🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
53. باب الاسِيرِ يَدَّعِى الْإِسْلَامَ قَبْلَ الْأَسَرِ وَلَهُ شاهِدٌ وَفَضْلُ مَنْ يُسْلِمُ مِنَ الْأَسْرَى
اس قیدی کا بیان جو قید سے پہلے قبولیت ِ اسلام کا دعوی کر دے، نیز اسلام قبول کرنے والے قیدی کی فضیلت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5112
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ اسْتَضْحَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا فَقِيلَ لَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا يُضْحِكُكَ قَالَ قَوْمٌ يُسَاقُونَ إِلَى الْجَنَّةِ مُقَرَّنِينَ فِي السَّلَاسِلِ
۔ سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہنس پڑے، کسی نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا: اے اللہ کے رسول! کس چیز نے آپ کو ہنسا دیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کچھ لوگوں کو اس حال میں جنت کی طرف لایا جا رہا ہے کہ وہ زنجیروں میں جکڑے ہوئے ہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 5112]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه الطبراني في الكبير: 8087، وابوداود في القدر، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22203 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22556»

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5113
عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِالْخَنْدَقِ فَأَخَذَ الْكُرْزِينَ فَحَفَرَ بِهِ فَصَادَفَ حَجَرًا فَضَحِكَ قِيلَ مَا يُضْحِكُ يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ضَحِكْتُ مِنْ نَاسٍ يُؤْتَى بِهِمْ مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ فِي النُّكُولِ يُسَاقُونَ إِلَى الْجَنَّةِ
۔ سیدنا سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں خندق کھودنے کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کلہاڑا پکڑا اور اس سے کھدائی شروع کی، اچانک سامنے پتھر آ گیا، اتنے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہنس پڑے، کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! کس چیز نے آپ کو ہنسا دیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں ان لوگوں کی وجہ سے ہنسا ہوں، جن کو بیڑیاں ڈال کر مشرق سے لایا جا رہا ہے اور ان کو جنت کی طرف چلایا جا رہا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 5113]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، الفضيل بن سليمان ليس بالقوي، أخرجه الطبراني: 5733، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22861 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23249»
وضاحت: فوائد: … جو قیدی قید کی وجہ سے مشرف باسلام ہو جاتا ہے، اس کے لیے وہ قید اور جنگ کسی نعمت ِ عظمی سے کم نہیں ہو گی۔

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
54. بَابُ أَنَّ الْأَسِيرَ إِذَا أَسْلَمَ لَمْ يَزَلْ مِلْكَ لْمُسْلِمِينَ عَنْهُ وَجَوَازِ اسْتِرْقَاقِ الْعَرْبِ
مسلمان ہونے والے قیدی کا مسلمانوں کی ملکیت میں ہی رہنے کا اور عربوں کو غلام بنانے کے جواز کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5114
عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَتْ ثَقِيفٌ حُلَفَاءَ لِبَنِي عُقَيْلٍ فَأَسَرَتْ ثَقِيفُ رَجُلَيْنِ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَسَرَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا مِنْ بَنِي عُقَيْلٍ وَأُصِيبَتْ مَعَهُ الْعَضْبَاءُ فَأَتَى عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي الْوَثَاقِ فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ يَا مُحَمَّدُ فَقَالَ مَا شَأْنُكَ فَقَالَ بِمَ أَخَذْتَنِي بِمَ أَخَذْتَ سَابِقَةَ الْحَاجِّ إِعْظَامًا لِذَلِكَ فَقَالَ أَخَذْتُكَ بِجَرِيرَةِ حُلَفَائِكَ ثَقِيفٍ ثُمَّ انْصَرَفَ عَنْهُ فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ يَا مُحَمَّدُ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَحِيمًا رَفِيقًا فَأَتَاهُ فَقَالَ مَا شَأْنُكَ قَالَ إِنِّي مُسْلِمٌ قَالَ لَوْ قُلْتَهَا وَأَنْتَ تَمْلِكُ أَمْرَكَ أَفْلَحْتَ كُلَّ الْفَلَاحِ ثُمَّ انْصَرَفَ عَنْهُ فَنَادَاهُ يَا مُحَمَّدُ يَا مُحَمَّدُ فَأَتَاهُ فَقَالَ مَا شَأْنُكَ فَقَالَ إِنِّي جَائِعٌ فَأَطْعِمْنِي وَظَمْآنُ فَاسْقِنِي قَالَ هَذِهِ حَاجَتُكَ قَالَ فَفُدِيَ بِالرَّجُلَيْنِ
۔ سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: بنو ثقیف، بنو عُقیل کے حلیف تھے، بنو ثقیف نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دو صحابہ کو قید کر لیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ نے بنو عقیل کا ایک آدمی گرفتار کر لیا، اس کے ساتھ عَضْبَاء نامی اونٹنی بھی پکڑی گئی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب اس قیدی کے پاس آئے، جبکہ وہ بیڑیوں میں جکڑا ہوا تھا تو اس نے کہا: اے محمد! اے محمد! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تیرا کیا معاملہ ہے؟ اس نے کہا: آپ نے مجھے کیوں پکڑا ہے، آپ نے اس اونٹنی کو کیوں پکڑ لیا، جو حاجیوں کے قافلے سے آگے گزر جاتی تھی؟ وہ اس گرفتاری کو بڑا خیال کر رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے تجھے تیر حلیف بنو ثقیف کے جرم میں پکڑا ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس سے پھر گئے، لیکن اس نے پھر کہا: اے محمد! اے محمد! چونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رحم دل اور نرم تھے، اس لیے اس کے پاس آ گئے اور اس سے پوچھا: تجھے کیا ہو گیا ہے؟ اس نے کہا: میں مسلمان ہو گیا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تو یہ بات اس وقت کرتا، جب تو اپنے معاملے کامالک اور آزاد تھا تو تو مکمل طور پر کامیاب ہو جاتا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چلے گئے، اس نے پھر آواز دی: اے محمد! اے محمد! پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے پاس تشریف لائے اور پوچھا: کیا ہو گیا ہے تجھے؟ اس نے کہا: جی میں بھوکا ہوں، مجھے کھانا کھلائیے اور میں پیاسا ہوں، مجھے پانی پلائیے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ تیری ضرورت ابھی پوری کر دی جاتی ہے۔ اس قیدی کے فدیے میں دو آدمی لیے گئے تھے۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 5114]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1641، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19894 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20136»
وضاحت: فوائد: … اگر تو یہ بات اس وقت کرتا، جب تو اپنے معاملے کامالک …۔ یعنی اگر وہ قیدی بننے سے پہلے مسلمان ہو جاتا تو اس کو آزاد مسلمان سمجھا جاتا اور وہ کامل فلاح پا جاتا، قیدی ہو جانے کے بعدمسلمان ہونا، ظاہر ہے کہ یہ بھی سعادت ہی ہے، لیکن غلامی برقرار رہے گی۔

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 1641
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5115
عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ لَمَّا قَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سَبَايَا بَنِي الْمُصْطَلِقِ وَقَعَتْ جُوَيْرِيَةُ بِنْتُ الْحَارِثِ فِي السَّهْمِ لِثَابِتِ بْنِ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ أَوْ لِابْنِ عَمٍّ لَهُ وَكَاتَبَتْهُ عَلَى نَفْسِهَا وَكَانَتِ امْرَأَةً حُلْوَةً مُلَاحَةً لَا يَرَاهَا أَحَدٌ إِلَّا أَخَذَتْ بِنَفْسِهِ فَأَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تَسْتَعِينُهُ فِي كِتَابَتِهَا قَالَتْ فَوَاللَّهِ مَا هُوَ إِلَّا أَنْ رَأَيْتُهَا عَلَى بَابِ حُجْرَتِي فَكَرِهْتُهَا وَعَرَفْتُ أَنَّهُ سَيَرَى مِنْهَا مَا رَأَيْتُ فَدَخَلَتْ عَلَيْهِ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنَا جُوَيْرِيَةُ بِنْتُ الْحَارِثِ بْنِ أَبِي ضِرَارٍ سَيِّدِ قَوْمِهِ وَقَدْ أَصَابَنِي مِنَ الْبَلَاءِ مَا لَمْ يَخْفَ عَلَيْكَ فَوَقَعْتُ فِي السَّهْمِ لِثَابِتِ بْنِ قَيْسِ بْنِ الشَّمَّاسِ أَوْ لِابْنِ عَمٍّ لَهُ فَكَاتَبْتُهُ عَلَى نَفْسِي فَجِئْتُكَ أَسْتَعِينُكَ عَلَى كِتَابَتِي قَالَ فَهَلْ لَكِ فِي خَيْرٍ مِنْ ذَلِكَ قَالَتْ وَمَا هُوَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ أَقْضِي كِتَابَتَكِ وَأَتَزَوَّجُكِ قَالَتْ نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ قَدْ فَعَلْتُ قَالَتْ وَخَرَجَ الْخَبَرُ إِلَى النَّاسِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تَزَوَّجَ جُوَيْرِيَةَ بِنْتَ الْحَارِثِ فَقَالَ النَّاسُ أَصْهَارُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَرْسَلُوا مَا بِأَيْدِيهِمْ قَالَتْ فَلَقَدْ أَعْتَقَ بِتَزْوِيجِهِ إِيَّاهَا مِائَةَ أَهْلِ بَيْتٍ مِنْ بَنِي الْمُصْطَلِقِ فَمَا أَعْلَمُ امْرَأَةً كَانَتْ أَعْظَمَ بَرَكَةً عَلَى قَوْمِهَا مِنْهَا
۔ ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بنو مصطلق کے قیدی تقسیم کیے تو جویریہ بنت حارث، سیدنا ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ یا ان کے چچا زاد بھائی کے حصے میں آئی اور پھر اس نے ان سے مکاتبت بھی کر لی، یہ بڑی ہی خوب رو خاتون تھی، کوئی بھی اسے دیکھتا تو وہ اسے اپنی طرف مائل کر لیتی، پس وہ اپنی مکاتبت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مدد لینے کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پاس آئی، اللہ کی قسم! جب میں (عائشہ) نے اس کو اپنے حجرے کے دروازے پر دیکھا تو میں نے اس کے آنے کو ناپسند کیا اور میں جان گئی کہ جو چیز میں دیکھ رہی ہوں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نظر بھی اسی چیز پر پڑے گی، پس جب وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئی اور کہا: اے اللہ کے رسول! میں جویریہ بنت حارث بن ابی ضرار ہوں، میرے باپ اپنی قوم کے سردار ہیں اور میں ایسی آزمائش میں پھنس گئی ہوں کہ اس کا معاملہ آپ پر بھی واضح ہے، میں سیدنا ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ یا ان کے چچا زاد بھائی حصے میں آئی ہوں اور میں نے ان سے مکاتبت کر لی ہے، اب میں آپ کے پاس آئی ہوں، تاکہ آپ مکاتبت پر میرا تعاون کریں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اچھا یہ بتاؤ کہ کیا تمہیں اس سے بہتر چیز کی رغبت ہے؟ اس نے کہا: جی وہ کیا؟ اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں تمہاری مکاتبت کی قیمت ادا کر کے تم سے شادی کر لیتا ہوں۔ اس نے کہا: جی ہاں، اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تحقیق میں نے ایسے ہی کر دیا ہے۔ اتنے میں لوگوں تک یہ خبر پہنچ گئی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدہ جویریہ رضی اللہ عنہا سے شادی کر لی ہے، لوگوں نے کہا: بنو مصطلق، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سسرال بن گئے ہیں، پس اس وجہ سے انھوں نے وہ غلام اور لونڈیاں آزاد کر دیں، جو ان کے ہاتھ میں تھے، سیدہ جویریہ رضی اللہ عنہا کی اس شادی کی وجہ سے بنو مصطلق کے سو گھرانوں کے افراد کو آزاد کیا گیا، میں ایسی کوئی خاتون نہیں جانتی جو اپنی قوم کے لیے سب سے زیادہ برکت والی ثابت ہوئی ہو، ما سوائے سیدہ جویریہ رضی اللہ عنہا کے۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 5115]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه أبوداود: 3931، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26265 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26897»
وضاحت: فوائد: … غزوۂ نبی مصطلق کو غزوۂ مریسیع بھی کہتے ہیں، یہ ۵ ؁ھ میں پیش آیا تھا۔

الحكم على الحديث:
اسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5116
عَنْ أَبِي رَافِعٍ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كَانَ مُسْتَنِدًا إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا وَعِنْدَهُ ابْنُ عُمَرَ وَسَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فَقَالَ اعْلَمُوا أَنِّي لَمْ أَقُلْ فِي الْكَلَالَةِ شَيْئًا وَلَمْ أَسْتَخْلِفْ مِنْ بَعْدِي أَحَدًا وَأَنَّهُ مَنْ أَدْرَكَ وَفَاتِي مِنْ سَبْيِ الْعَرَبِ فَهُوَ حُرٌّ مِنْ مَالِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ
۔ سیدنا ابو رافع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے (زخمی ہونے کے بعد) سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے ساتھ ٹیک لگائی ہوئی تھی اور ان کے پاس سیدنا ابن عمر اور سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہما بھی بیٹھے ہوئے تھے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تم سب لوگ جان لو کہ میں نے کلالہ کے بارے میں کوئی رائے نہیں دی، اپنے بعد کسی ایک کو خلیفہ مقرر نہیں کیا اور عرب کے جو قیدی میری ملکیت میں میری وفات پا لیں، وہ اللہ تعالیٰ کے لیے آزاد ہوں گے۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 5116]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف علي بن زيد بن جدعان، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 129 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 129»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف علي بن زيد بن جدعان
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
55. بَابُ مَا يُفْعَلُ بِالْجَاسُوسِ إِذَا كَانَ مُسْلِمًا و حَرَبِيًّا أَوْ ذِميًّا
اس چیز کا بیان کہ جاسوس کے ساتھ کیا کیا جائے، وہ مسلمان ہو یا حربی یا ذمی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5117
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَا وَالزُّبَيْرَ وَالْمِقْدَادَ فَقَالَ انْطَلِقُوا حَتَّى تَأْتُوا رَوْضَةَ خَاخٍ فَإِنَّ بِهَا ظَعِينَةً مَعَهَا كِتَابٌ فَخُذُوهُ مِنْهَا فَانْطَلَقْنَا تَعَادَى بِنَا خَيْلُنَا حَتَّى أَتَيْنَا الرَّوْضَةَ فَإِذَا نَحْنُ بِالظَّعِينَةِ فَقُلْنَا أَخْرِجِي الْكِتَابَ قَالَتْ مَا مَعِي مِنْ كِتَابٍ قُلْنَا لَتُخْرِجِنَّ الْكِتَابَ أَوْ لَنَقْلِبَنَّ الثِّيَابَ قَالَ فَأَخْرَجَتِ الْكِتَابَ مِنْ عِقَاصِهَا فَأَخَذْنَا الْكِتَابَ فَأَتَيْنَا بِهِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا فِيهِ مِنْ حَاطِبِ بْنِ أَبِي بَلْتَعَةَ إِلَى نَاسٍ مِنَ الْمُشْرِكِينَ بِمَكَّةَ يُخْبِرُهُمْ بِبَعْضِ أَمْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَا حَاطِبُ مَا هَذَا قَالَ لَا تَعْجَلْ عَلَيَّ إِنِّي كُنْتُ امْرَأً مُلْصَقًا فِي قُرَيْشٍ وَلَمْ أَكُنْ مِنْ أَنْفُسِهَا وَكَانَ مَنْ كَانَ مَعَكَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ لَهُمْ قَرَابَاتٌ يَحْمُونَ أَهْلِيهِمْ بِمَكَّةَ فَأَحْبَبْتُ إِذْ فَاتَنِي ذَلِكَ مِنَ النَّسَبِ فِيهِمْ أَنْ أَتَّخِذَ فِيهِمْ يَدًا يَحْمُونَ بِهَا قَرَابَتِي وَمَا فَعَلْتُ ذَلِكَ كُفْرًا وَلَا ارْتِدَادًا عَنْ دِينِي وَلَا رِضًا بِالْكُفْرِ بَعْدَ الْإِسْلَامِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّهُ قَدْ صَدَقَكُمْ فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ دَعْنِي أَضْرِبْ عُنُقَ هَذَا الْمُنَافِقِ فَقَالَ إِنَّهُ قَدْ شَهِدَ بَدْرًا وَمَا يُدْرِيكَ لَعَلَّ اللَّهَ قَدِ اطَّلَعَ عَلَى أَهْلِ بَدْرٍ فَقَالَ اعْمَلُوا مَا شِئْتُمْ فَقَدْ غَفَرْتُ لَكُمْ
۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے، سیدنا زبیر اور سیدنا مقداد کو بھیجا اور فرمایا: تم چلو، یہاں تک کہ روضۂ خاخ تک پہنچ جاؤ، وہاں ایک مسافر خاتون کے پاس ایک خط ہو گا، وہ خط اس سے لے لو۔ سو ہم چل پڑے، ہمارے گھوڑے دوڑتے گئے، یہاں تک کہ ہم اس روضہ کے پاس پہنچے، وہاں تو واقعی ایک خاتون موجود تھی، ہم نے اس سے کہا: خط نکال دے، اس نے کہا: میرے پاس تو کوئی خط نہیں ہے، ہم نے کہا: خط نکال دے، وگرنہ ہم تیرے کپڑے اتار دیں گے، یہ سن کر اس نے اپنے بالوں کی لٹ سے خط نکال دیا، ہم نے وہ لیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پہنچ گئے، اس خط میں یہ عبارت لکھی ہوئی تھی: یہ خط حاطب بن ابو بلتعہ کی طرف سے مکہ کے مشرکوں کی طرف ہے، …۔ وہ ان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعض امور کی خبر دے رہے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے حاطب! یہ کیا ہے؟ انھوں نے کہا: مجھ پر جلدی نہ کرنا (میں تفصیل بتاتا ہوں)، بات یہ ہے کہ میں معاہدے کی بنا پر قریشیوں سے ملا ہوا تھا اور میں ان میں سے نہیں تھا، آپ کے ساتھ جو مہاجرین ہیں، ان کی قریشیوں سے رشتہ داریاں ہیں، جن کی وجہ سے وہ مکہ میں ان کے رشتہ داروں کی حفاظت کرتے ہیں، جب میں نے دیکھا کہ قریشیوں سے میرا نسب تو ملتا نہیں ہے، اس لیے میں نے سوچا کہ اگر میں ان پر کوئی ایسا احسان کر دوں کہ جس کی وجہ سے وہ میرے رشتہ داروں کی بھی حفاظت کریں (اس مقصد کے لیے میں نے یہ کام کیا ہے)، نہ میں نے یہ کاروائی کفر کرتے ہوئے کی، نہ اپنے دین سے مرتد ہوتے ہوئے اور نہ اسلام کے بعد کفر کو پسند کرتے ہوئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک شان یہ ہے کہ اس آدمی نے تم سے سچ بولا ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: چھوڑیئے مجھے، میں اس منافق کی گردن اتار پھینکوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ بدر میں حاضر ہوا تھا، اور تجھے پتہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اہل بدر کی طرف جھانکا اور کہا: آج کے بعد جو چاہو کر گزرو، میں نے تم کو معاف کر دیا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 5117]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3007، 4274، 4890، ومسلم: 2494، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 600 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 600»
وضاحت: فوائد: … سیدنا حاطب رضی اللہ عنہ نے اہل مکہ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تیاری اور آمد کی خبر ارسال کی تھی۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 3007
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5118
حَدَّثَنَا إِيَاسُ بْنُ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ نَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْزِلًا فَجَاءَ عَيْنٌ لِلْمُشْرِكِينَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ يَتَصَبَّحُونَ فَدَعَوْهُ إِلَى طَعَامِهِمْ فَلَمَّا فَرَغَ الرَّجُلُ رَكِبَ عَلَى رَاحِلَتِهِ وَذَهَبَ مُسْرِعًا لِيُنْذِرَ أَصْحَابَهُ قَالَ سَلَمَةُ فَأَدْرَكْتُهُ فَأَنَخْتُ رَاحِلَتَهُ وَضَرَبْتُ عُنُقَهُ فَغَنَّمَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سَلَبَهُ
۔ سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک مقام پر پڑاؤ ڈالا، اتنے میں مشرکوں کا ایک جاسوس پہنچ گیا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کے صحابہ دوپہر کا کھانا کھا رہے تھے، صحابۂ کرام نے اس کو کھانے کی طرف بلایا، جب وہ کھانے سے فارغ ہوا تو اپنی سواری پر سوار ہوا اور جلدی سے واپس ہونا شروع کر دیا، دراصل وہ اپنے ساتھیوں کو متنبہ کرنا چاہتا تھا۔ سیدنا سلمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں اس کے پیچھے دوڑا اور اس کو پا لیا اور اس کے اونٹ کو بٹھا کر اس کی گردن قلم کر دی، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کا سلب مجھے بطورِ غنیمت دے دیا۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 5118]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3051، ومسلم: 1754، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16519 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16634»
وضاحت: فوائد: … یہ غزوۂ ہوازن و غطفان کا واقعہ ہے۔ صحیح بخاری کی روایت کے الفاظ یہ ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس شخص کے بارے میں حکم دیا: ((اُطْلُبُوْہُ وَاقْتُلُوْہُ۔)) … اس کو تلاش کر کے قتل کر دو۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 3051
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5119
عَنْ حَارِثَةَ بْنِ مُضَرِّبٍ عَنْ فُرَاتِ بْنِ حَيَّانَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِقَتْلِهِ وَكَانَ عَيْنًا لِأَبِي سُفْيَانَ وَحَلِيفًا فَمَرَّ بِحَلْقَةٍ مِنَ الْأَنْصَارِ فَقَالَ إِنِّي مُسْلِمٌ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُ يَزْعُمُ أَنَّهُ مُسْلِمٌ فَقَالَ إِنَّ مِنْكُمْ رِجَالًا نَكِلُهُمْ إِلَى إِيمَانِهِمْ مِنْهُمْ فُرَاتُ بْنُ حَيَّانَ
۔ سیدنا فرات بن حیان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو قتل کرنے کا حکم دیا، وہ ابو سفیان کا جاسوس اور حلیف تھا، بعد میں جب وہ انصاریوں کی ایک مجلس کے پاس سے گزرا تو اس نے کہا: بیشک میں تو مسلمان ہوں، جب انصار نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بتلایا کہ وہ تو کہتا ہے کہ وہ مسلمان ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک تم میں بعض افراد ایسے ہیں کہ ہم ان کو ان کے ایمان کے سپرد کرتے ہیں، ان میں سے ایک فرات بن حیان بھی ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 5119]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه أبوداود: 2652، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18965 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19173»
وضاحت: فوائد: … غزوۂ خندق کے موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا فرات رضی اللہ عنہ کو قتل کرنے کا حکم دیا تھا، پھر یہ مسلمان ہو گئے تھے اور بہترین مسلمان بن گئے تھے، بعد میں انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف ہجرت کی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تمام غزووں میں شرکت کی، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وفات پا گئے تو انھوں نے کوفہ میںسکونت اختیار کر لی تھی۔

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
56. بَابُ أَنَّ عَبْدَ الْكَافِرِ إِذَا خَرَجَ إِلَيْنَا مُسْلِمًا فهُوَ حُرِّ
اس چیز کا بیان کہ جب کافر کا غلام مسلمان ہو کر ہمارے پاس آ جائے تو وہ آزاد ہو گا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5120
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُعْتِقُ مَنْ جَاءَهُ مِنَ الْعَبِيدِ قَبْلَ مَوَالِيهِمْ إِذَا أَسْلَمُوا وَقَدْ أَعْتَقَ يَوْمَ الطَّائِفِ رَجُلَيْنِ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جو غلام اپنے مالکوں سے پہلے مسلمان ہو کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پہنچ جاتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کو آزاد کر دیتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے طائف والے دن اس طرح کے دو آدمیوں کو آزاد کیا تھا۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 5120]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، أخرجه ابن ابي شيبة: 12/ 511، وابويعلي: 2564،والطبراني: 12079، والدارمي: 2508، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2111 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2111»

الحكم على الحديث:
حسن لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5121
عَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ قَالَ حَاصَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَهْلَ الطَّائِفِ فَخَرَجَ إِلَيْهِ عَبْدَانِ فَأَعْتَقَهُمَا أَحَدُهُمَا أَبُو بَكْرَةَ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُعْتِقُ الْعَبِيدَ إِذَا خَرَجُوا إِلَيْهِ
۔ (دوسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اہل طائف کا محاصرہ کر لیا، ان کے دو غلام آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پہنچ گئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو آزاد کر دیا، ان میں سے ایک سیدنا ابو بکرہ رضی اللہ عنہ تھے۔ ویسے جب بھی غلام مسلمان ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آتے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کو آزاد کر دیتے تھے۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 5121]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2176»

الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2176
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں