🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
5. بَابُ مَنْ حَلَفَ بِاسْمِ مِنْ أَسْمَاءِ اللهِ عَزَّوَجَلَّ أَوْ صِفَةٍ مِنْ صِفَاتٍ
اللہ تعالیٰ کے اسماء و صفات میں کسی اسم یا صفت کی قسم اٹھانے والے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5312
وَجَاءَ فِي حَدِيثِ الْإِفْكِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَامَ فَاسْتَعْذَرَ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُبَيٍّ فَقَامَ أُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ فَقَالَ لِسَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا لَعَمْرُ اللَّهِ لَنَقْتُلَنَّهُ الْحَدِيثَ
۔ طویل حدیث الافک میں مذکور ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کھڑے ہوئے اور عبد اللہ بن ابی ّ کے سلسلے میں عذر خواہی کی، لیکن سیدنا اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور انھوں نے سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ سے کہا: اللہ کی عمر کی قسم! ہم ضرور ضرور اس کو قتل کریں گے، …۔ [الفتح الربانی/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 5312]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2879، 4025، 4690، ومسلم: 2770، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25623 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26141»
وضاحت: فوائد: … اللہ تعالیٰ کی عمر کی قسم اٹھانے سے مراد اللہ تعالیٰ کی بقا ہے، جو کہ اللہ تعالیٰ کی صفت ہے۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 2879
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5313
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَمَّرَ أُسَامَةَ عَلَى قَوْمٍ فَطَعَنَ النَّاسُ فِي إِمَارَتِهِ فَقَالَ إِنْ تَطْعَنُوا فِي إِمَارَتِهِ فَقَدْ طَعَنْتُمْ فِي إِمَارَةِ أَبِيهِ وَايْمُ اللَّهِ إِنْ كَانَ لَخَلِيقًا لِلْإِمَارَةِ الْحَدِيثَ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ کو کچھ لوگوں کا امیر بنایا، لیکن جب لوگوں نے اس کی امارت پر نقد کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تم اس کی امارت میں طعن کرتے ہو تو تم نے اس کے باپ کی امارت میں بھی طعن کی ہو گی، اللہ کی قسم ہے، بیشک امارت کے لائق ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 5313]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3730، 4469، 7187، ومسلم: 2426، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4701 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4701»
وضاحت: فوائد: … صرف اللہ تعالیٰ کی ذات اور اسماء و صفات کی قسم اٹھائی جا سکتی ہے، اس باب میں بعض مثالیں بیان کی گئی ہیں۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 3730
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
6. باب الاسْتِشَنَاءِ فِي الْيَمِينِ وَالتَّوْرِيَّةِ وَالرَّجوع إلى النية
قسم میں استثنائ، توریہ اور نیت کا اعتبار کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5314
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ أَيُّوبُ لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ حَلَفَ فَاسْتَثْنَى فَهُوَ بِالْخِيَارِ إِنْ شَاءَ أَنْ يَمْضِيَ عَلَى يَمِينِهِ وَإِنْ شَاءَ أَنْ يَرْجِعَ غَيْرَ حِنْثٍ أَوْ قَالَ غَيْرَ حَرَجٍ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے قسم اٹھائی، لیکن ساتھ ہی استثناء کر لیا تو اس کو اختیار حاصل ہو گا، اگر وہ چاہے تو اپنی قسم کو نافذ کر دے اور چاہے تو قسم کا تقاضا پورا نہ کرے، اس سے اس کی قسم ٹوٹے گی نہیں، یا فرمایا: اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 5314]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابوداود: 3261، وابن ماجه: 2106، والنسائي: 7/25، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4510 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4510»
وضاحت: فوائد: … استثناء سے مراد اِنْ شَائَ اللّٰہُ (اگر اللہ تعالیٰ نے چاہا) کہنا ہے، ان لفظوں سے صاف ظاہر ہے کہ قسم کھانے والے نے حتمی قسم نہیں کھائی، گویا وہ یہ کہنا چاہتا ہے کہ اگر یہ کام کر سکا تو کرے گا، ورنہ سمجھا جائے گا کہ اللہ تعالیٰ نے نہیں چاہا، لہذا یہ کام نہ ہو سکا۔

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5315
عَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا حَلَفَ الرَّجُلُ فَقَالَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ فَهُوَ بِالْخِيَارِ إِنْ شَاءَ فَلْيَمْضِ وَإِنْ شَاءَ فَلْيَتْرُكْ
۔ (دوسری سند) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب بندہ قسم اٹھاتا ہے اور اِنْ شَائَ اللّٰہُ کہہ کر اس کو مستثنی کر لیتا ہے، تو اس کو اختیار مل جاتا ہے،چاہے تو قسم کو پورا کر دے اور چاہے تو توڑ دے۔ [الفتح الربانی/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 5315]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6103»

الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6103
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5316
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ فَقَالَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ فَقَدِ اسْتَثْنَى
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے قسم اٹھائی اور ساتھ ہی اِنْ شَائَ اللّٰہُ بھی کہہ دیا تو اس نے قسم کا استثناء کر لیا۔ [الفتح الربانی/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 5316]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4581»

الحكم على الحديث:
انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4581
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5317
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ حَلَفَ فَقَالَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ لَمْ يَحْنَثْ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے قسم اٹھائی اور اِنْ شَائَ اللّٰہ بھی کہا تو وہ حانث نہیں ہو گا۔ [الفتح الربانی/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 5317]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، أخرجه ابن ماجه: 2104، والترمذي: 1532، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8088 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8074»
وضاحت: فوائد: … معلوم ہوا کہ جو آدمی اپنی قسم کو اِنْ شَائَ اللّٰہ کے ساتھ مقید کر دیتا ہے، اس کو اس قسم کو پورا کرنے یا نہ کرنے کا اختیار مل جاتا ہے۔

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5318
عَنْ سُوَيْدِ بْنِ حَنْظَلَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ خَرَجْنَا نُرِيدُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَمَعَنَا وَائِلُ بْنُ حُجْرٍ فَأَخَذَهُ عَدُوٌّ لَهُ فَتَحَرَّجَ النَّاسُ أَنْ يَحْلِفُوا وَحَلَفْتُ أَنَّهُ أَخِي فَخَلَّى عَنْهُ فَأَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ أَنْتَ كُنْتَ أَبَرَّهُمْ وَأَصْدَقَهُمْ صَدَقْتَ الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ
۔ سیدنا سوید بن حنظلہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ملاقات کرنے کے لیے روانہ ہوئے، ہمارے ساتھ سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ بھی تھے، راستے میں ان کو دشمن نے پکڑ لیا اور لوگوں نے ان کے حق میں قسم اٹھانے میں حرج محسوس کیا، لیکن میں نے قسم اٹھا دی کہ وہ میرا بھائی ہے، اس وجہ سے دشمن نے ان کو رہا کر دیا، جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور میں نے ساری بات آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بتلائی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم اِن سب میں بڑھ کر قسم کو پورا کرنے والے اور سب سے زیادہ سچے ہو، تم نے سچ بولا ہے، کیونکہ مسلمان مسلمان کا بھائی ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 5318]
تخریج الحدیث: «صحيح، قاله الالباني، أخرجه ابوداود: 3256، وابن ماجه: 2119، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16726 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16846»
وضاحت: فوائد: … یہ دراصل توریہ کی ایک قسم ہے،ملاحظہ ہو حدیث نمبر (۴۹۴۴)

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5319
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَمِينُكَ عَلَى مَا يُصَدِّقُكَ بِهِ صَاحِبُكَ وَفِي لَفْظٍ بِمَا يُصَدِّقُكَ بِهِ صَاحِبُكَ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تیری قسم اس چیز پر ہے، جس پر تیرا ساتھی تیری تصدیق کر رہا ہو۔ [الفتح الربانی/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 5319]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1653، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7119 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7119»
وضاحت: فوائد: … جس آدمی کے مطالبے پر قسم اٹھائی جا رہی ہو، اس کے فہم کے مطابق قسم معتبر ہو گی۔ مثال کے طور پر بعض لوگوں اس نیت سے جھوٹی قسم اٹھا لیتے ہیں کہ ان کے دل میں اس چیز کی نفی مراد ہوتی ہے، بظاہر وہ اثبات کا اظہار کر رہے ہوتے ہیں۔ ایسے لوگوں کا یہ انداز باطل اور خلافِ شرع ہے اور شرعی تعلیمات کے مطابق یہ کبیرہ گناہ کے مرتکب ہوں گے، کیونکہ اس معاملے میں اعتبار قسم کا مطالبہ کرنے والے پر ہے، نہ کہ قسم اٹھانے والی کی نیت پر۔

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 1653
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
7. بَابُ التَّعْلِيظِ فِي الْيَمِينِ الْفَاجِرَةِ وَتَعْظِيمِهَا عَلَى مِنْبَرِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم
جھوٹی قسم کے بارے میں سختی کا اور منبر نبوی پر اس قسم کے بڑا جرم ہونے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5320
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ يَقْتَطِعُ بِهَا مَالَ مُسْلِمٍ لَقِيَ اللَّهَ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ وَقَرَأَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِصْدَاقَهُ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ {إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلًا أُولَئِكَ لَا خَلَاقَ لَهُمْ فِي الْآخِرَةِ وَلَا يُكَلِّمُهُمُ اللَّهُ} [آل عمران: 77]
۔ سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے مسلمان کا مال ہتھیا لینے کے لیے قسم اٹھائی وہ اللہ تعالیٰ کو اس حال میںملے گا کہ وہ اس پر ناراض ہو گا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے فرمان کے مطابق اللہ تعالیٰ کی کتاب سے اس آیت کی تلاوت کی: {إِنَّ الَّذِینَ یَشْتَرُونَ بِعَہْدِ اللّٰہِ … … لَہُمْ فِی الْآخِرَۃِ وَلَا یُکَلِّمُہُمُ اللّٰہُ} … جو لوگ اللہ تعالیٰ کے عہد اور اپنی قسموں کو تھوڑی قیمت کے عوض بیچ ڈالتے ہیں، ایسے لوگوں کے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہو گا اور نہ اللہ تعالیٰ ان سے کلام کرے گا۔ [الفتح الربانی/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 5320]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 7445، ومسلم: 138، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3576 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3576»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 7445
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5321
عَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ بِنَحْوِهِ وَزَادَ قَالَ فَخَرَجَ الْأَشْعَثُ وَهُوَ يَقْرَؤُهَا قَالَ فِيَّ أُنْزِلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ إِنَّ رَجُلًا ادَّعَى رَكِيًّا لِي فَاخْتَصَمْنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ شَاهِدَاكَ أَوْ يَمِينُهُ فَقُلْتُ أَمَا إِنَّهُ إِنْ حَلَفَ حَلَفَ فَاجِرًا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ صَبْرًا يَسْتَحِقُّ بِهَا مَالًا لَقِيَ اللَّهَ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ
۔ (دوسری سند) اسی طرح کی روایت ہے، البتہ یہ الفاظ زائد ہیں: سیدنا اشعث رضی اللہ عنہ اس آیت کی تلاوت کرتے ہوئے نکلے اور کہا: یہ آیت میرے بارے میںنازل ہوئی ہے اور وہ اس طرح کہ ایک آدمی نے میرے کنویں کا دعوی کر دیا، پس ہم جھگڑا لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پہنچ گئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا: تیرے دو گواہ، یا اس کی قسم؟ میں نے کہا: اگر اس نے قسم اٹھائی تو یہ جھوٹی قسم اٹھائے گا، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس آدمی نے اپنے آپ کو کسی کے مال کا مستحق ثابت کرنے کے لیے حاکم کے پاس قسم اٹھائی، وہ اللہ تعالیٰ کو اس حال میں ملے گا کہ وہ اس پر ناراض ہو گا۔ [الفتح الربانی/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 5321]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الأول۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22185»
وضاحت: فوائد: … یَمِیْنُ الصَّبْر: اس جھوٹی قسم کو کہتے ہیں، جو آدمی جان بوجھ کر اٹھاتا ہے اور اس کا ارادہ مسلمان کا مال ہتھیا لینا ہوتا ہے۔اس کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ وہ اپنے نفس کو اس قسم پر پابند کرتا ہے یا حاکم، قاضی کے پاس اسے روکا جاتا ہے کیونکہ صبر کا اصل معنی روکنا ہے۔

الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الأول۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22185
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں