الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
18. بَابُ لُزُوْمِ طَاعَةِ الْجَيْشِ لَا مِيْرِهِمْ مَا لَمْ يَأْمُرُهُمْ بِمَعْصِيَةٍ وَكَرَاهَةِ تَفَرُّقِهِمْ عِنْدَ النُّزُولِ
اس امر کا بیان کہ لشکر والوں پر ان کے امیر کی اطاعت فرض ہے، جب تک وہ ان کو نافرمانی کا حکم نہ دے اور پڑاؤ ڈالتے وقت بکھر جانے کی کراہت کا بیان
حدیث نمبر: 4932
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلْقَمَةَ بْنَ مُجَزِّزٍ عَلَى بَعْثٍ أَنَا فِيهِمْ حَتَّى انْتَهَيْنَا إِلَى رَأْسِ غَزَاتِنَا أَوْ كُنَّا بِبَعْضِ الطَّرِيقِ أَذِنَ لِطَائِفَةٍ مِنَ الْجَيْشِ وَأَمَّرَ عَلَيْهِمْ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ حُذَافَةَ بْنِ قَيْسٍ السَّهْمِيَّ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ بَدْرٍ وَكَانَتْ فِيهِ دُعَابَةٌ يَعْنِي مِزَاحًا وَكُنْتُ مِمَّنْ رَجَعَ مَعَهُ فَنَزَلْنَا بِبَعْضِ الطَّرِيقِ قَالَ وَأَوْقَدَ الْقَوْمُ نَارًا لِيَصْنَعُوا عَلَيْهَا صَنِيعًا لَهُمْ أَوْ يَصْطَلُونَ قَالَ فَقَالَ لَهُمْ أَلَيْسَ لِي عَلَيْكُمُ السَّمْعُ وَالطَّاعَةُ قَالُوا بَلَى قَالَ فَمَا أَنَا بِآمِرِكُمْ بِشَيْءٍ إِنْ صَنَعْتُمُوهُ قَالُوا بَلَى قَالَ أَعْزِمُ عَلَيْكُمْ بِحَقِّي وَطَاعَتِي لَمَا تَوَاثَبْتُمْ فِي هَذِهِ النَّارِ فَقَامَ نَاسٌ فَتَحَجَّزُوا حَتَّى إِذَا ظَنَّ أَنَّهُمْ وَاثِبُونَ قَالَ احْبِسُوا أَنْفُسَكُمْ فَإِنَّمَا كُنْتُ أَضْحَكُ مَعَكُمْ فَذَكَرُوا ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ أَنْ قَدِمُوا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَمَرَكُمْ مِنْهُمْ بِمَعْصِيَةٍ فَلَا تُطِيعُوهُ
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا علقمہ بن مجزز رضی اللہ عنہ کو ایک جہادی لشکر کا امیر بنا کر روانہ کیا، میں بھی اس لشکر میں تھا، جب ہم اپنے غزوے کے مقام تک پہنچ گئے، یا راستے میں تھے، اس امیر نے ایک گروہ کو علیحدہ کیا اور سیدنا عبد اللہ بن حذافہ سہمی رضی اللہ عنہ کو ان کا امیر بنایا، یہ بدری صحابی تھے اور ان کے مزاج میں مذاق کا عنصر پایا جاتا تھا، جو لوگ ان کے ساتھ لوٹے تھے، میں بھی ان میں تھا، جب ہم نے راستے میں پڑاؤ ڈالا اور لوگوں نے کھانا بنانے کے لیے یا آگ سے حرارت حاصل کرنے کے لیے آگ جلائی تو سیدنا عبد اللہ بن حذافہ رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا تم لوگوں پر فرض نہیں ہے کہ تم میری بات سنو اور اطاعت کرو؟ انھوں نے کہا: جی بالکل، اس نے کہا: تو پھر میں تم کو اپنے اور اپنی اطاعت کے حق کا واسطہ دے کر کہتا ہوں کہ تم اس آگ میں کود پڑو، لوگ کھڑے ہو گئے اور انھوں نے اپنی کمر پر کپڑا باندھا، جب اس امیر نے دیکھا کہ یہ تو واقعی آگ میں کودنے لگے ہیں تو اس نے کہا: رک جاؤ، میں تمہارے ساتھ مذاق کر رہا تھا، جب ان لوگوں نے واپس آ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ ماجرا سنایا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان امراء میں سے جو آدمی تم کو نافرمانی کا حکم دے، تو اس کی اطاعت نہ کیا کرو۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 4932]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه ابن ماجه: 2863، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11639 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11662»
الحكم على الحديث:
اسناده حسن
حدیث نمبر: 4933
عَنْ عُقْبَةَ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَكَانَ مِنْ رَهْطِهِ قَالَ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سَرِيَّةً فَسَلَّحْتُ رَجُلًا سَيْفًا قَالَ فَلَمَّا رَجَعَ قَالَ مَا رَأَيْتُ مِثْلَ مَا لَامَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَعَجَزْتُمْ إِذْ بَعَثْتُ رَجُلًا فَلَمْ يَمْضِ لِأَمْرِي أَنْ تَجْعَلُوا مَكَانَهُ مَنْ يَمْضِي لِأَمْرِي
۔ بشر بن عاصم لیثی کہتے ہیں: سیدنا عقبہ بن مالک رضی اللہ عنہ، جو کہ میں بشر کی قوم میں سے تھے، سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک لشکر روانہ کیا، میں نے ایک آدمی کو تلوار دی، جب وہ لوٹا تو اس نے کہا: اس بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جو ملامت کی ہے، میں نے پہلے اس کی مثال نہیں دیکھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر میں ایک آدمی کو بھیجتا ہوں اور وہ میرے حکم کو نافذ نہیں کرتا تو کیا تم اس چیز سے عاجز آ گئے کہ اس کی جگہ ایسے آدمی کا تقرر کر دو، جو میرا حکم نافذ کرے۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 4933]
تخریج الحدیث: «حسن، قاله الالباني، أخرجه أبوداود: 2627، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17007 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17132»
وضاحت: فوائد: … اس باب سے متعلقہ آیات و احادیث کا خلاصہ یہ ہے کہ جب تک شریعت کی نافرمانی نہ ہوتی ہو، اس وقت تک امیر کی اطاعت کرنا فرض ہے، اسلامی تعلیمات کی رو سے عام مسلمان کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ خلیفہ پر اس کی غلطی کو واضح کرے، خلفائے راشدین کے سنہری دور کی مثالیں موجود ہیں، ہاں اگر حکمران ظالم ہو اور غلطی کی نشاندہی پر بڑی سزا دے سکتا ہو تو مصلحت سے کام لینا چاہیے۔
الحكم على الحديث:
حسن
19. بَابُ الدَّعْوَةِ لِلإِسْلَامِ قَبْلَ الْقِتَالِ وَوَصِيَّةِ الْإِمَامِ لَا مِيْرِ الْجَيْشِ
قتال سے پہلے اسلام کی دعوت دینے اور امام کا لشکر کے امیر کو وصیت کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 4934
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ مَا قَاتَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَوْمًا حَتَّى يَدْعُوهُمْ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب کسی قوم سے لڑائی کی، پہلے ان کو اسلام کی دعوت دی۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 4934]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه الطبراني: 11271، وابن ابي شيبة: 12/ 365، وابويعلي: 2494، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2053 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2053»
الحكم على الحديث:
حديث صحيح
حدیث نمبر: 4935
عَنْ أَبِي حَازِمٍ أَخْبَرَنِي سَهْلُ بْنُ سَعْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَوْمَ خَيْبَرَ لَأُعْطِيَنَّ هَذِهِ الرَّايَةَ غَدًا رَجُلًا يَفْتَحُ اللَّهُ عَلَى يَدَيْهِ يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَيُحِبُّهُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ قَالَ فَبَاتَ النَّاسُ يَدُوكُونَ لَيْلَتَهُمْ أَيُّهُمْ يُعْطَاهَا فَلَمَّا أَصْبَحَ النَّاسُ غَدَوْا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كُلُّهُمْ يَرْجُو أَنْ يُعْطَاهَا فَقَالَ أَيْنَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ فَقَالَ هُوَ يَا رَسُولَ اللَّهِ يَشْتَكِي عَيْنَيْهِ قَالَ فَأَرْسِلُوا إِلَيْهِ فَأُتِيَ بِهِ فَبَصَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي عَيْنَيْهِ وَدَعَا لَهُ فَبَرَأَ حَتَّى كَأَنْ لَمْ يَكُنْ بِهِ وَجَعٌ فَأَعْطَاهُ الرَّايَةَ فَقَالَ عَلِيٌّ يَا رَسُولَ اللَّهِ أُقَاتِلُهُمْ حَتَّى يَكُونُوا مِثْلَنَا فَقَالَ انْفُذْ عَلَى رِسْلِكَ حَتَّى تَنْزِلَ بِسَاحَتِهِمْ ثُمَّ ادْعُهُمْ إِلَى الْإِسْلَامِ وَأَخْبِرْهُمْ بِمَا يَجِبُ عَلَيْهِمْ مِنْ حَقِّ اللَّهِ فِيهِ فَوَاللَّهِ لَأَنْ يَهْدِيَ اللَّهُ بِكَ رَجُلًا وَاحِدًا خَيْرٌ لَكَ مِنْ أَنْ يَكُونَ لَكَ حُمْرُ النَّعَمِ
۔ سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خیبر والے دن فرمایا: کل میں ایسے شخص کو جھنڈا دوں گا کہ اللہ تعالیٰ اس کے ہاتھوں پر فتح عطا فرمائے گا، وہ شخص اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے اور اللہ اور اس کا رسول اس سے محبت کرتے ہیں۔ لوگوں نے وہ رات اس حال میں گزاری کہ وہ غور و فکر کرتے رہے کہ کس شخص کو یہ جھنڈا دیا جائے گا، جب صبح ہوئی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے تو ہر ایک کو جھنڈا ملنے کی امید تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: علی بن ابی طالب کہاں ہے؟ کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! ان کی آنکھ خراب ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان کی طرف پیغام بھیج کر ان کا بلاؤ۔ پس ان کو لایا گیا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی آنکھوں میں تھوکا اور ان کے لیے دعا کی، وہ یوں شفایاب ہوئے کہ گویا ان کو کوئی تکلیف ہی نہ تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو جھنڈا عطا کر دیا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں ان سے قتال کرتا رہوں گا، یہاں تک کہ وہ ہماری طرح ہو جائیں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سلامتی کے ساتھ چل، یہاں تک کہ ان کے صحن میں جا اتر اور ان کو اسلام کی دعوت دے اور ان کو بتلا کہ اللہ تعالیٰ کا کون سا حق ان پر واجب ہے، اللہ کی قسم ہے! اگر اللہ تعالیٰ نے تیری وجہ سے کسی ایک بندے کو بھی ہدایت دے دی تو وہ تیرے لیے سرخ اونٹوں سے بھی بہتر ہو گا۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 4935]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3009، 4210، ومسلم: 2406، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22821 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23209»
وضاحت: فوائد: … اس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے معجزہ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی منقبت کا بیان ہے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 3009
حدیث نمبر: 4936
عَنْ بُرَيْدَةَ الْأَسْلَمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا بَعَثَ أَمِيرًا عَلَى سَرِيَّةٍ أَوْ جَيْشٍ أَوْصَاهُ فِي خَاصَّةِ نَفْسِهِ بِتَقْوَى اللَّهِ وَمَنْ مَعَهُ مِنَ الْمُسْلِمِينَ خَيْرًا وَقَالَ اغْزُوا بِاسْمِ اللَّهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ قَاتِلُوا مَنْ كَفَرَ بِاللَّهِ فَإِذَا لَقِيتَ عَدُوَّكَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ فَادْعُهُمْ إِلَى إِحْدَى ثَلَاثِ خِصَالٍ أَوْ خِلَالٍ فَأَيَّتُهُنَّ مَا أَجَابُوكَ إِلَيْهَا فَاقْبَلْ مِنْهُمْ وَكُفَّ عَنْهُمْ ادْعُهُمْ إِلَى الْإِسْلَامِ فَإِنْ أَجَابُوكَ فَاقْبَلْ مِنْهُمْ ثُمَّ ادْعُهُمْ إِلَى التَّحَوُّلِ مِنْ دَارِهِمْ إِلَى دَارِ الْمُهَاجِرِينَ وَأَعْلِمْهُمْ إِنْ هُمْ فَعَلُوا ذَلِكَ أَنَّ لَهُمْ مَا لِلْمُهَاجِرِينَ وَأَنَّ عَلَيْهِمْ مَا عَلَى الْمُهَاجِرِينَ فَإِنْ أَبَوْا وَاخْتَارُوا دَارَهُمْ فَأَعْلِمْهُمْ أَنَّهُمْ يَكُونُونَ كَأَعْرَابِ الْمُسْلِمِينَ يَجْرِي عَلَيْهِمْ حُكْمُ اللَّهِ الَّذِي يَجْرِي عَلَى الْمُؤْمِنِينَ وَلَا يَكُونُ لَهُمْ فِي الْفَيْءِ وَالْغَنِيمَةِ نَصِيبٌ إِلَّا أَنْ يُجَاهِدُوا مَعَ الْمُسْلِمِينَ فَإِنْ هُمْ أَبَوْا فَادْعُهُمْ إِلَى إِعْطَاءِ الْجِزْيَةِ فَإِنْ أَجَابُوا فَاقْبَلْ مِنْهُمْ وَكُفَّ عَنْهُمْ فَإِنْ أَبَوْا فَاسْتَعِنِ اللَّهَ ثُمَّ قَاتِلْهُمْ وَعَنْهُ مِنْ طَرِيْقٍ ثَانٍ بِنَحْوِهِ وَإِذَا حَاصَرْتَ أَهْلَ حِصْنٍ فَأَرَادُوكَ أَنْ تَجْعَلَ لَهُمْ ذِمَّةَ اللَّهِ وَذِمَّةَ نَبِيِّكَ فَلَا تَجْعَلْ لَهُمْ ذِمَّةَ اللَّهِ وَلَا ذِمَّةَ نَبِيِّهِ وَلَكِنِ اجْعَلْ لَهُمْ ذِمَّتَكَ وَذِمَّةَ أَبِيكَ وَذِمَمَ أَصْحَابِكَ فَإِنَّكُمْ إِنْ تُخْفِرُوا ذِمَمَكُمْ وَذِمَمَ آبَائِكُمْ أَهْوَنُ مِنْ أَنْ تُخْفِرُوا ذِمَّةَ اللَّهِ وَذِمَّةَ رَسُولِهِ وَإِنْ حَاصَرْتَ أَهْلَ حِصْنٍ فَأَرَادُوكَ أَنْ تُنْزِلَهُمْ عَلَى حُكْمِ اللَّهِ فَلَا تُنْزِلْهُمْ عَلَى حُكْمِ اللَّهِ وَلَكِنْ أَنْزِلْهُمْ عَلَى حُكْمِكَ فَإِنَّكَ لَا تَدْرِي أَتُصِيبُ حُكْمَ اللَّهِ فِيهِمْ أَمْ لَا قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ هَذَا أَوْ نَحْوُهُ
۔ سیدنا بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب کسی شخص کو چھوٹے یا بڑے لشکر کا امیر بنا کر بھیجتے تو خاص طور پر اس کو اللہ سے ڈرتے اور اس کے ساتھ والے مسلمانوں کو خیر و بھلائی کی نصیحت کرتے اور فرماتے: اللہ تعالیٰ کے نام کے ساتھ اس کی راہ میں جہاد کر، اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کرنے والوں سے قتال کر، جب تو اپنے مشرک دشمنوں کے سامنے آئے تو ان کو تین خصلتوں میں سے ایک کی طرف دعوت دے، وہ ان میں سے جس چیز کا مثبت جواب دیں، تو ان سے وہ قبول کر لے اور ان پر حملہ کرنے سے رک جا، سب سے پہلے ان کو اسلام کی دعوت دے، اگر وہ قبول کر لیں تو تو ان سے اس چیز کو قبول کر لے، پھر ان کو دعوت دے کہ وہ اپنے گھروں سے مہاجروں کے گھروں کی طرف ہجرت کریں اور ان کو یہ بتلا کہ اگر وہ ایسا کریں گے تو ان کو وہ حقوق ملیں گے، جو مہاجرین کو ملے ہوئے ہیں اور ان پر وہ ذمہ داریاں عائد ہوں گی، جو مہاجرین پر ہیں، اگر وہ اس طرح ہجرت کرنے سے انکار کر دیں تو تو ان کو بتلا دے کہ ان کا حکم بدو مسلمانوں کا ہو گا، ان پر اللہ تعالیٰ کا وہی حکم چلے گا، جو اس قسم کے مسلمانوں پر چلتا ہے، ان کے لیے مالِ فے اور مالِ غنیمت میں سے کوئی حصہ نہیں ہو گا، الا یہ کہ وہ مسلمانوں کے ساتھ جہاد کریں، اگر وہ اسلام قبول کرنے سے انکار کر دیں تو ان کو جزیہ دینے کی دعوت دے، اگر وہ مان جائیں تو تو ان سے یہ جزیہ قبول کر لے اور ان سے رک جا اور اگر وہ جزیہ دینے سے بھی انکار کر دیں تو اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کر اور ان سے قتال شروع کر دے۔ دوسری سند: اسی قسم کا متن مروی ہے، البتہ اس میں ہے: اور جب تو اہل قلعہ کا محاصرہ کر لے اور وہ تجھ سے یہ چاہیں کہ تو ان کو اللہ کا ذمہ اور اپنے نبی کا ذمہ دے، تو تونے ایسے نہیں کرنا، ان کو اللہ اور اس کے نبی کا ذمہ نہیں دینا،ہاں ان کو اپنا، اپنے باپ کا اور اپنے ساتھیوں کا ذمہ دے سکتے ہو، اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر تم نے اپنے اور اپنے آباء کے ذموں کو توڑ دیا تو یہ فعل اس سے ہلکا ہو گا کہ تم اللہ اور اس کے رسول کا ذمہ توڑ دو، اسی طرح اگر تو اہل قلعہ کا محاصرہ کر لے اور وہ یہ ارادہ کریں کہ تو ان کو اللہ کے حکم پر اتارے تو تو نے ان کو اللہ کے حکم پر نہیں اتارنا، بلکہ اپنے حکم پر اتارنا ہے، کیونکہ تو نہیں جانتا کہ تو اللہ تعالیٰ کے حکم کو پا لے گا یا نہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 4936]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1731، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23030 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23418»
وضاحت: فوائد: … اللہ اور اس کے رسول کا ذمہ نہ دیا جائے،بلکہ امیر اپنا یا اپنے ساتھیوں کا ذمہ دے۔ ذمہ سے مراد مصالحت کا عقد ہے، یہ عقداللہ اور اس کے رسول کی طرف منسوب کیا جائے یا امیرِ لشکر کی طرف، ہر صورت میں اس کو توڑنا حرام ہے، لیکن اللہ اور اس کے رسول کا ذمہ توڑنا زیادہ سنگین جرم ہے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 1731
حدیث نمبر: 4937
عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ قَالَ حَاصَرَ سَلْمَانُ الْفَارِسِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَصْرًا مِنْ قُصُورِ فَارِسَ فَقَالَ لَهُ أَصْحَابُهُ يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ أَلَا تَنْهَدُ إِلَيْهِمْ قَالَ لَا حَتَّى أَدْعُوَهُمْ كَمَا كَانَ يَدْعُوهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَأَتَاهُمْ فَكَلَّمَهُمْ قَالَ أَنَا رَجُلٌ فَارِسِيٌّ وَأَنَا مِنْكُمْ وَالْعَرَبُ يُطِيعُونَنِي فَاخْتَارُوا إِحْدَى ثَلَاثٍ إِمَّا أَنْ تُسْلِمُوا وَإِمَّا أَنْ تُعْطُوا الْجِزْيَةَ عَنْ يَدٍ وَأَنْتُمْ صَاغِرُونَ غَيْرُ مَحْمُودِينَ وَإِمَّا أَنْ نُنَابِذَكُمْ فَنُقَاتِلَكُمْ قَالُوا لَا نُسْلِمُ وَلَا نُعْطِي الْجِزْيَةَ وَلَكِنَّا نُنَابِذُكُمْ فَرَجَعَ سَلْمَانُ إِلَى أَصْحَابِهِ قَالُوا أَلَا تَنْهَدُ إِلَيْهِمْ قَالَ لَا قَالَ فَدَعَاهُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ فَلَمْ يَقْبَلُوا فَقَاتَلَهُمْ فَفَتَحَهَا
۔ ابو بختری کہتے ہیں: سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے فارس کے محلات میں ایک محل کا محاصرہ کر لیا، ان کے ساتھیوں نے ان سے کہا: اے ابو عبد اللہ! کیا تو ان کی طرف کھڑا ہو کر (ان پر حملہ نہیں) کرتا؟ انھوں نے کہا: جی نہیں، یہاں تک کہ میں ان کو دعوت دے لوں، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دعوت دیتے تھے، پس وہ ان کے پاس آئے اور ان سے یوں بات کی: میں فارسی آدمی ہوں، میں تم میں سے ہی ہوں، یہ عرب میری اطاعت کرنے والے ہیں، تین امور میں سے ایک کو پسند کر لو، یا اسلام قبول کر لو، یا اپنے ہاتھ سے جزیہ دو، اس حال میں کہ تم ذلیل ہو گے اور تمہیں سراہا نہیں جائے گا، یا پھر ہم تم سے اعلانِ جنگ کر کے قتال شروع کر تے ہیں، انھو ں نے کہا: نہ ہم اسلام قبول کرتے ہیں اور نہ جزیہ دیتے ہیں، بلکہ ہم تم سے اعلانِ جنگ کرتے ہیں، سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ اپنے ساتھیوں کی طرف لوٹ آئے، انھوں نے کہا: کیا اب آپ ان کی طرف کھڑے نہیں ہوتے؟ انھوں نے کہا: جی نہیں، پس انھوں نے ان کو تین دن دعوت دی، لیکن انھوں نے قبول نہ کی، پھر انھوں نے ان سے لڑائی شروع کر دی اور اس محل کو فتح کر لیا۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 4937]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لانقطاعه بين ابي البختري وبين سلمان، وعطاء بن السائب كان قد اختلط, أخرجه الترمذي: 1548، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23739 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24140»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لانقطاعه بين ابي البختري وبين سلمان
حدیث نمبر: 4938
عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ أَنَّ سَلْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَاصَرَ قَصْرًا مِنْ قُصُورِ فَارِسَ فَقَالَ لِأَصْحَابِهِ دَعُونِي حَتَّى أَفْعَلَ مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ إِنِّي امْرُؤٌ مِنْكُمْ وَإِنَّ اللَّهَ رَزَقَنِي الْإِسْلَامَ وَقَدْ تَرَوْنَ طَاعَةَ الْعَرَبِ فَإِنْ أَنْتُمْ أَسْلَمْتُمْ وَهَاجَرْتُمْ إِلَيْنَا فَأَنْتُمْ بِمَنْزِلَتِنَا يَجْرِي عَلَيْكُمْ مَا يَجْرِي عَلَيْنَا وَإِنْ أَنْتُمْ أَسْلَمْتُمْ وَأَقَمْتُمْ فِي دِيَارِكُمْ فَأَنْتُمْ بِمَنْزِلَةِ الْأَعْرَابِ يَجْرِي لَكُمْ مَا يَجْرِي لَهُمْ وَيَجْرِي عَلَيْكُمْ مَا يَجْرِي عَلَيْهِمْ فَإِنْ أَبَيْتُمْ وَأَقْرَرْتُمْ بِالْجِزْيَةِ فَلَكُمْ مَا لِأَهْلِ الْجِزْيَةِ وَعَلَيْكُمْ مَا عَلَى أَهْلِ الْجِزْيَةِ عَرَضَ عَلَيْهِمْ ذَلِكَ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ ثُمَّ قَالَ لِأَصْحَابِهِ انْهَدُوا إِلَيْهِمْ فَفَتَحَهَا
۔ ابو بختری کہتے ہیں: سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ نے فارس کے محلّات میں سے ایک محل کا محاصرہ کر لیا اور اپنے ساتھیوں سے کہا: مجھے چھوڑ دو، تاکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جو کچھ کیا تھا، وہ کچھ میں کر لوں، پھر انھوں نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی اور کہا: میں تم میں سے ایک آدمی ہوں، اللہ تعالیٰ نے مجھے اسلام عطا کیا ہے اور تم دیکھ رہے ہو کہ عرب لوگ میری اطاعت میں ہیں، اب اگر تم بھی اسلام قبول کر لو اور ہماری طرف ہجرت کرو تو تم ہمارے قائم مقام ہو گے اور ہمارے والے حقوق اور احکام تم کو مل جائیں گے، اور اگر تم اسلام قبول کر لو، لیکن اپنے علاقے میں ہی ٹھہرے رہو تو تم بدوؤں کے قائم مقام ہو گے اور تم کو بدوؤں والے حقوق ملیں گے اور تم پر ذمہ داریاں عائد ہوں گی، جو بدوؤں پر عائد ہوتی ہیں، اور اگر تم اسلام کا انکار کر دو اور جزیہ کا اقرار کر لو تو تم کو وہ حقوق ملیں گے، جو اہل جزیہ کو ملتے ہیں اور تم پر وہ ذمہ داریاں عائد ہوں گی، جو اہل جزیہ پر عائد ہوتی ہیں، انھوں نے یہ باتیں تین دن ان پر پیش کیں، چونکہ وہ نہ مانے، اس لیے انھوں نے اپنے ساتھیوں سے کہا: اب کھڑے ہو جاؤ اور ان پر حملہ کر دو، پس انھوں نے اس کو فتح کر لیا۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 4938]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24135»
وضاحت: فوائد: … ہماری طرف ہجرت کرو تو تم ہمارے قائم مقام ہو گے اس سے مراد مال اور مال غنیمت جیسے حقوق ہیں۔
الحكم على الحديث:
انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24135
حدیث نمبر: 4939
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا ابْنُ عَوْنٍ قَالَ كَتَبْتُ إِلَى نَافِعٍ أَسْأَلُهُ مَا أَقْعَدَ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ الْغَزْوِ أَوْ عَنِ الْقَوْمِ إِذَا غَزَوْا بِمَا يَدْعُونَ الْعَدُوَّ قَبْلَ أَنْ يُقَاتِلُوهُمْ وَهَلْ يَحْمِلُ الرَّجُلُ إِذَا كَانَ فِي الْكَتِيبَةِ بِغَيْرِ إِذْنِ إِمَامِهِ فَكَتَبَ إِلَيَّ إِنَّ ابْنَ عُمَرَ قَدْ كَانَ يَغْزُو وَلَدَهُ وَيَحْمِلُ عَلَى الظَّهْرِ وَكَانَ يَقُولُ إِنَّ أَفْضَلَ الْعَمَلِ بَعْدَ الصَّلَاةِ الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ تَعَالَى وَمَا أَقْعَدَ ابْنَ عُمَرَ عَنِ الْغَزْوِ إِلَّا وَصَايَا لِعُمَرَ وَصِبْيَانٌ صِغَارٌ وَضَيْعَةٌ كَثِيرَةٌ وَقَدْ أَغَارَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى بَنِي الْمُصْطَلِقِ وَهُمْ غَارُّونَ يَسْقُونَ عَلَى نَعَمِهِمْ فَقَتَلَ مُقَاتِلَتَهُمْ وَسَبَى سَبَايَاهُمْ وَأَصَابَ جُوَيْرِيَةَ بِنْتَ الْحَارِثِ قَالَ فَحَدَّثَنِي بِهَذَا الْحَدِيثِ ابْنُ عُمَرَ وَكَانَ فِي ذَلِكَ الْجَيْشِ وَإِنَّمَا كَانُوا يُدْعَوْنَ فِي أَوَّلِ الْإِسْلَامِ وَأَمَّا الرَّجُلُ فَلَا يَحْمِلُ عَلَى الْكَتِيبَةِ إِلَّا بِإِذْنِ إِمَامِهِ
۔ ابن عون کہتے ہیں: میں نے امام نافع سے بذریعہ کتابت یہ سوالات کیے کہ کس چیز نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ کو غزوے سے یا جہاد کرنے والے لوگوں سے پیچھے بٹھا دیا ہے، دشمنوں کے ساتھ لڑنے سے پہلے سب سے پہلے ان کو کس چیز کی دعوت دی جائے گی اور کیا آدمی امام کی اجازت کے بغیر کسی لشکر پر حملہ کر سکتا ہے؟ انھوں نے تحریری جواب دیتے ہوئے لکھا: سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ کا بیٹا جہاد کر رہا ہے اور وہ سواریاں دے رہے ہیں، نیز وہ کہتے ہیں کہ نماز کے بعد سب سے افضل عمل جہاد فی سبیل اللہ ہے، لیکن سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ کو غزوے سے پیچھے کر دینے والی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی وصیتیں، چھوٹے بچے اور مالِ کثیر ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بنو مصطلق پر شب خون مارا تھا، جبکہ وہ غافل تھے اور اونٹوں کو پانی پلا رہے تھے، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے جنگ جوؤں کو قتل کر دیا اور ان کے باقی افراد کو قیدی بنا لیا، اسی جنگ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدہ جویریہ بنت ِ حارث رضی اللہ عنہا کو بطورِ قیدی حاصل کیا تھا، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ نے مجھے یہ حدیث بیان کی ہے اور وہ اس لشکر میں بھی موجو د تھے، کافروں کو سب سے پہلے اسلام کی دعوت دی جائے گی اور آدمی کو امام کی اجازت کے بغیر لشکر پر حملہ نہیں کرنا چاہیے۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 4939]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2541، ومسلم: 1730، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4873 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4873»
وضاحت: فوائد: … سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ کو غزوے سے پیچھے کر دینے والی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی وصیتیں …۔ اس کو اس معنی پر محمول کریں کہ جب تک جہاد کا تعین نہیں ہو گا، وگرنہ یہ نہیں ہو سکتا کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ جہاد کو ترک کر دیں اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اس کی نصیحت کریں۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 2541
20. بَابُ جَوَازِ الْحَدَاعِ فِي الْحَرْبِ بِالتَّوْرِيَةِ وَالْكِثْمَانِ وَإِرْسَالِ الْجَوَاسِيْسِ وَنَحْوِ ذَلِكَ
لڑائی میں دھوکہ دینے، توریہ کرنے، بات کو چھپانے اور جاسوسوں کو بھیجنے کے جواز کا بیان
حدیث نمبر: 4940
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ سَمَّى الْحَرْبَ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّهِ خُدْعَةً قَالَ رَحْمَوَيْهِ فِي حَدِيثِهِ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّكُمْ
۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کی زبان پر لڑائی کا نام دھوکہ رکھا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 4940]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، أخرجه ابويعلي: 494، وابن ابي شيبة: 12/ 529، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 696 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 696»
وضاحت: فوائد: … لڑائی کو اس اعتبار سے دھوکہ قرار دیا گیا ہے کہ اظہار کسی اور چیز کا کیا جاتا ہے، جبکہ مخفی بات اور ہوتی ہے۔ لیکن جس دھوکے سے عہد و امان توڑا جا رہا ہو، وہ ناجائز ہو گا۔
الحكم على الحديث:
حسن لغيره
حدیث نمبر: 4941
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ سَمَّى الْحَرْبَ خُدْعَةً
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لڑائی کو دھوکے کا نام دیا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 4941]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3029، ومسلم: 1740، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8112 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8097»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 3029