🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
2. بَابُ مَا جَاءَ فِي الْإِحْسَانِ إِلَى الْمَوَالِي وَالْوَصِيَّةِ بِهِمْ وَالنَّهْي عَنْ ضَرْبِهِمْ
غلاموں کے ساتھ احسان کرنے اور ان کے حق میں وصیت کرنے کا¤اور ان کو مارنے سے ممانعت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5227
عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَأَلَ جَابِرًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ خَادِمِ الرَّجُلِ إِذَا كَفَاهُ الْمُشَقَّةَ وَالْحَرَّ فَقَالَ أَمَرَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَدْعُوهُ فَإِنْ كَرِهَ أَحَدُنَا أَنْ يَطْعَمَ مَعَهُ فَلْيُطْعِمْهُ أُكْلَةً فِي يَدِهِ
۔ ابو زبیر سے مروی ہے کہ انھوں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے اس خادم کے بارے میں سوال کیا، جو مالک کو محنت اور گرمی سے کفایت کرتا ہے، انھوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم اسے بلائیں، اگر وہ اپنے ساتھ کھانا کھلانے کو ناپسند کرتا ہے تو اس کے ہاتھ میں ایک لقمہ دے دے۔ [الفتح الربانی/كتاب العتق/حدیث: 5227]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه البخاري في الادب المفرد: 198، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14730 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14789»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5228
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِلْمَمْلُوكِ طَعَامُهُ وَكِسْوَتُهُ وَلَا يُكَلَّفُ مِنَ الْعَمَلِ مَا لَا يُطِيقُ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: غلام کے لیے کھانااور لباس بذمہ مالک ہو گا اور اس کو اتنے کام کی تکلیف نہیں دی جائے گی، جس کی اس کو طاقت نہیں ہو گی۔ [الفتح الربانی/كتاب العتق/حدیث: 5228]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1662، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8510 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8491»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5229
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ أَرِقَّاؤُكُمْ أَرِقَّاؤُكُمْ أَرِقَّاؤُكُمْ أَطْعِمُوهُمْ مِمَّا تَأْكُلُونَ وَاكْسُوهُمْ مِمَّا تَلْبَسُونَ فَإِنْ جَاءُوا بِذَنْبٍ لَا تُرِيدُونَ أَنْ تَغْفِرُوهُ فَبِيعُوا عِبَادَ اللَّهِ وَلَا تُعَذِّبُوهُمْ
۔ سیدنا یزید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر فرمایا: اپنے غلاموں کا خیال رکھنا، اپنے غلاموں کا خیال رکھنا، اپنے غلاموں کا خیال رکھنا، جو کچھ خود کھاتے ہو، اسی میں سے ان کو کھلایا کرو، جو کچھ خود پہنتے ہو، ان کو بھی اسی میں سے پہناؤ، اگر وہ کوئی ایسا گناہ کر گزریں، جو تم نہ بخشنا چاہو، تو اللہ تعالیٰ کے ان بندوں کو بیچ دو اور ان کو عذاب نہ دو۔ [الفتح الربانی/كتاب العتق/حدیث: 5229]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف عاصم بن عبيد الله، أخرجه الطبراني في الكبير: 22/ 636، وعبد الرزاق: 17935، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16409 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16522»

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5230
عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِخْوَانُكُمْ جَعَلَهُمُ اللَّهُ قِنْيَةً تَحْتَ أَيْدِيكُمْ فَمَنْ كَانَ أَخُوهُ تَحْتَ يَدَيْهِ فَلْيُطْعِمْهُ مِنْ طَعَامِهِ وَلْيَكْسُهُ مِنْ لِبَاسِهِ وَلَا يُكَلِّفْهُ مَا يَغْلِبُهُ فَإِنْ كَلَّفَهُ مَا يَغْلِبُهُ فَلْيُعِنْهُ عَلَيْهِ
۔ سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اپنے بھائیوں کی حفاظت کرو، اللہ تعالیٰ نے ان کو تمہاری ملکیت میں کر دیا ہے، پس جس کا بھائی اس کی ملکیت میں ہو تو وہ اس کو اپنے کھانے میں سے کھلائے اور اپنے کپڑوں میں سے پہنائے اور اس کو ایسے کام کا مکلَّف نہ ٹھہرائے جو اس کو مغلوب کر دے، اگر وہ اس کو مغلوب کر دینے والے کام کی تکلیف دے دے تو پھر وہ اس کی معاونت کرے۔ [الفتح الربانی/كتاب العتق/حدیث: 5230]
تخریج الحدیث: «أخرجه بنحوه البخاري: 6050، ومسلم: 1661، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21409 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21738»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5231
عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ لَاءَمَكُمْ مِنْ خَدَمِكُمْ فَأَطْعِمُوهُمْ مِمَّا تَأْكُلُونَ وَاكْسُوهُمْ مِمَّا تَلْبَسُونَ أَوْ قَالَ تَكْتَسُونَ وَمَنْ لَا يُلَائِمُكُمْ فَبِيعُوهُ وَلَا تُعَذِّبُوا خَلْقَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ
۔ سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہارے جو خادم تمہاری طبع کے موافق ہوں تو جو کچھ خود کھاتے ہو، اس میں سے ان کو بھی کھلایا کرو اور جو کچھ خود پہنتے ہو، اس میں سے ان کو بھی پہنایا کرو، اور جو خادم تمہاری طبیعت کے موافق نہ ہو تو اس کو بیچ دیا کرو اور اللہ تعالیٰ کی مخلوق کو عذاب نہ دیا کرو۔ [الفتح الربانی/كتاب العتق/حدیث: 5231]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره بھذه السياقة، أخرجه ابوداود 5161، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21515 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21847»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5232
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا يَقُلْ أَحَدُكُمْ اسْقِ رَبَّكَ أَطْعِمْ رَبَّكَ وَضِّئْ رَبَّكَ وَلَا يَقُلْ أَحَدُكُمْ رَبِّي وَلْيَقُلْ سَيِّدِي وَمَوْلَايَ وَلَا يَقُلْ أَحَدُكُمْ عَبْدِي وَأَمَتِي وَلْيَقُلْ فَتَاتِي وَغُلَامِي
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی آدمی کسی غلام سے اس طرح نہ کہے: تو اپنے رب کو پانی پلا، تو اپنے رب کو کھانا کھلا، تو اپنے رب کو وضو کروا۔ اور کوئی غلام اس طرح نہ کہے: میرا رب، بلکہ وہ یوں کہے: میرا سردار اور میرا مولا، اسی طرح کوئی مالک اس طرح نہ کہے: عَبْدِیْ، اَمَتِیْ، بلکہ وہ کہے: میرا جوان، میرا غلام۔ [الفتح الربانی/كتاب العتق/حدیث: 5232]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2552، ومسلم: 2249، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8197 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8182»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5233
عَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ عَبْدِي وَأَمَتِي كُلُّكُمْ عَبِيدُ اللَّهِ وَكُلُّ نِسَائِكُمْ إِمَاءُ اللَّهِ وَلَكِنْ لِيَقُلْ غُلَامِي وَجَارِيَتِي وَفَتَايَ وَفَتَاتِي
۔ (دوسری سند) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کوئی مالک یوں نہ کہے: عَبْدِیْ وَاَمَتِیْ، کیونکہ تم سارے اللہ تعالیٰ کے بندے ہو اور تمہاری تمام عورتیں اللہ تعالیٰ کی لونڈیاں ہیں۔ مالک کو یوں کہنا چاہیے: میرا غلام، میری لونڈی، میرا جوان، میری جوان۔ [الفتح الربانی/كتاب العتق/حدیث: 5233]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9965»
وضاحت: فوائد: … اللہ تعالیٰ ہمارا ربّ ہے اور ہم اس کے بندے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان احادیث میں یہ بتانا چاہا ہے کہ یہ الفاظ اللہ تعالیٰ کے ساتھ ہی خاص رہنے دیے جائیں، اس لیے حکم دیا کہ کوئی غلام اپنے مالک کو رَبِّی نہ کہے اور کوئی مالک اپنے غلام اور لونڈی کو عَبْدِیْ اور أَمَتِیْ نہ کہے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5234
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَقْبَلَ مِنْ خَيْبَرَ وَمَعَهُ غُلَامَانِ وَهَبَ أَحَدَهُمَا لِعَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَقَالَ لَا تَضْرِبْهُ فَإِنِّي قَدْ نُهِيتُ عَنْ ضَرْبِ أَهْلِ الصَّلَاةِ وَقَدْ رَأَيْتُهُ يُصَلِّي قَالَ عَفَّانُ فِي حَدِيثِهِ أَخْبَرَنَا أَبُو طَالِبٍ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَقْبَلَ مِنْ خَيْبَرَ وَمَعَهُ غُلَامَانِ فَقَالَ عَلِيٌّ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَخْدِمْنَا قَالَ خُذْ أَيَّهُمَا شِئْتَ قَالَ خِرْ لِي قَالَ خُذْ هَذَا وَلَا تَضْرِبْهُ فَإِنِّي قَدْ رَأَيْتُهُ يُصَلِّي مَقْبَلَنَا مِنْ خَيْبَرَ وَإِنِّي قَدْ نُهِيتُ وَأَعْطَى أَبَا ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ غُلَامًا وَقَالَ اسْتَوْصِ بِهِ مَعْرُوفًا فَأَعْتَقَهُ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا فَعَلَ الْغُلَامُ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَمَرْتَنِي أَنْ أَسْتَوْصِيَ بِهِ مَعْرُوفًا فَأَعْتَقْتُهُ
۔ سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خیبر سے واپس آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ دو غلام تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک غلام سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو دیا اور فرمایا: اس کو مارنا نہیں، کیونکہ مجھے نمازی لوگوں کو مارنے سے منع کیا گیا ہے اور میں نے اس کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے۔ عفان راوی کی روایت کے الفاظ یہ ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خیبر سے واپس آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ دو غلام تھے، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہمیں بھی خادم دے دیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان میں جو چاہتے ہو، لے لو۔ لیکن سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ میرے لیے پسند کریں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ لے لو، کیونکہ میں نے اس کو خیبر سے واپسی پر نماز پڑھتے ہوئے دیکھاہے اور مجھے نمازی لوگوں کو مارنے سے منع کیا گیا ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دوسر اغلام سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ کو دیا اور فرمایا: اس کے حق میں اچھی وصیت قبول کرنا۔ انھوں نے اس کو آزاد کر دیا، پھر جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے پوچھا کہ غلام کا کیا بنا؟ تو انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ نے مجھے حکم دیا تھا کہ میں اس کے حق میں نیک وصیت قبول کروں، پس اس وجہ سے میں نے اس کو آزاد کر دیا۔ [الفتح الربانی/كتاب العتق/حدیث: 5234]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف من اجل ابي غالب البصري، فقد اختلف فيه، وھو ممن يعتبر به في المتابعات والشواھد، أخرجه الطبراني في الكبير: 8057، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22154 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22506»
وضاحت: فوائد: … اسلام نے عدل و انصاف اور اخوت و مساوات پر حد درجہ زور دیا ہے اور احترامِ انسانیت کا سب سے زیادہ خیال رکھا ہے۔ اگر ظاہری حقوق کا اعتبار کریں تو غلام معاشرے کے سب سے کم مرتبے والے لوگ ہیں، لیکن اسلام نے ان کے ساتھ بھی حسنِ سلوک کرنے کا حکم دیا اور یہ بھی وضاحت کر دی کہ یہ سلوک اس طرح کیا جائے کہ مالکان جو خود کھائیں اور پہنیں، وہی اپنے غلاموں کو کھلائیں اور پہنائیں، ان کے معاملے میں عفو و درگذر کے پہلو کو وسیع رکھیں اور ان کی مجبوری و ماتحتی سے ناجائز فائدہ نہ اٹھائیں، کیونکہ وہ دین اور انسان ہونے کی حیثیت سے اپنے آقاؤں کے بھائی ہیں۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3. بَابُ جَوَازِ ضَرْبِ الْمَمْلُوكِ عَلَى قَدْرِ ذَنْبِهِ وَالتَّشْدِيدِ فِيمَا زَادَ عَلَى ذَلِكَ
غلام کو اس کے جرم کے مطابق مارنے کے جواز کا اور اس مقدار سے زائد سزا دینے پر سختی کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5235
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَعَنْ بَعْضِ شُيُوخِهِمْ أَنَّ زِيَادًا مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّادِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ حَدَّثَهُمْ عَمَّنْ حَدَّثَهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ جَلَسَ بَيْنَ يَدَيْهِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ لِي مَمْلُوكِينَ يَكْذِبُونَنِي وَيَخُونُونَنِي وَيَعْصُونَنِي وَأَضْرِبُهُمْ وَأَسُبُّهُمْ فَكَيْفَ أَنَا مِنْهُمْ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُحْسَبُ مَا خَانُوكَ وَعَصَوْكَ وَيُكَذِّبُونَكَ وَعِقَابُكَ إِيَّاهُمْ إِنْ كَانَ دُونَ ذُنُوبِهِمْ كَانَ فَضْلًا لَكَ عَلَيْهِمْ وَإِنْ كَانَ عِقَابُكَ إِيَّاهُمْ بِقَدْرِ ذُنُوبِهِمْ كَانَ كَفَافًا لَا لَكَ وَلَا عَلَيْكَ وَإِنْ كَانَ عِقَابُكَ إِيَّاهُمْ فَوْقَ ذُنُوبِهِمْ اقْتُصَّ لَهُمْ مِنْكَ الْفَضْلُ الَّذِي بَقِيَ قِبَلَكَ فَجَعَلَ الرَّجُلُ يَبْكِي بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَيَهْتِفُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا لَهُ مَا يَقْرَأُ كِتَابَ اللَّهِ {وَنَضَعُ الْمَوَازِينَ الْقِسْطَ لِيَوْمِ الْقِيَامَةِ فَلَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَيْئًا وَإِنْ كَانَ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ أَتَيْنَا بِهَا وَكَفَى بِنَا حَاسِبِينَ} فَقَالَ الرَّجُلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا أَجِدُ شَيْئًا خَيْرًا مِنْ فِرَاقِ هَؤُلَاءِ يَعْنِي عَبِيدَهُ إِنِّي أُشْهِدُكَ أَنَّهُمْ أَحْرَارٌ كُلُّهُمْ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، ایک راوی کہتا ہے: ہمارے بعض شیوخ نے ہمیں بیان کیا کہ عبد اللہ بن عباد کے غلام زیاد سے مروی ہے اور وہ کسی صحابی سے بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے آ کر بیٹھ گیا اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے کچھ غلام ہیں، وہ مجھ سے جھوٹ بولتے ہیں، میرے ساتھ خیانت کرتے ہیں اور میری نافرمانی کرتے ہیں، میں پھر ان کو مارتا ہوں اور گالیاں دیتا ہوں، اب میرا اور ان کا کیا معاملہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا: ان کی خیانت، نافرمانی اور جھوٹ بولنے کے جرم میں سزا دینا، اگر یہ سزا ان کے جرم سے کم ہوئی تو تیری ان پر فضیلت ہو گی، اگر یہ سزا ان کے گناہوں کے مطابق ہو گی تو معاملہ برابر سرابر ہو گا، نہ تیرے حق میں کوئی چیز ہو گی اور نہ تیری مخالفت میں، لیکن اگر یہ سزا ان کے جرم سے زیادہ ہوئی تو زائد سزا کا تجھ سے قصاص لیا جائے گا۔ یہ بات سن کر وہ آدمی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے رونے اور چیخنے لگا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کو کیا ہو گیا ہے، کیا اس نے اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان نہیں پڑھا: {وَنَضَعُ الْمَوَازِینَ الْقِسْطَ لِیَوْمِ الْقِیَامَۃِ فَلَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَیْئًا وَإِنْ کَانَ مِثْقَالَ حَبَّۃٍ مِنْ خَرْدَلٍ أَتَیْنَا بِہَا وَکَفٰی بِنَا حَاسِبِینَ} … اور ہم قیامت کے دن ایسے ترازو رکھیں گے جو عین انصاف ہوں گے، پھر کسی شخص پر کچھ ظلم نہ کیا جائے گا اور اگر رائی کے ایک دانہ کے برابر عمل ہوگا تو ہم اسے لے آئیں گے اور ہم حساب لینے والے کافی ہیں۔ (سورۂ انبیاء: ۴۷) یہ سن کر اس آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے نزدیک تو یہی چیز بہتر ہے کہ میں ان غلاموں کو الگ کر دوں، اب میں آپ کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ وہ سارے کے سارے آزاد ہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب العتق/حدیث: 5235]
تخریج الحدیث: «صحيح الاسناد، قاله الالباني، أخرجه الترمذي: 3165، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26401 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26933»
وضاحت: فوائد: … غلاموں کی سزا کی تفصیل اس حدیث میں بیان کی گئی ہے، کسی کا غلام ہونے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ وہ جیسے چاہے اس کو گالی گلوچ کرے اور اس کی پٹائی کرے، وگرنہ روزِ قیامت والا محاسبہ اس سے سخت ہو گا۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5236
عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ بَيْنَا أَنَا أَضْرِبُ مَمْلُوكًا لِي إِذَا رَجُلٌ يُنَادِي مِنْ خَلْفِي اعْلَمْ يَا أَبَا مَسْعُودٍ اعْلَمْ يَا أَبَا مَسْعُودٍ فَالْتَفَتُّ فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ وَاللَّهِ لَلَّهُ أَقْدَرُ عَلَيْكَ مِنْكَ عَلَى هَذَا قَالَ فَحَلَفْتُ لَا أَضْرِبُ مَمْلُوكًا لِي أَبَدًا
۔ سیدنا ابو مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں اپنے ایک غلام کو مار رہا تھا، پیچھے سے کسی آدمی نے مجھے آواز دی اور کہا: ابو مسعود! ہو ش کر، ابو مسعود! ہوش کر، جب میں اس کی طرف متوجہ ہوا تو کیا دیکھتا ہوں کہ وہ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی قسم! جتنی قدرت تجھ کو اس غلام پر حاصل ہے، اللہ تعالیٰ اس سے تجھ پر زیادہ قدرت والا ہے۔ یہ سن کر میں نے قسم اٹھائی کہ میں کبھی بھی کسی غلام کو نہیں ماروں گا۔ [الفتح الربانی/كتاب العتق/حدیث: 5236]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1659، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22354 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22711»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں