الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. بَابُ فَضْلِ الْعِتْقِ وَالْحَتْ عَلَيْهِ
آزاد کرنے اور اس پر برانگیختہ کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 5217
عَنْ مَالِكِ بْنِ عَمْرٍو الْقُشَيْرِيِّ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ أَعْتَقَ رَقَبَةً مُسْلِمَةً فَهِيَ فِدَاؤُهُ مِنَ النَّارِ قَالَ عَفَّانُ مَكَانَ كُلِّ عَظْمٍ مِنْ عِظَامِ مُحَرِّرِهِ بِعَظْمٍ مِنْ عِظَامِهِ وَمَنْ أَدْرَكَ أَحَدَ وَالِدَيْهِ ثُمَّ لَمْ يُغْفَرْ لَهُ فَأَبْعَدَهُ اللَّهُ وَمَنْ ضَمَّ يَتِيمًا مِنْ بَيْنِ أَبَوَيْنِ مُسْلِمَيْنِ قَالَ عَفَّانُ إِلَى طَعَامِهِ وَشَرَابِهِ حَتَّى يُغْنِيَهُ اللَّهُ وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ
۔ سیدنا مالک بن عمرو قشیری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے مسلمان گردن آزاد کی، تو یہ آگ سے اس کا فدیہ بنے گی، عفان راوی کے الفاظ یہ ہیں: آزاد شدہ کی ہر ہڈی کے عوض آزاد کنندہ کی ہر ہڈی جہنم سے آزاد ہو جائے گی، اور جس نے اپنے والدین میں ایک کو پایا اور پھر (اس کی خدمت کر کے) اپنے آپ کو بخشوا نہ سکا تو اللہ تعالیٰ اس کو دور کر دے، اور جس نے مسلمان والدین کا یتیم بچہ کھانے اور پینے کے معاملات میں اپنے ساتھ ملا لیا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اس بچے کو غنی کر دیا، اس کے لیے جنت واجب ہو جائے گی۔ [الفتح الربانی/كتاب العتق/حدیث: 5217]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه الطبراني في الكبير: 19/666، والبيھقي في الشعب: 11031، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19030 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19239»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 5218
عَنِ ابْنِ مَعْقِلٍ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا كَانَ عَلَيْهَا رَقَبَةٌ مِنْ وُلْدِ إِسْمَاعِيلَ فَجَاءَ سَبْيٌ مِنَ الْيَمَنِ مِنْ خَوْلَانَ فَأَرَادَتْ أَنْ تُعْتِقَ مِنْهُمْ فَنَهَانِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ جَاءَ سَبْيٌ مِنْ مُضَرَ مِنْ بَنِي الْعَنْبَرِ فَأَمَرَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُعْتِقَ مِنْهُمْ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ انھوں نے اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے ایک گردن آزاد کرنی تھی، جب یمن سے خولان قبیلہ کے قیدی آئے تو انھوں نے ان میں سے ایک غلام آزاد کرنا چاہا، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو منع کر دیا، پھر جب بنو عنبر سے مضر قبیلے کے قیدی آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو حکم دیا کہ ان قیدیوں میں سے کسی کو آزاد کر دیں۔ [الفتح الربانی/كتاب العتق/حدیث: 5218]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، أخرجه البزار: 2827، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26268 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26798»
وضاحت: فوائد: … چونکہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ذمے اسماعیل علیہ السلام کی اولاد سے گردن آزاد کرنی تھی اور اسماعیل علیہ السلام کی اولاد سے گردن آزاد کرنا افضل عمل ہے، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس چیز کی رہنمائی کی۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 5219
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِجَارِيَةٍ سَوْدَاءَ أَعْجَمِيَّةٍ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ عَلَيَّ عِتْقَ رَقَبَةٍ مُؤْمِنَةٍ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَيْنَ اللَّهُ فَأَشَارَتْ إِلَى السَّمَاءِ بِإِصْبَعِهَا السَّبَّابَةِ فَقَالَ لَهَا مَنْ أَنَا فَأَشَارَتْ بِإِصْبَعِهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَإِلَى السَّمَاءِ أَيْ أَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ فَقَالَ أَعْتِقْهَا
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی ایک سیاہ فام عجمی لونڈی لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے ایک مومن گردن کو آزاد کرنا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے پوچھا: اللہ تعالیٰ کہاں ہے؟ اس نے جواباً انگشت ِ شہادت سے آسمان کی طرف اشارہ کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اچھا میں کون ہوں؟ اس نے جواب دیتے ہوئے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف اشارہ کیا اور پھر آسمان کی طرف، دراصل وہ یہ کہنا چاہتی تھی کہ آپ اللہ کے رسول ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کو آزاد کر دو۔ [الفتح الربانی/كتاب العتق/حدیث: 5219]
تخریج الحدیث: «صحيح بالشواھد، أخرجه ابوداود: 3284، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7906 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7893»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 5220
عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَثَلُ الَّذِي يُعْتِقُ عِنْدَ الْمَوْتِ كَمَثَلِ الَّذِي يُهْدِي إِذَا شَبِعَ
۔ سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: موت کے وقت آزاد کرنے والے کی مثال اس آدمی کی سی ہے، جو سیر ہونے کے بعد تحفہ دیتا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب العتق/حدیث: 5220]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه ابوداود: 3968، والترمذي: 2123، والنسائي: 6/ 238، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27533 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 28083»
وضاحت: فوائد: … اگرچہ موت کے وقت ایک تہائی مال تک صدقہ یا وصیت کرنا جائز ہے، مگر افضل یہ ہے کہ صدقہ اس وقت کیا جائے جب آدمی صحت مند اور حریص ہو، غِنٰی کا خواہش مند ہو اور فقر سے ڈرتا ہو۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 5221
عَنْ مَيْمُونَةَ بِنْتِ سَعْدٍ مَوْلَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ وَلَدِ الزِّنَا قَالَ لَا خَيْرَ فِيهِ نَعْلَانِ أُجَاهِدُ بِهِمَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أُعْتِقَ وَلَدَ زِنَا
۔ سیدہ میمونہ بنت سعد رضی اللہ عنہا، جو کہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی لونڈی تھیں، سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے زنا کے بچے کے بارے میں سوال کیا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس میں کوئی خیر نہیں ہے، مجھے دو جوتوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کرنا اس سے زیادہ پسند ہے کہ میں زنا کا بچہ آزاد کروں۔ [الفتح الربانی/كتاب العتق/حدیث: 5221]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، ابو يزيد الضبي مجھول، أخرجه ابن ماجه: 2531، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27624 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 28176»
وضاحت: فوائد: … ایسا بچہ شریعت میں قصور وار نہیں ہے اور وہ دنیا و آخرت میں بلند سے بلند مقام حاصل کر سکتا ہے، لیکن عام طور پر دیکھا یہ گیا ہے کہ گھٹیا مزاج لوگوں کی اولاد اور اس قسم کے بچے معاشرے کے ناکارہ افراد ہی ثابت ہوتے ہیں۔ دیکھیں کہ جب عیسیٰ رضی اللہ عنہ کی معجزاتی طور پر ولادت ہوئی اور لوگوں نے دیکھا کہ مریم رضی اللہ عنہا شادی کے بغیر بچہ جنم دے کر آ گئی ہیں تو انھوں نے کہا: {یٰٓاُخْتَ ھٰرُوْنَ مَاکَانَ اَبُوْکِ امْرَاَ سَوْئٍ وَّمَا کَانَتْ اُمُّکِ بَغِیًّا} … اے ہارون کی بہن! نہ تو تیرا باپ برا آدمی تھا اور نہ تیری ماں بدکار تھی (تو یہ کیا کر کے آ گئی ہے)۔ (مریم:۲۸)
الحكم على الحديث: ضعیف
2. بَابُ مَا جَاءَ فِي الْإِحْسَانِ إِلَى الْمَوَالِي وَالْوَصِيَّةِ بِهِمْ وَالنَّهْي عَنْ ضَرْبِهِمْ
غلاموں کے ساتھ احسان کرنے اور ان کے حق میں وصیت کرنے کا¤اور ان کو مارنے سے ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 5222
عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ خَبٌّ وَلَا بَخِيلٌ وَلَا مَنَّانٌ وَلَا سَيِّئُ الْمَلَكَةِ وَأَوَّلُ مَنْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ الْمَمْلُوكُ إِذَا أَطَاعَ اللَّهَ وَأَطَاعَ سَيِّدَهُ
۔ سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دھوکہ باز، بخیل، احسان جتلانے والا اور غلاموں سے برا سلوک کرنے والا جنت میں داخل نہیں ہوگا اور جنت میں سب سے پہلے داخل ہونے والا وہ غلام ہو گا، جو اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرتا ہے اور اپنے مالک کی اطاعت کرتا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب العتق/حدیث: 5222]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف فرقد السبخي، أخرجه الترمذي: 1963، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 32 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 32»
الحكم على الحديث: ضعیف
حدیث نمبر: 5223
عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ سَيِّئُ الْمَلَكَةِ فَقَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَيْسَ أَخْبَرْتَنَا أَنَّ هَذِهِ الْأُمَّةَ أَكْثَرُ الْأُمَمِ مَمْلُوكِينَ وَأَيْتَامًا قَالَ بَلَى فَأَكْرِمُوهُمْ كَرَامَةَ أَوْلَادِكُمْ وَأَطْعِمُوهُمْ مِمَّا تَأْكُلُونَ قَالُوا فَمَا يَنْفَعُنَا فِي الدُّنْيَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ فَرَسٌ صَالِحٌ تَرْتَبِطُهُ تُقَاتِلُ عَلَيْهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَمَمْلُوكٌ يَكْفِيكَ فَإِذَا صَلَّى فَهُوَ أَخُوكَ
۔ سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: غلاموں سے برا سلوک کرنے والا جنت میں داخل نہیں ہو گا۔ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ نے ہمیں یہ نہیں بتایا تھا کہ یہ امت سب سے زیادہ غلاموں اور یتیموں والی ہو گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیوں نہیں، لیکن اپنی اولاد کی طرح ان کی عزت کرو اور جو کچھ خود کھاتے ہو، اسی میں سے ان کو کھلاؤ۔ لوگوں نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! کون سی چیز ہمیں دنیا میں فائدہ دے سکتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک عمدہ گھوڑا ہو، جس کو تو نے اللہ کی راہ میں جہاد کرنے کے لیے باندھا ہوا ہو اور ایک غلام ہو، جو تیری ضروریات کو پورا کرے، اور اگر وہ نماز پڑھنے والا ہو، تو پھر تو تیرا بھائی ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب العتق/حدیث: 5223]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف فرقد السبخي، أخرجه ابن ماجه: 3691، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 75 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 75»
وضاحت: فوائد: … یعنی نماز کی وجہ سے اس کی عزت بھی کرنا پڑے گی، کیونکہ اب وہ صرف بندے کا غلام نہیں رہا، بلکہ اللہ تعالیٰ کے سامنے جھکنے والا بن گیا ہے۔
الحكم على الحديث: ضعیف
حدیث نمبر: 5224
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا جَاءَ خَادِمُ أَحَدِكُمْ بِطَعَامِهِ فَلْيَبْدَأْ بِهِ فَلْيُطْعِمْهُ أَوْ لِيُجْلِسْهُ مَعَهُ فَإِنَّهُ وَلِيَ حَرَّهُ وَدُخَانَهُ
۔ سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب کسی کا خادم اس کا کھانا لے کر آئے اور وہ کھانے لگے تو اس کو چاہیے کہ وہ اس کو بھی کھلائے یا اس کو اپنے پاس بٹھا دے، کیونکہ اس کی گرمی اور دھواں اس نے برداشت کیا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب العتق/حدیث: 5224]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه ابن ماجه: 3291، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3680 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3680»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 5225
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَحَ خَادِمُ أَحَدِكُمْ لَهُ طَعَامًا فَكَفَاهُ حَرَّهُ وَبُرْدَهُ فَلْيُجْلِسْهُ مَعَهُ فَإِنْ أَبَى فَلْيُنَاوِلْهُ أُكْلَةً فِي يَدِهِ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب کسی کا خادم اس کا کھانا تیار کرے تو وہی ہے، جو اس کے لیے گرمی اور سردی برداشت کرتا ہے، اس لیے مخدوم کو چاہیے کہ وہ اس کو اپنے ساتھ بٹھا لے اور اگر وہ اس طرح نہ کرے تو اس کے ہاتھ میں لقمہ پکڑا دے۔ [الفتح الربانی/كتاب العتق/حدیث: 5225]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2557، 5460، ومسلم: 1663، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7514 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7505»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 5226
عَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ بِنَحْوِهِ وَفِيهِ فَإِنْ كَانَ الطَّعَامُ مَشْفُوهًا قَلِيلًا فَلْيَضَعْ فِي يَدِهِ أُكْلَةً أَوْ أُكْلَتَيْنِ
۔ (دوسری سند)اسی طرح کی حدیث ہے، البتہ اس میں ہے: اگر کھانا تھوڑا ہو تو خادم کے ہاتھ میں ایک دو لقمے رکھ دے۔ [الفتح الربانی/كتاب العتق/حدیث: 5226]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7712»
الحكم على الحديث: صحیح