🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
14. جامِعُ الشُّهَدَاءِ وَأَنْوَاعِهِمْ غَيْرِ الْمُجَاهِدِينَ فِي سَبِيْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ
شہداء کا جامع تذکرہ اور اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والوں کے علاوہ شہداء کی اقسام کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4912
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَا تَعُدُّونَ الشَّهِيدَ قَالُوا الَّذِي يُقَاتِلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ حَتَّى يُقْتَلَ قَالَ إِنَّ الشَّهِيدَ فِي أُمَّتِي إِذًا لَقَلِيلٌ الْقَتِيلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ شَهِيدٌ وَالطَّعِينُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ شَهِيدٌ وَالْغَرِيقُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ شَهِيدٌ وَالْخَارُّ عَنْ دَابَّتِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ شَهِيدٌ وَالْمَجْنُوبُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ شَهِيدٌ قَالَ مُحَمَّدٌ الْمَجْنُوبُ صَاحِبُ الْجَنْبِ زَادَ فِي رِوَايَةٍ وَالْبَطْنُ شَهَادَةٌ وَالنُّفَسَاءُ شَهَادَةٌ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ کس کو شہید شمار کرتے ہو؟ لوگوں نے کہا: جو اللہ کی راہ میں قتال کرتے ہوئے قتل ہو جائے، وہ شہید ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پھر تو میری امت کے شہداء کم ہوں گے، اللہ کی راہ میں قتل ہونے والا بھی شہید ہے، اللہ تعالیٰ کے راستے میں طاعون کی وجہ سے مرنے والا بھی شہید ہے، اللہ تعالیٰ کے راستے میں غرق ہونے والا بھی شہید ہے، اللہ تعالیٰ کے راستے میں اپنے جانور سے گر کر وفات پانے والا بھی شہید ہے اور اللہ تعالیٰ کے راستے میں نمونیا کی بیماری سے فوت ہو جانے والا بھی شہید ہے۔ محمد راوی نے کہا: مَجْنُوب سے مراد صَاحِبُ الْجَنْب ہے، ایک روایت میں ان الفاظ کی بھی زیادتی ہے: پیٹ کی بیماری بھی شہادت ہے اور نفاس میں فوت ہونے والی خواتین بھی شہید ہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 4912]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، ابو مالك بن ثعلبة في عداد المجھولين، ومحمد بن اسحاق مدلس وقد عنعن، أخرجه ابن ابي شيبة: 5/ 332، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9695 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9693»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث میں فی سبیل اللہ سے مراد جہاد نہیں ہے، بلکہ اس میں تو حکمی شہداء کا ذکر کیا گیا ہے، لہذا سبیل اللہ کو عام سمجھا جائے، یعنی وہ مسلمان ہو، کیونکہ ہر مسلمان اللہ تعالیٰ کے راستے کا راہی ہے، البتہ حقیقی شہید وہی ہے، جو جہاد کرتا ہوا مارا جائے۔

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4913
عَنْ صَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ الطَّاعُونُ شَهَادَةٌ وَالْغَرَقُ شَهَادَةٌ وَالْبَطْنُ شَهَادَةٌ وَالنُّفَسَاءُ شَهَادَةٌ
۔ سیدنا صفوان بن امیہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: طاعون شہادت ہے، ڈوبنا شہادت ہے، پیٹ کی بیماری شہادت ہے اور نفاس والی خواتین شہید ہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 4913]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح لغيره، أخرجه النسائي: 4/99، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15307 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15381»

الحكم على الحديث:
حديث صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4914
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ الشُّهَدَاءُ خَمْسَةٌ الْمَطْعُونُ وَالْمَبْطُونُ وَالْغَرِيقُ وَصَاحِبُ الْهَدْمِ وَالشَّهِيدُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: شہداء پانچ قسم کے ہوتے ہیں: طاعون کی بیماری والا، پیٹ کی بیماری والا، ڈوبنے والا، دیوار کے نیچے آ کر فوت ہو جانے والا اور اللہ تعالیٰ کے راستے میں شہید ہونے والا۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 4914]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 653، 720، 2829، ومسلم: 1914، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8305 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8288»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 653
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4915
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَتِيكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ ثَابِتٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لَمَّا مَاتَ قَالَتِ ابْنَتُهُ وَاللَّهِ إِنْ كُنْتُ لَأَرْجُو أَنْ تَكُونَ شَهِيدًا أَمَا إِنَّكَ كُنْتَ قَدْ قَضَيْتَ جِهَازَكَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ قَدْ أَوْقَعَ أَجْرَهُ عَلَى قَدْرِ نِيَّتِهِ وَمَا تَعُدُّونَ الشَّهَادَةَ قَالُوا قَتْلٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الشَّهَادَةُ سَبْعٌ سِوَى الْقَتْلِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ الْمَطْعُونُ شَهِيدٌ وَالْغَرِيقُ شَهِيدٌ وَصَاحِبُ ذَاتِ الْجَنْبِ شَهِيدٌ وَالْمَبْطُونُ شَهِيدٌ وَصَاحِبُ الْحَرْقِ شَهِيدٌ وَالَّذِي يَمُوتُ تَحْتَ الْهَدْمِ شَهِيدٌ وَالْمَرْأَةُ تَمُوتُ بِجُمْعٍ شَهِيدَةٌ
۔ جابر بن عتیک سے مروی ہے کہ جب سیدنا عبد اللہ بن ثابت رضی اللہ عنہ فوت ہونے لگے تو ان کی ایک بیٹی نے کہا: اللہ کی قسم! میں تو یہ امید کرتی تھی کہ آپ شہید ہوں گے، بہرحال آپ نے اپنی تیاری تو کر رکھی تھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ نے ان کی نیت کے مطابق اجر تو ثابت کر دیا ہے، اور تم یہ بتاؤ کہ تم لوگ کس چیز کو شہادت شمار کرتے ہو؟ لوگوں نے کہا: اللہ تعالیٰ کے راستے میں قتل کو، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی راہ میں قتل کے علاوہ بھی شہادت کی سات قسمیں ہیں: طاعون کی بیماری میں فوت ہونے والا شہید ہے، ڈوبنے والا شہید ہے، اندرونی پھوڑے (کینسر و سرطان وغیرہ کی) وجہ سے وفات پانے والا شہید ہے، پیٹ کی بیماری سے مرنے والا شہید ہے، جل کر فوت ہونے والا شہید ہے، گرنے والی دیوار کے نیچے آ کر فوت ہو جانے والا شہید ہے اور حمل کی وجہ سے فوت ہو جانے والی خاتون شہید ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 4915]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه ابوداود: 3111، والنسائي: 4/13، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23753 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24154»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث میں مختلف حکمی شہداء کا ذکر ہے، اللہ تعالیٰ نے ان پر خاص رحمت کرتے ہوئے ان کو شہادت کا مرتبہ عطا فرمایا ہے، اس مرتبے کی دو وجوہات ہیں، سخت تکلیف ہونا اور اکثر صورتوں میں اچانک موت میں مبتلا ہو جانا۔

الحكم على الحديث:
حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
15. باب فِي أَنَّ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مَاتَ شَهِيدًا
اس بات کا بیان کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شہید کی وفات پائی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4916
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَأَنْ أَحْلِفَ تِسْعًا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قُتِلَ قَتْلًا أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَحْلِفَ وَاحِدَةً أَنَّهُ لَمْ يُقْتَلْ وَذَلِكَ بِأَنَّ اللَّهَ جَعَلَهُ نَبِيًّا وَاتَّخَذَهُ شَهِيدًا قَالَ الْأَعْمَشُ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِإِبْرَاهِيمَ فَقَالَ كَانُوا يَرَوْنَ أَنَّ الْيَهُودَ سَمُّوهُ وَأَبَا بَكْرٍ
۔ سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: اگر میں نو بار قسم اٹھا کر کہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو شہید کیا گیا ہے تو یہ بات مجھے اس سے زیادہ پسند ہے کہ میں ایک قسم اٹھا کر کہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو شہید نہیں کیا گیا، اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نبی بنایا اور بطورِ شہید کے لیا، اعمش راوی کہتے ہیں: جب میں نے یہ بات ابراہیم کو بتلائی تو انھوں نے کہا: ان لوگوں کا یہی خیال تھا کہ یہودیوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کو زہر دیا تھا۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 4916]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4139 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4139»

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4917
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ أُمِّهِ أَنَّ أُمَّ مُبَشِّرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا وَكَانَتْ قَدْ صَلَّتْ إِلَى الْقِبْلَتَيْنِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ دَخَلَتْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي وَجَعِهِ الَّذِي قُبِضَ فِيهِ فَقَالَتْ بِأَبِي وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا تَتَّهِمُ بِنَفْسِكَ فَإِنِّي لَا أَتَّهِمُ ابْنِي إِلَّا الطَّعَامَ الَّذِي أَكَلَ مَعَكَ بِخَيْبَرَ وَكَانَ ابْنُهَا مَاتَ قَبْلَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ وَأَنَا لَا أَتَّهِمُ غَيْرَهُ هَذَا أَوَانُ قَطْعِ أَبْهَرِي
۔ سیدہ ام مبشر رضی اللہ عنہا، جنھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ دو قبلوں کی طرف نماز پڑھی تھی، سے مروی ہے، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مرض الموت کے دوران آئیں اور کہا: اے اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، آپ کس چیز کو اپنی بیماری کا سبب قرار دیتے ہیں، میرا خیال تو یہی ہے کہ اس کی وجہ وہ کھانا ہے جو میرے بیٹے نے بھی آپ کے ساتھ خیبر میں کھایا تھا، ان کا بیٹا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پہلے وفات پا چکا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں بھی اس کے علاوہ کسی اور چیز کو سبب نہیں سمجھتا، اب تو دل سے نکلنے والی رگ کے کٹ جانے کا وقت آ چکا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 4917]
تخریج الحدیث: «صحيح، قاله الالباني، أخرجه أبوداود: 4514، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23933 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24430»
وضاحت: فوائد: … سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: لَمَّا فُتِحَتْ خَیْبَرُ أُہْدِیَتْ لِرَسُولِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
16. مَنْ أَرَادَ الْجِهَادَ وَلَهُ أَبْوَان
اس آدمی کا بیان جو جہاد کا ارادہ کرے اور اس کے والدین زندہ ہوں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4918
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ هَاجَرَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْيَمَنِ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ هَجَرْتَ الشِّرْكَ وَلَكِنَّهُ الْجِهَادُ هَلْ بِالْيَمَنِ أَبَوَاكَ قَالَ نَعَمْ قَالَ أَذِنَا لَكَ قَالَ لَا فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ارْجِعْ إِلَى أَبَوَيْكَ فَاسْتَأْذِنْهُمَا فَإِنْ فَعَلَا وَإِلَّا فَبَرَّهُمَا
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے یمن سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف ہجرت کی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا: تو نے شرک کو چھوڑ دیا ہے، لیکن اب جہاد باقی ہے، اچھا یہ بتا کہ کیا تیرے والدین یمن میں زندہ ہیں؟ اس نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا انھوں نے تجھے اجازت دی ہے؟ اس نے کہا: جی نہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر تو اپنے والدین کی طرف لوٹ جا اور ان سے اجازت طلب کر، اگر انھوں نے اجازت دے دی تو ٹھیک، وگرنہ ان ہی کے ساتھ نیکی کرتے رہنا۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 4918]
تخریج الحدیث: «صحيح، قاله الالباني، أخرجه أبوداود: 2530، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11721 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11744»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4919
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تَحْتَ هَذِهِ الشَّجَرَةِ إِذْ أَقْبَلَ رَجُلٌ مِنْ هَذَا الشِّعْبِ فَسَلَّمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي قَدْ أَرَدْتُ الْجِهَادَ مَعَكَ أَبْتَغِي بِذَلِكَ وَجْهَ اللَّهِ وَالدَّارَ الْآخِرَةَ قَالَ هَلْ مِنْ أَبَوَيْكَ أَحَدٌ حَيٌّ قَالَ نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ كِلَاهُمَا قَالَ فَارْجِعْ ابْرُرْ أَبَوَيْكَ وَفِي لَفْظٍ فَفِيهِمَا فَجَاهِدْ قَالَ فَوَلَّى رَاجِعًا مِنْ حَيْثُ جَاءَ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کو اس درخت کے نیچے دیکھا، اس گھاٹی میں سے ایک آدمی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا، اس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سلام دیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے آپ کے ساتھ جہاد کا ارادہ کیا ہے، میں اس عمل کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی رضامندی اور آخرت کے گھر کو تلاش کرنا چاہتا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تیرے والدین میں سے کوئی زندہ ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں اے اللہ کے رسول! دونوں زندہ ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر تو لوٹ جا اور ان کے ساتھ نیکی کر۔ ایک روایت میں ہے: ان میں جہاد کر۔ پس وہ جہاں سے آیا تھا، اسی جہت کی طرف لوٹ گیا۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 4919]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3004، 5972، ومسلم: 2549، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6525 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6525»
وضاحت: فوائد: … والدین میں جہاد کر: اس کے دو مفہوم ہو سکتے ہیں: (۱)ان کی رضامندی حاصل کرنے کے لیے اور ان کی خواہشات کو اپنی تمناؤں پر ترجیح دینے کے لیے اپنے نفس سے یا شیطان سے جہاد کر۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 3004
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4920
عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ جَاهِمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَدْتُ الْغَزْوَ وَجِئْتُكَ أَسْتَشِيرُكَ فَقَالَ هَلْ لَكَ مِنْ أُمٍّ قَالَ نَعَمْ فَقَالَ الْزَمْهَا فَإِنَّ الْجَنَّةَ عِنْدَ رِجْلَيْهَا ثُمَّ الثَّانِيَةَ ثُمَّ الثَّالِثَةَ فِي مَقَاعِدَ شَتَّى كَمِثْلِ هَذَا الْقَوْلِ
۔ سیدنا معاویہ بن جاہمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف آئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! میں جہاد کرنا چاہتا ہوں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ مشورہ کرنے کے لیے آیا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تیری ماں موجود ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کی خدمت میں لگ جا، پس بیشک اس کے پاؤں کے پاس جنت ہے۔ پھر اس نے مختلف مجلسوں میں دوسری بار اور پھر تیسری بار یہی بات دوہرائی۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 4920]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه النسائي: 6/11، وابن ماجه: 2781، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15538 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15623»
وضاحت: فوائد: … جنت ماں کے پاؤں تلے ہے یہ ایک محاورہ ہے، مقصود یہ ہے کہ اس کی خدمت کرنے سے تجھے جنت ملے گی، پھر اس کی خدمت تیرا فرض بھی ہے، جہاد سے بھی جنت ہی حاصل ہو گی، مگر وہ تجھ پر فرض نہیں، لہذا اپنا فرض ادا کر کے جنت حاصل کر۔ مسلمان کا مقصود اللہ تعالیٰ کی رضامندی کا حصول ہونا چاہیے، شرعی احکام کے مطابق وہ جہاد میں ملے یا اس سے آسان عمل میں۔

الحكم على الحديث:
اسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4921
حَدَّثَنَا خُبَيْبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُرِيدُ غَزْوًا أَنَا وَرَجُلٌ مِنْ قَوْمِي وَلَمْ نُسْلِمْ فَقُلْنَا إِنَّا نَسْتَحْيِي أَنْ يَشْهَدَ قَوْمُنَا مَشْهَدًا لَا نَشْهَدُهُ مَعَهُمْ قَالَ أَوَ أَسْلَمْتُمَا قُلْنَا لَا قَالَ فَإِنَّا لَا نَسْتَعِينُ بِالْمُشْرِكِينَ عَلَى الْمُشْرِكِينَ قَالَ فَأَسْلَمْنَا وَشَهِدْنَا مَعَهُ فَقَتَلْتُ رَجُلًا وَضَرَبَنِي ضَرْبَةً وَتَزَوَّجْتُ بِابْنَتِهِ بَعْدَ ذَلِكَ فَكَانَتْ تَقُولُ لَا عَدِمْتَ رَجُلًا وَشَّحَكَ هَذَا الْوِشَاحَ فَأَقُولُ لَا عَدِمْتِ رَجُلًا عَجَّلَ أَبَاكِ النَّارَ
۔ سیدنا خبیب بن یساف رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں اور میری قوم کا ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک غزوے کے لیے جانا چاہ رہے تھے، ابھی تک ہم مسلمان نہیں ہوئے تھے، پس ہم نے کہا: بیشک ہم اس چیز سے شرم محسوس کرتے ہیں کہ ہماری قوم ایک لڑائی میں شریک ہو اور ہم ان کے ساتھ شامل نہ ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم مسلمان ہو گئے ہو؟ انھوں نے کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک ہم مشرکوں کی مخالفت میں مشرکوں سے مدد طلب نہیں کرتے۔ یہ ارشاد سن کر ہم مسلمان ہو گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ اس غزوے میں حاضر ہوئے، میں نے ایک آدمی کو قتل کیا اور اس نے بھی مجھے ایک ضرب لگائی تھی، پھر میں نے اس کی بیٹی سے شادی کر لی تھی، وہ کہا کرتی تھی: تو اس آدمی کو گم نہ پائے، جس نے تجھے کندھے اور پہلو کے درمیان ضرب لگائی تھی، اور میں اس کو کہتا تھا: تو اس آدمی کو گم نہ پائے، جس نے تیری باپ کو جلدی جلدی آگ میں بھیج دیا۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 4921]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف دون قوله: فلا نستعين بالمشركين علي المشركين۔ فھو صحيح لغيره، عبد الرحمن بن خبيب في عداد المجھولين، أخرجه ابن ابي شيبة: 12/ 394، والطبراني في الكبير: 4196، والحاكم: 2/ 121، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15763 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15855»
وضاحت: فوائد: … یہ غزوۂ بدر کا واقعہ تھا، سیدنا خبیب اور ان کا ساتھی اوس قبیلے سے تھے، جبکہ اوس قبیلہ کی پوری جماعت مسلمان ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ شریک ِ جہاد تھی، اس لیے انھوں نے اپنی قوم کے ساتھ مل کر لڑنا چاہا، جبکہ یہ ابھی تک کافر تھے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو اسلام کے بغیر قبول نہ کیا، پس وہ مسلمان ہو گئے۔ بعض مؤرخین کہتے ہیں کہ سیدنا خبیب رضی اللہ عنہ نے جس کافر کو مارا تھا، وہ امیہ بن خلف تھا۔

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف دون قوله: فلا نستعين بالمشركين علي المشركين۔ فھو صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں