🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
74. بَابُ مَا جَاءَ فِي التَّسْمِيَةِ بِمُحَمَّدٍ وَكَرَاهَةِ الْجَمْعِ بَيْنَ اسْمِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
محمد نام رکھنا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نام اور کنیت کو جمع کرنے کی ممانعت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4756
عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَثْلَهُ
۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے بھی اسی قسم کی حدیث بیان کی ہے۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4756]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه أبوداود: 4966، والترمذي: 2842، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14357 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14409»

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4757
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى قَالَ نَظَرَ عُمَرُ إِلَى أَبِي عَبْدِ الْحَمِيدِ أَوِ ابْنِ عَبْدِ الْحَمِيدِ شَكَّ أَبُو عَوَانَةَ وَكَانَ اسْمُهُ مُحَمَّدًا وَرَجُلٌ يَقُولُ لَهُ يَا مُحَمَّدُ فَعَلَ اللَّهُ بِكَ وَفَعَلَ وَفَعَلَ قَالَ وَجَعَلَ يَسُبُّهُ قَالَ فَقَالَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ عِنْدَ ذَلِكَ يَا ابْنَ زَيْدٍ ادْنُ مِنِّي قَالَ أَلَا أَرَى مُحَمَّدًا يُسَبُّ بِكَ لَا وَاللَّهِ لَا تُدْعَى مُحَمَّدًا مَا دُمْتُ حَيًّا فَسَمَّاهُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ ثُمَّ أَرْسَلَ إِلَى بَنِي طَلْحَةَ لِيُغَيِّرَ أَهْلُهُمْ أَسْمَاءَهُمْ وَهُمْ يَوْمَئِذٍ سَبْعَةٌ وَسَيِّدُهُمْ وَأَكْبَرُهُمْ مُحَمَّدٌ قَالَ فَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ أَنْشُدُكَ اللَّهَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ فَوَاللَّهِ إِنْ سَمَّانِي مُحَمَّدًا يَعْنِي إِلَّا مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ عُمَرُ قُومُوا لَا سَبِيلَ لِي إِلَى شَيْءٍ سَمَّاهُ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
۔ عبد الرحمن بن ابی لیلی کہتے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ابو عبد الحمید یا ابن عبد الحمید کی طرف دیکھا، اس کا نام محمد تھا، ایک آدمی اس کو گالی دے رہا تھا اور یوں کہہ رہا تھا: او محمد! اللہ تعالیٰ تیرے ساتھ یوں کرے اور اس طرح کرے اور اس طرح کرے، امیر المؤمنین نے اس وقت کہا: اے ابن زید! ذرا میرے قریب ہو جاؤ، کیا میں یہ دیکھ رہا ہوں کہ تمہاری وجہ سے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو برا بھلا کہا جا رہا ہے، نہیں، اللہ کی قسم ہے جب تک تم زندہ رہو گے، تم کو محمد نہیں کہا جائے گا، پھر انھوں نے نے ان کا نام عبد الرحمن رکھا، پھر امیر المومنین نے بنو طلحہ کی طرف پیغام بھیجا کہ ان میں سے جن کے نام محمد ہیں وہ اس نام کو تبدیل کر دیں، ایسے کل سات افراد تھے، بلکہ اس کے سردار اور بڑے کا نام بھی محمد تھا، ان میں سے سیدنا محمد بن طلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اے امیر المومنین! میں آپ کو اللہ تعالیٰ کا واسطہ دیتا ہوں کہ آپ میرا نام تبدیل نہ کریں کیونکہ میرا نام خود محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رکھا ہے، یہ سن کر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: چلے جاؤ، جس آدمی کا نام خود محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رکھا، اس کے بارے میں مجھے کوئی اختیار نہیں ہے۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4757]
تخریج الحدیث: «رجاله ثقات، لكنه منقطع، فان عبد الرحمن بن ابي ليلي لم يثبت انه لقي عمر بن الخطاب، أخرجه الطبراني في الكبير: 19/544، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17896 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18056»
وضاحت: فوائد: … آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی حیات ِ مبارکہ میں لوگوں کو اپنا نام رکھنے کی تو اجازت دی تھی، البتہ کنیت کی اجازت نہیں دی تھی، اس کی وجہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا احترام تھا۔

الحكم على الحديث:
رجاله ثقات
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
75. فَصْلٌ مِنْهُ فِي التَّرْخِيصِ فِي ذَلِكَ
اس معاملے میں رخصت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4758
عَنِ ابْنِ الْحَنَفِيَّةِ قَالَ قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ إِنْ وُلِدَ لِي بَعْدَكَ وَلَدٌ أُسَمِّيهِ بِاسْمِكَ وَأُكَنِّيهِ بِكُنْيَتِكَ قَالَ نَعَمْ فَكَانَتْ رُخْصَةً مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِعَلِيٍّ
۔ ابن حنفیہ رحمتہ اللہ علیہ سے مروی کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس بارے میں آپ کا کیا خیال ہے کہ اگر آپ کے بعد میرا بیٹا ہو تو میں اس کا نام بھی آپ والا رکھوں اور کنیت بھی آپ والی رکھوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ٹھیک ہے۔ راوی کہتا ہے: یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو رخصت تھی۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4758]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه أبوداود: 4967، والترمذي: 2843، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 730 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 730»
وضاحت: فوائد: … اس رخصت کو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ خاص کرنا، یہ راوی کا ذاتی فہم ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کیے گئے سوال اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جواب کا تقاضا یہ نہیں ہے۔

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4759
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا أَحَلَّ اسْمِي وَحَرَّمَ كُنْيَتِي أَوْ مَا حَرَّمَ كُنْيَتِي وَأَحَلَّ اسْمِي
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کس نے میرے نام کو حلال اور کنیت کو حرام قرار دیا ہے، یا میری کنیت کو حرام اور نام کو حلال قرار دیا ہے۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4759]
تخریج الحدیث: «حديث منكر، أخرجه أبوداود: 4968، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25040 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25554»

الحكم على الحديث:
حديث منكر
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
76. بَابُ مَنْ سَمَّاهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيَّرَ أَسْمَاءَهُمْ لِمَصْلَحَةٍ
وہ افراد جن کے نام نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رکھے اور وہ افراد کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کسی مصلحت کی وجہ سے جن کے نام تبدیل کیے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4760
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَمَّا وُلِدَ الْحَسَنُ سَمَّيْتُهُ حَرْبًا فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَرُونِي ابْنِي مَا سَمَّيْتُمُوهُ قَالَ قُلْتُ حَرْبًا قَالَ بَلْ هُوَ حَسَنٌ فَلَمَّا وُلِدَ الْحُسَيْنُ سَمَّيْتُهُ حَرْبًا فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَرُونِي ابْنِي مَا سَمَّيْتُمُوهُ قَالَ قُلْتُ حَرْبًا قَالَ بَلْ هُوَ حُسَيْنٌ فَلَمَّا وُلِدَ الثَّالِثُ سَمَّيْتُهُ حَرْبًا فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَرُونِي ابْنِي مَا سَمَّيْتُمُوهُ قُلْتُ حَرْبًا قَالَ بَلْ هُوَ مُحَسِّنٌ ثُمَّ قَالَ سَمَّيْتُهُمْ بِأَسْمَاءِ وَلَدِ هَارُونَ شَبَّرُ وَشَبِّيرُ وَمُشَبِّرٌ
۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: جب حسن پیدا ہوا تو میں نے اس کا نام حرب رکھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے اور فرمایا: میرا بیٹا مجھے دکھاؤ، تم لوگوں نے اس کا نام کیا رکھا ہے؟ میں نے کہا: حرب، آپ نے فرمایا: نہیں، بلکہ اس کا نام تو حسن ہے۔ پھر جب حسین پیدا ہوا تو میں نے اس کا نام حرب رکھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے اور فرمایا: میرا بیٹا مجھے دکھاؤ، تم لوگوں نے اس کا نام کیا رکھا ہے؟ میں نے کہا: حرب، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں، بلکہ اس کا نام حسین ہے۔ جب تیسرا بچہ پیدا ہوا تو میں نے اس کا نام حرب رکھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے اور فرمایا: میرا بیٹا مجھے دکھاؤ، تم لوگوں نے اس کا نام کیا رکھا ہے؟ میں نے کہا: حرب، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں، بلکہ یہ محسِّن ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے ان بچوں کے نام ہارون علیہ السلام کے بچوں کے ناموں پر رکھے ہیں، ان کے نام یہ تھے: شَبَّر، شَبِّیْر اور مُشَبِّر۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4760]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه البزار: 742، وابن حبان: 6958، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 769 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 769»

الحكم على الحديث:
اسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4761
عَنْ خَيْثَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ كَانَ اسْمُ أَبِي فِي الْجَاهِلِيَّةِ عَزِيزًا فَسَمَّاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ
۔ خیثمہ بن عبد الرحمن اپنے باپ سے روایت کرتے ہوئے کہتے ہیں: دورِ جاہلیت میں میرے باپ کا نام عزیز تھا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کا نام عبد الرحمن رکھا تھا۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4761]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه ابن ابي شيبة: 8/ 663، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17604 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17748»

الحكم على الحديث:
حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4762
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ كَانَ اسْمُ جُوَيْرِيَةَ بَرَّةَ فَكَأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَرِهَ ذَلِكَ فَسَمَّاهَا جُوَيْرِيَةَ كَرَاهَةَ أَنْ يُقَالَ خَرَجَ مِنْ عِنْدِ بَرَّةَ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ سیدہ جویریہ رضی اللہ عنہا کا نام برّۃ تھا، گویا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس نام کو ناپسند کیا، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کا نام جویریہ رکھا، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس بات کو مکروہ سمجھتے تھے کہ کہا جائے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم برّہ کے پاس سے نکلے ہیں، …۔ الحدیث [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4762]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2140، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2334 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2334»
وضاحت: فوائد: … حدیث نمبر (۴۷۶۴)دیکھیں۔

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 2140
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4763
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ غَيَّرَ اسْمَ عَاصِيَةَ قَالَ أَنْتِ جَمِيلَةُ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عاصیہ کا نام تبدیل کرتے ہوئے فرمایا: تو جمیلہ ہے۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4763]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2139، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4682 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4682»
وضاحت: فوائد: … عَاص اور عَاصِیَۃ کا لفظی معنی نافرمان ہے، عرب تکبراور بڑے پن کے اظہار کے لیے اس قسم کے اسماء کا انتخاب کرتے تھے۔

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 2139
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4764
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ اسْمُ زَيْنَبَ بَرَّةَ فَسَمَّاهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ زَيْنَبَ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدہ زینب کا نام برّہ تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کا نام زینب رکھا۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4764]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2141، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9560 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9556»
وضاحت: فوائد: … بَرَّۃ کا معنی نیکی یا نیک وصالح ہے۔ صحیح مسلم کی روایت کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس نام سے نہی کی وجہ بیان کرتے ہوئے فرمایا: ((لَا تُزَکُّوا اَنْفُسَکُم وَاللّٰہُ اَعْلَمُ بِاَھْلِ الْبِرِّ مِنْکُمْ۔)) … اپنے نفسوں کے پاک ہونے کا اظہار مت کرو، اللہ بہتر جانتا ہے کہ تم میں نیکی والا کون ہے۔

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 2141
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4765
عَنْ رَجُلٍ مِنْ جُهَيْنَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَقُولُ يَا حَرَامُ فَقَالَ يَا حَلَالُ
۔ جہینہ قبیلے کا ایک بندہ بیان کرتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک آدمی کو یوں آواز دیتے ہوئے سنا: اے حرام!، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے حلال۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4765]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لانقطاعه، ابو اسحاق السبيعي لم يثبت سماعه من الرجل من جھينة، أخرجه الحاكم: 2/108، وابن ابي شيبة: 12/ 503، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15865 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15959»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لانقطاعه
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں