الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3. بَابُ مَنْ حَلَفَ بِاللَّاتِ وَالْعُزَّى وَمَنْ قَالَ لِصَاحِبِهِ: تَعَالَ أَقَامِرُكَ
لات اور عزی کی قسم اٹھانے والے کا اور اس شخص کا بیان جو اپنے ساتھی سے کہے: آؤ، جوا کھیلیں
حدیث نمبر: 5302
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ حَلَفَ فَقَالَ فِي حَلِفِهِ وَاللَّاتِ فَلْيَقُلْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَمَنْ قَالَ لِصَاحِبِهِ تَعَالَ أُقَامِرْكَ فَلْيَتَصَدَّقْ بِشَيْءٍ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے قسم اٹھائی اور اس نے اپنی قسم میں کہا: لات کی قسم ہے، تو وہ لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ کہے اور جو اپنے ساتھی سے کہے: آؤ جوا کھیلیں تو وہ کچھ نہ کچھ صدقہ کرے۔ [الفتح الربانی/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 5302]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 6107، 6301، ومسلم: 1647، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8087 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8073»
وضاحت: فوائد: … اگلی حدیث کے فوائد کا مطالعہ کریں۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 6107
حدیث نمبر: 5303
عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ حَلَفْتُ بِاللَّاتِ وَالْعُزَّى فَقَالَ أَصْحَابِي قَدْ قُلْتَ هُجْرًا فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ إِنَّ الْعَهْدَ كَانَ قَرِيبًا وَإِنِّي حَلَفْتُ بِاللَّاتِ وَالْعُزَّى فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قُلْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ ثَلَاثًا ثُمَّ انْفُثْ عَنْ يَسَارِكَ ثَلَاثًا وَتَعَوَّذْ وَلَا تَعُدْ
۔ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے لات اور عزی کی قسم اٹھا لی، میرے ساتھیوں نے مجھے کہا: تم نے قبیح کلام بولا ہے، پس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: ہمارا دورِ جاہلیت قریب قریب ہے اور میں نے لات و عزی کی قسم اٹھا لی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم تین بار لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ کہو، پھر تین بار اپنی بائیں طرف تھوکو اور پناہ طلب کرو اور دوبارہ ایسی قسم نہ اٹھاؤ۔ [الفتح الربانی/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 5303]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، أخرجه النسائي: 7/7، وابن ماجه: 2097، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1590 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1590»
وضاحت: فوائد: … عربوں کی زبانوں پر کچھ کلمات بلا قصد جاری ہو جاتے تھے، ابتدائے اسلام میں بھی ایسے ہو جاتا ہے کہ ممنوعہ کلمات ان کی زبان پر آ جاتے تھے، لات و عزی کی قسموں کاتعلق بھی ان ہی کلمات سے ہے، یا اس سے مراد وہ شخص ہے جو جہالت یا بھول کر لات و عزی کی قسم کھالے، وگرنہ جو آدمی جان بوجھ کر تعظیماً لات وغیرہ کی قسم کھاتا ہے، وہ کافر ہے، اس کے کفر میں کسی کا اختلاف نہیں، وہ خارج از اسلام ہو گا،دیکھیں حدیث نمبر (۵۲۹۲) والے باب کی احادیث اور ان کے فوائد۔
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط الشيخين
4. بَابُ مَنْ حَلَفَ بِمِلَّةٍ سِوَى الإِسْلَامِ وَمَنْ قَالَ: أَنَّهُ بَرِيءٌ مِنَ الْإِسْلَامِ
اسلام کے علاوہ کسی اور مذہب کی قسم اٹھانے والے اور اس شخص کا بیان جس نے کہا¤کہ وہ اسلام سے بری ہے
حدیث نمبر: 5304
عَنْ ثَابِتِ بْنِ الضَّحَّاكِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَمَنْ حَلَفَ بِمِلَّةٍ سِوَى الْإِسْلَامِ كَاذِبًا فَهُوَ كَمَا قَالَ
۔ سیدنا ثابت بن ضحاک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اور جس نے اسلام کے علاوہ کسی اور مذہب پر قسم اٹھائی، جبکہ وہ جھوٹا تھا، تو وہ اسی طرح ہو جائے گا، جیسے اس نے کہا۔ [الفتح الربانی/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 5304]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 6047، ومسلم: 110، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16385 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16498»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 6047
حدیث نمبر: 5305
عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ حَلَفَ أَنَّهُ بَرِيءٌ مِنَ الْإِسْلَامِ فَإِنْ كَانَ كَاذِبًا فَهُوَ كَمَا قَالَ وَإِنْ كَانَ صَادِقًا فَلَنْ يَرْجِعَ إِلَى الْإِسْلَامِ سَالِمًا
۔ سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے یوں قسم اٹھائی کہ وہ اسلام سے بری ہو جائے گا، اب اگر وہ جھوٹا ہوا تو اسی طرح ہو جائے گا، جیسے اس نے کہا اور اگر وہ سچا ہوا تو وہ اسلام کی طرف سالم واپس نہیں آئے گا۔ [الفتح الربانی/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 5305]
تخریج الحدیث: «اسناده قوي، أخرجه ابوداود: 3258، والنسائي:7/6، وابن ماجه: 2100، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23006 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23394»
وضاحت: فوائد: … اس قسم کی صورت یہ ہے کہ کوئی شخص کہے: اگر میں نے فلاں کام کیا ہو تو میں یہودی یا عیسائی وغیرہ ہو جاؤں یا اسلام سے بری ہو جاؤں، جبکہ اس نے وہ کام کیا ہو اور اسے یاد بھی ہو، یا وہ یوں کہے: اگر میں یہ کام کروں تو میں یہودی یا عیسائی ہو جاؤں یا اسلام سے فارغ ہو جاؤں، جبکہ اس کی نیت یہ ہو کہ اس نے فلاں کام کرنا ہے، صرف دھوکہ دہی کے لیے قسم کھاتا ہو۔
الحكم على الحديث:
اسناده قوي
5. بَابُ مَنْ حَلَفَ بِاسْمِ مِنْ أَسْمَاءِ اللهِ عَزَّوَجَلَّ أَوْ صِفَةٍ مِنْ صِفَاتٍ
اللہ تعالیٰ کے اسماء و صفات میں کسی اسم یا صفت کی قسم اٹھانے والے کا بیان
حدیث نمبر: 5306
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَاللَّهِ لَأَسْتَغْفِرُ اللَّهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ فِي الْيَوْمِ أَكْثَرَ مِنْ سَبْعِينَ مَرَّةً
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی قسم! میں ایک دن میں ستر سے زائد بار اللہ تعالیٰ سے بخشش طلب کرتا ہوں اور اس کی طرف توبہ کرتا ہوں۔ [الفتح الربانی/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 5306]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 6307، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8493 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8474»
وضاحت: فوائد: … کثرت سے استغفار اور توبہ کرنا مستحب ہے، اگرچہ بظاہر گناہ سرزد نہ ہوا ہو۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 6307
حدیث نمبر: 5307
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ كَانَتْ يَمِينُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الَّتِي يَحْلِفُ عَلَيْهَا لَا وَمُقَلِّبِ الْقُلُوبِ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قسم کے الفاظ، جن پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قسم اٹھاتے تھے، وہ یہ ہوتے تھے: لَا وَمُقَلِّبَ الْقُلُوْبِ (دلوں کو الٹ پلٹ کر دینے والی ذات کی قسم)۔ [الفتح الربانی/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 5307]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 6628، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4788 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4788»
وضاحت: فوائد: … لَا وَمُقَلِّبَ الْقُلُوْبِ کے شروع میں لَا گزشتہ کلام کی نفی کے لیے ہے، یا صرف تاکید کے لیے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 6628
حدیث نمبر: 5308
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ فَلَمَّا قَامَ قُمْنَا مَعَهُ فَجَاءَهُ أَعْرَابِيٌّ فَقَالَ أَعْطِنِي يَا مُحَمَّدُ قَالَ فَقَالَ لَا وَأَسْتَغْفِرُ اللَّهَ فَجَذَبَهُ فَخَدَشَهُ قَالَ فَهَمُّوا بِهِ قَالَ دَعُوهُ قَالَ ثُمَّ أَعْطَاهُ قَالَ وَكَانَتْ يَمِينُهُ أَنْ يَقُولَ لَا وَأَسْتَغْفِرُ اللَّهَ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم مسجد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہوئے تو ہم بھی کھڑے ہو گئے، اتنے میں ایک بدّو آیا اور اس نے کہا: اے محمد! مجھے کچھ دو، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں، اور میں اللہ تعالیٰ سے بخشش طلب کرتا ہوں۔ اس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کھینچا، جس سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خراش بھی آ گئی، صحابہ نے اس کے ساتھ کچھ کرنا چاہا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کو چھوڑ دو۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو کچھ عطا کر دیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ان الفاظ میں بھی قسم ہوتی تھی: لَا وَأَسْتَغْفِرُ اللّٰہَ (نہیں، اور میں اللہ تعالیٰ سے بخشش طلب کرتا ہوں)۔ [الفتح الربانی/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 5308]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، ھلال والد محمد لا يعرف، أخرجه ابوداود: 3265، 4775، وابن ماجه: 2093، والنسائي: 8/33، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7869 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7856»
وضاحت: فوائد: … ان الفاظ لَا وَأَسْتَغْفِرُ اللّٰہَ کی تقدیری عبارت یوں بنتی ہے: لَا، اُقْسِمُ بِاللّٰہِ، وَأَسْتَغْفِرُ اللّٰہَ
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
حدیث نمبر: 5309
وَفِي حَدِيثِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَامَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ وَالَّذِي لَا إِلَهَ غَيْرُهُ
۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے اندر کھڑے ہوئے اورفرمایا: اس ذات کی قسم جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں! [الفتح الربانی/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 5309]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1676، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25475 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25989»
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 1676
حدیث نمبر: 5310
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَا يَسْمَعُ بِي أَحَدٌ مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ وَلَا يَهُودِيٌّ وَلَا نَصْرَانِيٌّ وَمَاتَ وَلَمْ يُؤْمِنْ بِالَّذِي أُرْسِلْتُ بِهِ إِلَّا كَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّارِ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! جو شخص بھی میرے بارے میں سنے گا، وہ اس امت سے ہو، یا یہودی ہو، یا عیسائی ہو، اور پھر وہ اس حال میں مر جائے کہ میری لائی ہوئی شریعت پر ایمان نہ لائے تو وہ جہنمی لوگوں میں سے ہو گا۔ [الفتح الربانی/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 5310]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 153، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8203 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8188»
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 153
حدیث نمبر: 5311
عَنْهُ أَيْضًا مِنْ حَدِيثٍ طَوِيلٍ فِي قِصَّةٍ آخَرَ رَجُلٌ يَخْرُجُ مِنَ النَّارِ قَالَ وَيَبْقَى رَجُلٌ يُقْبِلُ بِوَجْهِهِ إِلَى النَّارِ فَيَقُولُ أَيْ رَبِّ قَدْ قَشَبَنِي رِيحُهَا وَأَحْرَقَنِي ذَكَاؤُهَا فَاصْرِفْ وَجْهِي عَنِ النَّارِ فَلَا يَزَالُ يَدْعُو اللَّهَ حَتَّى يَقُولَ فَلَعَلِّي إِنْ أَعْطَيْتُكَ ذَلِكَ أَنْ تَسْأَلَنِي غَيْرَهُ فَيَقُولُ لَا وَعِزَّتِكَ لَا أَسْأَلُكَ غَيْرَهُ الْحَدِيثَ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے بھی یہ مروی ہے، یہ ایک طویل حدیث ہے، جس میں جہنم سے نکلنے والے آخری شخص کا واقعہ بیان کیا گیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک آدمی باقی رہ جائے گا، جب وہ اپنا چہرہ آگ کی طرف کرے گاتو کہے گا: اے میرے ربّ! آگ کی مکروہ ہوا نے مجھے تکلیف دی ہے اور اس کے بھڑکنے نے مجھے جلا دیا ہے، پس تو میرا چہرہ اس سے پھیر دے، پس وہ اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا رہے گا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کہے گا: ممکن ہے کہ اگر میں تجھے یہ چیز عطا کر دوں تو تو مجھ سے کسی اور چیز کا سوال شروع کر دے؟ وہ کہے گا: نہیں، تیری عزت کی قسم! میں اس کے علاوہ تجھ سے کوئی سوال نہیں کروں گا …۔ [الفتح الربانی/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 5311]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 6573، ومسلم: 182، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10906 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10919»
وضاحت: فوائد: … اس شخص نے اللہ تعالیٰ کی عزت کی قسم اٹھائی۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 6573