🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
3. بَابُ جَوَازِ ضَرْبِ الْمَمْلُوكِ عَلَى قَدْرِ ذَنْبِهِ وَالتَّشْدِيدِ فِيمَا زَادَ عَلَى ذَلِكَ
غلام کو اس کے جرم کے مطابق مارنے کے جواز کا اور اس مقدار سے زائد سزا دینے پر سختی کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5237
عَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ أَنَّهُ كَانَ يَضْرِبُ غُلَامًا لَهُ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَاللَّهِ لَلَّهُ أَقْدَرُ عَلَيْكَ مِنْكَ عَلَيْهِ قَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ فَإِنِّي أُعْتِقُهُ لِوَجْهِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ
۔ (دوسری سند) سیدنا ابو مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ اپنے ایک غلام کو مار رہے تھے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: اللہ کی قسم! اللہ تعالیٰ تجھ پر اس سے زیادہ قدرت والا ہے۔ انھوں نے کہا: اے اللہ کے نبی! میں اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے لیے ا س کو آزاد کرتا ہوں۔ [الفتح الربانی/كتاب العتق/حدیث: 5237]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22707»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5238
عَنْ زَاذَانَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ دَعَا غُلَامًا لَهُ فَأَعْتَقَهُ فَقَالَ مَا لِي مِنْ أَجْرِهِ مِثْلُ هَذَا لِشَيْءٍ رَفَعَهُ مِنَ الْأَرْضِ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ لَطَمَ غُلَامَهُ فَكَفَّارَتُهُ عِتْقُهُ
۔ زاذان کہتے ہیں کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے ایک غلام کو بلایا اور اس کو آزاد کیا اور زمین سے ایک چیز اٹھاتے ہوئے اور اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: اس عمل میں اس کے بقدر بھی میرے لیے اجر نہیں ہے، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا کہ جس نے اپنے غلام کو تھپڑ مارا، اس کا کفارہ یہ ہے کہ وہ اس کو آزاد کر دے۔ [الفتح الربانی/كتاب العتق/حدیث: 5238]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: مسلم: 1657، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4784 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4784»
وضاحت: فوائد: … صحیح مسلم کی روایت کے الفاظ یہ ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:((مَنْ ضَرَبَ غُلَامًا لَہُ حَدًّا لَمْ یَأْتِہِ أَوْ لَطَمَہُ فَإِنَّ کَفَّارَتَہُ أَنْ یُعْتِقَہُ۔)) … جس نے اپنے غلام کو ایسی حد لگائی، جس کا وہ مستحق نہیںتھا، یا اس کو تھپڑا مارا تو اس کاکفارہ یہ ہو گا کہ وہ اس کو آزاد کر دے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5239
عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ حَكَمٍ السَّلَمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي حَدِيثٍ لَهُ قَالَ وَكَانَتْ لِي جَارِيَةٌ تَرْعَى غَنَمًا لِي فِي قِبَلِ أُحُدٍ وَالْجَوَّانِيَّةِ فَاطَّلَعْتُهَا ذَاتَ يَوْمٍ فَإِذَا الذِّئْبُ قَدْ ذَهَبَ بِشَاةٍ مِنْ غَنَمِهَا وَأَنَا رَجُلٌ مِنْ بَنِي آدَمَ آسَفُ كَمَا يَأْسَفُونَ لَكِنِّي صَكَكْتُهَا صَكَّةً فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَعَظَّمَ ذَلِكَ عَلَيَّ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفَلَا أُعْتِقُهَا قَالَ ائْتِنِي بِهَا فَأَتَيْتُهُ بِهَا فَقَالَ لَهَا أَيْنَ اللَّهُ فَقَالَتْ فِي السَّمَاءِ قَالَ مَنْ أَنَا قَالَتْ أَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ قَالَ أَعْتِقْهَا فَإِنَّهَا مُؤْمِنَةٌ وَقَالَ مَرَّةً هِيَ مُؤْمِنَةٌ فَأَعْتِقْهَا
۔ سیدنا معاویہ بن حکم سلمی رضی اللہ عنہ اپنی ایک حدیث بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں: میری ایک لونڈی تھی، وہ احد اور جوانیہ کی طرف میری بکریاں چراتی تھی، ایک دن جب میں نے اس پر چھاپہ مارا تو دیکھا کہ بھیڑیا ایک بکری لے گیا تھا، میں انسان ہی ہوں اور انسانوں کی طرح غصے ہوتا ہوں، اس لیے میں نے اس کو زور سے مارا، جب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ واقعہ سنایا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس مارنے کو میرے حق میں بہت بڑا (جرم) خیال کیا، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا میں اس کو آزاد نہ کر دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کو میرے پاس لاؤ۔ پس میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لے آیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے پوچھا: اللہ تعالیٰ کہاں ہے؟ اس نے کہا: آسمانوں میں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں کون ہوں؟ اس نے کہا: آپ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کو آزاد کر دے، کیونکہ یہ مؤمنہ ہے۔ راوی نے ایک بار یوں روایت بیان کی: یہ مؤمنہ ہے، تو اس کو آزاد کر دے۔ [الفتح الربانی/كتاب العتق/حدیث: 5239]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 537، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23762 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24165»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5240
عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ سُوَيْدٍ قَالَ لَطَمْتُ مَوْلًى لَنَا ثُمَّ جِئْتُ وَأَبِي فِي الظُّهْرِ فَصَلَّيْتُ مَعَهُ فَلَمَّا سَلَّمَ أَخَذَ بِيَدِي فَقَالَ امْتَثِلْ مِنْهُ فَعَفَا ثُمَّ أَنْشَأَ يُحَدِّثُ قَالَ كُنَّا وَلَدَ مُقَرِّنٍ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سَبْعَةً لَيْسَ لَنَا إِلَّا خَادِمٌ وَاحِدَةٌ فَلَطَمَهَا أَحَدُنَا فَبَلَغَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَعْتِقُوهَا فَقَالُوا لَيْسَ لَنَا خَادِمٌ غَيْرُهَا قَالَ فَلْيَسْتَخْدِمُوهَا فَإِذَا اسْتَغْنَوْا فَلْيُخَلُّوا سَبِيلَهَا
۔ معاویہ بن سوید سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے اپنے ایک غلام کو تھپڑ مارا، پھر جب میں آیا تو میرے ابو جان نمازِ ظہر پڑھا رہے تھے، میں نے ان کے ساتھ نماز پڑھی، جب انھوں نے سلام پھیرا تو میرا ہاتھ پکڑا اور غلام سے کہا: اس سے قصاص لے لو، لیکن اس نے معاف کر دیا، پھر وہ یہ حدیث بیان کرنے لگے کہ عہد ِ نبوی کی بات ہے کہ ہم سات افراد مقرن کی اولاد تھے، ہماری صرف ایک لونڈی تھی، ہم میں سے کسی نے اس کو تھپڑ مار دیا، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس بات کا پتہ چلا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کو آزاد کر دو۔ ہم نے کہا: جی ہماری تو صرف ایک ہی لونڈی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر یہ لوگ اس سے خدمت کروائیں، لیکن جونہی یہ غنی ہو جائیں، اس کو آزاد کر دیں۔ [الفتح الربانی/كتاب العتق/حدیث: 5240]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1658، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15705 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15796»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5241
عَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ عَنْ سُوَيْدِ بْنِ مُقَرِّنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا لَطَمَ جَارِيَةً لِآلِ سُوَيْدِ بْنِ مُقَرِّنٍ فَقَالَ لَهُ سُوَيْدٌ أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ الصُّورَةَ مُحَرَّمَةٌ لَقَدْ رَأَيْتُنِي سَابِعَ سَبْعَةٍ مَعَ إِخْوَتِي وَمَا لَنَا إِلَّا خَادِمٌ وَاحِدٌ فَلَطَمَهُ أَحَدُنَا فَأَمَرَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ نُعْتِقَهُ
۔ (دوسری سند) سیدنا سوید بن مقرن رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے آلِ سوید بن مقرن کی لونڈی کو تھپڑ مار دیا، سیدنا سوید رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا: کیا تجھے پتہ نہیں ہے کہ چہرہ حرمت والا ہوتا ہے، میں اپنے بھائیوں میں ساتواں تھا، یعنی ہم سات بھائی تھے اور ہمارے پاس صرف ایک خادمہ تھی، جب ہم میں سے ایک بھائی نے اس کو تھپڑ مار ا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم اس کو آزاد کر دیں۔ [الفتح الربانی/كتاب العتق/حدیث: 5241]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15794»
وضاحت: فوائد: … مالک اور غلام، دو انسان ہیں اور دونوں کے الگ الگ حقوق ہیں، اگر دونوں نے یا کسی ایک نے دوسرے کے حق میں ظلم کیا یا خیانت کی تو قیامت کے روز دوسرے حقوق العباد کی طرف ان کا بھی تصفیہ کرایا جائے گا۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
4. بَابُ عِقَابِ مَنْ مَثَلَ بِعَبْدِهِ أَوْ رَمَاءَ بِالزَّنَا وهو برىء
جس شخص نے اپنے غلام کا مثلہ کیا، یا اس پر زنا کی تہمت لگائی، جبکہ وہ بری ہو، اس کی سزا کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5242
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ زِنْبَاعًا أَبَا رَوْحٍ وَجَدَ غُلَامًا لَهُ مَعَ جَارِيَةٍ لَهُ فَجَدَعَ أَنْفَهُ وَجَبَّهُ فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَنْ فَعَلَ هَذَا بِكَ قَالَ زِنْبَاعٌ فَدَعَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَا حَمَلَكَ عَلَى هَذَا فَقَالَ كَانَ مِنْ أَمْرِهِ كَذَا وَكَذَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِلْعَبْدِ اذْهَبْ فَأَنْتَ حُرٌّ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَمَوْلَى مَنْ أَنَا قَالَ مَوْلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ فَأَوْصَى بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْمُسْلِمِينَ قَالَ فَلَمَّا قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ جَاءَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ فَقَالَ وَصِيَّةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ نَعَمْ نُجْرِي عَلَيْكَ النَّفَقَةَ وَعَلَى عِيَالِكَ فَأَجْرَاهَا عَلَيْهِ حَتَّى قُبِضَ أَبُو بَكْرٍ فَلَمَّا اسْتُخْلِفَ عُمَرُ جَاءَهُ فَقَالَ وَصِيَّةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ نَعَمْ أَيْنَ تُرِيدُ قَالَ مِصْرَ فَكَتَبَ عُمَرُ إِلَى صَاحِبِ مِصْرَ أَنْ يُعْطِيَهُ أَرْضًا يَأْكُلُهَا
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ابو روح زِنباع نے اپنے غلام کو اپنی لونڈی کے ساتھ پایا اور اس نے اس کا ناک کاٹ دیا اور اس کے خصتین کو جڑ سے اکھاڑ دیا، جب وہ غلام، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: یہ تیرے ساتھ کس نے کیا ہے؟ اس نے کہا: زنباع نے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو بلایا اور فرمایا: تجھے ایسا کرنے پر کس چیز نے آمادہ کیا ہے؟ اس نے کہا: جی اس کا یہ یہ معاملہ ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غلام سے فرمایا: تو چلا جا، تو آزاد ہے۔ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! اب میں کس کا غلام ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو اللہ اور اس کے رسول کا غلام ہے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے بارے میں مسلمانوں کو وصیت کی، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وفات پا گئے تو یہ غلام سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور اس نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وصیت، انھوں نے کہا: جی ٹھیک ہے، ہم تیرا اور تیرے اہل و عیال کا خرچ جاری کرتے ہیں، پھر انھوں نے یہ خرچ جاری کر دیا، جب سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ فوت ہوئے اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ خلیفہ بنے تو وہ اِن کے پاس آیا اور کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وصیت، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: تو کہاں رہنا چاہتا ہے؟ اس نے کہا: جی مصر میں، پس سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے مصر کے امیر کو لکھا کہ وہ اس آدمی کو اتنی زمین دے دے کہ جس سے اس کے رزق کا معاملہ جاری رہے۔ [الفتح الربانی/كتاب العتق/حدیث: 5242]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، أخرجه أبوداود: 45199، وابن ماجه: 2680، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6710 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6710»
وضاحت: فوائد: … اگر کوئی مالک اپنے غلام پر ظلم کرے اور اس کے اعضاء کاٹ ڈالے تو غلام آزاد کر دیا جائے گا۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5243
عَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ مُثِّلَ بِهِ أَوْ حُرِّقَ بِالنَّارِ فَهُوَ حُرٌّ وَهُوَ مَوْلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ قَالَ فَأُتِيَ بِرَجُلٍ قَدْ خُصِيَ يُقَالُ لَهُ سَنْدَرٌ فَأَعْتَقَهُ ثُمَّ أَتَى أَبَا بَكْرٍ بَعْدَ وَفَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَصَنَعَ إِلَيْهِ خَيْرًا ثُمَّ أَتَى عُمَرَ بَعْدَ أَبِي بَكْرٍ فَصَنَعَ إِلَيْهِ خَيْرًا ثُمَّ إِنَّهُ أَرَادَ أَنْ يَخْرُجَ إِلَى مِصْرَ فَكَتَبَ لَهُ عُمَرُ إِلَى عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنْ اصْنَعْ بِهِ خَيْرًا أَوْ احْفَظْ وَصِيَّةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِيهِ
۔ (دوسری سند) سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس غلام کا مثلہ کیا گیا یا اس کو آگ کے ساتھ جلایا گیا تو وہ آزاد ہو جا ئے گا اور وہ اللہ اور اس کے رسول کا غلام بن جائے گا۔ اس کے بعد سندر نامی ایسے غلام کو لایا گیا کہ جس کو خصی کر دیا گیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی آزاد ی کا حکم دے دیا، پھر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے بعد سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، انھوں نے بھی اس کے ساتھ اچھا برتاؤ کیا، پھر وہ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کے فوت ہو جانے کے بعد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، انھوں نے بھی اس کے ساتھ خیر والا معاملہ کیا، پھر جب اس نے مصر کی طرف چلا جانا چاہا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کی طرف لکھا کہ وہ اس شخص کے ساتھ اچھا برتاؤ کرے، یا یہ لکھا کہ وہ اس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وصیت کا پاس و لحاظ رکھے۔ [الفتح الربانی/كتاب العتق/حدیث: 5243]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7096»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5244
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ نَبِيَّ التَّوْبَةِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ أَيُّمَا رَجُلٍ قَذَفَ مَمْلُوكَهُ وَهُوَ بَرِيءٌ مِمَّا قَالَ يُقَامُ عَلَيْهِ الْحَدُّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلَّا أَنْ يَكُونَ كَمَا قَالَ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی ٔ توبہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جس آدمی نے اپنے غلام پر تہمت لگائی، جبکہ وہ اس بات سے بری ہوئی تو روزِ قیامت ایسے مالک پر حد لگائی جائے گی، الا یہ کہ غلام ایسا ہی نکلا، جیسے اس نے کہا تھا۔ [الفتح الربانی/كتاب العتق/حدیث: 5244]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 6858، ومسلم: 1660، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9567 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9563»
وضاحت: فوائد: … اگرچہ غلام اپنے آقا کے اختیار میں ہوتا ہے، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ مالک ہر معاملے میں اس پر اپنی مرضی ٹھونسنا شروع کر دے، غلام اور مالک دونوں کے اپنے اپنے حقوق ہیں، اگر کسی طرف سے کمی بیشی ہوئی تو قیامت کے روز محاسبہ ہو گا۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5245
عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ زَنَّى أَمَةً لَمْ يَرَهَا تَزْنِي جَلَدَهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِسَوْطٍ مِنْ نَارٍ
۔ سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو اپنی لونڈی کو زنا کرتے ہوئے نہ دیکھے، لیکن اس کے باوجود وہ اس پر زنا کی تہمت لگا دے تو اللہ تعالیٰ روزِ قیامت اس شخص کو آگ کا کوڑا لگائے گا۔ [الفتح الربانی/كتاب العتق/حدیث: 5245]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، الحمصي وابوطالب مجھولان، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21375 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21703»

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5246
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَجُلًا أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ لِي خَادِمًا يُسِيءُ وَيَظْلِمُ أَفَأَضْرِبُهُ قَالَ تَعْفُو عَنْهُ كُلَّ يَوْمٍ سَبْعِينَ مَرَّةً
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرا ایک غلام ہے، وہ نازیبا اور غلط حرکتیں کرتا ہے اور ظلم کرتا ہے، کیا میں اس کو مار سکتا ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: روزانہ اس کو ستر بار معاف کیا کرو۔ [الفتح الربانی/كتاب العتق/حدیث: 5246]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابوداود: 5164، والترمذي باثر: 1949، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5635 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5635»
وضاحت: فوائد: … غلام کی غلط حرکت پر اس کو معاف کرنا ضروری نہیں ہے، بہرحال ایسی صورت میں بھی اس کا معاف کر دینا مکارمِ اخلاق کا تقاضا ہو گا۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں