🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
38. بَابُ إِنَّ السَّلْبَ لِلْقَاتِلِ وَأَنَّهُ غَيْرَ مَخْمُوسٍ
اس چیز کا بیان کہ سلب قاتل کا ہو گا اور اس میں سے خُمُس نہیں لیا جائے گا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5052
عَنْ أَبِي قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَتَلَ رَجُلًا مِنَ الْكُفَّارِ فَنَفَّلَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سَلَبَهُ وَدِرْعَهُ فَبَاعَهُ بِخَمْسِ أَوَاقٍ
۔ سیدنا ابو قتادہ انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انھوں نے ایک کافر کو قتل کیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کافر کا سلب اور زرہ ان کو دی، پھر انھوں نے وہ زرہ پانچ اوقیوں کے عوض فروخت کی تھی۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 5052]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22614 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22988»

الحكم على الحديث:
حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5053
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَرَّ عَلَى أَبِي قَتَادَةَ وَهُوَ عِنْدَ رَجُلٍ قَدْ قَتَلَهُ فَقَالَ دَعُوهُ وَسَلْبَهُ
۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے، جبکہ وہ اپنے مقتول کے پاس موجود تھے، اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کو اور اس کے سلب کو چھوڑ دو۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 5053]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه ابويعلي: 2682، والطبراني: 12058، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2620 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2620»

الحكم على الحديث:
حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5054
عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ وَخَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَمْ يُخَمِّسِ السَّلْبَ
۔ سیدنا عوف بن مالک اشجعی اور سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سلب میں سے خمس وصول نہیں کیا۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 5054]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم، أخرجه أبوداود: 2721، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23988 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24488»
وضاحت: فوائد: … اس باب میں سلب کا بیان ہے، جس کا مفہوم یہ ہے کہ مقتول کافر سے چھینا ہوا مال قاتل مسلمان کا حق ہو گا اور اس حق میں سے خُمُس بھی نہیں لیا جائے گا، لیکن ایسی صورت میں مجاہد سے دلیل کا مطالبہ کیا جائے گا کہ واقعی اس نے قتل کیا ہے۔

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
39. باب جَوَارِ تَنْفِيْل بَعْضِ الْجَيْشِ لِبَأْسِهِ أَوْ تحملِهِ مَكْرُوهَا دُونَهُمْ
لشکر کے بعض افراد کو اس بنا پر زائد حصہ دینے کا بیان کہ انھوں نے لڑائی لڑی¤یا مشکلات کو برداشت کیا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5055
عَنْ سَلْمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَذَكَرَ قِصَّةَ إِغَارَةِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْفَزَارِيِّ عَلَى سَرْحِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَاسْتِنْقَاذِهِ مِنْهُ قَالَ فَلَمَّا أَصْبَحْنَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَيْرُ فُرْسَانِنَا الْيَوْمَ أَبُو قَتَادَةَ وَخَيْرُ رِجَالَتِنَا سَلَمَةُ فَأَعْطَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سَهْمَ الرَّاجِلِ وَالْفَارِسِ جَمِيعًا
۔ سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، پھر انھوں نے عبدالرحمن فزاری کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مویشیوں پر ڈاکہ مارنے اور ان کے بچانے کا واقعہ ذکر کیا،سیدنا سلمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جب ہم نے صبح کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آج ابو قتادہ بہترین گھوڑ سوار اور سلمہ بہترین پیادہ ثابت ہوئے۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے پیادہ اور گھوڑ سوار دونوں کا حصہ دیا۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 5055]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1807، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16539 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16654»
وضاحت: فوائد: … سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ پیدل تھے، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو پیادہ اور گھوڑ سوار دونوں کا حصہ دیا، یہ ان کی زیادہ مشقت بہادری کا مظاہرہ کرنے کی وجہ سے دیا۔

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 1807
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5056
عَنْ سَعْدِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ شَفَانِي اللَّهُ مِنَ الْمُشْرِكِينَ فَهَبْ لِي هَذَا السَّيْفَ قَالَ إِنَّ هَذَا السَّيْفَ لَيْسَ لَكَ وَلَا لِي ضَعْهُ قَالَ فَوَضَعْتُهُ ثُمَّ رَجَعْتُ قُلْتُ عَسَى أَنْ يُعْطَى هَذَا السَّيْفَ الْيَوْمَ مَنْ لَمْ يُبْلِ بَلَائِي قَالَ إِذَا رَجُلٌ يَدْعُونِي مِنْ وَرَائِي قَالَ قُلْتُ قَدْ أُنْزِلَ فِيَّ شَيْءٌ قَالَ كُنْتَ سَأَلْتَنِي السَّيْفَ وَلَيْسَ هُوَ لِي وَإِنَّهُ قَدْ وُهِبَ لِي فَهُوَ لَكَ قَالَ وَأُنْزِلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْأَنْفَالِ قُلِ الْأَنْفَالُ لِلَّهِ وَالرَّسُولِ
۔ سیدنا سعد بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، انھوں نے کہا: اے اللہ رسول! تحقیق اللہ تعالیٰ نے مجھے مشرکوں سے شفا دے دی ہے، پس آپ یہ تلوار مجھے ہبہ کر دیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ تلوار میری ہے نہ تیری، سو اس کو یہیں رکھ دے۔ پس میں نے اس کو رکھ دیا، پھر واپس لوٹ گیا اور میں نے کہا: ممکن ہے کہ یہ تلوار ایسے بندے کو دے دی جائے، جو میری طرح کی بہادری کا مظاہرہ نہ کر سکے، اتنے میں ایک آدمی نے میرے پیچھے سے مجھے بلایا، میں نے کہا: لگتا ہے کہ میرے بارے میں کوئی خاص حکم اترا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو نے مجھ سے اس تلوار کا سوال کیا تھا، جبکہ یہ میری نہیں تھی، اب یہ مجھے ہبہ کر دی گئی ہے، لہذا اب یہ تیری ہے۔ پھر یہ آیت نازل ہوئی: لوگ آپ سے انفال کے بارے میں سوال کرتے ہیں، پس کہہ دیجئے کہ انفال، اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 5056]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه ابوداود: 2740، والترمذي: 3079، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1538 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1538»
وضاحت: فوائد: … حکمران کو یہ حق حاصل ہے کہ بعض مجاہدین کی حوصلہ افزائی کرنے کے لیے ان کو دوسرے مجاہدین سے زائد حصہ دے دے۔

الحكم على الحديث:
اسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
40. باب تنقيل سرِيَّةِ الجَيْشِ عَلَيْهِ وَاشْتِرَاكِهِمَا فِي الْغَنِيمَةِ
لشکر کے سریہ کو زائد حصہ دینے اور پھر ان دونوں کو غنیمت میں شریک کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5057
عَنْ حَبِيبِ بْنِ مَسْلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَفَّلَ الرُّبْعَ بَعْدَ الْخُمُسِ فِي بَدْأَتِهِ وَنَفَّلَ الثُّلُثَ بَعْدَ الْخُمُسِ فِي رَجْعَتِهِ
۔ سیدنا حبیب بن مسلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (غزوے کے سفر کی) ابتداء میں خمس نکالنے کے بعد ایک چوتھائی حصہ اور واپسی پر خمس نکالنے کے بعد ایک تہائی حصہ زائد دیا۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 5057]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابوداود: 2749، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17465 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17604»

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5058
عَنْ حَبِيبِ بْنِ مَسْلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ شَهِدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَفَّلَ الرُّبْعَ فِي الْبَدْأَةِ وَالثُّلُثَ فِي الرَّجْعَةِ قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ لَيْسَ فِي الشَّامِ رَجُلٌ أَصَحُّ حَدِيثًا مِنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ يَعْنِي التَّنُوخِيَّ
۔ سیدنا حبیب بن مسلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس موجود تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شروع میں ایک چوتھائی اور واپسی پر ایک تہائی حصہ زائد دیا۔ ابو عبد الرحمن نے کہا: میں نے اپنے باپ کو یہ کہتے ہوئے سنا: میں نے شام میں کوئی ایسا آدمی نہیں دیکھا جو سعید بن عبد العزیز تنوخی سے زیادہ صحیح احادیث والا ہو۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 5058]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه ابن ماجه: 2853، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17469 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17608»

الحكم على الحديث:
حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5059
وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ صَامِتٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَفَّلَ فِي الْبَدَائَةِ الرُّبْعَ وَفِي الرَّجْعَةِ الثُّلُثَ
۔ سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ابتدا میں ایک چوتھائی حصہ اور واپسی پر ایک تہائی حصہ زائد دیا۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 5059]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه الترمذي: 1561، وابن ماجه: 2852، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22726 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23105»
وضاحت: فوائد: … ان احادیث میں مال غنیمت کی تقسیم کی ایک اور استثنائی صورت بیان کی گئی ہے، جب لشکر ِ اسلام اپنی جہت کی طرف جا رہا ہوتا اور بیچ میں سے ایک سریّہ کو الگ کر کے گرد و نواح کے کسی علاقے کی طرف بھیج دیا جاتا تو وہ جو مالِ غنیمت لے کر آتے، اس کا چوتھاحصہ ان کو زائد دیا جاتا، باقی تین حصے تمام مجاہدین میں برابر تقسیم کر دیئے جاتے، اگر جہاد سے واپسی پر یہی صورت حال پیش آتی تو ایک تہائی حصہ زائد دیا جاتا، لیکن اس تیسرے یا چوتھے حصے سے پہلے خُمُس نکالا جائے گا ہے۔

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5060
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَغَارَ فِي أَرْضِ الْعَدُوِّ نَفَّلَ الرُّبْعَ وَإِذَا أَقْبَلَ رَاجِعًا وَكَلَّ النَّاسُ نَفَلَ الثُّلُثَ وَكَانَ يَكْرَهُ الْأَنْفَالَ وَيَقُولُ لِيَرُدَّ قَوِيُّ الْمُؤْمِنِينَ عَلَى ضَعِيفِهِمْ
۔ سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ سے ہی مروی ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دشمن کی زمین میں حملے کے لیے جا رہے ہوتے تھے تو ایک چوتھائی حصہ زائد دیتے اور جب لوٹ رہے ہوتے تھے، اور لوگ تھکے ہوئے ہوتے تو ایک تہائی حصہ زائد دیتے، دراصل آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم زائد حصوں کو ناپسند کرتے اور فرماتے: چاہیے کہ قوی مؤمن، کمزوروں پر لوٹا دے۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 5060]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22762 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23142»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث ِ مبارکہ کا مفہوم یہ ہے کہ مجاہدین کو زائد حصے کی حرص نہیں ہونی چاہیے اور اس معاملے میں ان کو ایثار کی راہ اختیار کرنی چاہیے تاکہ کمزور جنگجوؤں کو بھی قوی مجاہدین کی طرح حصہ مل سکے۔ نیز اس حدیث کا یہ معنی بھی ہو سکتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجاہدین کو ان کے زائد جہاد اور محنت کی وجہ سے زائد حصے تو دیتے تھے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تمنا یہ تھی کہ وہ لشکر ِ اسلام کے تمام افراد کو ترجیح دیتے ہوئے وصول نہ کریں، تاکہ سب کو برابر حصہ مل سکے۔

الحكم على الحديث:
حسن لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5061
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ بَعَثَنَا نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي سَرِيَّةٍ بَلَغَتْ سُهْمَانُنَا اثْنَيْ عَشَرَ بَعِيرًا وَنَفَّلَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَعِيرًا بَعِيرًا
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں ایک لشکر میں بھیجا، ہمارے حصوں میں بارہ بارہ اونٹ آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک ایک اونٹ ہمیں زائد بھی دیا۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 5061]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 4338، ومسلم: 1749، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5180 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5180»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 4338
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں