الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
49. بَابُ فِدَاءِ أَبِي الْعَاصِ زَوْجِ زَيْنَبَ بِنْتِ رَسُولِ اللهِ صلَّى اللهُ عَليهِ وسَلمَ
سیدہ زینب بنت رسول رضی اللہ عنہا کے خاوند سیدنا ابو العاص کا فدیہ
حدیث نمبر: 5092
- عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَتْ: لَمَّا بَعَثَ أَهْلُ مَكَّةَ فِي فِدَاءِ أَسْرَاهُمْ، بَعَثَتْ زَيْنَبُ بِنْتُ رَسُولِ اللهِ ﷺ فِي فِدَاءِ أَبِي الْعَاصِ بْنِ الرَّبِيعِ بِمَالٍ، وَبَعَثَتْ فِيهِ بِقِلَادَةٍ لَهَا كَانَتْ لِخَدِيجَةَ أَدْخَلَتْهَا بِهَا عَلَى أَبِي الْعَاصِ حِينَ بَنِي عَلَيْهَا، قَالَتْ: فَلَمَّا رَآهَا رَسُولُ اللهِ ﷺ رَقَّ لَهَا رِقَةً شَدِيدَةً وَقَالَ: ( (إِنْ رَأَيْتُمْ أَنْ تُطْلِقُوْا لَهَا أَسِيرَهَا، وَتَرُدُّوا عَلَيْهَا الَّذِي لَهَا فَافْعَلُوا؟) ) فَقَالُوا: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَأَطْلَقُوهُ وَرَدُّوا عَلَيْهَا الَّذِي لَهَا -
۔ زوجۂ رسول سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب اہل مکہ نے اپنے قیدیوں کو چھڑانے کے لیے مال وغیرہ بھیجا تو سیدہ زینب بنت ِ رسول رضی اللہ عنہا نے اپنے خاوند ابو العاص بن ربیع کے فدیے میں مال بھیجا اس میں اس کا ایک ہار بھی تھا، یہ ہار دراصل سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کا تھا، جب سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کی ابو العاص کے ساتھ رخصتی ہوئی تھی تو سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے ان کو دیا تھا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ ہار دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر رقت طاری ہو گئی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تم لوگ مناسب سمجھو تو میری بیٹی کے قیدی کو ایسے ہی آزاد کر دو اور اس کا ہار اس کو واپس کر دو۔ صحابہ کرام نے کہا: جی ہاں، اے اللہ کے رسول! پس انھوں نے ابو العاص کو رہا کر دیا اور سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کو ان کا ہار واپس کر دیا۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 5092]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه ابوداود: 2692، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26362 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26894»
وضاحت: فوائد: … آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سب سے بڑے صاحبزادے سیدنا قاسم رضی اللہ عنہ تھے، ان کے بعد سیدہ زینب رضی اللہ عنہا پیدا ہوئی تھیں، ان کی شادی ان کے خالہ زاد سیدنا ابو العاص بن ربیع رضی اللہ عنہ سے ہوئی تھی، سیدنا ابوالعاص کو وہ ہار تو واپس کر دیا گیا، لیکن اس شرط پر رہا کیا گیا کہ وہ سیدہ زینب بنت رسول رضی اللہ عنہا کی راہ چھوڑ دیں، ابو العاص نے ایسے ہی کیا اور مکہ جا کر ان کا راستہ چھوڑ دیا اور وہ مدینہ ہجرت کر آئیں، بعد میں سیدنا ابو العاص رضی اللہ عنہ بھی مسلمان ہو گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پہلے نکاح کے ساتھ ہی سیدہ زینب رضی اللہ عنہا ان کو لوٹا دیں، پھر ۸ ھ میں سیدہ انتقال کر گئیں۔
الحكم على الحديث:
اسناده حسن
50. بَابُ فِي فِدَاءِ رَجُلَيْنِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ بِرَجُلٍ مِنَ الْمُشْرِكِينَ وَمَنِ افْتَدَى بِتَعْلِيمِ أَوْلَادِ الْأَنْصَارِ الْكِتَابَةَ وَكَرَاهَةِ قُبُولِ الْفِدْيَةِ عَلَى تَسْلِيمٍ جُمَّتِ قَتْلَى الْعَدُوِّ
ایک مشرک کے فدیے میں دو مسلمان لینے کا بیان¤ان قیدیوں کا بیان جنھوں نے اپنے فدیے میں انصاریوں کے بچوں کو کتابت کی تعلیم دی
حدیث نمبر: 5093
عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَدَى رَجُلَيْنِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ بِرَجُلٍ مِنَ الْمُشْرِكِينَ مِنْ بَنِي عُقَيْلٍ
۔ سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بنو عقیل کے ایک مشرک کے فدیے میں دو مسلمان لیے تھے۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 5093]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم، أخرجه الترمذي: 2714، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19879 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20120»
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط مسلم
حدیث نمبر: 5094
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ كَانَ نَاسٌ مِنَ الْأَسْرَى يَوْمَ بَدْرٍ لَمْ يَكُنْ لَهُمْ فِدَاءٌ فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِدَاءَهُمْ أَنْ يُعَلِّمُوا أَوْلَادَ الْأَنْصَارِ الْكِتَابَةَ قَالَ فَجَاءَ يَوْمًا غُلَامٌ يَبْكِي إِلَى أَبِيهِ فَقَالَ مَا شَأْنُكَ قَالَ ضَرَبَنِي مُعَلِّمِي قَالَ الْخَبِيثُ يَطْلُبُ بِذَحْلِ بَدْرٍ وَاللَّهِ لَا تَأْتِيهِ أَبَدًا
۔ سیدنا عبد للہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ بدر والے بعض قیدیوں کے پاس اپنے فدیے کے طور پر دینے کی کوئی چیز نہیں تھی، اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس چیز کو ان کا فدیہ قرار دیا کہ وہ انصاری بچوں کو کتابت کی تعلیم دے دیں، ایک دن ان میں سے ایک بچہ روتا ہوا اپنے باپ کے پاس آیا، اس نے پوچھا: بیٹا! تجھے کیا ہوا ہے؟ اس نے کہا: میرے استاد نے مجھے مارا ہے، اس نے کہا: خبیث، یہ بدر کا انتقام لینا چاہتا ہے، اللہ کی قسم! تو نے اس کے پاس کبھی بھی نہیں جانا۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 5094]
تخریج الحدیث: «حسن، أخرجه البيھقي: 6/ 322، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2216 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2216»
الحكم على الحديث:
حسن
حدیث نمبر: 5095
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ قَالَ قَتَلَ الْمُسْلِمُونَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ رَجُلًا مِنَ الْمُشْرِكِينَ فَأَعْطَوْا بِجِيفَتِهِ مَالًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ادْفَعُوا إِلَيْهِمْ جِيفَتَهُمْ فَإِنَّهُ خَبِيثُ الْجِيفَةِ خَبِيثُ الدِّيَةِ فَلَمْ يَقْبَلْ مِنْهُمْ شَيْئًا
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ مسلمانوں نے غزوۂ خندق کے موقع پر ایک مشرک قتل کر دیا، انھوں نے اس کی لاش کے عوض مال دینا چاہا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے بارے میں فرمایا: ان کی لاش ان کے سپرد کر دو، یہ لاش بھی خبیث ہے اور اس کا عوض بھی خبیث ہے۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے عوض ان سے کچھ وصول نہ کیا۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 5095]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف نصر بن باب وتدليس الحجاج، أخرجه الترمذي: 1715، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2230 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2230»
وضاحت: فوائد: … امام مبارکپوری رحمتہ اللہ علیہ نے کہا: معلوم ہوا کہ مشرک کی لاش کو بیچنا جائز نہیں ہے، کیونکہ وہ مردار ہے، جس کا مالک بننا اور اس کا عوض لینا جائز ہی نہیں ہے، شارع علیہ السلام نے مردار اور بتوں کی قیمت کو حرام قرار دیا ہے، امام بخاری نے اپنی صحیح میں یہ باب قائم کیا: بَاب طَرْحِ جِیَفِ الْمُشْرِکِینَ فِی الْبِئْرِ وَلَا یُؤْخَذُ لَہمْ ثَمَنٌ (مشرکوں کی لاشوں کو کنویں میں پھینکنے اور ان کی قیمت نہ لینے کا بیان) پھر اس باب میں وہ حدیث ذکر کی، جس کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ابو جہل اور قریش کے دوسرے سرداروں پر بد دعا کی تھی، (یہ دعا قبول ہوئی اور) وہ سردار غزوۂ بدر میں قتل ہو گئے اور ان کو کنویں میں ڈال دیا گیا۔ (تحفۃ الاحوذی: ۵/ ۳۰۷)
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف نصر بن باب وتدليس الحجاج
حدیث نمبر: 5096
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ أُصِيبَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ رَجُلٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ وَطَلَبُوا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُجِنُّوهُ فَقَالَ لَا وَلَا كَرَامَةَ لَكُمْ قَالُوا فَإِنَّا نَجْعَلُ لَكَ عَلَى ذَلِكَ جُعْلًا قَالَ وَذَلِكَ أَخْبَثُ وَأَخْبَثُ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ غزوۂ خندق کے موقع پر ایک مشرک قتل ہو گیا، اُن لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے اس آدمی کو دفنانا چاہتے ہیں، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں، تمہارے لیے کوئی کرامت اور عزت نہیں ہے۔ انھوں نے کہا: ہم اس کے عوض آپ کو کچھ دے دیتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ تو بہت خبیث چیز ہو گی، بلکہ سب سے زیادہ خبیث ہو گی۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 5096]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، ابن ابي ليلي سييء الحفظ،وانظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2319»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
51. بَابُ فِي فِدَاءِ أَسْرَى بَدْرٍ وَمَا نَزَلَ مِنَ الْقُرْآنِ بِسَبَبِهِ
بدر کے قیدیوں کے فدیے اور اس کی وجہ سے نازل ہونے والے قرآن کا بیان
حدیث نمبر: 5097
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَمَّا كَانَ يَوْمُ بَدْرٍ قَالَ نَظَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَصْحَابِهِ وَهُمْ ثَلَاثُ مِائَةٍ وَنَيِّفٌ وَنَظَرَ إِلَى الْمُشْرِكِينَ فَإِذَا هُمْ أَلْفٌ وَزِيَادَةٌ فَاسْتَقْبَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْقِبْلَةَ ثُمَّ مَدَّ يَدَيْهِ وَعَلَيْهِ رِدَاؤُهُ وَإِزَارُهُ ثُمَّ قَالَ اللَّهُمَّ أَيْنَ مَا وَعَدْتَنِي اللَّهُمَّ أَنْجِزْ مَا وَعَدْتَنِي اللَّهُمَّ إِنَّكَ إِنْ تُهْلِكْ هَذِهِ الْعِصَابَةَ مِنْ أَهْلِ الْإِسْلَامِ فَلَا تُعْبَدْ فِي الْأَرْضِ أَبَدًا قَالَ فَمَا زَالَ يَسْتَغِيثُ رَبَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَيَدْعُوهُ حَتَّى سَقَطَ رِدَاؤُهُ فَأَتَاهُ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَأَخَذَ رِدَاءَهُ فَرَدَّاهُ ثُمَّ الْتَزَمَهُ مِنْ وَرَائِهِ ثُمَّ قَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ كَفَاكَ مُنَاشَدَتُكَ رَبَّكَ فَإِنَّهُ سَيُنْجِزُ لَكَ مَا وَعَدَكَ وَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِذْ تَسْتَغِيثُونَ رَبَّكُمْ فَاسْتَجَابَ لَكُمْ أَنِّي مُمِدُّكُمْ بِأَلْفٍ مِنَ الْمَلَائِكَةِ مُرْدِفِينَ فَلَمَّا كَانَ يَوْمُئِذٍ وَالْتَقَوْا فَهَزَمَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الْمُشْرِكِينَ فَقُتِلَ مِنْهُمْ سَبْعُونَ رَجُلًا وَأُسِرَ مِنْهُمْ سَبْعُونَ رَجُلًا فَاسْتَشَارَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَبَا بَكْرٍ وَعَلِيًّا وَعُمَرَ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ هَؤُلَاءِ بَنُو الْعَمِّ وَالْعَشِيرَةِ وَالْإِخْوَانِ فَإِنِّي أَرَى أَنْ تَأْخُذَ مِنْهُمُ الْفِدْيَةَ فَيَكُونُ مَا أَخَذْنَا مِنْهُمْ قُوَّةً لَنَا عَلَى الْكُفَّارِ وَعَسَى اللَّهُ أَنْ يَهْدِيَهُمْ فَيَكُونُوا لَنَا عَضُدًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا تَرَى يَا ابْنَ الْخَطَّابِ قَالَ قُلْتُ وَاللَّهِ مَا أَرَى مَا رَأَى أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَلَكِنِّي أَرَى أَنْ تُمَكِّنَنِي مِنْ فُلَانٍ قَرِيبًا لِعُمَرَ فَأَضْرِبَ عُنُقَهُ وَتُمَكِّنَ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ عَقِيلٍ فَيَضْرِبَ عُنُقَهُ وَتُمَكِّنَ حَمْزَةَ مِنْ فُلَانٍ أَخِيهِ فَيَضْرِبَ عُنُقَهُ حَتَّى يَعْلَمَ اللَّهُ أَنَّهُ لَيْسَتْ فِي قُلُوبِنَا هَوَادَةٌ لِلْمُشْرِكِينَ هَؤُلَاءِ صَنَادِيدُهُمْ وَأَئِمَّتُهُمْ وَقَادَتُهُمْ فَهَوَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا قَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَلَمْ يَهْوَ مَا قُلْتُ فَأَخَذَ مِنْهُمُ الْفِدَاءَ فَلَمَّا أَنْ كَانَ مِنَ الْغَدِ قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ غَدَوْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا هُوَ قَاعِدٌ وَأَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَإِذَا هُمَا يَبْكِيَانِ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَخْبِرْنِي مَاذَا يُبْكِيكَ أَنْتَ وَصَاحِبَكَ فَإِنْ وَجَدْتُ بُكَاءً بَكَيْتُ وَإِنْ لَمْ أَجِدْ بُكَاءً تَبَاكَيْتُ لِبُكَائِكُمَا قَالَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الَّذِي عَرَضَ عَلَيَّ أَصْحَابُكَ مِنَ الْفِدَاءِ لَقَدْ عُرِضَ عَلَيَّ عَذَابُكُمْ أَدْنَى مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ لِشَجَرَةٍ قَرِيبَةٍ وَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مَا كَانَ لِنَبِيٍّ أَنْ يَكُونَ لَهُ أَسْرَى حَتَّى يُثْخِنَ فِي الْأَرْضِ إِلَى قَوْلِهِ لَوْلَا كِتَابٌ مِنَ اللَّهِ سَبَقَ لَمَسَّكُمْ فِيمَا أَخَذْتُمْ مِنَ الْفِدَاءِ ثُمَّ أُحِلَّ لَهُمُ الْغَنَائِمُ فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ أُحُدٍ مِنَ الْعَامِ الْمُقْبِلِ عُوقِبُوا بِمَا صَنَعُوا يَوْمَ بَدْرٍ مِنْ أَخْذِهِمُ الْفِدَاءَ فَقُتِلَ مِنْهُمْ سَبْعُونَ وَفَرَّ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَكُسِرَتْ رَبَاعِيَتُهُ وَهُشِمَتِ الْبَيْضَةُ عَلَى رَأْسِهِ وَسَالَ الدَّمُ عَلَى وَجْهِهِ وَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى أَوَلَمَّا أَصَابَتْكُمْ مُصِيبَةٌ قَدْ أَصَبْتُمْ مِثْلَيْهَا الْآيَةَ بِأَخْذِكُمُ الْفِدَاءَ
۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: بدر کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے صحابہ کی طرف دیکھا،جبکہ وہ تین سوسے کچھ زائد تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مشرکوں کی طرف دیکھا اور وہ ایک ہزار سے زائد تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قبلہ کی طرف متوجہ ہوئے، ہاتھوں کو لمبا کیا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک چادر اور ایک ازار زیب ِ تن کیا ہوا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ دعا کی: اے اللہ! تو نے مجھ سے جو وعدہ کیا تھا، وہ کہاں ہے، اے اللہ! تو نے مجھ سے جو وعدہ کیا تھا، اس کو پورا کر دے، اے اللہ! اگر تو نے اہل اسلام کی اس جماعت کو ختم کر دیا تو زمین میں کبھی بھی تیری عبادت نہیں کی جائے گی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے ربّ سے مدد طلب کرتے رہے اور دعا کرتے رہے، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی چادر گر گئی، سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ تشریف لائے، انھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی چادر اٹھائی اور اس کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ڈال کر پیچھے سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پکڑ لیا اور پھر کہا: اے اللہ کے نبی! آپ نے اپنے ربّ سے جو مطالبہ کر لیا ہے، یہ آپ کو کافی ہے، اس نے آپ سے جو وعدہ کیا ہے، وہ عنقریب اس کو پورا کر دے گا، اس وقت اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: {إِذْ تَسْتَغِیثُونَ رَبَّکُمْ فَاسْتَجَابَ لَکُمْ أَنِّی مُمِدُّکُمْ بِأَلْفٍ مِنَ الْمَلَائِکَۃِ مُرْدِفِینَ۔} … اس وقت کو یاد کرو جب کہ تم اپنے رب سے فریاد کر رہے تھے، پھر اللہ تعالیٰ نے تمہاری سن لی کہ میں تم کو ایک ہزار فرشتوں سے مدد دوں گا، جو لگاتار چلے آئیں گے۔ (سورۂ انفال: ۹) پھر جب اس دن دونوں لشکروں کی ٹکر ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے مشرکوں کو اس طرح شکست دی کہ ان کے ستر افراد مارے گئے اور ستر افراد قید کر لیے گئے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا ابو بکر، سیدنا علی اور سیدنا عمر سے قیدیوں کے بارے میں مشورہ کیا، سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے نبی! یہ لوگ ہمارے چچوں کے ہی بیٹے ہیں، اپنے رشتہ دار اور بھائی ہیں، میرا خیال تو یہ ہے کہ آپ ان سے فدیہ لے لیں، اس مال سے کافروں کے مقابلے میں ہماری قوت میں اضافہ ہو گا اور یہ بھی ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کو بعد میں ہدایت دے دے، اس طرح یہ ہمارا سہارا بن جائیں۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے ابن خطاب! اس بارے میں تمہاری کیا رائے ہے؟ انھو ں نے کہا: اللہ کی قسم! میں سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کی رائے سے اتفاق نہیں کرتا، میرا خیال تو یہ ہے کہ فلاں آدمی، جو میرا رشتہ دار ہے، اس کو میرے حوالے کریں، میں اس کی گردن اڑاؤں گا، عقیل کو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے سپرد کریں، وہ اس کو قتل کریں گے، فلاں شخص کو سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کے حوالے کریں، وہ اس کی گردن قلم کریں گے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کو علم ہو جائے کہ ہمارے دلوں میں مشرکوں کے لیے کوئی رحم دلی نہیں ہے، یہ قیدی مشرکوں کے سردار، حکمران اور قائد ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کی رائے پسند کی اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی رائے کو پسند نہیں کیا، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فدیہ لے لیا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جب اگلے دن میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گیا تو آپ اور سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ دونوں بیٹھے ہوئے رو رہے تھے، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ مجھے اس چیز کے بارے میں بتائیں جو آپ کو اور آپ کے ساتھی کو رُلا رہی ہے؟ اگر مجھے بھی رونا آ گیا تو میں بھی روؤں گا اور اگر مجھے رونا نہ آیا تو تمہارے رونے کی وجہ سے رونے کی صورت بنا لوں گا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہارے ساتھیوں نے فدیہ لینے کے بارے میں جو رائے دی تھی، اس کی وجہ سے مجھ پر تمہارا عذاب پیش کیا گیا ہے، جو اس درخت سے قریب ہے۔ اس سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مراد قریب والا ایک درخت تھا، اس وقت اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل کیں: {مَا کَانَ لِنَبِیٍّ … … عَذَاب’‘ عَظِیْم’‘} نبی کے ہاتھ قیدی نہیں چاہئیں جب تک کہ ملک میں اچھی خونریزی کی جنگ نہ ہو جائے، تم تو دنیا کا مال چاہتے ہو اور اللہ کا ارادہ آخرت کا ہے اور اللہ بے حد غالب کمال حکمت والا ہے، اگر پہلے ہی سے اللہ کی طرف سے بات لکھی ہوئی نہ ہوتی تو جو کچھ تم نے لیا ہے اس بارے میں تمہیں کوئی بڑی سزا ہوتی۔ (سورۂ انفال:۶۷) پھر ان کے لیے مالِ غنیمت حلال کر دیا گیا، جب اگلے سال غزوۂ احد ہوا تو بدر والے دن فدیہ لینے کی سزا دی گئی اور ستر صحابہ شہید ہو گئے، نیز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بھاگ گئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا رباعی دانت شہید کر دیا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سر پر خود کو توڑ دیا گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرے پر خون بہنے لگا، پس اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی: {اَوَلَمَّآ اَصَابَتْکُمْ مُّصِیْبَۃ’‘ … … اِنَّ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْر’‘۔} (کیا بات ہے کہ جب احد کے دن)تمہیں ایک ایسی تکلیف پہنچی کہ تم اس جیسی دو چند پہنچا چکے، تو یہ کہنے لگے کہ یہ کہاں سے آگئی؟ آپ کہہ دیجئے کہ یہ خود تمہاری طرف سے ہے، بے شک اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے۔ (سورۂ آل عمران: ۱۶۵) یعنی فدیہ لینے کی وجہ سے۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 5097]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1763، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 208 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 208»
وضاحت: فوائد: … غزوۂ بدر میں مسلمانوں کی تعداد (۳۱۳) اور کافروں کی تعداد ایک ہزار کے قریب تھی، پھر مسلمان نہتے اور بے سرو سامان تھے، جبکہ کافروں کے پاس اسلحہ کی بھی فراوانی تھی، ان حالات میں مسلمانوں کا سہارا صرف اللہ تعالیٰ کی ذات تھی، جس سے وہ گڑگڑا کر مدد کی فریادیں کر رہے تھے، خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم الگ ایک خیمے میں نہایت الحاح و زاری سے مصروف دعا تھے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے دعا قبول کی اور ایک ہزار فرشتے ایک دوسرے کے پیچھے مسلسل لگاتار مسلمانوں کی مدد کے لیے آ گئے۔ بدر کے قیدیوں کے بارے میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے جو مشورہ دیا تھا، وہی اللہ تعالیٰ کو پسند تھا، اللہ تعالیٰ کی طرف سے نرم فیصلہ کرنے کی وجہ سے عتاب نازل ہوا۔
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 1763
حدیث نمبر: 5098
- عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ يَوْمَ بَدْرٍ: ( (مَنِ اسْتَطَعْتُمْ أَنْ تَأْسِرُوا مِنْ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَإِنَّهُمْ خَرَجُوا كُرْهًا) ) -
۔ سیدنا علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غزوۂ بدر والے دن فرمایا: بنو عبد المطلب کو جس قدر تم قیدی کر سکتے ہو، قیدی کرو (قتل نہ کرو)، کیونکہ وہ مجبور ہو کر نکلے ہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 5098]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح رجاله رجال الصحيح غير حارثة بن مضرب وهو ثقة، اخرجه البزار: 720۔، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 676 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 676»
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح رجاله رجال الصحيح غير حارثة بن مضرب وهو ثقة
حدیث نمبر: 5099
- عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَرِيرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: ( (لَوْ كَانَ مُطْعِمُ بْنُ عَدِيٍّ حَيًّا فَكَلَّمَنِي فِي هَؤُلَاءِ التَّتْنَى أَطْلَقْتُهُمْ) ) يَعْنِي أَسَارَى بَدْرٍ -
۔ سیدنا جریر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر مطعم بن عدی زندہ ہوتا اور (بدر کے) ان بد بودار قیدیوں کے بارے میں مجھ سے بات کرتا تو میں ان کو (بغیر فدیے کے) آزاد کر دیتا۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 5099]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، اخرجه البخاري: 3139۔ ابوداود: 2689۔، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة:16733 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16853»
وضاحت: فوائد: … جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم طائف سے واپس مکہ مکرمہ تشریف لائے تو مطعم بن عدی نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس طرح پناہ دی تھی کہ اس نے اپنے چار بیٹوں کو حکم دیا، وہ اسلحہ سے لیس ہو کر کعبہ کے کونوں کے پاس کھڑے ہو گئے، یہ منظر دیکھ کر قریشیوں نے کہا: اے مطعم! تو ایسا آدمی ہے کہ تیری پناہ کو نہیں توڑا جا سکتا۔ یہ اس شخص کا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر احسان تھا، اس کے بدلے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی سفارش قبول کرنے کا ارادہ کیا۔
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط الشيخين
52. باب النهي عن قتل الاسير مَا لَمْ يَحْتَلِم أو يُنتَ، وَعَنْ قَتْلِ آسِيْرِ غَيْرِهِ، وَعَنِ التَّفْرِيْقِ بَيْنَ الْوَالِدَةِ وَوَلَدِهَا، وَعَنْ وَطيء الْحُبَالَي مِنَ الأسرى، وَعَنْ قَتْلِ الْآسِيرِ صَبْرًا
ان امور سے ممانعت کابیان: احتلام ہونے یا زیر ناف بالوں کے اگنے سے پہلے قیدی کو قتل کرنا، دوسرے کے قیدی کو قتل کرنا، قیدیوں میں والدہ اور اس کی اولاد میں تفریق ڈالنا، حاملہ قیدی خواتین سے جماع کرنا اور قیدی کو باندھ کر مارنا
حدیث نمبر: 5100
عَنْ عَطِيَّةَ الْقُرَظِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ عُرِضْنَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ قُرَيْظَةَ فَكَانَ مَنْ أَنْبَتَ قُتِلَ وَمَنْ لَمْ يُنْبِتْ خَلَّى سَبِيلَهُ فَكُنْتُ مِمَّنْ لَمْ يُنْبِتْ فَخَلَّى سَبِيلِي
۔ سیدنا عطیہ قرظی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہمیں قریظہ والے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر پیش کیا گیا، جس کے زیرناف بال اُگ چکے تھے، اس کو قتل کر دیا گیا اور جس کے زیر ناف بال نہیں اُگے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو قتل نہ کیا، میں (عطیہ) ان بچوں میں سے تھا، جن کے بال نہیں اگے تھے، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے قتل سے رہا کر دیا۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 5100]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابوداود: 4404، والنسائي: 8/ 92، والترمذي: 1584، وابن ماجه: 2541، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18776 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18983»
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح
حدیث نمبر: 5101
عَنْ كَثِيرِ بْنِ سَائِبٍ قَالَ حَدَّثَنِي ابْنَا قُرَيْظَةَ أَنَّهُمْ عُرِضُوا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ زَمَنَ قُرَيْظَةَ فَمَنْ كَانَ مِنْهُمْ مُحْتَلِمًا أَوْ نَبَتَتْ عَانَتُهُ قُتِلَ وَمَنْ لَا تُرِكَ
۔ کثیر بن سائب سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: قریظہ کے دو بیٹوں نے مجھے بیان کیا کہ ان کو بنو قریظہ کی بدعہدی کے زمانے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر پیش کیا گیا، پس ان میں سے جو بالغ ہو چکا تھا یا اس کے زیرِ ناف بال اگ چکے تھے، اس کو قتل کر دیا گیا اور جو ایسے نہیں تھا، اس کو چھوڑ دیا گیا تھا۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 5101]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه النسائي: 6/155، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19002 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19211»
وضاحت: فوائد: … زیر ناف بالوں کے اُگ آنے کو بلوغت کی علامت سمجھا گیا، اکثر اہل علم کا خیال یہ ہے کہ مشرک لوگوں کے قتل یا جزیہ جیسے مسائل حل کرنے کے لیے زیرناف بالوں کو بلوغت یا عدم بلوغت کی حد قرار دیا جا سکتا ہے، کیونکہ ان کی بات غیر معتبر ہو گی۔
الحكم على الحديث:
حديث صحيح