🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
41. بَاب مَا جَاءَ فِي الْأَدْعِيَةِ كَانَ يَدْعُو بِهَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم
ان دعاؤں کا بیان، جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پڑھا کرتے تھے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5642
عَنِ ابْنِ الْقَعْقَاعِ عَنْ رَجُلٍ جَعَلَ يَرْصُدُ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَكَانَ يَقُولُ فِي دُعَائِهِ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي ذَنْبِي وَوَسِّعْ لِي فِي ذَاتِي وَبَارِكْ لِي فِيمَا رَزَقْتَنِي ثُمَّ رَصَدَهُ الثَّانِيَةَ فَكَانَ يَقُولُ مِثْلَ ذَلِكَ
۔ ابن قعقاع ایسے آدمی سے روایت کرتے ہیں جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نگاہ رکھتا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تاک میں رہتا تھا، وہ کہتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ دعا کرتے تھے: اَللّٰھُمَّ اغْفِرْ لِی ذَنْبِی، وَوَسِّعْ لِی فِی ذَاتِیْ، وَبَارِکْ لِی فِیمَا رَزَقْتَنِی۔ (اے اللہ! میرے لیے میرا گناہ بخش دے، میرے لیے میری ذات وسیع کر دے اور میرے لیے اس رزق میں برکت ڈال جو تو نے مجھے عطا کیا ہے)۔ وہ دوسرے دن پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تاڑ میں رہا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر یہی دعا پڑھی۔ [الفتح الربانی/كتاب الأذكار والدعوات/حدیث: 5642]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23114 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23502»
وضاحت: فوائد: … ذات کی وسعت سے مراد اخلاق کی وسعت اور انشراح صدر ہے۔

الحكم على الحديث:
حسن لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5643
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ اللَّهُمَّ اجْعَلْنِي مِنَ الَّذِينَ إِذَا أَحْسَنُوا اسْتَبْشَرُوا وَإِذَا أَسَاءُوا اسْتَغْفَرُوا
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ دعا کیا کرتے تھے: اَللّٰھُمَّ اجْعَلْنِی مِنْ الَّذِینَ إِذَا أَحْسَنُوا اسْتَبْشَرُوا، وَإِذَا أَسَائُ وْا اسْتَغْفَرُوا (اے اللہ! مجھے ان لوگوں میں سے بنا جو نیکی کر کے خشک ہوتے ہیں اورجب ان سے برائی ہو جاتی ہے تو وہ استغفار کرتے ہیں)۔ [الفتح الربانی/كتاب الأذكار والدعوات/حدیث: 5643]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف علي بن زيد بن جدعان، أخرجه ابن ماجه: 3820، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26021 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26549»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف علي بن زيد بن جدعان
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5644
عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ حُدِّثْتُ عَنِ الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْتَغْفِرُكَ لِمَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ إِنَّكَ أَنْتَ الْمُقَدِّمُ وَأَنْتَ الْمُؤَخِّرُ وَأَنْتَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ
۔ سیدنا ابن بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: مجھ سے سیدنااشعری رضی اللہ عنہ سے بیان کیا گیا کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ دعا کرتے ہوئے سنا: اَللّٰھُمَّ إِنِّی أَسْتَغْفِرُکَ … کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ(اے اللہ! میں تجھ سے بخشش طلب کرتا ہوں، ان گناہوں کی جو میں نے پہلے کیے، جو بعد میں کروں گا، جو مخفی طور پر کیے، جو ظاہری طور پر کیے، بیشک تو ہی آگے کرنے والا ہے اور تو ہی پیچھے کرنے والا ہے اور تو ہر چیز پر قادر ہے)۔ [الفتح الربانی/كتاب الأذكار والدعوات/حدیث: 5644]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 6398، ومسلم: 2719، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19489 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19718»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 6398
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5645
عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ رَبَّنَا اغْفِرْ لِي وَارْحَمْنِي وَاهْدِنِي لِلطَّرِيقِ الْأَقْوَمِ وَفِي لَفْظٍ رَبِّ اغْفِرْ وَارْحَمْ وَاهْدِنِي السَّبِيلَ الْأَقْوَمَ
۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ دعا کیا کرتے تھے: اے ہمارے ربّ! مجھے بخش دے، مجھ پر رحم فرما اور مجھے سب سے زیادہ سیدھے راستے کی طرف ہدایت دے۔ ایک روایت کے الفاظ یوں ہے: اے میرے ربّ! بخش دے، رحم فرمااور سب سے سیدھے راستے کی طرف مجھے ہدایت دے۔ [الفتح الربانی/كتاب الأذكار والدعوات/حدیث: 5645]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف علي بن زيد بن جدعان، ولانقطاعه، فان الحسن البصري لم يسمع من ام سلمة، أخرجه ابويعلي: 6893، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26591 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27126»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف علي بن زيد بن جدعان
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5646
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَدْعُو رَبِّ أَعِنِّي وَلَا تُعِنْ عَلَيَّ وَانْصُرْنِي وَلَا تَنْصُرْ عَلَيَّ وَامْكُرْ لِي وَلَا تَمْكُرْ عَلَيَّ وَاهْدِنِي وَيَسِّرِ الْهُدَى إِلَيَّ وَانْصُرْنِي عَلَى مَنْ بَغَى عَلَيَّ رَبِّ اجْعَلْنِي لَكَ شَكَّارًا لَكَ ذَكَّارًا لَكَ رَهَّابًا لَكَ مِطْوَاعًا إِلَيْكَ مُخْبِتًا لَكَ أَوَّاهًا مُنِيبًا رَبِّ تَقَبَّلْ تَوْبَتِي وَاغْسِلْ حَوْبَتِي وَأَجِبْ دَعْوَتِي وَثَبِّتْ حُجَّتِي وَسَدِّدْ لِسَانِي وَاسْلُلْ سَخِيمَةَ قَلْبِي
۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ دعا کرتے تھے: رَبِّ أَعِنِّی وَلَا تُعِنْ عَلَیَّ، … … وَاسْلُلْ سَخِیْمَۃَ قَلْبِیْ (اے میرے ربّ! میری مدد فرما، میرے خلاف مدد نہ کر، میری تائید کر، میرے خلاف تائید نہ کر، میرے حق میں تدبیر کر، میرے خلاف تدبیر نہ کر، مجھے ہدایت دے، میرے لیے ہدایت کو آسان کر دے، مجھ پر سرکشی کرنے والے کے خلاف میری مدد فرما، اے میرے ربّ! مجھے بنا دے تیرا زیادہ شکر کرنے والا، تیرا زیادہ ذکر کرنے والا، تجھ سے زیادہ ڈرانے والا، تیری زیادہ اطاعت کرنے والا، تیری طرف عاجزی کرنے والا، تیرے لیے زیادہ آہ وزاری کرنے والا اور تیری طرف رجوع کرنے والا، اے میرے ربّ! میری توبہ قبول فرما، میرا گناہ دھو ڈال، میری دعا قبول کر، میری دلیل کو ثابت کر دینا، میری زبان کو درستگی پر رکھنا اور میرے دل سے کینہ اور حسد نکال دے)۔ [الفتح الربانی/كتاب الأذكار والدعوات/حدیث: 5646]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه أبوداود: 1511، وابن ماجه: 3830، والترمذي: 3551، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1997 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1997»

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5647
عَنْهُ أَيْضًا عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ اللَّهُمَّ لَكَ أَسْلَمْتُ وَبِكَ آمَنْتُ وَعَلَيْكَ تَوَكَّلْتُ وَإِلَيْكَ أَنَبْتُ وَبِكَ خَاصَمْتُ أَعُوذُ بِعِزَّتِكَ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ أَنْ تُضِلَّنِي أَنْتَ الْحَيُّ الَّذِي لَا يَمُوتُ وَالْجِنُّ وَالْإِنْسُ يَمُوتُونَ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ دعا کیا کرتے تھے: اَللّٰھُمَّ لَکَ أَسْلَمْتُ، وَبِکَ آمَنْتُ، وَعَلَیْکَ تَوَکَّلْتُ، وَإِلَیْکَ أَنَبْتُ، وَبِکَ خَاصَمْتُ، أَعُوذُ بِعِزَّتِکَ، لَا اِلٰہَ إِلَّا أَنْتَ، أَنْ تُضِلَّنِی، أَنْتَ الْحَیُّ الَّذِی لَا تَمُوتُ، وَالْجِنُّ وَالْإِنْسُ یَمُوتُونَ (اے اللہ! میں تیرے لیے مطیع ہوا، تیرے ساتھ ایمان لایا، تجھ پر توکل کیا، تیری طرف رجوع کیا، تیرے ذریعے جھگڑا کیا، تیری عزت کی پناہ میں آتا ہوں، جبکہ تو ہی معبودِ برحق ہے، اس بات سے کہ تو مجھے گمراہ کر دے، تو وہ زندہ ہے کہ جس کو موت نہیں آئے گی، جبکہ جن ااور انسان مر جائیں گے)۔ [الفتح الربانی/كتاب الأذكار والدعوات/حدیث: 5647]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 7383، ومسلم: 2717، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2748 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2748»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 7383
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5648
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ دَعَوَاتٌ سَمِعْتُهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا أَتْرُكُهَا مَا عِشْتُ حَيًّا سَمِعْتُهُ يَقُولُ اللَّهُمَّ اجْعَلْنِي أُعْظِمُ شُكْرَكَ وَأُكْثِرُ ذِكْرَكَ وَأَتْبَعُ نَصِيحَتَكَ وَأَحْفَظُ وَصِيَّتَكَ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، چند دعائیہ کلمات ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سنے، جب تک میں زندہ ہوں، ان کو نہیں چھوڑوں گا، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ دعا کرتے ہوئے سنا: اَللّٰھُمَّ اجْعَلْنِی أُعْظِمُ شُکْرَکَ، وَأُکْثِرُ ذِکْرَکَ، وَأَتْبَعُ نَصِیحَتَکَ، وَأَحْفَظُ وَصِیَّتَکَ (اے اللہ! مجھے ایسا بنا دے کہ تیرا زیادہ شکریہ ادا کروں، کثرت سے تیرا ذکر کروں، تیری نصیحت کی پیروی کروں اور تیری وصیت کی حفاظت کروں)۔ [الفتح الربانی/كتاب الأذكار والدعوات/حدیث: 5648]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف الفرج بن فضالة، أخرجه الطيالسي: 2553، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8101 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8087»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف الفرج بن فضالة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5649
عَنْ يَحْيَى بْنِ حَسَّانَ عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي كِنَانَةَ قَالَ صَلَّيْتُ خَلْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْفَتْحِ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ اللَّهُمَّ لَا تُخْزِنِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ قَالَ ابْنُ الْمُبَارَكِ يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ مِنْ أَهْلِ بَيْتِ الْمَقْدِسِ وَكَانَ شَيْخًا كَبِيرًا حَسَنَ الْفَهْمِ
۔ یحییٰ بن حسان سے مروی ہے کہ بنو کنانہ کے ایک آدمی نے کہا: میں نے فتح مکہ والے سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اقتدا میں نماز پڑھی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کویہ دعا کرتے ہوئے سنا: اَللّٰھُمَّ لَا تُخْزِنِی یَوْمَ الْقِیَامَۃِ (اے اللہ! روزِ قیامت مجھے رسوا نہ کرنا)۔ [الفتح الربانی/كتاب الأذكار والدعوات/حدیث: 5649]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه الطبراني في الكبير: 2524، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18056 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18220»

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5650
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَدْعُو فَيَقُولُ اللَّهُمَّ طَهِّرْنِي بِالثَّلْجِ وَالْبَرَدِ وَالْمَاءِ الْبَارِدِ اللَّهُمَّ طَهِّرْ قَلْبِي مِنَ الْخَطَايَا كَمَا طَهَّرْتَ الثَّوْبَ الْأَبْيَضَ مِنَ الدَّنَسِ وَبَاعِدْ بَيْنِي وَبَيْنَ ذُنُوبِي كَمَا بَاعَدْتَ بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ قَلْبٍ لَا يَخْشَعُ وَمِنْ نَفْسٍ لَا تَشْبَعُ وَدُعَاءٍ لَا يُسْمَعُ وَعِلْمٍ لَا يَنْفَعُ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ هَؤُلَاءِ الْأَرْبَعِ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ عِيشَةً تَقِيَّةً وَمِيتَةً سَوِيَّةً وَمَرَدًّا غَيْرَ مُخْزٍ
۔ سیدناعبداللہ بن ابواوفی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ دعا کیا کرتے تھے: اَللّٰھُمَّ طَہِّرْنِی بِالثَّلْجِ وَالْبَرَدِ وَالْمَائِ الْبَارِدِ، … … اَللّٰھُمَّ إِنِّی أَعُوذُ بِکَ مِنْ ہٰؤُلَائِ الْأَرْبَعِ، اَللّٰھُمَّ إِنِّی أَسْأَلُکَ عِیْشَۃً تَقِیَّۃً وَمِیتَۃً سَوِیَّۃً وَمَرَدًّا غَیْرَ مُخْزٍ (اے اللہ! مجھے پاک کر دے برف، اولوں اور ٹھنڈے پانی کے ساتھ، اے اللہ! میرے دل کو خطاؤں سے اس طرح پاک کر دے، جیسے تو سفید کپڑے کو میل کچیل سے صاف کرتا ہے، میرے اور میرے گناہوں کے درمیان اس طرح دوری فرما، جیسے تو نے مشرق و مغرب کے درمیان دوری فرمائی ہے، اے اللہ! میں تیری پناہ میں آتا ہوں، اس دل سے جو ڈرتا نہیں، اس نفس سے جو سیر نہیں ہوتا، اس دعاء سے جو سنی نہیں جاتی، اس علم سے جو نفع نہیں دیتا، اے اللہ! میں تجھ سے ان چار چیزوں کی پناہ طلب کرتا ہوں، اے اللہ! میں تجھ سے پاکیزہ زندگی، معتدل موت اور آخرت کی طرف ایسے لوٹنے کا سوال کرتا ہوں، جو رسوا کن نہ ہو)۔ [الفتح الربانی/كتاب الأذكار والدعوات/حدیث: 5650]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح لغيره، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19402 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19622»

الحكم على الحديث:
حديث صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
42. بَابُ مَا جَاءَ فِي أَدْعِيَةٍ كَانَ النَّبِيُّ يُكْثِرُ الدُّعَاءَ بِهَا مِنْهَا رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةٌ
ان دعاؤں کا بیان، جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کثرت سے پڑھا کرتے تھے، ان میں سے ایک دعا یہ ہے: رَبَّنَا آتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَۃً وَّفِی الْآخِرَۃِ حَسَنَۃً
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5651
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ قَالَ سَأَلَ قَتَادَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَسًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَيُّ دَعْوَةٍ كَانَ أَكْثَرَ يَدْعُو بِهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ كَانَ أَكْثَرُ دَعْوَةٍ يَدْعُو بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اللَّهُمَّ رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ وَكَانَ أَنَسٌ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَدْعُوَ بِدَعْوَةٍ دَعَا بِهَا وَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَدْعُوَ بِدُعَاءٍ دَعَا بِهَا فِيهِ
۔ عبد العزیز سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: امام قتادہ نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے سوال کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کثرت سے کون سی دعا کیا کرتے تھے؟ انھوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس دعا کو سب سے زیادہ پڑھا کرتے تھے: اَللّٰھُمَّ رَبَّنَا آتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَۃً وَفِی الْآخِرَۃِ حَسَنَۃً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ (اے ہمارے ربّ! ہمیں دنیا میں بھی اچھائی عطا کر دے اور آخرت میں بھی اچھائی عطا کر دینا اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچانا)۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ خود جب کوئی مختصر دعا کرتے یا طویل دعا کرتے، وہ یہ دعا ضرور کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/كتاب الأذكار والدعوات/حدیث: 5651]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 4522، 6389، ومسلم: 2690، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11981 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12004»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 4522
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں