الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
41. بَاب مَا جَاءَ فِي الْأَدْعِيَةِ كَانَ يَدْعُو بِهَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم
ان دعاؤں کا بیان، جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پڑھا کرتے تھے
حدیث نمبر: 5632
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا إِنْ كُنَّا لَنَعُدُّ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَجْلِسِ يَقُولُ رَبِّ اغْفِرْ لِي وَتُبْ عَلَيَّ إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الْغَفُورُ مِائَةَ مَرَّةٍ
۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہمارے اعداد و شمار کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک ایک مجلس میں یہ دعا سو سو بار پڑھ لیتے تھے: رَبِّ اغْفِرْ لِی وَتُبْ عَلَیَّ، إِنَّکَ أَنْتَ التَّوَّابُ الْغَفُورُ (اے میرے ربّ! مجھے بخش دے اور میری توبہ قبول کر، بیشک تو توبہ قبول کرنے والا اور بخشنے والا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الأذكار والدعوات/حدیث: 5632]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، أخرجه ابوداود: 1516، وابن ماجه: 3814، والترمذي: 3434، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4726 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4726»
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط الشيخين
حدیث نمبر: 5633
عَنْ أَبِي صِرْمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كَانَ يَقُولُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ غِنَايَ وَغِنَى مَوْلَايَ
۔ سیدنا ابو صرمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ دعا کرتے تھے: اے اللہ! بیشک میں تجھ سے اپنے (نفس کے) غِنٰی کا اور اپنے مولی کے غِنٰی کا سوال کرتا ہوں۔ [الفتح الربانی/كتاب الأذكار والدعوات/حدیث: 5633]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة لؤلؤة، أخرجه ابن ابي شيبة: 10/ 208، والطبراني في الكبير: 22/828، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15756 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15848»
وضاحت: فوائد: … مَوْلٰی سے مراد یہ افراد ہو سکتے ہیں: باپ، بھائی، بھتیجا، چچا، چچا زاد، تمام عصبہ، ساتھی، پڑوسی، حلیف، مدد گار، محبت کرنے والا، پیروی کرنے والا، سسرال۔ جتنے افراد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے مراد لیے جا سکتے ہوں گے، وہ مراد لیے جائیں گے، یعنی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے لیے اور اپنے متعلقہ افراد کے لیے نفس کے غِنٰی کا سوال کر رہے ہیں، تاکہ حرص اور لالچ ختم ہو جائے۔
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لجھالة لؤلؤة
حدیث نمبر: 5634
عَنْ زَيْدٍ أَبِي الْقَمُوصِ عَنْ وَفْدِ عَبْدِ الْقَيْسِ أَنَّهُمْ سَمِعُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ اللَّهُمَّ اجْعَلْنَا مِنْ عِبَادِكَ الْمُنْتَخَبِينَ الْغُرِّ الْمُحَجَّلِينَ الْوَفْدِ الْمُتَقَبَّلِينَ قَالَ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا عِبَادُ اللَّهِ الْمُنْتَخَبُونَ قَالَ عِبَادُ اللَّهِ الصَّالِحُونَ قَالُوا فَمَا الْغُرُّ الْمُحَجَّلُونَ قَالَ الَّذِينَ يَبْيَضُّ مِنْهُمْ مَوَاضِعُ الطُّهُورِ قَالُوا فَمَا الْوَفْدُ الْمُتَقَبَّلُونَ قَالَ وَفْدٌ يَفِدُونَ مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ مَعَ نَبِيِّهِمْ إِلَى رَبِّهِمْ تَبَارَكَ وَتَعَالَى
۔ ابو قموص زید سے مروی ہے کہ عبد القیس کا وفد بیان کرتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اَللّٰھُمَّ اجْعَلْنَا مِنْ عِبَادِکَ الْمُنْتَخَبِینَ الْغُرِّ الْمُحَجَّلِینَ الْوَفْدِ الْمُتَقَبَّلِینَ (اے اللہ! ہمیں اپنے ان بندوں میں سے بنا، جو منتخب ہوں، جن کی پیشانی اور ہاتھ پاؤں چمکتے ہوں اور وہ مقبول وفد میں سے ہوں)۔ صحابہ نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! اللہ کے منتخب بندے کون ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ کے نیک بندے۔ لوگوں نے کہا: وہ لوگ کون ہوں گے، جن کی پیشانی اور ہاتھ پاؤں چمکتے ہوں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ وہ لوگ ہیں، جن کے وضو والے اعضاء چمکتے ہوں گے۔ صحابہ نے کہا: مقبول وفد سے مراد کون لوگ ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ اس امت کا وہ وفد ہے، جو اپنے نبی کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی طرف جائے گا۔ [الفتح الربانی/كتاب الأذكار والدعوات/حدیث: 5634]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، محمد بن عبد الله العمري لم نعرفه، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15554 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15639»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
حدیث نمبر: 5635
عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَامْرَأَةٍ مِنْ قَيْسٍ أَنَّهُمَا سَمِعَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَحَدُهُمَا سَمِعْتُهُ يَقُولُ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي ذَنْبِي وَخَطَأِي وَعَمْدِي وَقَالَ الْآخَرُ سَمِعْتُهُ يَقُولُ اللَّهُمَّ اسْتَهْدِكَ لِأَرْشَدِ أَمْرِي وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ نَفْسِي
۔ سیدنا عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ اور بنو قیس کی ایک خاتون سے مروی ہے کہ انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ دعا کرتے ہوئے سنا، ان میں سے ایک نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ دعا کی: اَللّٰھُمَّ اغْفِرْ لِیْ ذَنْبِیْ وَخَطَئِیْ وَعَمْدِیْ (اے اللہ! میرے لیے بخش دے میرے گناہ، میں نے نادانستہ طور پر کیے اور جو جان بوجھ کر کیے)۔ دوسرے نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ دعا کی: اَللّٰھُمَّ أَسْتَہْدِیکَ لِأَرْشَدِ أَمْرِی وَاَعُوْذُبِکَ مِنْ شَرِّ نَفْسِیْ (اے اللہ! میں تجھ سے وہ ہدایت طلب کرتا ہوں، جو میرے معاملے میں سب سے زیادہ افضل ہو اور میں تجھ سے اپنے نفس کے شرّ سے پناہ طلب کرتا ہوں)۔ [الفتح الربانی/كتاب الأذكار والدعوات/حدیث: 5635]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم، أخرجه ابن حبان: 901، والطبراني في الكبير: 8369، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16269 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16377»
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط مسلم
حدیث نمبر: 5636
عَنْ أَبِي السَّلِيلِ عَنْ عَجُوزٍ مِنْ بَنِي نُمَيْرٍ أَنَّهَا رَمَقَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُصَلِّي بِالْأَبْطَحِ تُجَاهَ الْبَيْتِ قَبْلَ الْهِجْرَةِ قَالَ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي ذَنْبِي خَطَأِي وَجَهْلِي
۔ ابو سلیل بیان کرتے ہیں کہ بنو نمیر کی ایک بڑھیا خاتون سے مروی ہے کہ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو غور سے دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہجرت سے پہلے وادیٔ ابطح میں بیت اللہ کے سامنے نماز پڑھ رہے تھے، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ دعا پڑھتے ہوئے سنا: اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْ ذَنْبِیْ خَطَئِیْ وَجَھْلِیْ (اے اللہ! میرے لیے میرے گناہ بخش دے، جو میں نے نادانستہ طور پر اور جہالت کی وجہ سے کیے)۔ [الفتح الربانی/كتاب الأذكار والدعوات/حدیث: 5636]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح لغيره، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16555 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16670»
الحكم على الحديث:
حديث صحيح لغيره
حدیث نمبر: 5637
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ قَالَ قَالَ مُعَاوِيَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَى الْمِنْبَرِ اللَّهُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ مَنْ يُرِدِ اللَّهُ بِهِ خَيْرًا يُفَقِّهْهُ فِي الدِّينِ سَمِعْتُ هَؤُلَاءِ الْكَلِمَاتِ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى هَذَا الْمِنْبَرِ
۔ محمد بن کعب قرظی کہتے ہیں: سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے یہ کلمات منبر پر کہے: اے اللہ! تیری عطا کو کوئی روکنے والا نہیں اور تیری روکی ہوئی چیز کو کوئی عطا کرنے والا نہیں، اور دولت مند کو (اس کی دولت) تیرے عذاب سے نہیں بچا سکتی، اللہ تعالیٰ جس کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرتا ہے، اس کو دین میں فقہ عطا کر دیتا ہے۔ پھر کہتے: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ کلمات سنے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس منبر پر ارشاد فرمائے تھے۔ [الفتح الربانی/كتاب الأذكار والدعوات/حدیث: 5637]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه مالك في المؤطا: 2/900، والطبراني في الكبير: 19/782، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16839 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16964»
الحكم على الحديث:
حديث صحيح
حدیث نمبر: 5638
عَنْ بُسْرِ بْنِ أَرْطَاةَ الْقُرَشِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو اللَّهُمَّ أَحْسِنْ عَاقِبَتَنَا فِي الْأُمُورِ كُلِّهَا وَأَجِرْنَا مِنْ خِزْيِ الدُّنْيَا وَعَذَابِ الْآخِرَةِ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ هَيْثَمٍ
۔ سیدنا بسر بن ارطاۃ قریشی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ دعا کیا کرتے تھے: اَللّٰھُمَّ أَحْسِنْ عَاقِبَتَنَا فِی الْأُمُورِ کُلِّہَا، وَأَجِرْنَا مِنْ خِزْیِ الدُّنْیَا، وَعَذَابِ الْآخِرَۃِ (اے اللہ! ہمارے تمام امور میں ہمارے انجام کو اچھا کر دے اور ہمیں دنیا کی رسوائی اور آخرت کے عذاب سے پناہ میں رکھنا۔)۔ ] [الفتح الربانی/كتاب الأذكار والدعوات/حدیث: 5638]
تخریج الحدیث: «ايوب بن ميسرة في عداد المجھولين، وبسر بن ارطاة مختلف في صحبته، أخرجه الطبراني في الكبير: 1196، وفي الاوسط: 1/281، وفي الدعائ: 1436، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17528 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17778»
الحكم على الحديث:
ايوب بن ميسرة في عداد المجھولين
حدیث نمبر: 5639
عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو بِهَؤُلَاءِ الدَّعَوَاتِ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي خَطَايَايَ وَجَهْلِي وَإِسْرَافِي فِي أَمْرِي وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي جَدِّي وَهَزْلِي وَخَطَأِي وَعَمْدِي وَكُلُّ ذَلِكَ عِنْدِي
۔ سیدنا ابو موسی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ دعاکیا کرتے تھے: اَللّٰھُمَّ اغْفِرْ لِی خَطَایَایَ وَجَہْلِی وَإِسْرَافِی فِی أَمْرِی، وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِہِ مِنِّی، اَللّٰھُمَّ اغْفِرْ لِی جَدِّی وَہَزْلِی وَخَطَئِی وَعَمْدِی، وَکُلُّ ذٰلِکَ عِنْدِیْ ((اے اللہ! میرے لیے میرے گناہ بخش دے، جو میں نے جہالت کی وجہ سے کیے، جو میں نے حد سے تجاوز کیا اور جن گناہوں کو تو مجھ سے زیادہ جانتا ہے، اے اللہ! (تو میرے وہ گناہ بخش دے) جو میں نے سنجیدگی میں کیے، جو مذاق میں کیے، جو نادانستہ طور پر کیے اور جو جہالت کی وجہ سے کیے اور یہ سارے گناہ مجھ میں ہیں)۔ [الفتح الربانی/كتاب الأذكار والدعوات/حدیث: 5639]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 6398، ومسلم: 2719، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19738 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19976»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 6398
حدیث نمبر: 5640
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَدْعُو يَقُولُ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا وَظُلْمَنَا وَهَزْلَنَا وَجِدَّنَا وَعَمْدَنَا وَكُلُّ ذَلِكَ عِنْدَنَا
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر و رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ دعا کیا کرتے تھے: اَللّٰھُمَّ اغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا وَظُلْمَنَا وَہَزْلَنَا وَجِدَّنَا وَعَمْدَنَا، وَکُلُّ ذٰلِکَ عِنْدَنَا۔ (اے اللہ! ہمارے لیے ہمارے گناہ، ظلم، مذاق، سنجیدگی اور جان بوجھ کر کیے گئے گنا، اور یہ سارے ہمارے اندر ہیں)۔ [الفتح الربانی/كتاب الأذكار والدعوات/حدیث: 5640]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، لضعف ابن لھيعة، وحُيي بن عبد الله المعافري، أخرجه ابن حبان: 1027، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6617 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6617»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
حدیث نمبر: 5641
عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ فِعْلَ الْخَيْرَاتِ وَتَرْكَ الْمُنْكَرَاتِ وَحُبَّ الْمَسَاكِينِ وَأَنْ تَغْفِرَ لِي وَتَرْحَمَنِي وَإِذَا أَرَدْتَ فِتْنَةً فِي قَوْمٍ فَتَوَفَّنِي غَيْرَ مَفْتُونٍ وَأَسْأَلُكَ حُبَّكَ وَحُبَّ مَنْ يُحِبُّكَ وَحُبَّ عَمَلٍ يُقَرِّبُنِي إِلَى حُبِّكَ وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّهَا حَقٌّ فَادْرُسُوهَا وَتَعَلَّمُوهَا
۔ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ دعا کرتے تھے: اَللّٰھُمَّ إِنِّی أَسْأَلُکَ … … وَحُبَّ عَمَلٍ یُقَرِّبُنِی إِلَی حُبِّکَ، (اے اللہ! بیشک میں تجھ سے نیکیوں کے کرنے، برائیوں کو چھوڑنے، مساکین سے محبت کرنے اور مجھے بخشنے اور مجھ پر رحم کرنے کا سوال کرتا ہوں، جب تو کسی قسم میں فتنہ نازل کرنا چاہے تو مجھے وفات دے دے، اس حال میں کہ میں اس فتنے سے بچا ہوا ہوں، میں تجھ سے تیری محبت کا، تجھ سے محبت کرنے والوں کی محبت کا اور تیری محبت کے قریب کر دینے والے عمل کی محبت کا سوال کرتا ہوں)۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس دعا کے کلمات حق ہیں، اس کو سیکھو اور اس کی تعلیم حاصل کرو۔ [الفتح الربانی/كتاب الأذكار والدعوات/حدیث: 5641]
تخریج الحدیث: «صحيح، قاله الالباني، أخرجه الترمذي: 3235، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22109 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22460»
الحكم على الحديث:
صحيح