الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
35. باب استِقْبَالِ الْقِبْلَةِ وَرَفْعِ الْيَدَيْنِ فِي الدُّعَاءِ وَمَا يُسْتَفْتَحُ بِهِ وَمَسْحِ الْوَجْهِ بِالْيَدَيْنِ عِنْدَ الْفِرَاغِ مِنَ الدُّعَاءِ
دعا کرتے وقت قبلہ رخ ہونے کا، ہاتھ اٹھانے کا اور اس چیز کا کہ کس چیز سے دعا کو شروع¤کیا جائے، نیز دعا سے فراغت کے وقت ہاتھوں کو چہرے پر پھیرنے کا بیان
حدیث نمبر: 5602
عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ شَاهِرًا يَدَيْهِ قَطُّ يَدْعُو عَلَى مِنْبَرٍ وَلَا غَيْرِهِ مَا كَانَ يَدْعُو إِلَّا يَضَعُ يَدَيْهِ حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ وَيُشِيرُ بِأُصْبُعِهِ إِشَارَةً
۔ سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس طرح نہیں دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مبالغہ کے ساتھ ہاتھ اٹھا کر دعا کی ہو، نہ منبر پر دیکھا اور نہ کسی اور موقع پر، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس طرح دعا کرتے تھے کہ اپنے ہاتھوں کو کندھوں کے برابر رکھ دیتے اور اپنی انگلی سے اشارہ کرتے۔ [الفتح الربانی/كتاب الأذكار والدعوات/حدیث: 5602]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف عبد الرحمن بن معاوية المدني، أخرجه ابوداود: 1105، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22855 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23243»
وضاحت: فوائد: … اس سے سابق احادیث سے یہ امور ثابت ہو چکے ہیں۔ شہادت کے وقت انگلی اٹھانا مراد ہے۔
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف عبد الرحمن بن معاوية المدني
حدیث نمبر: 5603
عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ الْأَسْلَمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ مَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَسْتَفْتِحُ دُعَاءً إِلَّا اسْتَفْتَحَهُ بِسُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى الْعَلِيِّ الْوَهَّابِ
۔ سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب بھی دعا کرنا شروع کرتے، اس کا آغاز ان الفاظ سے کرتے: سُبْحَانَ رَبِّیَ الْأَعْلَی الْعَلِیِّ الْوَہَّابِ (پاک ہے میرا ربّ، جو بلند و بالاہے، بلند رتبہ ہے اور عطا کرنے والا ہے)۔ [الفتح الربانی/كتاب الأذكار والدعوات/حدیث: 5603]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف عمر بن راشد اليمامي، أخرجه الحاكم: 1/ 498، وابن ابي شيبة: 10/ 266، والطبراني في الكبير: 6253، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16548 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16663»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف عمر بن راشد اليمامي
حدیث نمبر: 5604
عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا دَعَا فَرَفَعَ يَدَيْهِ مَسَحَ وَجْهَهُ
۔ سیدنا یزید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب دعا کرتے تو اپنے ہاتھوں کو اٹھاتے اور پھر (آخر میں) ان کو اپنے چہرے پر پھیرتے تھے۔ [الفتح الربانی/كتاب الأذكار والدعوات/حدیث: 5604]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة حفص بن ھاشم ولسوء حفظ ابن لھيعة، أخرجه ابوداود: 1492، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17943 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18107»
وضاحت: فوائد: … ہاتھ اٹھا کر دعا کرنے کے بعد ہاتھوں کو چہرے پر پھیرنے کی روایات ضعیف ہیں، ایک حدیث مذکورہ بالا ہے، جس کے ضعیف ہونے کی دو وجوہات ہیں: مزید روایات درج ذیل ہیں۔
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لجھالة حفص بن ھاشم ولسوء حفظ ابن لھيعة
36. بَابُ تَأْكِيدِ حُضُور القلب في الدُّعَاءِ واستحباب تعمِيمِهِ بِالدُّعَاءِ وَالْبَدْءِ بِنَفْسِهِ
دعاء میں حضورِ قلب کی تاکید، عام دعا اور اپنی ذات سے آغاز کرنے کے مستحب ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 5605
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْقُلُوبُ أَوْعِيَةٌ وَبَعْضُهَا أَوْعَى مِنْ بَعْضٍ فَإِذَا سَأَلْتُمُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَيُّهَا النَّاسُ فَاسْأَلُوهُ وَأَنْتُمْ مُوقِنُونَ بِالْإِجَابَةِ فَإِنَّ اللَّهَ لَا يَسْتَجِيبُ لِعَبْدٍ دَعَاهُ عَنْ ظَهْرِ قَلْبٍ غَافِلٍ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دل برتنوں کی طرح ہیں اور بعض دل بعض سے زیادہ یاد کرنے والے ہوتے ہیں، پس اے لوگو! جب تم اللہ تعالیٰ سے سوال کرو تو اس حال میں کہ تمھیں اس کی قبولیت کا یقین ہو، بیشک اللہ تعالیٰ اس بندے کی دعا قبول نہیں کرتا، جو غافل اور بے پرواہ دل سے دعا کرتا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الأذكار والدعوات/حدیث: 5605]
تخریج الحدیث: «صحيح بالشواھد دون قوله: القلوب اوعية ايھا الناس وھذا اسناد فيه ابن لھيعة سييء الحفظ، قاله الالباني، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6655 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6655»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث میں دعا کے دو آداب بیان کئے گئے ہیں: (۱)اللہ تعالیٰ سے جو دعا کی جائے، اس کے بارے میں یہ یقینِ محکم ہو کہ وہ ضرور قبول کرے گا اور (۲) دعا کو مقصد حیات سمجھ کر اس کے دوران بے پرواہی، بے دلی، سستی، کاہلی اور غفلت کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہئے، کیونکہ ایسا کرنا اللہ تعالیٰ کے مقام ومرتبہ اور عظمت و سطوت کے منافی ہے۔ مکمل توجہ اور انہماک کے ساتھ اللہ تعالیٰ کو پکارا جائے اور ایسا کرنا اس وقت تک ناممکن ہے، جب تک مسنون دعاؤں کا ترجمہ نہ آتا ہو یا جب تک دعا کو سمجھا نہ جا رہا ہو۔
الحكم على الحديث:
صحيح بالشواھد دون قوله: القلوب اوعية ايھا الناس وھذا اسناد فيه ابن لھيعة سييء الحفظ
حدیث نمبر: 5606
عَنْهُ أَيْضًا أَنَّ رَجُلًا قَالَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَلِمُحَمَّدٍ وَحْدَنَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَقَدْ حَجَبْتَهَا عَنْ نَاسٍ كَثِيرِينَ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ ایک آدمی نے یوں دعا کی: اے اللہ! صرف مجھے اور محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بخش، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو نے تو اس کو بہت زیادہ لوگوں سے روک دیا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الأذكار والدعوات/حدیث: 5606]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح لغيره، أخرجه ابن حبان: 986، والبخاري في الادب المفرد: 626، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6849 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6849»
وضاحت: فوائد: … اللہ تعالیٰ کی رحمت بہت وسیع ہے، بلکہ کائنات کی ہر چیز سے وسیع ہے۔ مطلوب یہ ہے کہ انسان اپنے لیے اور اپنے مسلمان بھائیوں کے لیے دعا کرے اور کسی کے حق میں بد دعا نہ کرے۔
الحكم على الحديث:
حديث صحيح لغيره
حدیث نمبر: 5607
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنْ أُبَيٍّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا ذَكَرَ الْأَنْبِيَاءَ بَدَأَ بِنَفْسِهِ فَقَالَ رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْنَا وَعَلَى هُودٍ وَعَلَى صَالِحٍ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابی ّ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب انبیائے کرامhکا ذکر کرتے تو اپنی ذات سے شروع کرتے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی رحمت ہو ہم پر، ہود علیہ السلام پر اور صالح علیہ السلام پر۔ [الفتح الربانی/كتاب الأذكار والدعوات/حدیث: 5607]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه ابن ماجه: 3852، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21130 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21448»
الحكم على الحديث:
حديث صحيح
حدیث نمبر: 5608
عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ كَرِيزٍ قَالَ سَمِعْتُ أُمَّ الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ سَمِعْتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّهُ يُسْتَجَابُ لِلْمَرْءِ بِظَهْرِ الْغَيْبِ لِأَخِيهِ فَمَا دَعَا لِأَخِيهِ بِدَعْوَةٍ إِلَّا قَالَ الْمَلَكُ وَلَكَ بِمِثْلٍ
۔ سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب آدمی اپنے بھائی کے لیے اس کی عدم موجودگی میں دعا کرتا ہے تو اس کی دعا قبول ہوتی ہے، ایسی صورت میں جب وہ اپنے بھائی کے لیے دعا کرتا ہے تو فرشتہ کہتا ہے: تیرے لیے بھی ایسے ہی ہو۔ [الفتح الربانی/كتاب الأذكار والدعوات/حدیث: 5608]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2732، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27588 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 28109»
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 2732
حدیث نمبر: 5609
عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَكَانَتْ تَحْتَهُ أُمُّ الدَّرْدَاءِ فَأَتَاهُمْ فَوَجَدَ أُمَّ الدَّرْدَاءِ فَقَالَتْ لَهُ أَتُرِيدُ الْحَجَّ الْعَامَ فَقَالَ نَعَمْ قَالَتْ فَادْعُ لَنَا بِخَيْرٍ فَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ إِنَّ دَعْوَةَ الْمَرْءِ الْمُسْلِمِ مُسْتَجَابَةٌ لِأَخِيهِ بِظَهْرِ الْغَيْبِ عِنْدَ رَأْسِهِ مَلَكٌ مُوَكَّلٌ بِهِ كُلَّمَا دَعَا لِأَخِيهِ بِخَيْرٍ قَالَ آمِينَ وَلَكَ بِمِثْلٍ قَالَ فَخَرَجْتُ إِلَى السُّوقِ فَلَقِيتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ فَحَدَّثَنِي عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ ذَلِكَ
۔ سیدنا صفوان بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ، جن کی بیوی سیدہ ام درداء رضی اللہ عنہا تھیں، ابو زبیر کہتے ہیں: میں ان کے پاس گیا، لیکن سیدہ ام درداء رضی اللہ عنہا کو گھر پایا، انھوں نے مجھ سے پوچھا: کیا تو اس سال حج کرنا چاہتا ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں، انھوں نے کہا: تو پھر ہمارے لیے بھی خیر و بھلائی کی دعا کرنا، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مسلمان کی اپنے بھائی کے حق میں اس کی عدم موجودگی میں کی گئی دعا مقبول ہوتی ہے، ایسی صورت میں اس کے سر کے پاس ایک فرشتہ مقرر کیا جاتا ہے، جب بھی وہ اپنے بھائی کے لے خیر و بھلائی کی دعا کرتا ہے تو وہ فرشتہ آمین کہہ کر کہتا ہے: اور تجھے بھی ایسی ہی (خیر وبھلائی) نصیب ہو۔ جب میں بازار کی طرف نکلا تو سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ سے میری ملاقات ہو گئی، انھوں نے بھی مجھے اسی قسم کی حدیث ِ نبوی بیان کی۔ [الفتح الربانی/كتاب الأذكار والدعوات/حدیث: 5609]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2732، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27559 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 28110»
وضاحت: فوائد: … دوسرے مسلمان بھائی کی عدم موجودگی میں اس کے لیے دعائے خیر کرنا افضل عمل ہے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 2732
37. بَابُ النَّهْي عَنْ قَوْلِ الدَّاعِيِّ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي إِنْ شِئْتَ وَعَنْ اسْتِبْطَاءِ الإِجَابَةِ وَكَرَاهَة السَّجَع فِی الدُّعَاءِ
اس چیز کے منع ہونے کا بیان کہ دعا کرنے والا یوں دعا کہے کہ اے اللہ! اگر تو چاہتا ہے تو مجھے بخش دے، اسی طرح قبولیت کو مؤخر سمجھنا منع ہے اور دعا میں قافیہ بندی کی کراہت کا بیان
حدیث نمبر: 5610
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ إِذَا دَعَا أَحَدُكُمْ فَلَا يَقُولَنَّ اللَّهُمَّ إِنْ شِئْتَ وَلَكِنْ لِيُعْظِمْ رَغْبَتَهُ فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَا يَتَعَاظَمُ عَلَيْهِ شَيْءٌ أَعْطَاهُ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی آدمی دعا کرے تو وہ اس طرح نہ کہے: اے اللہ! اگر تو چاہے تو ایسا کر دے، بلکہ وہ اپنی رغبت پر زور دے (اور اصرار کے ساتھ دعا کرے)، کیونکہ کوئی چیز اللہ تعالیٰ کے لیے دشوار اور بڑی نہیں ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الأذكار والدعوات/حدیث: 5610]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 6339، ومسلم: 2679، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9900 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9902»
وضاحت: فوائد: … دعا کرنے والے کو چاہیے کہ وہ قبولیت کی امید کے ساتھ دعا کرے اور رحمت سے مایوسی کوقریب تک نہ پھٹکنے دے، کیونکہ وہ ایسے رب کو پکار رہاہے، جو کریم ہے، اللہ تعالیٰ نے سب سے شریر مخلوق ابلیس کی بھی دعا قبول کر لی تھی، ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {قَالَ اَنْظِرْنِیْٓ اِلٰی یَوْمِ یُبْعَثُوْنَ۔ قَالَ اِنَّکَ مِنَ الْمُنْظَرِیْنَ} … اس نے کہا: مجھے اس دن تک مہلت دے جب یہ اٹھائے جائیں گے۔ اللہ نے فرمایا: بے شک تو مہلت دیے جانے والوں سے ہے۔ (اعراف: ۱۴، ۱۵)
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 6339
حدیث نمبر: 5611
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا يَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي إِنْ شِئْتَ اللَّهُمَّ ارْحَمْنِي إِنْ شِئْتَ وَلَكِنْ لِيَعْزِمِ الْمَسْأَلَةَ فَإِنَّهُ لَا مُكْرِهَ لَهُ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کوئی ہر گز اس طرح دعا نہ کرے: اے اللہ! اگر تو چاہتا ہو تو مجھے بخش دے، اے اللہ! اگر تو چاہتا ہے تو مجھ پر رحم فرما، بلکہ وہ اصرار کے ساتھ اپنا سوال پیش کرے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کو مجبور کرنے والا کوئی نہیں ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الأذكار والدعوات/حدیث: 5611]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9969»
الحكم على الحديث:
انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9969