الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
16. مَنْ أَرَادَ الْجِهَادَ وَلَهُ أَبْوَان
اس آدمی کا بیان جو جہاد کا ارادہ کرے اور اس کے والدین زندہ ہوں
حدیث نمبر: 4922
عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ إِلَى بَدْرٍ فَتَبِعَهُ رَجُلٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ فَلَحِقَهُ عِنْدَ الْجَمْرَةِ فَقَالَ إِنِّي أَرَدْتُ أَنْ أَتْبَعَكَ وَأُصِيبَ مَعَكَ قَالَ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُولِهِ قَالَ لَا قَالَ ارْجِعْ فَلَنْ نَسْتَعِينَ بِمُشْرِكٍ قَالَ ثُمَّ لَحِقَهُ عِنْدَ الشَّجَرَةِ فَفَرِحَ بِذَاكَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ لَهُ قُوَّةٌ وَجَلَدٌ فَقَالَ جِئْتُ لِأَتْبَعَكَ وَأُصِيبَ مَعَكَ قَالَ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ قَالَ لَا قَالَ ارْجِعْ فَلَنْ أَسْتَعِينَ بِمُشْرِكٍ قَالَ ثُمَّ لَحِقَهُ حِينَ ظَهَرَ عَلَى الْبَيْدَاءِ فَقَالَ لَهُ مِثْلَ ذَلِكَ قَالَ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ قَالَ نَعَمْ قَالَ فَخَرَجَ بِهِ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بدر کی طرف نکلے، ایک مشرک آدمی بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے چلا اور جمرہ کے پاس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پا لیا اور اس نے کہا: میں بھی چاہتا ہوں کہ آپ کے ساتھ مل کر لڑوں اور مالِ غنیمت حاصل کروں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے پوچھا: کیا تو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتا ہے؟ اس نے کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر تو لوٹ جا، پس بیشک ہم کسی مشرک سے مدد طلب نہیں کرتے۔ لیکن پھر وہ درخت کے پاس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جا ملا، صحابۂ کرام کو اس سے بڑی خوشی ہوئی، کیونکہ یہ بڑا مضبوط اور سخت آدمی تھا، اس نے کہا: میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ مل کر لڑنے اور مالِ غنیمت حاصل کرنے کے لیے آیا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتا ہے؟ اس نے کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر لوٹ جا، پس بیشک میں ہرگز مشرک سے مدد طلب نہیں کرتا۔ پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیداء مقام پر چڑھے تو وہی آدمی پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو آ ملا اور وہی بات کہی، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتا ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں، پس اس بار آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کو لے کر آگے بڑھے۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 4922]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1817، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25158 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25673»
وضاحت: فوائد: … ان احادیث سے معلوم ہو اکہ مسلمانوں کو جہاد میں مشرکوں سے مدد حاصل نہیں کرنی چاہیے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 1817
حدیث نمبر: 4923
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَسْتَضِيئُوا بِنَارِ الْمُشْرِكِينَ وَلَا تَنْقُشُوا خَوَاتِيمَكُمْ عَرَبِيًّا
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مشرکوں کی آگ سے روشنی حاصل نہ کرو اور اپنی انگوٹھیوں پر عربی نقش نہ بنواؤ۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 4923]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة الازھر بن راشد البصري، أخرجه النسائي: 8/ 176، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11954 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11976»
وضاحت: فوائد: … مشرکوں کی آگ سے روشنی حاصل نہ کرنی چاہیے تاکہ مسلمانوں پر ان کا کوئی احسان نہ ہو سکے، جبکہ مسلمان شرف و عزت والے ہیں۔
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لجھالة الازھر بن راشد البصري
حدیث نمبر: 4924
عَنْ ذِي مِخْمَرٍ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ سَيُصَالِحُكُمُ الرُّومُ صُلْحًا آمِنًا ثُمَّ تَغْزُونَ وَهُمْ عَدُوٌّ فَتُنْصَرُونَ وَتَسْلَمُونَ وَتَغْنَمُونَ الحديث
۔ صحابی ٔ رسول سیدنا ذی مخمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم عنقریب رومیوں سے امن والی صلح کرو گے، پھر تم اور وہ مل کر ایک دشمن سے لڑو گے، اور تمہاری مدد کی جائے گی اور تم سالم رہو گے اور مالِ غنیمت بھی حاصل کرو گے۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 4924]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه أبوداود: 2767، 4292، وابن ماجه: 4089، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16825 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16950»
وضاحت: فوائد: … یہ روایت مختصر ہے،مکمل حدیث یوں ہیں:
الحكم على الحديث:
حديث صحيح
17. باب مَا جَاءَ فِي مُشَاوَرَةِ الْإِمَامِ رَبُّسَاءَ الْجَيْشِ وَنُصْحِهِ لَهُمْ وَرِفْقِهِ بِهِمْ وَأَخْذِهِمْ بِمَا عَلَيْهِمْ
اس چیز کا بیان کہ امام لشکر کے سپہ سالاروں سے مشورہ کرے، ان کی خیرخواہی کرے، ان کے ساتھ نرمی برتے اور ان سے ان کی ذمہ داریاں نبھانے کا عہد لے
حدیث نمبر: 4925
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَمَّا سَارَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى بَدْرٍ خَرَجَ فَاسْتَشَارَ النَّاسَ فَأَشَارَ عَلَيْهِ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ثُمَّ اسْتَشَارَهُمْ فَأَشَارَ عَلَيْهِ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَسَكَتَ فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ إِنَّمَا يُرِيدُكُمْ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَاللَّهِ لَا نَكُونُ كَمَا قَالَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ لِمُوسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ {اذْهَبْ أَنْتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلَا إِنَّا هَاهُنَا قَاعِدُونَ} وَلَكِنْ وَاللَّهِ لَوْ ضَرَبْتَ أَكْبَادَ الْإِبِلِ حَتَّى تَبْلُغَ بَرْكَ الْغِمَادِ لَكُنَّا مَعَكَ
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب بدر کی طرف جانے لگے تو باہر تشریف لائے اور لوگوں سے مشورہ کیا، پہلے سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے مشورہ دیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر مشورہ کیا، اس بار سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے مشورہ دیا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خاموش رہے، پھر ایک انصاری آدمی بولا اور اس نے کہا: انصاریو! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تم سے جواب چاہتے ہیں، پس انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اللہ کی قسم ہے! ہم آپ کو وہ بات نہیں کہیں گے، جو بنو اسرائیل نے موسیٰ علیہ السلام سے کہی تھی کہ تو جا اور تیرا ربّ جائے اور تم دونوں جا کرلڑو، بیشک ہم تو یہیں بیٹھنے والے ہیں۔ اور لیکن ہم، اللہ کی قسم! اگر آپ اونٹوں کی سواری کرتے کرتے برک الغماد تک پہنچ جائیں تو ہم آپ کے ساتھ ہی رہیں گے۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 4925]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1779، 2874، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12022 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12045»
وضاحت: فوائد: … برک الغماد ایک مقام کانام ہے، ایک قول کے مطابق یہ مکہ مکرمہ سے آگے پانچ دنوں کی مسافت پر ہے، اس کا مطلب یہ ہوا کہ یہ مقام مدینہ منورہ سے تقریباً پندرہ دنوں کی مسافت پر پڑتا ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ ہجر کے آخری دور علاقے یا حبشہ میں ایک شہر کا نام ہے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 1779
حدیث نمبر: 4926
عَنِ الْحَسَنِ قَالَ مَرِضَ مَعْقِلُ بْنُ يَسَارٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مَرَضًا ثَقُلَ فِيهِ فَأَتَاهُ ابْنُ زِيَادٍ يَعُودُهُ فَقَالَ إِنِّي مُحَدِّثُكَ حَدِيثًا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنِ اسْتُرْعِيَ رَعِيَّةً فَلَمْ يُحِطْهُمْ بِنَصِيحَةٍ لَمْ يَجِدْ رِيحَ الْجَنَّةِ وَرِيحُهَا يُوجَدُ مِنْ مَسِيرَةِ مِائَةِ عَامٍ قَالَ ابْنُ زِيَادٍ أَلَا كُنْتَ حَدَّثْتَنِي بِهَذَا قَبْلَ الْآنَ قَالَ وَالْآنَ لَوْلَا الَّذِي أَنْتَ عَلَيْهِ لَمْ أُحَدِّثْكَ بِهِ وَفِي لَفْظٍ لَا يَسْتَرْعِي اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى عَبْدًا رَعِيَّةً فَيَمُوتُ يَوْمَ يَمُوتُ وَهُوَ لَهَا غَاشٌّ إِلَّا حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ وَفِي لَفْظٍ مِنْ رِوَايَةِ أَبِي الْأَسْوَدِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَيُّمَا رَاعٍ اسْتُرْعِيَ رَعِيَّةً فَغَشَّهَا فَهُوَ فِي النَّارِ وَفِي لَفْظٍ عَنْ ابْنَةِ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِيهَا مَعْقِلٍ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَيْسَ مِنْ وَالِي أُمَّةٍ قَلَّتْ أَوْ كَثُرَتْ لَا يَعْدِلُ فِيهَا إِلَّا كَبَّهُ عَلَى وَجْهِهِ فِي النَّارِ
۔ امام حسن بصری کہتے ہیں: سیدنا معقل بن یسار رضی اللہ عنہ بیمار پڑ گئے اور وہ بیماری ان پر کافی گراں گزری، ان کی عیادت کرنے کے لیے ابن زیاد ان کے پاس آیا، انھوں نے کہا: میں تجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی ہوئی ایک حدیث بیان کرتا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس کو عوام الناس کی دیکھ بھال کا ذمہ دار بنایا گیا، لیکن اس نے ان کی خیرخواہی نہ کی تو وہ جنت کی خوشبو بھی نہ پا سکے گا، جبکہ جنت کی خوشبو سو سال کی مسافت پر پائی جاتی ہے۔ ابن زیاد نے کہا: تم نے یہ حدیث مجھے اس وقت سے پہلے بیان کیوں نہیں کی تھی؟ انھوں نے کہا: اور ابھی بھی اگر وہ کچھ نہ ہوتا، جس پر تو اترا ہوا ہے تو میں تجھے بیان نہ کرتا۔ ایک روایت میں ہے: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ جس کو عوام الناس کی دیکھ بھال کا ذمہ دار بناتا ے، لیکن وہ اپنی موت والے دن اس حال میں مرتا ہے کہ وہ ان سے دھوکہ کرنے والا ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ ایسے شخص پر جنت کو حرام کر دیتا ہے۔ ایک روایت میں ہے: سیدنا معقل بن یسار رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: رعایا کی دیکھ بھال جس نگہبان کے سپرد کی گئی، لیکن اس نے ان سے دھوکہ کیا تو وہ آگ میں ہو گا۔ ایک روایت میں ہے: سیدنا معقل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: امت تھوڑی ہو یا زیادہ، جو اس کا والی بنے گا اور پھر اس میں انصاف نہیں کرے گا تو اللہ تعالیٰ اس کو چہرے کے بل جہنم میں گرائے گا۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 4926]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 7150، 7151، ومسلم: 142، 227، 229، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20314 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20555، 20556، 20581»
وضاحت: فوائد: … اور ابھی بھی اگر وہ کچھ نہ ہوتا، جس پر تو اترا ہوا ہے سے مراد ابن زیاد کا لوگوں پر ظلم کرنا، ناحق قتل کرنا اور سیدنا معقل رضی اللہ عنہ کو وفات کا قریب ہونا ہے۔دھوکے سے مراد یہ ہے کہ رعایا کی خیرخواہی نہ کی جائے اور ان کو ان امور کی طرف متوجہ نہ کیا جائے، جن میں ان کی دنیوی اور اخروی خیر و بھلائی ہو۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 7150
حدیث نمبر: 4927
عَنْ سَهْلِ بْنِ مُعَاذٍ الْجُهَنِيِّ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ نَزَلْنَا عَلَى حِصْنِ سِنَانٍ بِأَرْضِ الرُّومِ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ فَضَيَّقَ النَّاسُ الْمَنَازِلَ وَقَطَعُوا الطَّرِيقَ فَقَالَ مُعَاذٌ أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ غَزْوَةَ كَذَا وَكَذَا فَضَيَّقَ النَّاسُ الطَّرِيقَ فَبَعَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مُنَادِيًا فَنَادَى مَنْ ضَيَّقَ مَنْزِلًا أَوْ قَطَعَ طَرِيقًا فَلَا جِهَادَ لَهُ
۔ سیدنا معاذ جہنی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم عبد اللہ بن عبد الملک کے ساتھ روم کی سرزمین میں سِنان کے قلعہ کے پاس اترے، لوگوں نے پڑاؤ کے مقامات کو تنگ کردیا اور راستہ منقطع ہو گیا، سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے کہا: لوگو! ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ فلاں فلاں غزوہ کیا، ایک دفعہ لوگوں نے راستے کو تنگ کر دیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی طرف مُنادِی بھیجا، اس نے یہ اعلان کیا کہ جس آدمی نے منزل کو تنگ کیا یا راستے کو منقطع کیا، اس کا کوئی جہاد نہیں ہو گا۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 4927]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه أبوداود: 2629، 2630، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15648 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15733»
وضاحت: فوائد: … مسلمانوں کے لشکر کا چلنا اورکسی مقام پر پڑاؤ ڈالنا مرتّب نظام کے تحت ہونا چاہیے۔
الحكم على الحديث:
اسناده حسن
18. بَابُ لُزُوْمِ طَاعَةِ الْجَيْشِ لَا مِيْرِهِمْ مَا لَمْ يَأْمُرُهُمْ بِمَعْصِيَةٍ وَكَرَاهَةِ تَفَرُّقِهِمْ عِنْدَ النُّزُولِ
اس امر کا بیان کہ لشکر والوں پر ان کے امیر کی اطاعت فرض ہے، جب تک وہ ان کو نافرمانی کا حکم نہ دے اور پڑاؤ ڈالتے وقت بکھر جانے کی کراہت کا بیان
حدیث نمبر: 4928
عَنْ عُتْبَةَ بْنِ عَبْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِالْقِتَالِ فَرُمِيَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِهِ بِسَهْمٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَوْجَبَ هَذَا وَقَالُوا حِينَ أَمَرَهُمْ بِالْقِتَالِ إِذَنْ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَا نَقُولُ كَمَا قَالَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ {اذْهَبْ أَنْتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلَا إِنَّا هَاهُنَا قَاعِدُونَ} وَلَكِنْ اذْهَبْ أَنْتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلَا إِنَّا مَعَكُمَا مِنَ الْمُقَاتِلِينَ
۔ سیدنا عتبہ بن عبد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قتال کا حکم دیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ایک صحابی کو تیر لگا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے بارے میں فرمایا: اس نے جنت کو واجب کر لیا ہے۔ پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو قتال کا حکم دیا تو انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! پھر تو ہم وہ بات نہیں کریں گے، جو بنو اسرائیل نے کی تھی، انھوں نے کہا تھا: اے موسی! تو جا اور تیرا ربّ جائے، تم دونوں جا کر لڑو، بیشک ہم تو یہیں بیٹھنے والے ہیں۔ اے اللہ کے رسول! آپ اور آپ کا ربّ چلے، بیشک ہم وہ جنگجو ہیں، جو آپ کے ساتھ چلیں گے۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 4928]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه الطبراني في الكبير: 17/ 306، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17641 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17791»
الحكم على الحديث:
اسناده حسن
حدیث نمبر: 4929
عَنْ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي مَسِيرٍ لَهُ إِنَّا مُدْلِجُونَ فَلَا يُدْلِجَنَّ مُصْعِبٌ وَلَا مُضْعِفٌ فَأَدْلَجَ رَجُلٌ عَلَى نَاقَةٍ لَهُ صَعْبَةٍ فَسَقَطَ فَانْدَقَّتْ فَخِذُهُ فَمَاتَ فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِالصَّلَاةِ عَلَيْهِ ثُمَّ أَمَرَ مُنَادِيًا يُنَادِي فِي النَّاسِ إِنَّ الْجَنَّةَ لَا تَحِلُّ لِعَاصٍ إِنَّ الْجَنَّةَ لَا تَحِلُّ لِعَاصٍ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ
۔ مولائے رسول سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ایک سفر کے دوران فرمایا: بیشک آج ہم ساری رات سفر کرنے والے ہیں، لہذا کوئی سرکش اور کمزور اونٹ والا آدمی رات کا یہ سفر نہ چلے۔ لیکن ایک آدمی اپنے سرکش اونٹ پر اس سفر میں چل دیا، لیکن وہ گر پڑا اور اس کی ران ٹوٹ گئی اور وہ فوت ہو گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پہلے تو اس کی نماز جنازہ ادا کرنے کا حکم دیا، لیکن پھر ایک مُنادِی کو حکم دیا کہ وہ لوگوں میں یہ اعلان کرے: بیشک جنت نافرمان کے لیے حلال نہیں ہے، بیشک جنت نافرمان کے لیے حلال نہیں ہے۔ یہ بات تین بار ارشاد فرمائی۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 4929]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، ومتنه منكر، راشد بن داود، قال البخاري: فيه نظر، وقال الدارقطني: ضعيف لايعتبر به، أخرجه الطبراني في الكبير: 1436، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22364 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22722»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
حدیث نمبر: 4930
عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ النَّاسُ إِذَا نَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْزِلًا فَعَسْكَرَ تَفَرَّقُوا عَنْهُ فِي الشِّعَابِ وَالْأَوْدِيَةِ فَقَامَ فِيهِمْ فَقَالَ إِنَّ تَفَرُّقَكُمْ فِي الشِّعَابِ إِنَّمَا ذَلِكُمْ مِنَ الشَّيْطَانِ قَالَ فَكَانُوا بَعْدَ ذَلِكَ إِذَا نَزَلُوا انْضَمَّ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ حَتَّى إِنَّكَ لَتَقُولُ لَوْ بَسَطْتُ عَلَيْهِمْ كِسَاءً لَعَمَّهُمْ أَوْ نَحْوَ ذَلِكَ
۔ سیدنا ابو ثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کسی مقام پر پڑاؤ ڈالتے اور رات انتہائی تاریک ہو جاتی تو صحابۂ کرام گھاٹیوں اور وادیوں میں بکھر جاتے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اُن میں کھڑے ہوئے اور فرمایا: ان گھاٹیوں میں تم لوگوں کا اس طرح بکھر جانا شیطان کی طرف سے ہے۔ اس فرمان کے بعد جب صحابہ کسی مقام پر اترتے تو وہ ایک دوسرے کے ساتھ یوں مل جاتے کہ تو کہہ سکتا ہے کہ اگر میں ان پر ایک چادر ڈالوں، تووہ ان کو سما لے گی۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 4930]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه أبوداود: 2628، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17736 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17888»
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح
حدیث نمبر: 4931
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سَرِيَّةً وَاسْتَعْمَلَ عَلَيْهِمْ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ قَالَ فَلَمَّا خَرَجُوا قَالَ وَجَدَ عَلَيْهِمْ فِي شَيْءٍ فَقَالَ قَالَ لَهُمْ أَلَيْسَ قَدْ أَمَرَكُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُطِيعُونِي قَالَ قَالُوا بَلَى قَالَ فَقَالَ اجْمَعُوا حَطَبًا ثُمَّ دَعَا بِنَارٍ فَأَضْرَمَهَا فِيهِ ثُمَّ قَالَ عَزَمْتُ عَلَيْكُمْ لَتَدْخُلُنَّهَا قَالَ فَهَمَّ الْقَوْمُ أَنْ يَدْخُلُوهَا قَالَ فَقَالَ لَهُمْ شَابٌّ مِنْهُمْ إِنَّمَا فَرَرْتُمْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنَ النَّارِ فَلَا تَعْجَلُوا حَتَّى تَلْقَوُا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَإِنْ أَمَرَكُمْ أَنْ تَدْخُلُوهَا فَادْخُلُوا قَالَ فَرَجَعُوا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرُوهُ فَقَالَ لَهُمْ لَوْ دَخَلْتُمُوهَا مَا خَرَجْتُمْ مِنْهَا أَبَدًا إِنَّمَا الطَّاعَةُ فِي الْمَعْرُوفِ وَفِي لَفْظٍ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِلَّذِينَ أَرَادُوا أَنْ يَدْخُلُوهَا لَوْ دَخَلْتُمُوهَا لَمْ تَزَالُوا فِيهَا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَقَالَ لِلْآخَرِينَ قَوْلًا حَسَنًا وَقَالَ لَا طَاعَةَ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ إِنَّمَا الطَّاعَةُ فِي الْمَعْرُوفِ وَفِي لَفْظٍ لَا طَاعَةَ لِبَشَرٍ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ
۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک لشکر روانہ کیا اور ایک انصاری آدمی کو ان کا امیر بنایا، جب وہ لشکر روانہ ہو گیا تو کسی وجہ سے ان کا امیر ان سے ناراض ہو گیا، پس اس نے ان سے کہا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تم کو یہ حکم دیا تھا کہ تم نے میری اطاعت کرنی ہے؟ انھوں نے کہا: جی بالکل، اس نے کہا: تو پھر لکڑیاں جمع کرو، پھر اس نے آگ منگوا کر ان کو جلایا اور ان سے کہا: میں تم سے پر زور کہتا ہوں کہ تم ضرور ضرور اس آگ میں داخل ہو جاؤ، لوگوں نے تو اس میں گھس جانے کا ارادہ کر لیا، لیکن ان میں سے ایک نوجوان نے کہا: (ذرا ہوش تو کرو) تم لوگ آگ سے بچنے کے لیے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گئے، پس اس معاملے میں جلدی نہ کرو، یہاں تک کہ تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مل لو (اور اس بارے میں پوچھ لو)، اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تم کو اس آگ میں داخل ہونے کا حکم دیا تو داخل ہو جانا، پس جب وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف لوٹے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو واقعہ کی خبر دی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تم لوگ اس میں داخل ہو جاتے تو پھر کبھی بھی اس سے نہ نکل سکتے، صرف اور صرف امیر کی اطاعت تو نیکی والے امور میں ہے۔ ایک روایت میں ہے: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس آگ میں گھس جانے کا ارادہ کرنے والوں سے فرمایا: اگر تم اس میں داخل ہو جاتے تو پھر روزِ قیامت تک اسی میں رہتے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دوسرے لوگوں کے حق میں اچھی بات کی اور فرمایا: اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں کوئی اطاعت نہیں ہے، اطاعت تو صرف نیک امور میں ہے۔ ایک روایت میں ہے: اللہ تعالیٰ کی معصیت میں کسی بشر کی کوئی اطاعت نہیں ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 4931]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 4340، 7145، ومسلم: 1840، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 622 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 622»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 4340