الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
9. بَابُ الْأمْرِ بِأَبْرَارِ الْمُقْسَمِ وَالرُّحْصَةِ فِي تَرْكِهِ لِلْعُدْرِ وَمَنْ كَذَّبَ بَصَرَهُ وَصَدَّقَ الْحَالِفَ
قسم اٹھانے والی کی قسم کو پورا کرنے اور عذر کی بنا پر اس کو پورا نہ کرنے کی رخصت کا اور¤نیز اس شخص کا بیان جو اپنی نظر کو جھٹلا دے اور قسم اٹھانے والے کی تصدیق کرے
حدیث نمبر: 5332
عَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ كَانَ رَجُلٌ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ يُقَالُ لَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ صَفْوَانَ وَكَانَ لَهُ بَلَاءٌ فِي الْإِسْلَامِ حَسَنٌ وَكَانَ صَدِيقًا لِلْعَبَّاسِ فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ فَتْحِ مَكَّةَ جَاءَ بِأَبِيهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ بَايِعْهُ عَلَى الْهِجْرَةِ فَأَبَى وَقَالَ إِنَّهَا لَا هِجْرَةَ فَانْطَلَقَ إِلَى الْعَبَّاسِ وَهُوَ فِي السِّقَايَةِ فَقَالَ يَا أَبَا الْفَضْلِ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِأَبِي يُبَايِعُهُ عَلَى الْهِجْرَةِ فَأَبَى قَالَ فَقَامَ الْعَبَّاسُ مَعَهُ وَمَا عَلَيْهِ رِدَاءٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ عَرَفْتَ مَا بَيْنِي وَبَيْنَ فُلَانٍ وَأَتَاكَ بِأَبِيهِ لِتُبَايِعَهُ عَلَى الْهِجْرَةِ فَأَبَيْتَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّهَا لَا هِجْرَةَ فَقَالَ الْعَبَّاسُ أَقْسَمْتُ عَلَيْكَ لَتُبَايِعَنَّهُ قَالَ فَبَسَطَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ قَالَ فَقَالَ هَاتِ أَبَرَّتُ قَسَمَ عَمِّي وَلَا هِجْرَةَ
۔ مجاہد کہتے ہیں: عبد الرحمن بن صفوان نامی ایک مہاجر صحابی تھا، اس نے اچھے انداز میں اسلام کی آزمائش کو پورا کیا تھا، یہ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کا دوست تھا، یہ صحابی فتح مکہ والے دن اپنے باپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لے آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! ہجرت پر اس کی بیعت لو، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انکار کر دیا اور فرمایا: اب کوئی ہجرت نہیں ہے۔ وہ آدمی سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے پاس چلا گیا، جبکہ وہ زمزم کا پانی پلا رہے تھے، اور ان سے کہا: اے ابو الفضل! میں اپنے باپ کو لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گیا تاکہ ہجرت پر ان سے بیعت لیں، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انکار کر دیا، سیدنا عباس رضی اللہ عنہ اس کے ساتھ اٹھ کھڑے ہوئے، ان پر قیمص کی جگہ پر اوڑھی جانے والی چادر بھی نہیں تھی، بہرحال وہ آئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! آپ جانتے ہیں کہ میرا فلاں آدمی کے ساتھ کتنا تعلق ہے، وہ اپنے باپ کو لے کر آیا تاکہ آپ ہجرت پر بیعت لیں، لیکن آپ نے انکار کر دیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بات یہ ہے کہ اب کوئی ہجرت نہیں ہے۔ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: میں آپ پر قسم اٹھاتا ہوں کہ آپ ضرور ضرور اس سے بیعت لیں گے، پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا ہاتھ پھیلایا اور فرمایا: آجا، بیعت کر لے، میں اپنے چچا کی قسم پوری کر رہا ہوں، ہجرت اب کوئی نہیں ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 5332]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف يزيد بن ابي زياد القرشي الھاشمي، أخرجه ابن ماجه: 2116، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15551 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15636»
وضاحت: فوائد: … بہرحال فتح مکہ کے بعد مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کا سلسلہ ختم ہو گیا، باقی رہا مسئلہ درالحرب سے دار الاسلام کی طرف ہجرت کرنے کا تو اس کا حکم وجوب کے ساتھ برقرار ہے۔
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف يزيد بن ابي زياد القرشي الھاشمي
حدیث نمبر: 5333
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا قَالَتْ أَهْدَتْ إِلَيْهَا امْرَأَةٌ تَمْرًا فِي طَبَقٍ فَأَكَلَتْ بَعْضًا وَبَقِيَ بَعْضٌ فَقَالَتْ أَقْسَمْتُ عَلَيْكِ إِلَّا أَكَلْتِ بَقِيَّتَهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَبِرِّيهَا فَإِنَّ الْإِثْمَ عَلَى الْمُحَنِّثِ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، ایک خاتون نے ان کی طرف ایک تھال میں کچھ کھجوریں بھیجیں، اس (عائشہ) نے کچھ کھجوریں کھالی اور کچھ بچ گئیں، لیکن اس خاتون نے مجھے کہا: میں تجھ پر قسم اٹھاتی ہوں کہ تو باقی کھجوریں بھی کھائے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کی قسم کو پورا کر دے، کیونکہ گناہ اس پر ہوتا ہے، جو قسم توڑنے کا سبب بنتا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 5333]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لانقطاعه، ابو الزاھرية لم يسمع من عائشة، أخرجه ابوداود في المراسيل: 388، والبيھقي: 10/41، والدارقطني: 4/ 142، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24835 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25346»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لانقطاعه
حدیث نمبر: 5334
عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِسَبْعٍ وَنَهَانَا عَنْ سَبْعٍ قَالَ فَذَكَرَ مَا أَمَرَهُمْ مِنْ عِيَادَةِ الْمَرِيضِ وَاتِّبَاعِ الْجَنَائِزِ وَتَشْمِيتِ الْعَاطِسِ وَرَدِّ السَّلَامِ وَإِبْرَارِ الْمُقْسِمِ الْحَدِيثَ
۔ سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں سات چیزوں کا حکم دیا اور سات سے منع کیا، پھر انھوں نے ان امور کا ذکر کیا، جن کا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم دیا تھا، ان میں سے بعض امور تھے: مریض کی تیمارداری کرنا، جنازوں کے پیچھے چلنا، چھینکنے والے کو یَرْحَمُکَ اللّٰہ کہنا، سلام کا جواب دینا اور قسم اٹھانے والے کی قسم پورا کرنا، …۔ [الفتح الربانی/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 5334]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1239، 2445، 5650، ومسلم: 2066، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18504 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18698»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 1239
حدیث نمبر: 5335
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فِي حَدِيثِ رُؤْيَا أَعْبَرَهَا أَيْ فَسَّرَهَا أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَمَامَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ بَعْدَ تَعْبِيرِهَا أَصَبْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ أَصَبْتَ وَأَخْطَأْتَ قَالَ أَقْسَمْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَتُخْبِرَنِّي فَقَالَ لَا تُقْسِمْ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، یہ ایک خواب سے متعلقہ حدیث تھی، سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے اس کی تعبیربیان کی اور پھر کہا: اے اللہ کے رسول! کیا میں نے درست تعبیر بیان کی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم نے بعض پہلو درست بیان کیے ہیں اور بعض میں غلطی کی ہے۔ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں قسم اٹھاتا ہوں کہ آپ ضرور ضرور مجھے میری غلطی پر آگاہ کریں گے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قسم نہ اٹھاؤ۔ [الفتح الربانی/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 5335]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 7000، 7046، ومسلم: 2269، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2113 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2113»
وضاحت: فوائد: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کی قسم پوری نہیں کی، حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس طرح کی قسم کو پورا کرنے کی ترغیب دلائی ہے۔ جمع و تطبیق کی یہ صورت ہے کہ کسی مانع اور مصلحت کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس قسم کو پورا نہیں کیا۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 7000
حدیث نمبر: 5336
عَنْهُ أَيْضًا أَنَّ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَقْسَمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا تُقْسِمْ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ بھی مروی ہے کہ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر قسم اٹھائی، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: قسم نہ اٹھاؤ۔ [الفتح الربانی/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 5336]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1894»
الحكم على الحديث:
انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1894
حدیث نمبر: 5337
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَأَى عِيسَى بْنُ مَرْيَمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ رَجُلًا يَسْرِقُ فَقَالَ لَهُ عِيسَى سَرَقْتَ قَالَ كَلَّا وَالَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ قَالَ عِيسَى آمَنْتُ بِاللَّهِ وَكَذَّبْتُ عَيْنِي
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عیسیٰ بن مریم علیہ السلام نے ایک آدمی کو چوری کرتے ہوئے دیکھا اور پھر اس سے کہا: تو نے چوری کی ہے؟ اس نے کہا: اس ذات کی قسم جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے! میں ہر گز چوری نہیں کی۔ یہ سن کر عیسیٰ علیہ السلام نے کہا: میں اللہ تعالیٰ پر ایمان لاتا ہوں اور اپنی آنکھ کو جھٹلاتا ہوں۔ [الفتح الربانی/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 5337]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3444، ومسلم: 2368، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8154 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8139»
وضاحت: فوائد: … جب اس آدمی نے اللہ تعالیٰ کی ذات کا وسیلہ دیتے ہوئے انکار کیا تو عیسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کے نام کی تعظیم کرتے ہوئے اس کی تصدیق کر دی۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 3444
10. بَابُ مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِيْنِ فَرَأَى خَيْرًا مِنْهَا فَلْيَأْتِ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ وَلَيُكَفِّرْ عَنْ يَمِينِهِ
جو آدمی کسی چیز پر قسم اٹھائے، لیکن جب دیکھے کہ زیادہ بہتری دوسری چیز میں ہے تو وہ بہتر چیز کو اختیار کرے اور اپنی قسم کا کفارہ دے دے
حدیث نمبر: 5338
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ فَرَأَى خَيْرًا مِنْهَا فَلْيَأْتِ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ وَلْيُكَفِّرْ عَنْ يَمِينِهِ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے قسم اٹھائی، لیکن پھر دیکھا کہ بہتری کسی دوسری چیز میں ہے تو وہ بہتر چیز کو اختیار کر لے اور اپنی قسم کا کفارہ دے دے۔ [الفتح الربانی/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 5338]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه ابن حبان: 4347، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6907 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6907»
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
حدیث نمبر: 5339
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ فَرَأَى خَيْرًا مِنْهَا فَكَفَّارَتُهَا تَرْكُهَا
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے کسی چیز پر قسم اٹھائی، لیکن پھر کسی دوسری چیز میں بہتری محسوس کی تو اس قسم کا کفارہ یہ ہو گا کہ وہ آدمی اس کو ترک کر دے۔ [الفتح الربانی/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 5339]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف ابن لھيعة، ولضعف رواية دراج عن ابي الھيثم، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11727 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11750»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف ابن لھيعة
حدیث نمبر: 5340
عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ فَرَأَى غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا فَتَرْكُهَا كَفَّارَتُهَا
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے کسی چیز پر قسم اٹھائی، لیکن پھر اس نے دیکھا کہ دوسری چیز اس سے بہتر ہے تو اس پہلی چیز کو نہ کرنا ہی اس قسم کا کفارہ ہو گا۔ [الفتح الربانی/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 5340]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن غير ان قوله فتركھا كفارة فيه كلام، أخرجه ابوداود: 3274، وابن ماجه: 2111، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6736 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6736»
وضاحت: فوائد: … تمام احادیث ِ صحیحہ میں ایسی صورت میں قسم کا کفارہ دینے کا حکم دیا گیا ہے، جیسا امام ابوداود نے یہ حدیث ذکر کرنے کے بعد کہا: الأحادیث کلھا عن النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم: ((ولیکفر عن یمینہ)) الا فیما لا یعبأ بہ۔ … تمام احادیث یہی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ آدمی اپنی قسم کا کفارہ دے۔ ما سوائے غیر معتبر روایات کے۔
الحكم على الحديث:
اسناده حسن غير ان قوله فتركھا كفارة فيه كلام
حدیث نمبر: 5341
عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ عَنْ أَبِيهِ مَالِكِ بْنِ نَضْلَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى مَا تَدْعُو قَالَ إِلَى اللَّهِ وَإِلَى الرَّحِمِ قُلْتُ يَأْتِينِي الرَّجُلُ مِنْ بَنِي عَمِّي فَأَحْلِفُ أَنْ لَا أُعْطِيَهُ ثُمَّ أُعْطِيهِ قَالَ فَكَفِّرْ عَنْ يَمِينِكَ وَأْتِ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ أَرَأَيْتَ لَوْ كَانَ لَكَ عَبْدَانِ أَحَدُهُمَا يُطِيعُكَ وَلَا يَخُونُكَ وَلَا يَكْذِبُكَ وَالْآخَرُ يَخُونُكَ وَيَكْذِبُكَ قَالَ قُلْتُ لَا بَلِ الَّذِي لَا يَخُونُنِي وَلَا يَكْذِبُنِي وَيَصْدُقُنِي الْحَدِيثَ أَحَبُّ إِلَيَّ قَالَ كَذَاكُمْ أَنْتُمْ عِنْدَ رَبِّكُمْ عَزَّ وَجَلَّ
۔ سیدنا مالک بن نضلہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا: آپ کس چیز کی طرف دعوت دیتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اور صلہ رحمی کی طرف۔ میں نے کہا: میرا ایک چچا زاد میرے پاس آتا ہے اور میں قسم اٹھا لیتا ہوں کہ میں اس کو کچھ نہیں دوں گا، پھر میں اس کو کچھ دے دیتا ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو اپنی قسم کا کفارہ دے اور بہتر چیز کو اختیار کر، توخود غور کر کہ اگر تیرے دو غلام ہوں، ان میں اے ایک غلام تیری اطاعت کرتا ہو، تجھ سے خیانت نہ کرتا ہو اور نہ تجھ سے جھوٹ بولتا ہو، جبکہ دوسرا غلام خیانت کرتا ہو اور جھوٹ بولتا ہو۔ میںنے کہا: نہیں، بلکہ وہی جو خیانت نہیں کرتا اور جھوٹ نہیں بولتا اور سچی بات کرتا ہے، وہ مجھے زیادہ پسند ہو گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم بھی اپنے ربّ کے ہاں ایسے ہی ہو۔ [الفتح الربانی/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 5341]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه النسائي: 7/11، وابن ماجه: 2109، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17228 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17360»
وضاحت: فوائد: … نسائی کی روایت کے الفاظ یہ ہیں: سیدنامالک بن نضلہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے کہ میرا یک چچازاد ہے، میں اس کے پاس جا کر اس سے سوال کرتا ہوں، لیکن وہ نہ مجھے کچھ دیتا ہے اور نہ مجھ سے صلہ رحمی کرتا ہے، پھر جب وہ محتاج ہو کر میرے پاس آکر مجھ سے سوال کرتا ہے، جبکہ میں نے قسم اٹھا لی تھی کہ میں نہ اس کو کچھ دوں گا اور نہ اس سے صلہ رحمی کروں گا …۔
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح