفہ میں رہتے تھے۔ ابو نضر کی روایت کے الفاظ یہ ہیں: اس چاندی کو کمزوروں یعنی اہل صفہ اور مسکینوں پر خرچ کرو۔ سیدہ کہتی ہیں: پس میں نے ایسے ہی کیا، پھر جب حسین پیدا ہوا تو میں نے اسی طرح کیا۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4734]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف عبد الله بن محمد بن عقيل، أخرجه ابن ابي شيبة: 8/ 235، والطبراني في الكبير: 917،والبيھقي: 8/ 304، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27183 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27725»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف عبد الله بن محمد بن عقيل
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4735
عَنْ أَبِي رَافِعٍ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ أَنَّ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ لَمَّا وُلِدَ أَرَادَتْ أُمُّهُ فَاطِمَةُ أَنْ تَعُقَّ عَنْهُ بِكَبْشَيْنِ فَقَالَ لَا تَعُقِّي عَنْهُ وَلَكِنِ احْلِقِي شَعْرَ رَأْسِهِ ثُمَّ تَصَدَّقِي بِوَزْنِهِ مِنَ الْوَرِقِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ثُمَّ وُلِدَ حُسَيْنٌ بَعْدَ ذَلِكَ فَصَنَعَتْ مِثْلَ ذَلِكَ
۔ (دوسری سند) جب سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما پیدا ہوئے تو ان کی ماں سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے ان کی طرف دو دنبوں کا عقیقہ کرنا چاہا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم اس کی طرف عقیقہ نہ کرو، بلکہ اس کے سر کو مونڈو اور پھر اس کے بالوں کے وزن کے برابر چاندی کا اللہ کے راستے میں صدقہ کرو۔ پھر جب سیدنا حسین رضی اللہ عنہ پیدا ہوئے تو سیدہ نے اسی طرح کیا۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4735]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الأول_x000D_ شَعْرِهِ فِضَّةً۔)) قَالَ فَوَزَنَتْهُ فَكَانَ وَزْنُهُ دِرْهَمًا أَوْ بَعْضَ دِرْهَمٍ۔ اے فاطمه! اس كے سر كو مونڈو اور اس كے بالوں كے برابر چاندي كا صدقه كرو۔ پس جب انھوں نے وزن كيا تو بالوں كا وزن درهم يا درهم كا كچھ حصه تھا۔ (ترمذي: 1519) يه سيدنا حسن رضي الله عنه كي ولادت كا واقعه هے۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27738»
وضاحت: فوائد: … درج ذیل روایت صحیح ہے۔

الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الأول_x000D_
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں