الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
44. بَاب تَحْرِيمِ الْغُلُولِ وَالتَّشْدِيدِ فِيْهِ وَتَحْرِيْقِ رحْلِ الْغَالِ وَمَا جَاءَ فِي النَّهْبَي
خیانت کے حرام ہونے اور اس میں سختی کا بیان، نیز خائن کا سامانِ سفر جلانے اور لوٹ مار کا بیان
حدیث نمبر: 5082
عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَغُلُّوا فَإِنَّ الْغُلُولَ نَارٌ وَعَارٌ عَلَى أَصْحَابِهِ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَجَاهِدُوا النَّاسَ فِي اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى الْقَرِيبَ وَالْبَعِيدَ وَلَا تُبَالُوا فِي اللَّهِ لَوْمَةَ لَائِمٍ وَأَقِيمُوا حُدُودَ اللَّهِ فِي الْحَضَرِ وَالسَّفَرِ وَجَاهِدُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَإِنَّ الْجِهَادَ بَابٌ مِنْ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ عَظِيمٌ يُنَجِّي اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى بِهِ مِنَ الْهَمِّ وَالْغَمِّ
۔ سیدناعبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: خیانت نہ کرو، کیونکہ خیانت خائن کے لیے دنیا و آخرت میں آگ اور عار کا سبب ہے، اللہ تعالیٰ کے لیے قریب و بعید سے جہاد کرو، اللہ تعالیٰ کے لیے کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پروا نہ کرو،حضرو سفر میں اللہ کی حدود کو نافذ کرو اور اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کرو، بیشک جنت کے دروازوں میں سے بڑا دروازہ جہاد ہے، اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے غم و حزن سے نجات دیتا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 5082]
تخریج الحدیث: «حديث حسن، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22776 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23157»
الحكم على الحديث:
حديث حسن
حدیث نمبر: 5083
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِيَّاكُمْ وَالْخَيْلَ الْمُنَفَّلَةَ فَإِنَّهَا إِنْ تَلْقَ تَفِرَّ وَإِنْ تَغْنَمْ تَغْلُلْ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم ان گھوڑوں سے بچو، جو اپنے مالکوں کے لیے غنیمت کا سبب بنتے ہیں، کیونکہ ایسی صورت میں اگر تیرا مقابلہ ہو گا تو تو بھاگ جائے گا اور اگر تو غنیمت حاصل کرے گا تو خیانت کرے گا۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 5083]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، ابن لھيعة سيي الحفظ، وأبوه لھيعة بن عقبة مستور، أخرجه موقوفا ابن ماجه: 2829، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8661»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ تم ان لوگوں میں سے نہ ہو جاؤ، جن کا لڑائی لڑنے کا مقصد غنیمت اور مال وغیرہ کا حصول ہوتا ہے۔
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
حدیث نمبر: 5084
عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ قَالَ سَمِعْتُ رَجُلًا مِنْ بَنِي لَيْثٍ قَالَ أَسَرَنِي فَارِسٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَكُنْتُ مَعَهُمْ فَأَصَابُوا غَنَمًا فَانْتَهَبُوهَا فَطَبَخُوهَا قَالَ فَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ النُّهْبَى أَوِ النُّهْبَةَ لَا تَصْلُحُ فَاكْفِئُوا الْقُدُورَ
۔ سماک بن حرب سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: بنو لیث کے ایک آدمی نے مجھے بیان کرتے ہوئے کہا: صحابۂ کرام کے گھوڑ سواروں نے مجھے قید کر لیا، میں ان کے ساتھ تھا، انھوں نے بکریاں دیکھ کر لوٹ مار کی اور ان کو پکانا شروع کر دیا، لیکن (جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پہنچے تو) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوٹ مار درست نہیں ہے، لہذا ہنڈیوں کو انڈیل دو۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 5084]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه ابن ماجه: 3938، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23116 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23504»
وضاحت: فوائد: … یہ بکریاں مجاہدین کا حق تھیں، لیکن لوٹ مار کی صورت میں تقسیم حق کے مطابق نہیں ہوتی، طاقت و قوت کے مطابق ہوتی ہے، جو جتنا قوی ہو گا، وہ اس قدر زیادہ لوٹ مار کرے گا، اس طرح بعض کے حصوں میں کمی آ جائے گی اور بعض کے حصوں میں زیادتی، جبکہ شرکت کرنے والے مجاہدین کے حصے مقرر ہیں کہ سوار کو اتنا ملے گا اور پیادہ کواتنا، سو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہنڈیوں کو انڈیلنے کا حکم دے دیا۔
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
45. أَبْوَابُ الْمَنَّ وَالْفِدَاءِ فِي حَقِّ الْأَسْرَى وَأَحْكَامِ تَتَعَلَّقُ بِهِمْ¤ بَابُ فِي الْمَنُ عَلَى وَفُوْدِ هَوَازَنَ بِأَسْرَاهُمْ
قیدیوں کے حق میں احسان کرنے، ان سے فدیہ لینے اور ان سے متعلقہ دوسرے احکام کے ابواب¤ہوازن کے وفود پر ان کے قیدیوں کے معاملے میں احسان کرنے کا باب
حدیث نمبر: 5085
عَنْ عَمِّهِ قَالَ وَزَعَمَ عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ أَنَّ مَرْوَانَ وَالْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ أَخْبَرَاهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَامَ حِينَ جَاءَهُ وَفْدُ هَوَازِنَ مُسْلِمِينَ فَسَأَلُوا أَنْ يَرُدَّ إِلَيْهِمْ أَمْوَالَهُمْ وَسَبْيَهُمْ فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَعِي مَنْ تَرَوْنَ وَأَحَبُّ الْحَدِيثِ إِلَيَّ أَصْدَقُهُ فَاخْتَارُوا إِحْدَى الطَّائِفَتَيْنِ إِمَّا السَّبْيَ وَإِمَّا الْمَالَ وَقَدْ كُنْتُ اسْتَأْنَيْتُ بِكُمْ وَكَانَ أَنْظَرَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِضْعَ عَشْرَةَ لَيْلَةً حِينَ قَفَلَ مِنَ الطَّائِفِ فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ غَيْرُ رَادٍّ إِلَيْهِمْ إِلَّا إِحْدَى الطَّائِفَتَيْنِ قَالُوا فَإِنَّا نَخْتَارُ سَبْيَنَا فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي الْمُسْلِمِينَ فَأَثْنَى عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ ثُمَّ قَالَ أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّ إِخْوَانَكُمْ قَدْ جَاءُوا تَائِبِينَ وَإِنِّي قَدْ رَأَيْتُ أَنْ أَرُدَّ إِلَيْهِمْ سَبْيَهُمْ فَمَنْ أَحَبَّ مِنْكُمْ أَنْ يُطَيِّبَ ذَلِكَ فَلْيَفْعَلْ وَمَنْ أَحَبَّ مِنْكُمْ أَنْ يَكُونَ عَلَى حَظِّهِ حَتَّى نُعْطِيَهُ إِيَّاهُ مِنْ أَوَّلِ مَا يُفِيءُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْنَا فَلْيَفْعَلْ فَقَالَ النَّاسُ قَدْ طَيَّبْنَا |ا ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّا لَا نَدْرِي مَنْ أَذِنَ مِنْكُمْ فِي ذَلِكَ مِمَّنْ لَمْ يَأْذَنْ فَارْجِعُوا حَتَّى يَرْفَعَ إِلَيْنَا عُرَفَاؤُكُمْ أَمْرَكُمْ فَجَمَعَ النَّاسُ فَكَلَّمَهُمْ عُرَفَاؤُهُمْ ثُمَّ رَجَعُوا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرُوهُ أَنَّهُمْ قَدْ طَيَّبُوا وَأَذِنُوا هَذَا الَّذِي بَلَغَنِي عَنْ سَبْيِ هَوَازِنَ
۔ عروہ بن زبیر بیان کرتے ہیں کہ مروان اور سیدنا مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ نے ان کو بیان کیا کہ جب ہوازن کا وفد مطیع ہوکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے مال اور قیدی ان کو لوٹا دیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: میرے ساتھ جو لوگ ہیں، تم ان کو دیکھ رہے ہو، (یہ غنیمت ان کا حق ہے)، اور میرے نزدیک سب سے پسندیدہ بات سچی ہے، لہذا تم دو چیزوں میں ایک کو پسند کر لو اور وہ اس طرح کہ قیدی لے لو یا مال، میں نے تمہاری وجہ سے ہی تقسیم کرنے میں تاخیر کی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے طائف سے لوٹنے کے بعد پندرہ سولہ دنوں تک ان کا انتظار کیا تھا، جب ان کے لیے واضح ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو ایک چیز ہی دینی ہے تو انھوں نے کہا: جی ہم اپنے قیدیوں کو ترجیح دے گے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسلمانوں میں کھڑے ہوئے، اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی، جو اس کے شایانِ شان تھی اور پھر فرمایا: أَمَّـا بَعْـدُ! یہ تمہارے بھائی نادم ہو کر تمہارے پاس آئے ہیں اور میں نے مناسب سمجھا کہ ان کے قیدی ان کو واپس کر دیئے جائیں، جو آدمی اپنی خوشی سے ایسا کرنا چاہتا ہے، وہ میرے فیصلے کو قبول کر لے اور جو آدمی اپنا حصہ لینا چاہے تو ہم اس کے عوض اس کو اس مال میں سے دے دیں گے، جو اللہ تعالیٰ سب سے پہلے ہم کو عطا کرے گا، ایسا شخص بھی اپنے فیصلے کا اظہار کر دے۔ لوگوں نے کہا: ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خاطر اسی فیصلے کو خوشی سے قبول کیا ہے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہمیں علم نہیں ہو رہا ہے کہ تم میں کون اجازت دے رہا ہے اور کون نہیں دے رہا، لہذا تم لوٹ جاؤ اور تمہارے سردار تمہاری رضامندی کے بارے میں ہمیں بتائیں۔ پس انھوں نے لوگوں کو جمع کیا، ہر ایک قبیلے سے اس کے سردار نے بات کی اور پھر انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بتلایا کہ لوگ واقعی اپنی خوشی سے آپ کے فیصلے کو قبول کر رہے ہیں اور اجازت دے رہے ہیں، یہ وہ بات ہے، جو ہوازن کے قیدیوں کے بارے میں مجھے معلوم ہوئی ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 5085]
تخریج الحدیث: «أخرجه بتمامه ومختصرا البخاري: 2307، 2308، 2539، 2540، 2583، 2608، 3131، 4319، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18914) ق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 29121»
وضاحت: فوائد: … ہوازن کا وفد، یہ وہی لوگ تھے، جو غزوۂ حنین میں مسلمانوں کے ساتھ لڑے تھے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه بتمامه ومختصرا البخاري: 2307
حدیث نمبر: 5086
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ أَعْطَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ جَارِيَةً مِنْ سَبْيِ هَوَازِنَ فَوَهَبَهَا لِي فَبَعَثْتُ بِهَا إِلَى أَخْوَالِي مِنْ بَنِي جُمَحٍ لِيُصْلِحُوا لِي مِنْهَا حَتَّى أَطُوفَ بِالْبَيْتِ ثُمَّ آتِيَهُمْ وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ أُصِيبَهَا إِذَا رَجَعْتُ إِلَيْهَا قَالَ فَخَرَجْتُ مِنَ الْمَسْجِدِ حِينَ فَرَغْتُ فَإِذَا النَّاسُ يَشْتَدُّونَ فَقُلْتُ مَا شَأْنُكُمْ قَالُوا رَدَّ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَبْنَاءَنَا وَنِسَاءَنَا قَالَ قُلْتُ تِلْكَ صَاحِبَتُكُمْ فِي بَنِي جُمَحٍ فَاذْهَبُوا فَخُذُوهَا فَذَهَبُوا فَأَخَذُوهَا
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو ہوازن کے قیدیوں میں سے ایک لونڈی دی اور انھوں نے وہ مجھے عطا کر دی، میں نے اس کو بنو جمح والے اپنے ماموؤں کی طرف بھیجا، تاکہ وہ اس کو تیار کریں اور میں اِدھر طواف کر لوں، پھر میں ان کے پاس چلا جاؤں گا، جبکہ میں لوٹ کر اس سے جماع کرنے کا ارادہ رکھتا تھا، لیکن جب میں فارغ ہو کر مسجد سے نکلا اور ہوازن کے لوگوں کو دوڑتے ہوئے دیکھا تو میں نے کہا: تم لوگوں کو کیا ہو گیا ہے؟ انھوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمارے بیٹے اور عورتیں ہمیں واپس کر دیئے ہیں، میں نے کہا: تو پھر تمہاری ایک خاتون بنو جمح قبیلے میں ہے، جاؤ اور اس کو بھی لے لو، پس وہ گئے اور اس خاتون کو بھی اپنے ساتھ لے لیا۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 5086]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5374 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5374»
الحكم على الحديث:
اسناده حسن
46. باب فِي أَسْرِ الْعَبَّاسِ رضی اللہ عنہ مَا وَفِدْيَتِهِ وَفِيهِ مُعْجِرَةٌ لِلنَّبِي صلَّى اللهُ عَليهِ وسَلمَ
سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کی قید اور فدیے اور اس معاملے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ایک معجزے کا بیان
حدیث نمبر: 5087
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ كَانَ الَّذِي أَسَرَ الْعَبَّاسَ بْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ أَبُو الْيَسَرِ بْنُ عَمْرٍو وَهُوَ كَعْبُ بْنُ عَمْرٍو أَحَدُ بَنِي سَلِمَةَ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَيْفَ أَسَرْتَهُ يَا أَبَا الْيَسَرِ قَالَ لَقَدْ أَعَانَنِي عَلَيْهِ رَجُلٌ مَا رَأَيْتُهُ بَعْدُ وَلَا قَبْلُ هَيْئَتُهُ كَذَا هَيْئَتُهُ كَذَا قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَقَدْ أَعَانَكَ عَلَيْهِ مَلَكٌ كَرِيمٌ وَقَالَ لِلْعَبَّاسِ يَا عَبَّاسُ افْدِ نَفْسَكَ وَابْنَ أَخِيكَ عَقِيلَ بْنَ أَبِي طَالِبٍ وَنَوْفَلَ بْنَ الْحَارِثِ وَحَلِيفَكَ عُتْبَةَ بْنَ جَحْدَمٍ أَحَدَ بَنِي الْحَارِثِ بْنِ فِهْرٍ قَالَ فَأَبَى وَقَالَ إِنِّي كُنْتُ مُسْلِمًا قَبْلَ ذَلِكَ وَإِنَّمَا اسْتَكْرَهُونِي قَالَ اللَّهُ أَعْلَمُ بِشَأْنِكَ إِنْ يَكُ مَا تَدَّعِي حَقًّا فَاللَّهُ يَجْزِيكَ بِذَلِكَ وَأَمَّا ظَاهِرُ أَمْرِكَ فَقَدْ كَانَ عَلَيْنَا فَافْدِ نَفْسَكَ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَخَذَ مِنْهُ عِشْرِينَ أُوقِيَّةَ ذَهَبٍ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ احْسُبْهَا لِي مِنْ فِدَايَ قَالَ لَا ذَاكَ شَيْءٌ أَعْطَانَاهُ اللَّهُ مِنْكَ قَالَ فَإِنَّهُ لَيْسَ لِي مَالٌ قَالَ فَأَيْنَ الْمَالُ الَّذِي وَضَعْتَهُ بِمَكَّةَ حَيْثُ خَرَجْتَ عِنْدَ أُمِّ الْفَضْلِ وَلَيْسَ مَعَكُمَا أَحَدٌ غَيْرُكُمَا فَقُلْتَ إِنْ أُصِبْتُ فِي سَفَرِي هَذَا فَلِلْفَضْلِ كَذَا وَلِقُثَمَ كَذَا وَلِعَبْدِ اللَّهِ كَذَا قَالَ فَوَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا عَلِمَ بِهَذَا أَحَدٌ مِنَ النَّاسِ غَيْرِي وَغَيْرُهَا وَإِنِّي لَأَعْلَمُ أَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ سیدنا عباس بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ کو قید کرنے والے بنو سلمہ کے آدمی سیدنا ابویسر کعب بن عمرو رضی اللہ عنہ تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: اے ابو الیسر! تم نے ان کو کیسے قید کر لیا؟ انھوں نے کہا: ایک ایسے آدمی نے میری مدد کی تھی، کہ میں نے نہ اس سے پہلے اور نہ اس کے بعد اُس جیسا آدمی دیکھا، ایسے ایسے اس کی ہیئت تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک عزت والے فرشتے نے تیری مدد کی تھی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ سے کہا: اے عباس! اب اپنا، اپنے بھتیجے عقیل بن ابی طالب کا، نوفل بن حارث کا، اور بنو حارث والے اپنے حلیف عتبہ بن جحدم کا فدیہ دو۔ لیکن انھوں نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا اور کہا: میں تو اس سے پہلے مسلمان ہو چکا تھا، ان لوگوں نے مجھے مجبور کیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ ہی تمہارے معاملے کو بہتر جانتا ہے، جو کچھ تم کہہ رہے ہو، اگر یہ بات سچی ہوئی تو اللہ تعالیٰ تم کو اس کا بدلہ دے دے گا، رہا مسئلہ ظاہری معاملے کا تو وہ تو یہی لگ رہا ہے کہ تم ہمارے خلاف تھے لہٰذا اپنے نفس کا فدیہ ادا کرو۔ اُدھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے بیس اوقیہ کے وزن کے برابر سونا لیا تھا، اس لیے انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس سونے کا میرے فدیے میں شمار کر لو، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں، ایسے نہیں ہو گا، کیونکہ وہ تو ایسی چیز ہے، جو اللہ تعالیٰ نے ہمیں تمہاری طرف سے دلائی ہے۔ انھوں نے کہا: تو پھر میرے پاس مال نہیں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ مال کہاں ہے، جو تم نے مکہ سے نکلتے وقت مکہ میں ام فضل کے پاس رکھا اور اس وقت صرف تم دو تھے، کوئی اور آدمی تمہارے ساتھ نہیں تھا، تم نے ام فضل سے کہا تھا: اگر اس سفر میں مجھے موت آ گئی تو اتنا فضل کے لیے ہے، اتنا قُثَم کے لیے ہے اور اتنا عبد اللہ کے لیے ہے؟ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا! میرے اور ام فضل کے علاوہ کسی آدمی کو اس چیز کا علم نہیں تھا اور بیشک میں جانتا ہوں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 5087]
تخریج الحدیث: «حسن، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3310 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3310»
وضاحت: فوائد: … سیدنا عباس رضی اللہ عنہ قوی اور پررعب شخصیت تھے، جبکہ سیدنا ابوا لیسر رضی اللہ عنہ کمزور اور چھوٹے جسم والے تھے، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سوال کیا تھا کہ انھوں نے ان کو کیسے قید کر لیا۔
الحكم على الحديث:
حسن
حدیث نمبر: 5088
عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنِ الْبَرَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَوْ غَيْرِهِ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ بِالْعَبَّاسِ قَدْ أَسَرَهُ فَقَالَ الْعَبَّاسُ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَيْسَ هَذَا أَسَرَنِي أَسَرَنِي رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ أَنْزَعُ مِنْ هَيْئَتِهِ كَذَا وَكَذَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِلرَّجُلِ لَقَدْ آزَرَكَ اللَّهُ بِمَلَكٍ كَرِيمٍ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ سیدنا عباس بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ کو قید کرنے والے بنو سلمہ کے آدمی سیدنا ابویسر کعب بن عمرو رضی اللہ عنہ تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: اے ابو الیسر! تم نے ان کو کیسے قید کر لیا؟ انھوں نے کہا: ایک ایسے آدمی نے میری مدد کی تھی، کہ میں نے نہ اس سے پہلے اور نہ اس کے بعد اُس جیسا آدمی دیکھا، ایسے ایسے اس کی ہیئت تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک عزت والے فرشتے نے تیری مدد کی تھی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ سے کہا: اے عباس! اب اپنا، اپنے بھتیجے عقیل بن ابی طالب کا، نوفل بن حارث کا، اور بنو حارث والے اپنے حلیف عتبہ بن جحدم کا فدیہ دو۔ لیکن انھوں نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا اور کہا: میں تو اس سے پہلے مسلمان ہو چکا تھا، ان لوگوں نے مجھے مجبور کیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ ہی تمہارے معاملے کو بہتر جانتا ہے، جو کچھ تم کہہ رہے ہو، اگر یہ بات سچی ہوئی تو اللہ تعالیٰ تم کو اس کا بدلہ دے دے گا، رہا مسئلہ ظاہری معاملے کا تو وہ تو یہی لگ رہا ہے کہ تم ہمارے خلاف تھے لہٰذا اپنے نفس کا فدیہ ادا کرو۔ اُدھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے بیس اوقیہ کے وزن کے برابر سونا لیا تھا، اس لیے انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس سونے کا میرے فدیے میں شمار کر لو، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں، ایسے نہیں ہو گا، کیونکہ وہ تو ایسی چیز ہے، جو اللہ تعالیٰ نے ہمیں تمہاری طرف سے دلائی ہے۔ انھوں نے کہا: تو پھر میرے پاس مال نہیں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ مال کہاں ہے، جو تم نے مکہ سے نکلتے وقت مکہ میں ام فضل کے پاس رکھا اور اس وقت صرف تم دو تھے، کوئی اور آدمی تمہارے ساتھ نہیں تھا، تم نے ام فضل سے کہا تھا: اگر اس سفر میں مجھے موت آ گئی تو اتنا فضل کے لیے ہے، اتنا قُثَم کے لیے ہے اور اتنا عبد اللہ کے لیے ہے؟ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا! میرے اور ام فضل کے علاوہ کسی آدمی کو اس چیز کا علم نہیں تھا اور بیشک میں جانتا ہوں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 5088]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، تفرد به ابو احمد الزبيري عن سفيان وھو كثير الخطأ عنه، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18499 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18693»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
47. بَابُ فِيْمَنِ افْتَدَى آبَاهُ بِأَرْبَعَةِ آلَافٍ دِرْهَم
اس آدمی کا بیان جس نے اپنے باپ کے فدیے میں چار ہزار درہم دیئے
حدیث نمبر: 5089
عَنْ عِكْرِمَةَ قَالَ قَالَ أَبُو رَافِعٍ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كُنْتُ غُلَامًا لِلْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ وَكَانَ الْإِسْلَامُ قَدْ دَخَلَنَا فَأَسْلَمْتُ وَأَسْلَمَتْ أُمُّ الْفَضْلِ وَكَانَ الْعَبَّاسُ قَدْ أَسْلَمَ وَلَكِنَّهُ كَانَ يَهَابُ قَوْمَهُ وَكَانَ يَكْتُمُ إِسْلَامَهُ وَكَانَ أَبُو لَهَبٍ عَدُوُّ اللَّهِ قَدْ تَخَلَّفَ عَنْ بَدْرٍ وَبَعَثَ مَكَانَهُ الْعَاصَ بْنَ هِشَامِ بْنِ الْمُغِيرَةِ وَكَذَلِكَ كَانُوا صَنَعُوا لَمْ يَتَخَلَّفْ رَجُلٌ إِلَّا بَعَثَ مَكَانَهُ رَجُلًا فَلَمَّا جَاءَنَا الْخَبَرُ كَبَتَهُ اللَّهُ وَأَخْزَاهُ وَوَجَدْنَا أَنْفُسَنَا قُوَّةً فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَمِنْ هَذَا الْمَوْضُوعِ فِي كِتَابِ يَعْقُوبَ مُرْسَلٌ لَيْسَ فِيهِ إِسْنَادٌ وَقَالَ فِيهِ أَخُو بَنِي سَالِمِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ وَكَانَ فِي الْأُسَارَى أَبُو وَدَاعَةَ بْنُ صُبَيْرَةَ السَّهْمِيُّ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ لَهُ بِمَكَّةَ ابْنًا كَيِّسًا تَاجِرًا ذَا مَالٍ لَكَأَنَّكُمْ بِهِ قَدْ جَاءَنِي فِي فِدَاءِ أَبِيهِ وَقَدْ قَالَتْ قُرَيْشٌ لَا تَعْجَلُوا بِفِدَاءِ أُسَارَاكُمْ لَا يَتَأَرَّبُ عَلَيْكُمْ مُحَمَّدٌ وَأَصْحَابُهُ فَقَالَ الْمُطَّلِبُ بْنُ أَبِي وَدَاعَةَ صَدَقْتُمْ فَافْعَلُوا وَانْسَلَّ مِنَ اللَّيْلِ فَقَدِمَ الْمَدِينَةَ وَأَخَذَ أَبَاهُ بِأَرْبَعَةِ آلَافِ دِرْهَمٍ فَانْطَلَقَ بِهِ وَقَدِمَ مِكْرَزُ بْنُ حَفْصِ بْنِ الْأَخْيَفِ فِي فِدَاءِ سُهَيْلِ بْنِ عَمْرٍو وَكَانَ الَّذِي أَسَرَهُ مَالِكُ بْنُ الدُّخْشُنِ أَخُو بَنِي مَالِكِ بْنِ عَوْفٍ
۔ عکرمہ سے مروی ہے کہ مولائے رسول سیدنا ابو رافع رضی اللہ عنہ نے کہا: میں سیدنا عباس بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ کا غلام تھا، اسلام ہمارے اندر داخل ہو چکا تھا، میں بھی مسلمان ہو گیا تھا، سیدہ ام فضل رضی اللہ عنہا بھی مسلمان ہو گئی تھیں اور سیدنا عباس رضی اللہ عنہ بھی مشرف باسلام ہو چکے تھے، البتہ وہ اپنی قوم سے ڈرتے تھے، اس لیے وہ اپنے اسلام کو چھپاتے تھے، اللہ کا دشمن ابو لہب غزوۂ بدر سے پیچھے رہ گیا تھا اور اس نے اپنی جگہ پر عاص بن ہشام بن مغیرہ کو بھیجا تھا، انھوں نے ایسے ہی کیا تھا کہ جو آدمی خود حاضر نہ ہو سکا، اس نے اپنی جگہ پر ایک جنگجو دیا، جب ہمارے پاس خیر والی بات پہنچی (کہ بدر کی لڑائی میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فتح حاصل کی ہے) اور اللہ تعالیٰ نے دشمن کو ذلیل اور رسوا کیا تو ہم نے اپنے اندر محسوس کیا کہ ہم قوی ہو گئے ہیں …، پھر انھوں نے پوری حدیث ذکر کی …، اسی موضوع کی کچھ باتیں یعقوب کی کتاب میں ہیں، لیکن وہ مرسل ہیں اور ان کی کوئی سند نہیں ہے، بہرحال بنو سالم کے بھائی نے کہا: قیدیوں میں ابو وداعہ بن صبیرہ سہمی بھی تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے بارے میں فرمایا: اس کا مکہ میں ایک عقل مند تاجر بیٹا ہے، وہ بڑا مال دار ہے، لگتا ہے کہ وہ اپنے باپ کا فدیہ لے کر میرے پاس آئے گا۔ جبکہ اُدھر قریشیوں نے کہا: اپنے قیدیوں کا فدیہ ادا کرنے میں جلدی نہ کرو، تاکہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور اس کے ساتھی تم سے فدیہ لینے میں زیادتی نہ کریں، اسی تاجر مطلب بن ابو وداعہ نے کہا: تم لوگ سچ کہہ رہے ہو، اسی طرح کرو، لیکن وہ خود چپکے سے رات کو نکل پڑا اور مدینہ منورہ پہنچ گیا اور چار ہزار درہم کا فدیہ دے کر اپنے باپ کو رہا کرا لیا، پھر وہ اس کو لے کر چلا گیا اور مکرز بن حفص،سہیل بن عمرو کا فدیہ لے کر پہنچ گیا، بنو مالک بن عوف کے ایک بھائی مالک بن دخشن نے اس کو قید کیا تھا۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 5089]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، حسين بن عبد الله متروك، ثم ھو منقطع، فان عكرمة لم يدرك ابا رافع، أخرجه الحاكم: 3/ 323، والبزار: 3866، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23864 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24365»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
48. باب قصة رعية السحيمى وأسر ولده وَأَخْذِ مَالِهِ وَالْمَنْ عَلَيْهِ بَعْدَ إِسْلَامِهِ بِرَدُ وَلَدِهِ إِلَيْهِ
سیدنا رعیہ سحیمی رضی اللہ عنہ کا واقعہ، اس کی اولاد کا قیدی ہو جانا، اس کے مال کا چھن جانا اور¤اس کے قبولیت ِ اسلام کے بعد اس کا بیٹا اس کو واپس کر کے اس پر احسان کرنا
حدیث نمبر: 5090
عَنْ رِعْيَةَ السُّحَيْمِيِّ قَالَ كَتَبَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي أَدِيمٍ أَحْمَرَ فَأَخَذَ كِتَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَرَقَعَ بِهِ دَلْوَهُ فَبَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سَرِيَّةً فَلَمْ يَدَعُوا لَهُ رَائِحَةً وَلَا سَارِحَةً وَلَا أَهْلًا وَلَا مَالًا إِلَّا أَخَذُوهُ وَانْفَلَتَ عُرْيَانًا عَلَى فَرَسٍ لَهُ لَيْسَ عَلَيْهِ قِشْرَةٌ حَتَّى يَنْتَهِيَ إِلَى ابْنَتِهِ وَهِيَ مُتَزَوِّجَةٌ فِي بَنِي هِلَالٍ وَقَدْ أَسْلَمَتْ وَأَسْلَمَ أَهْلُهَا وَكَانَ مَجْلِسُ الْقَوْمِ بِفِنَاءِ بَيْتِهَا فَدَارَ حَتَّى دَخَلَ عَلَيْهَا مِنْ وَرَاءِ الْبَيْتِ قَالَ فَلَمَّا رَأَتْهُ أَلْقَتْ عَلَيْهِ ثَوْبًا قَالَتْ مَا لَكَ قَالَ كُلُّ الشَّرِّ نَزَلَ بِأَبِيكِ مَا تُرِكَ لَهُ رَائِحَةٌ وَلَا سَارِحَةٌ وَلَا أَهْلٌ وَلَا مَالٌ إِلَّا وَقَدْ أُخِذَ قَالَتْ دُعِيتَ إِلَى الْإِسْلَامِ قَالَ أَيْنَ بَعْلُكِ قَالَتْ فِي الْإِبِلِ قَالَ فَأَتَاهُ فَقَالَ مَا لَكَ قَالَ كُلُّ الشَّرِّ قَدْ نَزَلَ بِهِ مَا تُرِكَتْ لَهُ رَائِحَةٌ وَلَا سَارِحَةٌ وَلَا أَهْلٌ وَلَا مَالٌ إِلَّا وَقَدْ أُخِذَ وَأَنَا أُرِيدُ مُحَمَّدًا أُبَادِرُهُ قَبْلَ أَنْ يُقَسِّمَ أَهْلِي وَمَالِي قَالَ فَخُذْ رَاحِلَتِي بِرَحْلِهَا قَالَ لَا حَاجَةَ لِي فِيهَا قَالَ فَأَخَذَ قَعُودَ الرَّاعِي وَزَوَّدَهُ إِدَاوَةً مِنْ مَاءٍ قَالَ وَعَلَيْهِ ثَوْبٌ إِذَا غَطَّى بِهِ وَجْهَهُ خَرَجَتْ أَسْتُهُ وَإِذَا غَطَّى أَسْتَهُ خَرَجَ وَجْهُهُ وَهُوَ يَكْرَهُ أَنْ يُعْرَفَ حَتَّى انْتَهَى إِلَى الْمَدِينَةِ فَعَقَلَ رَاحِلَتَهُ ثُمَّ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَكَانَ بِحِذَائِهِ حَيْثُ يُصَلِّي فَلَمَّا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْفَجْرَ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ابْسُطْ يَدَيْكَ فَلْأُبَايِعْكَ فَبَسَطَهَا فَلَمَّا أَرَادَ أَنْ يَضْرِبَ عَلَيْهَا قَبَضَهَا إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَفَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ذَلِكَ ثَلَاثًا قَبَضَهَا إِلَيْهِ وَيَفْعَلُهُ فَلَمَّا كَانَتِ الثَّالِثَةُ قَالَ مَنْ أَنْتَ قَالَ رِعْيَةُ السُّحَيْمِيُّ قَالَ فَتَنَاوَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَضُدَهُ ثُمَّ رَفَعَهُ ثُمَّ قَالَ يَا مَعْشَرَ الْمُسْلِمِينَ هَذَا رِعْيَةُ السُّحَيْمِيُّ الَّذِي كَتَبْتُ إِلَيْهِ فَأَخَذَ كِتَابِي فَرَقَعَ بِهِ دَلْوَهُ فَأَخَذَ يَتَضَرَّعُ إِلَيْهِ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَهْلِي وَمَالِي قَالَ أَمَّا مَالُكَ فَقَدْ قُسِّمَ وَأَمَّا أَهْلُكَ فَمَنْ قَدَرْتَ عَلَيْهِ مِنْهُمْ فَخَرَجَ فَإِذَا ابْنُهُ قَدْ عَرَفَ الرَّاحِلَةَ وَهُوَ قَائِمٌ عِنْدَهَا فَرَجَعَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ هَذَا ابْنِي فَقَالَ يَا بِلَالُ اخْرُجْ مَعَهُ فَسَلْهُ أَبُوكَ هَذَا فَإِنْ قَالَ نَعَمْ فَادْفَعْهُ إِلَيْهِ فَخَرَجَ بِلَالٌ إِلَيْهِ فَقَالَ أَبُوكَ هَذَا قَالَ نَعَمْ فَرَجَعَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا رَأَيْتُ أَحَدًا اسْتَعْبَرَ إِلَى صَاحِبِهِ فَقَالَ ذَاكَ جَفَاءُ الْأَعْرَابِ
۔ رعیہ سحمی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سرخ چمڑے کے ٹکڑے پر میری طرف خط لکھا، میں نے وہ خط لیا اور اس کے ساتھ اپنے ڈول کو مرمت کر لیا، اُدھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک لشکر روانہ کیا، اس لشکر نے نہ میرے اونٹ چھوڑے، نہ مویشی، نہ اہل اور نہ مال، بلکہ سب کچھ لے لیا، میں اپنے گھوڑے پر سوار ہو کر ننگی حالت میں بھاگ گیا، مجھ پر کوئی کپڑا نہیں تھا، یہاں تک کہ میں اپنی بیٹی کے پاس پہنچ گیا، بنو ہلال میں اس کی شادی ہوئی ہوئی تھی، وہ اور اس کے گھر والے مسلمان ہو چکے تھے اور لوگ اسی کے گھر کے صحن میں مجلس لگا کر بیٹھے ہوئے تھے، پس میں گھوما اور گھر کے پیچھے سے اپنی بیٹی پر داخل ہوا، جب اس نے مجھے دیکھا تو مجھ پر کپڑے ڈالے اور کہا: آپ کو کیا ہوا ہے؟ میں نے کہا: ہر قسم کا شرّ تیرے باپ پر ٹوٹ پڑا ہے، نہ اونٹ بچے ہیں، نہ مویشی، نہ اہل اور نہ مال، بلکہ ہر چیز چھین لی گئی ہے، بیٹی نے کہا: آپ کو اسلام کی دعوت تو نہیں دی گئی؟ میں نے آگے سے کہا: تیرا خاوند کہاں ہے؟ اس نے کہا: اونٹوں میں ہے، پس میں ا س کے پاس پہنچا اور اس نے مجھ سے کہا: آپ کو کیا ہوا ہے؟ میں نے کہا: ہر قسم کا شرّ مجھ پر ٹوٹ پڑا ہے، میرے اونٹ، مویشی، اہل اور مال، بس سب کچھ مجھ سے چھین لیا گیا ہے اور میں محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس جلدی جلدی پہنچنا چاہتا ہوں، تاکہ وہ میرے پہنچنے سے پہلے میرے اہل و مال کو تقسیم نہ کر دیں، اس نے کہا: یہ میرے اونٹنی کجاوے سمیت ہے، تم یہ لے لو، میں نے کہا: اس کی مجھے کوئی ضرورت نہیں ہے، پھر اس نے چرواہے کا اونٹ لیا اور چمڑے کے چھوٹے مشکیزے میں پانی ڈال کر بطورِ زادِ راہ دیا۔ مجھ پر اتنا کپڑا تھا کہ اگر اس سے سر ڈھانپتا تو سرین ننگے ہو جاتے اور اگر سرین پر پردہ کرتا تو چہرہ ننگا ہو جاتا، جبکہ میں چاہتا یہ تھا کہ کوئی آدمی مجھے پہچان نہ سکے، بہرحال میں مدینہ منورہ پہنچ گیا، سواری کو باندھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پا س گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے آ کر ٹھہر گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز فجر سے فارغ ہوئے تو میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ ہاتھ پھیلائیں، میں آپ کی بیعت کرنا چاہتا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہاتھ پھیلایا، لیکن جب میں نے ہاتھ پر ہاتھ مارنا چاہا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا ہاتھ بند کر لیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین بار ایسے ہی کیا، پھر تیسری بار آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو ہے کون؟ میں نے کہا: جی میں رعیہ سحیمی ہوں، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرا بازو پکڑ ا اور اس کو بلند کر کے فرمایا: اے مسلمانوں کی جماعت! یہ رعیہ سحیمی ہے، یہ وہی ہے، جس کی طرف میں نے خط لکھا تھا اور اس نے اس خط کے ساتھ اپنا ڈول مرمت کیا تھا۔ پھر منت سماجت کرنے لگا اور کہنے لگا: اے اللہ کے رسول! میرا اہل و مال، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تیرا مال تو تقسیم ہو چکا ہے، البتہ اپنے اہل میں سے جو افراد لے سکتا ہے، وہ لے لے۔ پس میں وہاں سے نکلا اور میرے بیٹے نے میری سواری کو پہچان لیا اور وہ اس کے پاس ہی کھڑا تھا، پس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف لوٹا اور کہا: یہ میرا بیٹا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے بلال! تم جاؤ اور اس بچے سے پوچھو کہ کیا اس کا باپ یہی ہے، اگر وہ مثبت جواب دے تو اس کو اس کے حوالے کر دینا۔ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ اس بچے کی طرف گئے اور اس سے پوچھا: یہ تیرا باپ ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں، پس وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف لوٹے اور کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے اس باپ اور بیٹے میں کسی کو نہیں دیکھا کہ اس نے دوسرے کو ملتے وقت آنسو بہائے ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ بدوؤں کی اکھڑ مزاجی اور سختی ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 5090]
تخریج الحدیث: «رجاله ثقات، رجال الشيخين، لكنه منقطع، لم يصرح الشعبي بالسماع من رعية، أخرجه الطبراني في الكبير: 6435، وابن ابي شيبة: 14/ 344، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22466 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22833»
وضاحت: فوائد: … اے مسلمانوں کی جماعت! یہ رعیہ سحیمی ہے، یہ وہی ہے …۔ اس آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خط کے ساتھ جو کاروائی کی تھی، اس وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس پر غصہ تھا، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کو بتلانا چاہا کہ اس کا انجام یہ ہوا ہے۔
الحكم على الحديث:
رجاله ثقات
حدیث نمبر: 5091
- (وَمِنْ طَرِيقِ ثَانِ) عَنْ أَبِي عَمْرِو نِ الشَّيْبَانِي بِنَحْوِهِ مُخْتَصِرًا وَفِي آخِرِهِ: قَالَ سُفْيَانُ: يَرَوْنَ أَنَّهُ أَسْلَمَ قَبْلَ أَنْ يُغَارَ عَلَيْهِ -
۔ (دوسری سند) اسی طرح کا متن ہے، البتہ مختصر ہے اور اس کے آخر میں ہے: ان کا خیال ہے کہ یہ شخص اپنے اوپر حملہ ہونے سے پہلے مسلمان ہو چکا تھا۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 5091]
تخریج الحدیث: «ھذا الحديث مختصر مما قبله، رجاله ثقات رجال الشيخين، غير راوي الحديث رعية السحيمي، فانه لا يعرف الا في ھذا الحديث، وابو عمرو الشيباني من مخضرمي التابعين، فادراكه لرعية محتمل جدا، لكن لم يصرح بسماعه منه، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة:22465 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22832»
الحكم على الحديث:
ھذا الحديث مختصر مما قبله