🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
26. بَابُ مَا يُقَالُ عِنْدَ نُزُولِ الْمَطْرِ وَسِمَاعِ الرَّعْدِ وَالصَّوَاعِقِ وَرُويَةِ الهَلال
بارش کے نزول، گرج اور کڑک کو سنتے وقت اور چاند کو دیکھنے کی دعاؤں کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5564
عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَمِعَ الرَّعْدَ وَالصَّوَاعِقَ قَالَ اللَّهُمَّ لَا تَقْتُلْنَا بِغَضَبِكَ وَلَا تُهْلِكْنَا بِعَذَابِكَ وَعَافِنَا قَبْلَ ذَلِكَ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب گرج اور کڑک کی آواز سنتے تو یہ دعا پڑھتے: اَللّٰھُمَّ لَا تَقْتُلْنَا بِغَضَبِکَ، وَلَا تُہْلِکْنَا بِعَذَابِکَ، وَعَافِنَا قَبْلَ ذٰلِکَ (اے اللہ! ہمیں اپنے غضب کی وجہ سے تباہ نہ کر اور ہمیں اپنے عذاب سے ہلاک نہ کر اور ہمیں اس سے پہلے عافیت دے دے)۔ [الفتح الربانی/كتاب الأذكار والدعوات/حدیث: 5564]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف حجاج بن ارطاة، ولجھالة حال ابي مطر، أخرجه الترمذي: 3450، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5763 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5763»
وضاحت: فوائد: … ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {ھُوَالَّذِیْ یُرِیْکُمُ الْبَرْقَ خَوْفًا وَّطَمَعًا وَّیُنْشِیُٔ السَّحَابَ الثِّقَالَ۔ وَیُسَبِّحُ الرَّعْدُ بِحَمْدِہٖ وَالْمَلٰٓئِکَۃُ مِنْ خِیْفَتِہٖ وَیُرْسِلُ الصَّوَاعِقَ فَیُصِیْبُ بِھَا مَنْ یَّشَآئُ} … وہی ہے جو تمھیں بجلی دکھاتا ہے، ڈرانے اور امید دلانے کے لیے اور بھاری بادل پیدا کرتا ہے۔ اور (بادل کی) گرج اس کی حمد کے ساتھ تسبیح کرتی ہے اور فرشتے بھی اس کے خوف سے۔ اور وہ کڑکنے والی بجلیاں بھیجتا ہے، پھر انھیں ڈال دیتا ہے جس پر چاہتا ہے۔ (سورۂ رعد: ۱۲، ۱۳)

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف حجاج بن ارطاة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5565
عَنْ بِلَالِ بْنِ يَحْيَى بْنِ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا رَأَى الْهِلَالَ قَالَ اللَّهُمَّ أَهِلَّهُ عَلَيْنَا بِالْيُمْنِ وَالْإِيمَانِ وَالسَّلَامَةِ وَالْإِسْلَامِ رَبِّي وَرَبُّكَ اللَّهُ
۔ بلال بن یحییٰ بن طلحہ بن عبید اللہ اپنے باپ سے اور وہ اپنے دادا سے بیان کرتے ہیں، کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب ہلال کو دیکھتے تو یہ دعا پڑھتے: اَللّٰھُمَّ أَہِلَّہُ عَلَیْنَا بِالْیُمْنِ وَالْإِیمَانِ، وَالسَّلَامَۃِ وَالْإِسْلَامِ، رَبِّی وَرَبُّکَ اللّٰہُ (اے اللہ! اس کو ہم پر طلوع کر، سعادت اور ایمان کے ساتھ اور سلامتی اور اسلام کے ساتھ، (اے چاند) میرا اور تیراربّ اللہ ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الأذكار والدعوات/حدیث: 5565]
تخریج الحدیث: «حسن لشواھده، أخرجه الترمذي: 3451، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1397 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1397»
وضاحت: فوائد: … دراصل آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس پورے ماہ کے لیے سعادت، ایمان، سلامتی اور اسلام کے دوام کا سوال کیا ہے، کیونکہ ہر ماہ میں اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت کی روشنی میں مختلف فیصلے کرنے ہوتے ہیں، کسی کے رزق میں کمی آتی ہے، کسی کے رزق میں اضافہ ہوتا ہے، کسی پر آزمائشیں پڑتی ہیں، کسی کو خوشی کے اسباب ملتے ہیں، کوئی شرّ میں آگے نکل جاتا ہے، کسی کو خیر نصیب ہوتی ہے، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پورے ماہ کے لیے امن و سلامتی کا سوال کیا۔

الحكم على الحديث:
حسن لشواھده
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5566
عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا رَأَى الْهِلَالَ قَالَ اللَّهُ أَكْبَرُ الْحَمْدُ لِلَّهِ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ خَيْرَ هَذَا الشَّهْرِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ الْقَدَرِ وَمِنْ سُوءِ الْحَشْرِ
۔ سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہلال کو دیکھتے تو یہ دعا کرتے: اَللّٰہُ أَکْبَرُ، … وَمِنْ سُوئِ الْحَشْرِ (اللہ سب سے بڑا ہے، ساری تعریف اللہ کے لیے ہے، اے اللہ! بیشک میں تجھ سے اس مہینے کی خیر کا سوال کرتا ہوں،برائی سے بچنے کی طاقت اور نیکی کرنے کی قوت نہیں ہے، مگر اللہ تعالیٰ کی توفیق سے،میں تجھ سے بری تقدیر اور برے حشر سے پناہ مانگتا ہوں)۔ [الفتح الربانی/كتاب الأذكار والدعوات/حدیث: 5566]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لابھام الراوي عن عبادة، أخرجه ابن ابي شيبة: 3/ 98، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22791 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23177»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لابھام الراوي عن عبادة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
27. بَابُ مَا يُقَالُ عِنْدَ صِبَاحِ الدِّيكَةِ وَنِهَاقِ الْحِمَارِ وَنبَاحِ الْكِلَابِ
مرغ کی آواز، گدھے کی رینک اور کتوں کی بھونک کے وقت کی دعاؤں کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5567
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ إِذَا سَمِعْتُمْ صِيَاحَ الدِّيكَةِ مِنَ اللَّيْلِ فَإِنَّمَا رَأَتْ مَلَكًا فَاسْأَلُوا اللَّهَ مِنْ فَضْلِهِ وَإِذَا سَمِعْتُمْ نُهَاقَ الْحِمَارِ فَإِنَّهُ رَأَى شَيْطَانًا فَتَعَوَّذُوا بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم رات کو مرغ کی آواز سنو تو اللہ تعالیٰ سے اس کے فضل کا سوال کیا کرو، کیونکہ وہ فرشتے کو دیکھ رہا ہوتا ہے، اور جب تم گدھے کی رینک سنو تو شیطان سے اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کیا کرو، کیونکہ وہ شیطان کو دیکھ رہا ہوتا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الأذكار والدعوات/حدیث: 5567]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3303، ومسلم: 2729، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8064 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8050»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 3303
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5568
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَزِيدُ فِي حَدِيثِهِ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِذَا سَمِعْتُمْ نُبَاحَ الْكِلَابِ وَنُهَاقَ الْحَمِيرِ مِنَ اللَّيْلِ فَتَعَوَّذُوا بِاللَّهِ فَإِنَّهَا تَرَى مَا لَا تَرَوْنَ وَأَقِلُّوا الْخُرُوجَ إِذَا هَدَأَتِ الرِّجْلُ فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَبُثُّ فِي لَيْلِهِ مِنْ خَلْقِهِ مَا شَاءَ وَأَجِيفُوا الْأَبْوَابَ وَاذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهَا فَإِنَّ الشَّيْطَانَ لَا يَفْتَحُ بَابًا أُجِيفَ وَذُكِرَ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ وَأَوْكِئُوا الْأَسْقِيَةَ وَفِي رِوَايَةٍ الْقِرَبَ وَغَطُّوا الْجِرَارَ وَأَكْفِئُوا الْآنِيَةَ قَالَ يَزِيدُ وَأَوْكِئُوا الْقِرَبَ
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم رات کو کتے کی بھونک یا گدھے کی رینک سنو تو اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرو، کیونکہ وہ ایسی چیزیں دیکھتے ہیں جو تم نہیں دیکھتے۔ جب لوگ سو جائیں تو باہر نہ نکلا کرو، کیونکہ اللہ تعالیٰ رات کے وقت مختلف مخلوقات کو منتشر کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کا نام لے کر دروازے بند کیا کرو، کیونکہ شیطان وہ دروازہ نہیں کھولتا، جسے اللہ کا نام لے کر بند کیا گیا ہو، مشکیزوں کی ڈوریاں کس دے کر رکھو،گھڑوں کو ڈھانپ دیا کرو اور برتنوں کو الٹاکر کر دیا کرو۔ [الفتح الربانی/كتاب الأذكار والدعوات/حدیث: 5568]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه ابوداود: 5103، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14283 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14334»
وضاحت: فوائد: … کتے کی بھونک اور گدھے کی رینک کو رات کے ساتھ اس لیے خاص کیا گیا کہ رات کو کثرت سے شیطانوں کا انتشار ہوتا ہے، وگرنہ دن کے وقت بھی ان آوازوں کو سنتے وقت تعوّذ پڑھا جائے گا۔

الحكم على الحديث:
اسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
28. باب
انسان کو پریشان کرنے والی آفات اور عوارض کے وقت¤کیے جائے والے اذکار کا بیان
اس باب کے تحت درج ذیل، ذیلی ابواب اور احادیث آئی ہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الأذكار والدعوات/حدیث: Q5569]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
29. باب مَا يُقَالُ يَدَفْعِ كَيْدِ الشَّيَاطِينِ وَتَمَرُّدِهِمْ عَلَى الْإِنْسَانِ وَعَيْنِهِمْ بِهِ
شیطانوں کے مکر، سرکشی اور لغو کو انسان سے دفع کرنے کے لیے پڑھی جانی والی دعاؤں کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5569
حَدَّثَنَا أَبُو التَّيَّاحِ قَالَ سَأَلَ رَجُلٌ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ خَنْبَشٍ كَيْفَ صَنَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حِينَ كَادَتْهُ الشَّيَاطِينُ قَالَ جَاءَتِ الشَّيَاطِينُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْأَوْدِيَةِ وَتَحَدَّرَتْ عَلَيْهِ مِنَ الْجِبَالِ وَفِيهِمْ شَيْطَانٌ مَعَهُ شُعْلَةٌ مِنْ نَارٍ يُرِيدُ أَنْ يُحْرِقَ بِهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَرُعِبَ قَالَ جَعْفَرٌ أَحْسَبُهُ قَالَ جَعَلَ يَتَأَخَّرُ قَالَ وَجَاءَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ قُلْ قَالَ مَا أَقُولُ قَالَ قُلْ أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّاتِ الَّتِي لَا يُجَاوِزُهُنَّ بَرٌّ وَلَا فَاجِرٌ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ وَذَرَأَ وَبَرَأَ وَمِنْ شَرِّ مَا يَنْزِلُ مِنَ السَّمَاءِ وَمِنْ شَرِّ مَا يَعْرُجُ فِيهَا وَمِنْ شَرِّ مَا ذَرَأَ فِي الْأَرْضِ وَمِنْ شَرِّ مَا يَخْرُجُ مِنْهَا وَمِنْ شَرِّ فِتَنِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ وَمِنْ شَرِّ كُلِّ طَارِقٍ إِلَّا طَارِقًا يَطْرُقُ بِخَيْرٍ يَا رَحْمَنُ فَطَفِئَتْ نَارُ الشَّيَاطِينِ وَهَزَمَهُمُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ
۔ ابو تیاح کہتے ہیں کہ میں نے عبدالرحمن بن خنبش تمیمی سے پوچھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس رات کو کیا کیا تھا جس رات شیاطین آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قریب آئے تھے؟ انھوں نے کہا: اس رات کو شیاطین مختلف وادیوں اور پہاڑوں سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ٹوٹ پڑے، ان میں ایک ایسا شیطان بھی تھا جس کے ہاتھ میں آگ کا شعلہ تھا اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرے کو جلانا چاہتا تھا۔ لیکن وہ مرعوب ہو گیا، جعفر راوی نے کہا کہ وہ پیچھے ہٹ گیا، اتنے میں جبریل علیہ السلام آگئے اور کہا: اے محمد! کہو۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں کیا کہوں؟ اس نے کہا: یہ دعا پڑھو: أَعُوذُ بِکَلِمَاتِ اللّٰہِ التَّامَّاتِ … … وَمِنْ شَرِّ فِتَنِ اللَّیْلِ وَالنَّہَارِ، وَمِنْ شَرِّ کُلِّ طَارِقٍ إِلَّاطَارِقًا یَطْرُقُ بِخَیْرٍ، یَا رَحْمٰنُ۔ (میں اللہ کے مکمل کلمات، جن سے کوئی نیک تجاوز کر سکتا ہے نہ بد، کی پناہ میں آتا ہوں ہر اس چیز کے شرّ سے جسے اس نے پیدا کیا اور اس چیز کے شرّ سے جو آسمان سے اترتی ہے اور اس چیز کے شرّ سے جو آسمان میں چڑھ جاتی ہے اور رات کو آنے والے کے شرّ سے، الا یہ کہ وہ خیر کے ساتھ آئے، اے رحمن!) (نتیجہ یہ نکلا کہ) شیاطین کی آگ بجھ گئی اور اللہ تبارک وتعالیٰ نے انھیں شکست دے دی۔ [الفتح الربانی/كتاب الأذكار والدعوات/حدیث: 5569]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، تفرد به جعفر بن سليمان الضبعي، وھوممن لايحتمل تفرده، ٔأخرجه ابن ابي شيبة: 8/ 61، وابويعلي: 6844، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15461 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15540»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5570
عَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ قَالَ قُلْتُ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ خَنْبَشٍ التَّمِيمِيِّ وَكَانَ كَبِيرًا أَدْرَكْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ نَعَمْ قَالَ قُلْتُ كَيْفَ صَنَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ كَادَتْهُ الشَّيَاطِينُ فَقَالَ إِنَّ الشَّيَاطِينَ تَحَدَّرَتْ تِلْكَ اللَّيْلَةَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْأَوْدِيَةِ
۔ (دوسری سند) راوی کہتے ہیں: میں نے سیدنا عبد الرحمن بن خنبش تمیمی رضی اللہ عنہ،جو ایک عمر رسیدہ آدمی تھے، سے پوچھا، کیا تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پایا ہے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، میں نے کہا: جس رات شیطان آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قریب آئے تھے، اس رات آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کیا کیاتھا؟ انھوں نے کہا: اس رات شیطان مختلف وادیوں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ٹوٹ پڑے تھے۔ [الفتح الربانی/كتاب الأذكار والدعوات/حدیث: 5570]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15539»

الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15539
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
30. باب مَا يُقَالُ يَدَفَع ضَرَرِ كُلِّ شَيْءٍ وَمَا يَقُولُ مَنْ خَافَ رَجُلًا أَوْ قَوْمًا
ہر ضرر کو دور کرنے کی دعا اور کسی آدمی یا قوم سے ڈرنے والے شخص کی دعا کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5571
عَنْ أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ قَالَ بِسْمِ اللَّهِ الَّذِي لَا يَضُرُّ مَعَ اسْمِهِ شَيْءٌ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي السَّمَاءِ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ لَمْ يَضُرَّهُ شَيْءٌ
۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص یہ دعا پڑھے گا: بِسْمِ اللّٰہِ الَّذِی لَا یَضُرُّ … وَہُوَ السَّمِیعُ الْعَلِیمُ(اس اللہ کے نام کے ساتھ جس کے نام کے ساتھ زمین و آسمان میں کوئی چیز نقصان نہیں پہنچا سکتی اور وہ خوب سننے والا اور خوب جاننے والا ہے)، کوئی چیز اس کو نقصان نہیں دے گی۔ [الفتح الربانی/كتاب الأذكار والدعوات/حدیث: 5571]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه أبوداود: 5089، والترمذي: 3388، وابن ماجه: 3869، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: ترقیم بيت الأفكار الدولية: 446»

الحكم على الحديث:
اسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5572
عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا خَافَ مِنْ رَجُلٍ أَوْ مِنْ قَوْمٍ قَالَ اللَّهُمَّ إِنِّي أَجْعَلُكَ فِي نُحُورِهِمْ وَنَعُوذُ بِكَ مِنْ شُرُورِهِمْ
۔ سیدنا ابو موسی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب کسی آدمی یا قوم سے ڈرتے تو یہ دعا پڑھتے: اَللّٰھُمَّ إِنِّی أَجْعَلُکَ فِی نُحُورِہِمْ وَنَعُوذُ بِکَ مِنْ شُرُورِہِمْ (اے اللہ! بیشک میں تجھ کو ان کے مقابلے میں رکھتا ہوں اور ہم خود ان کے شرور سے تیری پناہ میں آتے ہیں)۔ [الفتح الربانی/كتاب الأذكار والدعوات/حدیث: 5572]
تخریج الحدیث: «حديث حسن، أخرجه ابوداود: 1537، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15719 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19957»

الحكم على الحديث:
حديث حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں