الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
70. بَابُ وَقْتِ الْعَقِيقَةِ وَتَسْمِيَةِ الْمَوْلُودِ وَحَلْقِ رَأْسِهِ وَالتَّصَدُّقِ بِوَزْنِ شَعْرِهِ مِنْ فِضَّةٍ
عقیقہ کا وقت، بچے کا نام رکھنا، اس کو سر مونڈنا اور اس کے بالوں کے وزن کے برابر چاندی کا صدقہ کرنا
حدیث نمبر: 4736
عَنْ سَمُرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ كُلُّ غُلَامٍ رَهِينٌ بِعَقِيقَتِهِ تُذْبَحُ عَنْهُ يَوْمَ السَّابِعِ وَيُحْلَقُ رَأْسُهُ وَيُسَمَّى
۔ سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر بچہ اپنے عقیقہ کے ساتھ گروی ہوتا ہے، ساتویں دن اس کی طرف سے جانور کو ذبح کیا جائے اوراس کا سر مونڈا جائے اور اس کا نام رکھا جائے۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4736]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه أبوداود: 2837، وابن ماجه: 3165، والترمذي: 1522، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20139 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20401»
وضاحت: فوائد: … ساتویں دن سے پہلے بھی نام رکھا جا سکتا ہے، اگلے باب میںاس کے دلائل موجود ہیں۔
الحكم على الحديث:
حديث صحيح
حدیث نمبر: 4737
عَنْ سَمُرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ كُلُّ غُلَامٍ مُرْتَهَنٌ بِعَقِيقَتِهِ تُذْبَحُ يَوْمَ سَابِعِهِ وَيُحْلَقُ رَأْسُهُ وَيُدَمَّى
۔ سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر بچہ اپنے عقیقہ کے ساتھ گروی ہوتا ہے، ساتویں دن اس کی طرف سے جانور ذبح کیا جائے اور اس کا سر مونڈا جائے اور اس کو خون آلودہ کیا جائے۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4737]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20456»
وضاحت: فوائد: … امام مالک، امام شافعی اور امام احمد j نے عقیقہ کے گوشت کے بارے میں اس چیز کو مستحب سمجھا ہے کہ سارا گوشت پکا لیا جائے،پھر اس میں سے فقراء و مساکین پر بھی صدقہ کیا جائے، ہمسائیوں کو بھی دیا جائے اور عقیقہ کرنے والے خود بھی کھائیں۔
الحكم على الحديث:
انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20456
حدیث نمبر: 4738
عَنْ سَمُرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِثْلُهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ وَيُسَمَّى قَالَ هَمَّامٌ فِي حَدِيثِهِ وَرَاجَعْنَاهُ وَيُدَمَّى قَالَ هَمَّامٌ فَكَانَ قَتَادَةُ يَصِفُ الدَّمَ فَيَقُولُ إِذَا ذَبَحَ الْعَقِيقَةَ تُؤْخَذُ صُوفَةٌ فَتُسْتَقْبَلُ أَوْدَاجُ الذَّبِيحَةِ ثُمَّ تُوضَعُ عَلَى يَافُوخِ الصَّبِيِّ حَتَّى إِذَا سَالَ غُسِلَ رَأْسُهُ ثُمَّ حُلِقَ بَعْدُ
(دوسری سند) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مذکورہ بالا روایت کی طرح ہی ہے، البتہ اس میں وَیُسَمّٰی کے الفاظ ہیں، جبکہ ہمام کی روایت میں وَیُدَمّٰی کے الفاظ ہیں، اور قتادہ راوی اس خون کی یہ کیفیت بیا کرتے تھے: جب آدمی عقیقہ کے جانور کو ذبح کرے گا تو روئی کا ٹکڑا لے کر ذبیحہ کی رگوں کے سامنے رکھا جائے گا، پھر اس کو بچے کی چوٹی پر رکھا جائے گا، یہاں تک کے خون بہے گا اور اس کو دھو کر سر کو مونڈ دیا جائے گا۔“ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4738]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، وانظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20457»
وضاحت: فوائد: … سوال یہ ہے کہ ان احادیث میں وَیُسَمّٰی کے الفاظ ہیں یا وَیُدَمّٰی کے، اول الذکر کا معنی نام رکھنا ہے اور مؤخر الذکر کا معنی سر کو خون آلود کرنا ہے۔
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح
71. بَابُ التَّأْذِينِ فِي أُذُنَيِ الْمَوْلُودِ حِينَ يُولَدُ وَتَحْنِيكِهِ بَعْدَ ذَلِكَ
ولادت کے بعد بچے کے دونوں کانوں میں اذان دینا اور پھر اس کے بعد گڑتی دینا
حدیث نمبر: 4739
عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَذَّنَ فِي أُذُنَيِ الْحَسَنِ حِينَ وَلَدَتْهُ فَاطِمَةُ بِالصَّلَاةِ
۔ سیدنا ابو رافع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جب سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کو جنم دیا تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے دونوں کانوں میں اذان دی۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4739]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف عاصم بن عبيد الله، أخرجه أبوداود: 5105، الترمذي: 1514، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24371 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24371»
وضاحت: فوائد: … نو مولود کے کان میں اذان دینا، اس اعتبار سے یہ ایک اہم مسئلہ ہے کہ قدیم و جدید زمانے میںجمہور امت نے اس پر عمل کیا ہے اور اہل علم نے اپنی کتب میں اس سے متعلقہ عنوان قائم کیے ہیں اور اس کو مستحبّ سمجھا ہے، جبکہ اس کے حق میں کوئی مضبوط حدیث نہیں ہے۔
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف عاصم بن عبيد الله
حدیث نمبر: 4740
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ انْطَلَقْتُ بِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حِينَ وُلِدَ فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي عَبَاءَةٍ يَهْنَأُ بَعِيرًا لَهُ فَقَالَ لِي أَمَعَكَ تَمْرٌ قُلْتُ نَعَمْ فَتَنَاوَلَ تَمَرَاتٍ فَأَلْقَاهُنَّ فِي فِيهِ فَلَاكَهُنَّ ثُمَّ حَنَّكَهُ فَفَغَرَ الصَّبِيُّ فَاهُ فَأَوْجَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَجَعَلَ الصَّبِيُّ يَتَلَمَّظُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَبَتِ الْأَنْصَارُ إِلَّا حُبَّ التَّمْرِ وَسَمَّاهُ عَبْدَ اللَّهِ
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جب سیدنا عبد اللہ بن ابی طلحہ رضی اللہ عنہ پیدا ہوئے تو میں ان کو لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چوغہ پہن رکھا تھا اور اپنے ایک اونٹ کو گندھک مل رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے فرمایا: کیا تیرے پاس کھجور ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ کھجوریں لی، ان کو اپنے منہ مبارک میں ڈال کر چبایا، پھربچے کو اس طرح گڑتی دی کہ بچے نے منہ کھولااور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے منہ سے وہ مواد نکال کر بچے کے منہ میں ڈال دیا اور بچہ اس کو کھا کر اس کا ذائقہ لینے لگا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: انصار نے انکار کر دیا ہے، ما سوائے کھجور کی محبت کے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس بچے کا نام عبد اللہ رکھا۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4740]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2144، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12795 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12826»
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 2144
حدیث نمبر: 4741
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِابْنِ الزُّبَيْرِ فَحَنَّكَهُ بِتَمْرَةٍ وَقَالَ هَذَا عَبْدُ اللَّهِ وَأَنْتِ أُمُّ عَبْدِ اللَّهِ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں زبیر کے بیٹے کو لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو کھجور کی گڑتی دی اور فرمایا: یہ عبد اللہ ہے اور تم ام عبد اللہ ہو۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4741]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه أبوداود: 4970، وقولھا: فحنكه بتمرة أخرجه البخاري: 3910، ومسلم: 2148، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24619 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25126»
الحكم على الحديث:
حديث صحيح
حدیث نمبر: 4742
عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ وُلِدَ لِي غُلَامٌ فَأَتَيْتُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَسَمَّاهُ إِبْرَاهِيمَ وَحَنَّكَهُ بِتَمْرَةٍ
۔ سیدنا ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میرا ایک بچہ پیدا ہوا، جب میں اس کو لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کا نام ابراہیم رکھا اور اس کو کھجور کی گڑتی دی۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4742]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5467، 6198، ومسلم: 2145، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19570 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19799»
وضاحت: فوائد: … صحابۂ کرام اس چیز کا اہتمام کرتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے بچوں کو گڑتی دیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وجود اور لعاب کی برکت تو بے مثال ہے، لیکن ہمیں بھی اس مقصد کے لیے نیک شخصیات کا انتخاب کرنا چاہیے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 5467
72. بَابُ أَحَبِّ الْأَسْمَاءِ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَإِلَى رَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے نزدیک سب سے محبوب نام
حدیث نمبر: 4743
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ كَانَ أَحَبَّ الْأَسْمَاءِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَبْدُ اللَّهِ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سب سے زیادہ محبوب نام عبد اللہ اور عبد الرحمن تھے۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4743]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2132، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6122 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6122»
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 2132
حدیث نمبر: 4744
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ مِنْ أَحْسَنِ أَسْمَائِكُمْ عَبْدَ اللَّهِ وَعَبْدَ الرَّحْمَنِ
۔ (دوسری سند) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک تمہارے سب سے بہترین ناموں میں سے عبد اللہ اور عبد الرحمن ہیں۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4744]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4774»
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4774
حدیث نمبر: 4745
عَنْ أَبِي وَهْبٍ الْجُشَمِيِّ وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تَسَمَّوْا بِأَسْمَاءِ الْأَنْبِيَاءِ وَأَحَبُّ الْأَسْمَاءِ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ عَبْدُ اللَّهِ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ وَأَصْدَقُهَا حَارِثٌ وَهَمَّامٌ وَأَقْبَحُهَا حَرْبٌ وَمُرَّةُ وَارْتَبِطُوا الْخَيْلَ وَامْسَحُوا بِنَوَاصِيهَا وَأَعْجَازِهَا أَوْ قَالَ وَأَكْفَالِهَا وَقَلِّدُوهَا وَلَا تُقَلِّدُوهَا الْأَوْتَارَ وَعَلَيْكُمْ بِكُلِّ كُمَيْتٍ أَغَرَّ مُحَجَّلٍ أَوْ أَشْقَرَ أَغَرَّ مُحَجَّلٍ أَوْ أَدْهَمَ أَغَرَّ مُحَجَّلٍ
۔ سیدنا ابو وہب جشمی رضی اللہ عنہ، ان کو صحبت کا شرف حاصل تھا، بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: انبیائے کرام کے ناموں کے ساتھ نام رکھا کرو اور اللہ تعالیٰ کو سب سے محبوب نام عبد اللہ اور عبد الرحمن ہیں، سب سے زیادہ سچے نام حارث اور ہمام ہیں، سب سے زیادہ برے نام حرب اور مرہ ہیں، گھوڑوں کو باندھ کر رکھو اور ان کی پیشانیوں اور ان کے پچھلے حصوں یا ان کے سرینوں کو چھوا کرو، ان کو قلادے ڈالا کرو، البتہ تانت کا قلادہ نہ ڈالا کرو، اور تم سیاہ و سرخ رنگ کے گھوڑے کا، جس کی پیشانی اور ٹانگوں میں سفیدی ہو، یا سفید سرخی مائل گھوڑے کا، جس کی پیشانی اور ٹانگوں میں سفیدی ہو، یا سیاہ گھوڑے کا اہتمام کرو، جس کی پیشانی اور ٹانگوں میں سفیدی ہو۔ [الفتح الربانی/طواف المفرد والقارن والمتمتع/حدیث: 4745]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة عقيل بن شبيب، وقد اختلف فيه علي محمد بن مھاجر، أخرجه أبوداود: 2543، 2553، 4950 مقطعا، والنسائي: 6/ 218، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19032 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19241»
وضاحت: فوائد: … لیکن دوسری احادیث صحیحہ میں ثابت ہیں کہ حارث اور ہمام سب سے سچا نام ہیں اور حرب اور مرہ بدترین نام ہیں۔
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لجھالة عقيل بن شبيب