🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
14. جامِعُ الشُّهَدَاءِ وَأَنْوَاعِهِمْ غَيْرِ الْمُجَاهِدِينَ فِي سَبِيْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ
شہداء کا جامع تذکرہ اور اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والوں کے علاوہ شہداء کی اقسام کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4902
عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِمْيَرِيِّ أَنَّ رَجُلًا يُقَالُ لَهُ حَمَمَةُ كَانَ مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ إِلَى أَصْبَهَانَ غَازِيًا فِي خِلَافَةِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ اللَّهُمَّ إِنَّ حَمَمَةَ يَزْعُمُ أَنَّهُ يُحِبُّ لِقَاءَكَ فَإِنْ كَانَ حَمَمَةُ صَادِقًا فَاعْزِمْ لَهُ صِدْقَهُ وَإِنْ كَانَ كَاذِبًا فَاعْزِمْ عَلَيْهِ وَإِنْ كَرِهَ اللَّهُمَّ لَا تَرُدَّ حَمَمَةَ مِنْ سَفَرِهِ هَذَا قَالَ فَأَخَذَهُ الْمَوْتُ وَقَالَ عَفَّانُ مَرَّةً الْبَطْنُ فَمَاتَ بِأَصْبَهَانَ قَالَ فَقَامَ أَبُو مُوسَى فَقَالَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا وَاللَّهِ مَا سَمِعْنَا فِيمَا سَمِعْنَا مِنْ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَمَا بَلَغَ عِلْمَنَا إِلَّا أَنَّ حَمَمَةَ شَهِيدٌ
۔ حمید بن عبد الرحمن حمیری کہتے ہیں کہ حممہ نامی ایک آدمی جہاد کرنے کے لیے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت میں اصفہان کی طرف نکلا، یہ آدمی اصحاب ِ رسول میں سے تھا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ! بیشک حممہ یہ خیال کرتا ہے کہ وہ تیری ملاقات کو پسند کرتا ہے، اگر حممہ سچا ہے تو تو اس کے سچ کو پورا کر دے اور اس کو شہید کر دے اور اگر یہ جھوٹا ہے تو پھر بھی تو اس کو شہید کر دے، اگرچہ یہ ناپسند کرتا ہو، اے اللہ! حممہ کو اس سفر سے واپس نہ لوٹانا۔ ایسے ہی ہوا اور وہ پیٹ کی بیماری کی وجہ سے اصبہان کے علاقے میں فوت ہو گیا۔ سیدنا ابو موسی رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور کہا: اے لوگو! جو کچھ ہم نے تمہارے نبی سے سنا اور جتنا ہم نے علم حاصل کیا، اس کا یہ تقاضا یہ ہے کہ حممہ شہید ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 4902]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه أبوداود الطيالسي:505، والطبراني في الكبير: 3610، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19659 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19893»
وضاحت: فوائد: … سیدنا حممہ رضی اللہ عنہ پیٹ کی بیماری کی وجہ سے فوت ہوئے اور اس مرض سے وفات پانے والا حکماً شہید ہوتا ہے، جیسا کہ حدیث نمبر (۴۹۱۴)میں آ رہا ہے اور دوسری وجہ یہ بھی کہ یہ جہادی سفر میں تھے۔

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4903
عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ مَاتَ رَجُلٌ صَالِحٌ فَأُخْرِجَ بِجِنَازَتِهِ فَلَمَّا رَجَعْنَا تَلَقَّانَا خَالِدُ بْنُ عُرْفُطَةَ وَسُلَيْمَانُ بْنُ صُرَدٍ وَكِلَاهُمَا قَدْ كَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فَقَالَا سَبَقْتُمُونَا بِهَذَا الرَّجُلِ الصَّالِحِ فَذَكَرُوا أَنَّهُ كَانَ بِهِ بَطْنٌ وَأَنَّهُمْ خَشُوا عَلَيْهِ الْحَرَّ قَالَ فَنَظَرَ أَحَدُهُمَا إِلَى صَاحِبِهِ فَقَالَ أَمَا سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ قَتَلَهُ بَطْنُهُ لَمْ يُعَذَّبْ فِي قَبْرِهِ
۔ ابو اسحق سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ایک نیک سیرت آدمی فوت ہو گیا، جب اس کا جنازہ نکالا گیا تو ہمیں سیدنا خالد بن عرفطہ اور سیدنا سلیمان بن صرد رضی اللہ عنہما ملے، یہ دونوں صحابی تھے، انھوں نے کہا: تم اس نیک آدمی کے سلسلے میں ہم سے سبقت لے گئے ہو، لوگوں نے کہا: اس کو پیٹ کی بیماری تھی اور ہمیں گرمی کی وجہ سے ڈر تھا، یہ سن کر ان دو میں سے ہر ایک نے دوسرے کو دیکھا اور کہا: کیا تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے نہیں سنا تھا کہ جو آدمی پیٹ کی وجہ سے فوت ہو گا، اس کو قبر میں عذاب نہیں دیا جائے گا۔ (مسند احمد کی ایک روایت کے مطابق دوسرے صحابی نے جواب دیا: جی کیوں نہیں۔) [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 4903]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه الترمذي: 1064، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18312 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18502»

الحكم على الحديث:
حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4904
عَنْ حَفْصَةَ قَالَتْ سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِمَا مَاتَ ابْنُ أَبِي عَمْرَةَ فَقَالُوا بِالطَّاعُونِ فَقَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الطَّاعُونُ شَهَادَةٌ لِكُلِّ مُسْلِمٍ
۔ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سوال کیا کہ ابن ابی عمروہ کیسے فوت ہوا ہے، انھوں نے کہا: طاعون کے سبب سے، پھر انھوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: طاعون ہر مسلمان کی شہادت ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 4904]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2830، ومسلم: 1916، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12519 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12547»
وضاحت: فوائد: … طاعون کیا ہے؟ اگلی حدیث کی شرح ملاحظہ ہو۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 2830
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4905
عَنْ عِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَخْتَصِمُ الشُّهَدَاءُ وَالْمُتَوَفَّوْنَ عَلَى فُرُشِهِمْ إِلَى رَبِّنَا عَزَّ وَجَلَّ فِي الَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنَ الطَّاعُونِ فَيَقُولُ الشُّهَدَاءُ إِخْوَانُنَا قُتِلُوا كَمَا قُتِلْنَا وَيَقُولُ الْمُتَوَفَّوْنَ عَلَى فُرُشِهِمْ إِخْوَانُنَا مَاتُوا عَلَى فُرُشِهِمْ كَمَا مِتْنَا عَلَى فُرُشِنَا فَيَقُولُ الرَّبُّ عَزَّ وَجَلَّ انْظُرُوا إِلَى جِرَاحِهِمْ فَإِنْ أَشْبَهَتْ جِرَاحُهُمْ جِرَاحَ الْمَقْتُولِينَ فَإِنَّهُمْ مِنْهُمْ وَمَعَهُمْ فَإِذَا جِرَاحُهُمْ قَدْ أَشْبَهَتْ جِرَاحَهُمْ
۔ سیدنا عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: شہداء اور بستروں پر طبعی موت فوت ہونے والے اللہ تعالیٰ کے پاس ان لوگوں کے بارے میں جھگڑیں گے، جو طاعون کی وجہ سے فوت ہو جاتے ہیں، شہداء کہیں گے: یہ ہمارے بھائی ہیں اور ہماری طرح شہید ہوئے ہیں، بستروں پر فوت ہونے والے کہیں گے: یہ ہمارے بھائی ہے اور بستروں پر ایسی ہی طبعی موت فوت ہوئے ہیں، جیسے ہم مرے ہیں، اللہ تعالیٰ فیصلہ کرتے ہوئے کہے گا: تم لوگ ان کے زخموں کو دیکھ لو، اگر ان کے زخم شہداء کے زخموں کے مشابہ ہوئے تو یہ ان ہی میں سے اور ان کے ساتھ ہوں گے، پس ان کے زخم شہدا کے زخموں کے مشابہ ہوں گے۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 4905]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، أخرجه النسائي: 6/37، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17159 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17291»
وضاحت: فوائد: … اس جھگڑے کی بنیاد حسد وغیرہ نہیں، بلکہ شہداء چاہیں گے کہ طاعون سے فوت ہونے والوں کا درجہ اونچا کیا جائے، وہ ہمارے ساتھ رہیں، اور بستروں پر فوت ہونے والے چاہیں گے کہ اگر انہیں شہداء کا مرتبہ مل رہا ہے تو ہمیں بھی ملنا چاہیے کیونکہ موت کے لحاظ سے ہم ایک جیسے ہیں، گویا یہ رشک ہے اور رشک جائز ہے۔

الحكم على الحديث:
حسن لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4906
عَنْ عُتْبَةَ بْنِ عَبْدٍ السُّلَمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ
۔ سیدنا عتبہ بن عبد سُلَمی رضی اللہ عنہ نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اسی قسم کی حدیث بیان کی ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 4906]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه الطبراني في الكبير: 19/ 562، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17651 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17801»

الحكم على الحديث:
اسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4907
عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْمَيِّتُ مِنْ ذَاتِ الْجَنْبِ شَهِيدٌ
۔ سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اندرونی پھوڑے (کینسر و سرطان وغیرہ) سے مرجانے والا شہید ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 4907]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، أخرجه الطبراني في الكبير: 17/881، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17434 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17570»

الحكم على الحديث:
حسن لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4908
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْأَلْهَانِيِّ قَالَ ذُكِرَ عِنْدَ أَبِي عِنَبَةَ الْخَوْلَانِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ الشُّهَدَاءُ فَذَكَرُوا الْمَبْطُونَ وَالْمَطْعُونَ وَالنُّفَسَاءَ فَغَضِبَ أَبُو عِنَبَةَ وَقَالَ حَدَّثَنَا أَصْحَابُ نَبِيِّنَا عَنْ نَبِيِّنَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ إِنَّ شُهَدَاءَ اللَّهِ فِي الْأَرْضِ أُمَنَاءُ اللَّهِ فِي الْأَرْضِ فِي خَلْقِهِ قُتِلُوا أَوْ مَاتُوا
۔ محمد بن زیاد الہانی کہتے ہیں: سیدنا ابو عنبہ خولانی رضی اللہ عنہ کے پاس شہداء کا تذکرہ کیا گیا، لوگوں نے پیٹ اور طاعون کی بیماری سے مرنے والوں اور نفاس میں فوت ہونے والی خواتین کا ذکر کیا، سیدنا ابو عنبہ رضی اللہ عنہ کو غصہ آ گیا اور انھوں نے کہا: ہمارے نبی کے اصحاب نے ہمارے نبی رضی اللہ عنہ سے بیان کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: زمین میں اللہ تعالیٰ کے شہداء وہ ہیں، جو اس کی زمین میں اس کی مخلوق میں سے امانت والے ہیں، ان کو قتل کیا جائے یا وہ طبعی موت فوت ہوں۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 4908]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17786 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17939»

الحكم على الحديث:
اسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4909
عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَتَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا مَرِيضٌ فِي نَاسٍ مِنَ الْأَنْصَارِ يَعُودُونِي فَقَالَ هَلْ تَدْرُونَ مَا الشَّهِيدُ فَسَكَتُوا فَقَالَ هَلْ تَدْرُونَ مَا الشَّهِيدُ فَسَكَتُوا قَالَ هَلْ تَدْرُونَ مَا الشَّهِيدُ فَقُلْتُ لِامْرَأَتِي أَسْنِدِينِي فَأَسْنَدَتْنِي فَقُلْتُ مَنْ أَسْلَمَ ثُمَّ هَاجَرَ ثُمَّ قُتِلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَهُوَ شَهِيدٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ شُهَدَاءَ أُمَّتِي إِذًا لَقَلِيلٌ الْقَتْلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ شَهَادَةٌ وَالْبَطْنُ شَهَادَةٌ وَالْغَرَقُ شَهَادَةٌ وَالنُّفَسَاءُ شَهَادَةٌ
۔ سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں بیمار تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کچھ انصاری لوگوں سمیت میری عیادت کے لیے میرے پاس تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم لوگ جانتے ہو کہ شہید کون ہوتا ہے؟ وہ جواباً خاموش رہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تمہیں علم ہے کہ شہید کون ہوتا ہے؟ وہ اس بار بھی خاموش رہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر فرمایا: میں کہہ رہا ہوں کہ کیا تم جانتے ہو کہ شہید کون ہوتا ہے؟ میں نے اپنی بیوی سے کہا: مجھے سہارا دے، پس اس نے مجھے سہارا دیا، پھر میں نے کہا: جی جو شخص اسلام لایا، پھر اس نے ہجرت کی اور پھر وہ اللہ کی راہ میں قتل ہو گیا، وہ شہید ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پھر تو میری امت کے شہداء کی تعداد کم ہو گی، بلکہ اللہ کی راہ میں قتل بھی شہادت ہے، پیٹ کی بیماری کی وجہ سے موت بھی شہادت ہے، ڈوبنا بھی شہادت ہے اور نفاس میں فوت ہو جانا بھی شہادت ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 4909]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه البزار: 2693، 2710، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22702 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23078»

الحكم على الحديث:
حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4910
عَنْ رَاشِدِ بْنِ حُبَيْشٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَى عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَعُودُهُ فِي مَرَضِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَتَعْلَمُونَ مَنِ الشَّهِيدُ مِنْ أُمَّتِي فَأَرَمَّ الْقَوْمُ فَقَالَ عُبَادَةُ سَانِدُونِي فَأَسْنَدُوهُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ الصَّابِرُ الْمُحْتَسِبُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ شُهَدَاءَ أُمَّتِي إِذًا لَقَلِيلٌ الْقَتْلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ شَهَادَةٌ وَالطَّاعُونُ شَهَادَةٌ وَالْغَرَقُ شَهَادَةٌ وَالْبَطْنُ شَهَادَةٌ وَالنُّفَسَاءُ يَجُرُّهَا وَلَدُهَا بِسَرَرِهِ إِلَى الْجَنَّةِ قَالَ وَزَادَ فِيهَا أَبُو الْعَوَّامِ سَادِنُ بَيْتِ الْمَقْدِسِ وَالْحَرْقُ وَالسَّيْلُ
۔ سیدنا راشد بن حبیش رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، سیدنا عبادہ بن صامت کی تیمار داری کرنے کے لیے ان کے پاس تشریف لائے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم لوگ جانتے ہو کہ میری امت کے شہید کون ہیں؟ لوگ خاموش رہے، البتہ سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ نے کہا: مجھے سہارا دو، پس لوگوں نے ان کو سہارا دیا، پھر انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! جو ثواب کی نیت سے صبر کرتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پھر تو میری امت کے شہداء کم ہوں گے، سنو، اللہ کی راہ میں قتل بھی شہادت ہے، طاعون بھی شہادت ہے، ڈوبنا بھی شہادت ہے، پیٹ کی بیماری بھی شہادت ہے، اور نفاس والی خواتین کی صورتحال تو یہ ہو گی کہ ان کا بچہ اپنے ناف کے اس حصے کے ذریعے ان کو جنت کی طرف کھینچ کر لے جائے گا، جو ولادت کے وقت کاٹا جاتا ہے۔ ابو عوام کی روایت میں ان افراد کی زیادتی ہے: بیت المقدس کا خادم شہید ہے، آگ میں جل جانا شہادت ہے اور سیلاب میں مرجانا بھی شہادت ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 4910]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح لغيره، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15998 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16094»

الحكم على الحديث:
حديث صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4911
عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَادَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ رَوَاحَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ فَمَا تَحَوَّزَ لَهُ عَنْ فِرَاشِهِ فَقَالَ أَتَدْرُونَ مَنْ شُهَدَاءُ أُمَّتِي قَالُوا قَتْلُ الْمُسْلِمِ شَهَادَةٌ قَالَ إِنَّ شُهَدَاءَ أُمَّتِي إِذًا لَقَلِيلٌ قَتْلُ الْمُسْلِمِ شَهَادَةٌ وَالطَّاعُونُ شَهَادَةٌ وَالْمَرْأَةُ يَقْتُلُهَا وَلَدُهَا جَمْعَاءَ
۔ سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، سیدنا عبد اللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کی تیمارداری کرنے کیلئے تشریف لائے، وہ (شدت ِ مرض کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خاطر) اپنے بستر سے ہٹ نہ سکے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میری امت کے شہداء کون کون ہیں؟ لوگوں نے کہا: مسلمان کا قتل ہو جانا ہی شہادت ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پھر تو میری امت کے شہداء کم ہوں گے، سنو، مسلمان کا قتل بھی شہادت ہے، طاعون بھی شہادت ہے اور وہ حاملہ خاتون بھی شہید ہے، جو اپنے پیٹ والے بچے کی وجہ سے فوت ہو جاتی ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 4911]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه الطيالسي: 2414، والدارمي: 2414، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22684 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23060»

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں