الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. بَابُ فِى أن الْيَمِينَ لَا تَكُونُ إِلَّا بِاللهِ عَزَّوَجَلَّ وَالنَّهْي عَنِ الْخَلْفِ بِالْآبَاءِ
صرف اللہ تعالیٰ کی قسم اٹھانے اور آباء کی قسم اٹھانے سے ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 5292
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ كَانَ حَالِفًا فَلَا يَحْلِفْ إِلَّا بِاللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَكَانَتْ قُرَيْشٌ تَحْلِفُ بِآبَائِهَا فَقَالَ لَا تَحْلِفُوا بِآبَائِكُمْ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی قسم اٹھانا چاہے، وہ صرف اللہ تعالیٰ کی قسم اٹھائے۔ چونکہ قریشی لوگ اپنے آباء کی قسم اٹھاتے تھے، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: اپنے آباء کی قسم نہ اٹھایا کرو۔ [الفتح الربانی/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 5292]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3836، 6648، ومسلم: 1646، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5462 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5462»
وضاحت: فوائد: … جس چیز کی قسم اٹھائی جائے، اس کو محلوف بہ کہتے ہیں، دراصل قسم سے محلوف بہ کی تعظیم لازم آتی ہے جبکہ عظمت اللہ تعالیٰ کے ساتھ خاص ہے، اس لیے غیر اللہ کی قسم اٹھانے سے منع کر دیا گیا ہے، رہا مسئلہ اللہ تعالیٰ کا تو وہ اپنی مخلوقات میں سے جس چیز کی چاہے، قسم اٹھاتا ہے، اس کا مقصود یہ ہوتا ہے کہ اس چیز کے شرف پر دلالت کی جائے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 3836
حدیث نمبر: 5293
عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ قَالَ كُنْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فِي حَلْقَةٍ فَسَمِعَ رَجُلًا فِي حَلْقَةٍ أُخْرَى وَهُوَ يَقُولُ لَا وَأَبِي فَرَمَاهُ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا بِالْحَصَى وَقَالَ إِنَّهَا كَانَتْ يَمِينَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَنَهَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْهَا وَقَالَ إِنَّهَا شِرْكٌ
۔ سعد بن عبیدہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں ایک مجلس میں سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ تھا، جب انھوں نے دوسری مجلس میں بیٹھے ہوئے ایک آدمی کو یوں کہتے ہوئے سنا: نہیں، میرے باپ کی قسم ہے، تو انھوں نے اس کو کنکری ماری اور کہا: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بھی اسی طرح قسم اٹھاتے تھے، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ شرک ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 5293]
تخریج الحدیث: «صحيح بالشواھد، أخرجه عبد الرزاق: 15926، والحاكم: 1/ 52، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5222 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5222»
الحكم على الحديث:
صحيح بالشواھد
حدیث نمبر: 5294
عَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ بِنَحْوِهِ وَفِيهِ فَنَهَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ حَلَفَ بِشَيْءٍ دُونَ اللَّهِ تَعَالَى فَقَدْ أَشْرَكَ وَقَالَ الْآخَرُ وَهُوَ شِرْكٌ
۔ (دوسری سند) اسی طر ح کی روایت ہے، البتہ اس میںہے: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے منع کر دیا اور فرمایا: جس نے اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی اور چیز کی قسم اٹھائی، اس نے شرک کیا۔ ایک راوی کے الفاظ یہ ہیں: اور وہ شرک ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 5294]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4904»
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4904
حدیث نمبر: 5295
عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ لَا وَأَبِي فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَهْ إِنَّهُ مَنْ حَلَفَ بِشَيْءٍ دُونِ اللَّهِ فَقَدْ أَشْرَكَ
۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب انھوں نے یوں کہتے ہوئے قسم اٹھائی کہ نہیں، میرے باپ کی قسم ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: رک جاؤ، بیشک جس نے اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی اور چیز کی قسم اٹھائی،ا س نے شرک کیا۔ [الفتح الربانی/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 5295]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 329 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 329»
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
حدیث نمبر: 5296
عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سَمِعَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَهُوَ يَقُولُ وَأَبِي فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ يَنْهَاكُمْ أَنْ تَحْلِفُوا بِآبَائِكُمْ فَإِذَا حَلَفَ أَحَدُكُمْ فَلْيَحْلِفْ بِاللَّهِ أَوْ لِيَصْمُتْ قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَمَا حَلَفْتُ بِهَا بَعْدُ ذَاكِرًا وَلَا آثِرًا
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو یوں کہتے ہوئے سنا کہ میرے باپ کی قسم ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ تم لوگوں کو اپنے آباء کی قسمیں اٹھانے سے منع کرتا ہے، جب کوئی آدمی قسم اٹھائے تو وہ اللہ تعالیٰ کی قسم اٹھائے، یا پھر خاموش رہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اس کے بعد نہ میں نے جان بوجھ کر ایسی قسم اٹھائی اور نہ کسی کا بات نقل کرتے ہوئے۔ [الفتح الربانی/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 5296]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2679، 6108، 6646، ومسلم: 1646، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4513 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4523»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی قسم اٹھانے کا کم از کم مرتبہ اباحت ہے اور اکثر اہل علم کی بھی یہی رائے ہے، لہذا ان لوگوں کا رویہ ٹھیک نہیں ہے، جو اللہ تعالیٰ کی قسم کے مطالبے پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہیں۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 2679
حدیث نمبر: 5297
عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِنَحْوِهِ وَفِيهِ قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَوَاللَّهِ مَا حَلَفْتُ بِهَا مُنْذُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْهَا وَلَا تَكَلَّمْتُ بِهَا ذَاكِرًا وَلَا آثِرًا
۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے اسی قسم کی روایت مروی ہے، البتہ اس میں ہے: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: پس اللہ تعالیٰ کی قسم ہے، جب سے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس سے منع کرتے ہوئے سنا، میں نے ایسی قسم نہیں اٹھائی اور نہ ایسا کلام کیا، نہ جان بوجھ کر اور نہ کسی کی کلام نقل کرتے ہوئے۔ [الفتح الربانی/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 5297]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 6647، ومسلم: 1646، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 112 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 112»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 6647
حدیث نمبر: 5298
عَنْهُ أَيْضًا قَالَ كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي غَزَاةٍ فَحَلَفْتُ لَا وَأَبِي فَهَتَفَ بِي رَجُلٌ مِنْ خَلْفِي فَقَالَ لَا تَحْلِفُوا بِآبَائِكُمْ فَإِذَا هُوَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے ہی مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں ایک غزوے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھا، میں نے یوں قسم اٹھائی: نہیں، میرے باپ کی قسم! میرے پیچھے سے کسی آدمی نے بآواز بلند کہا: اپنے آباء کی قسمیں نہ اٹھاؤ۔ جب میں نے دیکھا تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تھے۔ [الفتح الربانی/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 5298]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 214 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 214»
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
حدیث نمبر: 5299
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَحْلِفُوا بِآبَائِكُمْ وَلَا بِالطَّوَاغِيتِ وَقَالَ يَزِيدُ وَالطَّوَاغِي
۔ سیدنا عبد الرحمن بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اپنے باپوں اور طاغوت کی قسمیں نہ اٹھایا کرو۔ یزید راوی نے اپنی روایت میں طواغی کے الفاظ ذکر کیے۔ [الفتح الربانی/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 5299]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1648، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20624 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20900»
وضاحت: فوائد: … طاغوت سے مراد بت ہیں، اس لفظ کا اطلاق شیطان پر بھی ہوتا ہے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 1648
2. بابُ مَا جَاءَ فِي الْخَلْفِ بِالْكَعْبَةِ
کعبہ کی قسم اٹھانے کا بیان
حدیث نمبر: 5300
عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ قَالَ كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فَجِئْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ وَتَرَكْتُ عِنْدَهُ رَجُلًا مِنْ كِنْدَةَ فَجَاءَ الْكِنْدِيُّ مُرَوَّعًا فَقُلْتُ مَا وَرَاءَكَ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ آنِفًا فَقَالَ أَحْلِفُ بِالْكَعْبَةِ فَقَالَ احْلِفْ بِرَبِّ الْكَعْبَةِ فَإِنَّ عُمَرَ كَانَ يَحْلِفُ بِأَبِيهِ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا تَحْلِفْ بِأَبِيكَ فَإِنَّهُ مَنْ حَلَفَ بِغَيْرِ اللَّهِ فَقَدْ أَشْرَكَ
۔ سعد بن عبیدہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس بیٹھا ہوا تھا، پھر میں ایک کندی باشندے کو سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ کے پاس چھوڑ کر سعید بن مسیب کے پاس چلا گیا، وہ کندی آدمی گھبرا کر وہاں پہنچ گیا، میں نے اس سے کہا: تیرے پیچھے کون لگا ہوا ہے؟ انھوں نے کہا: ابھی ایک آدمی، سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور اس نے کہا: میں کعبہ کی قسم اٹھاتا ہوں، انھوں نے کہا: تو کعبہ کے ربّ کی قسم اٹھا، کیونکہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اپنے باپ کی قسم اٹھاتے تھے، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا تھا: اپنے باپ کی قسم مت اٹھاؤ، کیونکہ جس نے غیر اللہ کی قسم اٹھائی، اس نے شرک کیا۔ [الفتح الربانی/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 5300]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة الكندي، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6073 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6073»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لجھالة الكندي
حدیث نمبر: 5301
عَنْ قُتَيْلَةَ بِنْتِ صَيْفِيٍّ الْجُهَنِيَّةِ قَالَتْ أَتَى حَبْرٌ مِنَ الْأَحْبَارِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ نِعْمَ الْقَوْمُ أَنْتُمْ لَوْلَا أَنَّكُمْ تُشْرِكُونَ قَالَ سُبْحَانَ اللَّهِ وَمَا ذَاكَ قَالَ تَقُولُونَ إِذَا حَلَفْتُمْ وَالْكَعْبَةِ قَالَتْ فَأَمْهَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا ثُمَّ قَالَ إِنَّهُ قَدْ قَالَ فَمَنْ حَلَفَ فَلْيَحْلِفْ بِرَبِّ الْكَعْبَةِ قَالَ يَا مُحَمَّدُ نِعْمَ الْقَوْمُ أَنْتُمْ لَوْلَا أَنَّكُمْ تَجْعَلُونَ لِلَّهِ نِدًّا قَالَ سُبْحَانَ اللَّهِ وَمَا ذَاكَ قَالَ تَقُولُونَ مَا شَاءَ اللَّهُ وَشِئْتَ قَالَ فَأَمْهَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا ثُمَّ قَالَ إِنَّهُ قَدْ قَالَ فَمَنْ قَالَ مَا شَاءَ اللَّهُ فَلْيَفْصِلْ بَيْنَهُمَا ثُمَّ شِئْتَ
۔ قُتیلہ بنت صیفی جہنیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: ایک یہودی عالم، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے محمد! تم بہترین لوگ ہو، لیکن کاش کہ تم شرک نہ کرتے ہوتے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سبحان اللہ! (بڑا تعجب ہے) وہ کیسے؟ اس نے کہا: جب تم قسم اٹھاتے ہو تو کہتے ہو: کعبہ کی قسم۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تھوڑی دیر خاموش رہنے کے بعد فرمایا: اس آدمی نے ایک بات کی ہے، اب جو آدمی بھی قسم اٹھائے وہ کعبہ کے ربّ کی قسم اٹھائے (نہ کہ کعبہ کی)۔ اس نے پھر کہا: اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)! تم بڑے اچھے لوگ ہو، لیکن کاش کہ تم اللہ کیلئے اس کا ہمسر نہ ٹھہراتے ہوتے! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سبحان اللہ! وہ کیسے؟ اس نے کہا: تم کہتے ہو کہ جو اللہ چاہے اور تم چاہو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کچھ دیر خاموش رہے، پھر فرمایا: اس آدمی نے ایک بات کی ہے، اگر کوئی آدمی مَا شَائَ اللّٰہُ کہے تو وہ فاصلہ کرے اور ثُمَّ شِئْتَ کہے (یعنی: جو اللہ چاہے اور پھر تم چاہو)۔ [الفتح الربانی/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 5301]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه النسائي: 7/6، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27093 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27633»
وضاحت: فوائد: … کعبہ، اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہے، اس لیے اس کی قسم بھی ممنوع ہے۔ امورِ کائنات میں سب سے پہلے اللہ تعالیٰ کی مشیت کارفرما ہوتی ہے، اس میں کوئی بھی اس کا شریک اور ساجھی نہیں ہے، ہر مخلوق کی چاہت اللہ تعالیٰ کی مشیت کے تابع ہے، یعنی پہلے اللہ تعالیٰ کسی امر کا وقوع پذیر ہونا چاہے گا تو تب مخلوق اس کو چاہ سکے گی۔
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح